تازہ تر ین

سیاسی شعبدہ بازوں کی نئی نوٹنکی

ریاض صحافی…. تماشا
سیاسی شعبدہ بازوں نے سزایافتہ سابق وزیراعظم کو ڈھول ڈھمکے‘ باجے گاجے کے ساتھ جیل لے جاتے ہوئے برصغیر کے ان ٹھگوں کی یاد تازہ کرا دی ہے جب مغلیہ عہد میں چور اچکے قاتلوں کا طوطی بولتا تھا۔ تب کوئی سیاہ کار سرکار کے شکنجہ میں آتے تو انہیں بندی خانہ (جیل) لے جاتے وقت ان کے پیروکار جلوس نکال کر انہیں حوالہ زنداں کیا کرتے تھے۔ ایسا ہی رولا رپا‘ ہاہاکار اور سیاپا پچھلے دنوں جاتی عمرا سے کوٹ لکھپت جیل کے راستوں پر بھی برپا رہا۔ جب ملک کی سب سے بڑی عدالت کے حکم پر سزا یافتہ مجرم نوازشریف گرفتاری دینے جیل جا رہے تھے۔
پرانے زمانہ کے ٹھگوں اور نئے عہد کے لٹیروں میں صرف اتنا فرق ہے کہ قدیم ہندوستان کے ٹھگ اپنے شکار کا مال اسباب لوٹ کر ان کی گردن کا منکا توڑ کر انہیں مار دیا کرتے تھے جبکہ آج کے لٹیرے لوگوں کو لوٹ کر انہیں زندہ درگور کرتے ہیں۔ بے بس و مجبور لوگ ان کے عتاب کا نشانہ بننے کے بعد پل پل جیتے اور پل پل مرتے ہیں۔ میرے خیال میں نئے عہد کے لٹیروں ”شریف…. زرداریوں“ کی دولت کی ریل پیل کا کوئی اندازہ نہیں۔ ان کے ملازمین اور خیرخواہوں کے بینک اکاﺅنٹس سے بھی کروڑوں اور اربوں کے اثاثے نکل رہے ہیں جبکہ عوام روٹی روزی کیلئے تڑپ اور سسک رہے ہیں۔ ان لیڈروں کے سرے محل‘ لندن کے لگژری فلیٹ‘ دبئی کے ٹاور‘ آسٹریلیا کے فارم ہاﺅسز اور غیرملکی بینکوں میں قارون کے خزانے ان کے گلے کا طوق بن چکے ہیں‘ مگر وہ ان پر نادم اور شرمسار ہونے کی بجائے خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں‘ بالکل اسی طرح جب مغلیہ عہد کے رنگ باز لوٹ مار اور انسانی قتلوں پر جشن منایا کرتے تھے۔
ماضی کے ٹھگ ”کالی دیوی“ کے پجاری تھے‘ان کے مطابق لوٹ مار ایک مقدس اور منافع بخش کام تھا‘ جس کی انہیں مذہبی طور پر بھی اجازت تھی۔ وہ پراسرار مذہب کے پیروکار تھے اور قدیم ہندوستان کے کونے کونے میں پھیلے تھے‘ ان کے مظالم اور بربریت سے کوئی بھی محفوظ نہ تھا۔ انہوں نے اپنی خفیہ بولی بھی بنا رکھی تھی۔ جب کسی کو قتل کرنا ہوتا تو وہ ساتھی ٹھگوں کو ”تمباکو لاﺅ“ کا ”کوڈورڈ“ استعمال کرتے‘ جس پر اس کے گلے میں رومال کا پھندا ڈال کر اسے اگلے جہاں پہنچا دیا جاتا۔ مغل بادشاہ ”کالی دیوی“ کے ڈر سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرتے۔ سلطان جلال الدین نے ہزاروں ٹھگوں کو گرفتار کیا‘ مگر انہیں سزا دینے کی بجائے بنگال بھجوا دیا۔ برصغیر پر انگریز راج آیا تو ٹھگوں نے انگریزوں کو بھی اپنا نشانہ بنانا شروع کیا‘ جس پر انگریز سرکار حرکت میں آئی اور انہوں نے ٹھگوں کی پکڑدھکڑ شروع کی‘ ہزاروں ٹھگوں کو گرفتار کر کے انہیں پھانسی پر لٹکایا گیا۔ اسی طرح ہزاروں ٹھگوں کو توپوں کے دہانوں پر باندھ کر اڑا دیا گیا۔ یوں فرنگی عہد میں ان کا قلع قمع ہوا۔
میرے خیال میں آج کے لٹیرے بھی قدیم ہندوستان کے ٹھگوں کی فوٹوکاپی ہیں۔ لوٹ مار‘ قتل و غارت اُن کی پہچان تھی‘ ہیراپھیری‘ لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرنا اِن کا وتیرہ ہے۔ اِنہوں نے کرپشن کے نت نئے طریقے ایجاد کئے۔ انہیں ملک و قوم کی زبوں حالی سے کوئی غرض نہیں۔ ان کا دین ایمان فقط پیسہ رہا۔ یہ عوام کا خون نچوڑ کر اپنی تجوریاں بھرتے رہے۔ انہوں نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں ٹھونسا‘ جس پر قوم سود کی مد میں ہر روز 600ارب کا تاوان ادا کر رہی ہے‘ مگر ان کے لچھن جوں کے توں ہیں۔ ان کے وارے نیارے‘ کم ہونے کا نام نہیں لے رہے‘ اب انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر بہتان تراشی شروع کر رکھی ہے‘ حالانکہ کپتان نے حالیہ دنوں میں جو قرضے لئے وہ ان کا سود چکانے پر خرچ ہو رہے ہیں۔ ملک درست سمت جا رہا ہے تو ان کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہیں۔ سیاسی گِدھوں کو چوری اور سینہ زوری جیسی خباثتوں اور غلط کاریوں سے اجتناب کرنا چاہئے‘ اب ان کی دال گلنے والی نہیں۔
مغلیہ اور فرنگی عہد کے ٹھگوں کا سرغنہ امیر علی ٹھگ تھا‘ جس کی کارستانیوں پر درجنوں ناول اور فلمیں تخلیق ہو چکی ہیں۔ اس زمانے میں جمال دین ٹھگ‘ ملتانی ٹھگ‘ چنگیزی ٹھگ‘ سوسی ٹھگ‘ دریائی ٹھگ اور پھانسی ٹھگ بھی ٹھگوں کے مشہور قبیلے تھے جبکہ آج کے سیاسی لٹیروں سے آپ بخوبی آگاہ ہیں‘ ان میں سے کئی نیب کی حراست میں ہیں‘ کئی عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں‘ کچھ اشتہاری ہیں اور کچھ کو سپریم کورٹ سے سزا ہوچکی ہے اور وہ نااہل ہوچکے ہیں۔ لٹیرے لیڈروں کے خلاف قانون حرکت میں آتا ہے تو ان میں طرح طرح کی موذی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں‘ جن کی بڑی مثالیں نوازشریف‘ آصف زرداری‘ شہبازشریف اور اسحاق ڈار ہیں۔ ان میں سے تحریک انصاف کا علیم خان ایسا مرد مجاہد ہے جو کئی ماہ سے نیب کی حراست میں ہے مگر اس نے کسی بیماری کو بہانہ بنا کر ریلیف لینے کی کوشش نہیں کی۔ وہ خندہ پیشانی سے الزامات کا سامنا کررہا ہے۔
برصغیر میں ”ٹھگ شاہی“ کے خاتمہ کے بعد کئی ڈاکو بھی بہت مشہور ہوئے۔ وہ فرنگی سرکار کے خلاف برسرپیکار رہے۔ وہ ڈاکو ان لٹیرے سیاستدانوں سے بہت بہتر تھے کیونکہ وہ انگریزوں‘ ہندو ساہوکاروں‘ وڈیروں اور جاگیرداروں کو لوٹ کر ان کا مال و دولت غریبوں میں تقسیم کیا کرتے‘ اس لئے انہیں پنجاب کے ہیروز کے طور پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان پر بھی کئی فلمیں بن چکی ہیں۔ اس ضمن میں ”سلطانہ ڈاکو“ ”رنگا جٹ“ ملنگی اور ”بہرام ڈاکو“ قابل ذکر ہیں۔ خیر اور شر کے موضوع پر بننے والی یہ فلمیں بہت کامیاب رہیں۔ انہوںنے جوبلیاں بھی منائیں۔ مزے کی بات ہے کہ مشہور فلم ”ملنگی“ لاہور کے ایک بدمعاش اچھا شوگر والا نے بنائی تھی۔ اس زمانے میں فلموں کی پبلسٹی کا بڑا ذریعہ ٹانگے اور ریڈیو ہوا کرتا تھا۔ ٹانگوں کو فلمی پوسٹروں سے سجا کر بھونپو سے شہر بھر میں فلم کی نمائش کا اعلان ہوتا تھا جبکہ ریڈیو پر فلم کے سپرہٹ گانے اور کلائمکس کے ڈائیلاگ چلا کر فلم کی تشہیر کی جاتی تھی۔ جب فلم ”بہرام ڈاکو“ لگی تو ریڈیو پر اکثر صداکار راشد محمود کی آواز گونجتی ”کھڑکیاں‘ دروازے بند کرلو…. بہرام ڈاکو آرہا ہے“ یہی راشد محمود آج ٹی وی اور فلم کے معروف اداکار ہیں۔ انہوں نے فنی سفر صداکاری سے شروع کیا تھا۔
بات ہورہی تھی سزا یافتہ وزیراعظم کی دوبارہ جیل یاترا کی۔ جب انہیں ڈھول ڈھمکے اور دھوم دھڑکے کے ساتھ جیل لے جایا جارہا تھا تو سزا یافتہ وزیراعظم کا چہرہ انتہائی مغموم اور لٹکا ہوا لگ رہا تھا جبکہ ان کے بھتیجے حمزہ شہباز کی خوشی دیدنی معلوم ہوتی تھی‘ اسی طرح گاڑی کی پچھلی نشست پر مریم بی بی سوشل میڈیا پر ایکٹو تھیں۔ مگر ایسا مریض جو آدھ درجن بیماریوں میں مبتلا ہو۔ اس کی اوپن ہارٹ سرجری ہوچکی ہو‘ اس کے دل کی شریانوں میں کئی سٹنٹ ڈلے ہوں‘ وہ ہر روز 17 ادویات کھاتا ہو‘ اس کے وکیل کا کہنا ہے کہ مریض کی حالت اتنی خراب ہے کہ اگر اس کی صحیح نگہداشت نہ کی گئی تو خدانخواستہ اچانک کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میاں صاحب کو صحت کاملہ عطا فرمائے مگر کیا بیٹی اور بھتیجے کی طرف سے ایسے مریض کو شدید گرمی میں چھ گھنٹے تک سڑکوں پر ”تماشا“ بنانا درست ہے۔ اسی تناظر میں ”رمضان شریف“ میں ”نااہل شریف“ کی دوبارہ گرفتاری کو پرکھا جائے تو دنیا والوں کے لئے مقام عبرت ہے۔
(کالم نگار، سماجی، ثقافتی اور سیاسی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved