تازہ تر ین

ضیا شاہد سے وابستہ امیدیں

انجینئر افتخار چودھری …. باعث افتخار
خبر یہ ہے کہ سینیٹ کے اجلاس میں امیر جماعت اسلامی نے روزنامہ ”خبریں“ کے چیف ایڈیٹر کی اردو کے لئے خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ جناب ضیاشاہد کی خدمت کا ایوان بالا میں اعتراف ایک اچھی روایت ہے۔جن لوگوں نے پاکستان کی قومی زبان کی ترویج میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ان کے لئے خیر کے کلمات کہنا بذات خود اچھا امر ہے ۔جماعت اسلامی کے امیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ضیا شاہد کو اردو کے مستقبل کی فکر ہے۔
سی ایس ایس کا امتحان اردو میں نہ ہونا بذات خود ان غریب بچوں پر ظلم ہے جو سرکاری اسکولوں کے اردو میڈیم سے پڑھ کر پاکستان کی اعلی ترین نوکریوں تک رسائی نہیں کر سکتے۔کہنے کو تو ہم اردو کے پاسباں ہیں لیکن لگتا یہ ہے کہ اس زبان کو ہم نے عشقیہ شاعری کےلئے تو استعمال کیا، غزلیں لکھیں اور جو بات لبوں پر نہ لا سکے اسے غزل کے روپ میں ڈھال کر کہہ لیا۔اچھی بات ہے شاعری دنیا میں یہی کام ہی تو کرتی آئی ہے۔چیف ایڈیٹر خبریں جناب ضیا شاہد سے لوگوں نے بہت کچھ سیکھا ،ایسا شخص جو خود ایک یونیورسٹی ہے ۔میں تو اپنے کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ ضیا شاہد کی ایک کتاب ”میرا دوست نواز شریف“ ہی پڑھ لیں تو آپ کو پاکستان کے سیاسی حالات سے آگہی ہو جائے گی۔تحریک پاکستان کے دنوں کو یاد کریں، دیکھیں اس ملک کے لئے کتنی قربانیاں دی گئیں۔ میں آج اسی کتاب کے صفحہ نمبر220 پر لکھی گئی اس تاریخی حقیقت کی جانب توجہ چاہوں گا جس میں ایک ایسی محفل کا ذکر ہے جس میں چودھری ظہور الٰہی ، مجید نظامی اور خود ضیاشاہد موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ سکھوں کے بارے میں جذبات نرم رکھیں انہیں غلطی کا احساس ہے وہ ہندو تسلط کے خلاف ہیں۔ اس موقع پر ضیاشاہد نے کہا حضور 55 ہزار سے زائد مسلمان عورتیں سکھوں کے حرم میں زبردستی ڈال لی گئی ہیں ان کے پیٹ پھاڑ کے جنین کو نیزوں اور بلیوں پر لٹکایا گیا میں کیسے بھول سکتا ہوں۔ضیا صاحب نے کہا جب میں نے اس اجلاس میں یہ باتیں کیں تو رو پڑاجس پر چودھری ظہور الٰہی نے ڈھارس بندھائی ۔
جناب ضیا شاہد کو یونیورسٹی اس لئے کہا کہ میرے جیسے قلمکار نے ان سے بہت کچھ سیکھا اور آج پاکستان کا شاید ہی کوئی کالم نویس ہو جس نے ان سے نہ سیکھا ہو۔صرف سراج الحق نہیں ،میں سمجھتا ہوں قومی سطح پر ان کا اعتراف ہونا چاہئے۔میں کوئی بڑی بات نہیں کرتا لیکن بحیثیت قوم ہم پر فرض بنتا ہے کہ اپنے ان بزرگوں کو مقام دیں جو ان کا حق بنتا ہے۔
میں سراج الحق صاحب کی رائے سے متفق ہوں اور اضافی طور پر چاہوں گا کہ ضیا شاہد کی کتب کو قومی لائبرریوں کا حصہ بنائیں ۔کیا کتاب تھی ”ولی خان جواب دیں“ اور کیا کتاب ہے” میرا دوست نواز شریف“ جس میں انہوں نے نواز شریف کی کہہ مکرنیوں کا ذکر کیا ہے ۔ ٹائٹل سے بدک جانے والوں سے گزارش ہے پڑھ کر تو دیکھیں،اس کتاب میں بہت سے حقائق واضح ہوئے ہیں ۔نواز شریف اور بہت سوں کا کہنا ہے کہ مجیب محب وطن تھا ، خیال میرا بھی تھا لیکن ساٹھ کی دہائی میں پنڈت جواہر لعل نہرو تخریب پاکستان کے لئے اس پر ہاتھ رکھتا ہے۔ صفحہ نمبر364 دیکھئے جس میں ایک تو حسینہ واجد کے انٹرویو کا ذکر ہے جس میں اس نے کہا شیخ مجیب الرحمن 1948ءمیں ہی پاکستان سے علیحدگی کے بارے میں سوچنا شروع ہو گئے ،بھارتی قونصل خانے ڈھاکہ کے ایک سابق سیکرٹری کا حوالہ بھی دیا گیا مسٹر بینر جی نے یہ کتاب انڈیا مجیب الرحمن اور آزادی بنگلہ دیش۔اس میں واضح ہوتا ہے کہ مجیب نے اپنی اس کوشش کو1962ءمیں کرسمس کے موقع پر شروع کیا اور بینر جی نے اعتراف کیا کہ اس کے ذریعے یہ کام شروع کیا گیا۔
محترم ضیاشاہد نہ صرف اردود کی ترویج کے لئے اپنی صلاحیتیں استعمال میں لائے بلکہ اپنی تحریروں سے ایک ایساپاکستانی تیار کیا جو اس پر مرمٹنے کے لئے تیار ہے۔
میں اس موضوع پر کئی بار لکھ چکا ہوں کہ ہمارے انگلش میڈیم اسکول جو نسل تیار کر رہے ہیں اس میں اسلام اور دو قومی نظریے سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے ۔اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ فوج جذبہ ¿ جہاد پر کھڑی ہے اور وہاں نوجوان آفیسرز کو سکھایا جاتا ہے ۔ورنہ انگلش میڈیم سے نکلنے والے طلباءکو مسئلہ کشمیر،پاکستان نے آزادی کیوں حاصل کی اور دین کے بارے میں کچھ بھی بتایا جاتا ہے؟۔ اردو کو بچوں سے دور کرو گے تو سمجھ لیجئے اسلام سے دور ہوں گے۔نصاب سے ایک پر جوش مسلمان کی تیاری کا کام اگر نہ لیا گیا تو یاد رکھئے پاکستان کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بچپن میں پڑھی گئی جنگ بدر کے دو کم سن صحابہؓ کی کہانی آج بھی یاد ہے جو جنگ میں شریک ہونے کے لئے ایڑھیاں اونچی کر کے اپنے آپ کو اونچا کر کے بھرتی ہونے کی کوشش میں لگے رہے۔ہمارا نصاب تعلیم یکساں ہونا چاہئے یہ نہ ہو کوئی سندھی قوم پرست اٹھے اور کہہ دے راجہ داہر ہیرو تھا اور محمد ابن قاسم نے باہر سے آ کر مداخلت کی۔پتہ نہیں کسی کو علم ہے یا نہیں یا کوئی مناسب سمجھتا ہے یا نہیں اٹھارویں ترمیم مجیب کے چھ نکات کا دوسرا جنم ہے۔ایک شخص نے اپنی تیسری باری کے لئے صوبہ سرحد کا نام بدل کے رکھ دیا اور ہزارہ والوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔مزے کریں ابھی صوبائی اسمبلی کی آٹھ اور سیٹیں بڑھ گئی ہیں فاٹا انضمام کے بعد ہزارہ والوں کو ایک اور جھٹکا لگا ہے۔
ضیاشاہد کے بارے میں کالم نویس خضر کلاسرا سے بات ہوئی، وہاں یہ ذکر بھی ہوا۔ میرا کہنا تھا کہ کل جب جنوبی پنجاب کا صوبہ بنتا ہے تو لوگ جان جائیں گے کہ ضیا شاہد نے اس کی فکری بنیاد رکھی اور تخت لاہور کے قیدیوں کو ایک با عزت اور با وقار راستہ دکھایا۔میرا مطالبہ ضیا شاہد سے ہے کہ با با حیدر زمان کے مرنے کے بعد ہزارہ کے مظلوم عوام کا بھی خیال رکھیں اس لئے کہ وہاں قحط الرجالی کا دور ہے وہاں نون لیگ والے نواز شریف کے لئے آستینیں تو چڑھا سکتے ہیں انصافی بھائیوں کواپنی منزل پشاور یا اسلام آباد تھی ،وہ مل گئی کسی کو فکر نہیں ہے کہ ہزارہ کے بچے پہلے مظلوم تھے اب مظلوم تر ہو گئے ہیں۔
ضیاشاہد کے بارے میں مجھے خضر کلاسرہ سے سن کر خوشی ہوئی جب مجھے یہ پتہ چلا کہ رﺅ ف کلاسرہ نے انہیں ایک اخبار میں لکھنے کو کہا تو اس نے بھائی سے کہا‘ خبریں کا کمال یہ ہے کہ جو لکھتا ہوں چھاپ دیتا ہے۔”خبریں“ کے لکھنے والوں میں یہ بات مشترکہ ہے کہ وہ غاصبوں کے خلاف لکھتے ہیںاور دھڑلے سے لکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی ہو یا نون لیگ، اے این پی ہو یا جمعیت علمائے اسلام ،ان پر پشتونوں کا غلبہ ہے اور پشتون کچھ بھی کر لیں کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیں گے اور ہزارہ کی خوبی یہ ہے کہ اس کی سوچ قومی ہوتی ہے۔
جناب ضیا شاہد آپ ہر قومی مسئلہ پر رہنمائی فرماتے ہیں ، ملک میں پانی کی قلت کا مسئلہ ہو یا قومی زبان اردو کی ترویج و اشاعت کا ‘ آ ہراول دستے میں نظر آتے ہیں ۔ جناب چیف ایڈیٹر ‘ہزارہ کے مظلوموں کا ساتھ دیں۔اس دن مشتاق کھٹانہ شیر بہادر کے بیٹے کی شادی میں یہی رونا رہے تھے کہ ہماری آواز کوئی نہیں سنتا، میں نے ہزارہ قومی محاذ کے سردار مشتاق کھٹانہ کو کہا تھا جس کی کوئی نہیں سنتا اس کی خدا سنتا ہے ۔ میں آپ کو ضیا شاہد کے پاس لے جاﺅں گا” خبریں بنے گا آپ کی آواز“۔
اردو کا تحفظ، سرائیکی بیلٹ کے دبے ہوئے لوگوں کی ڈھارس، ہزارہ کے لوگوں کا ساتھ دینا، اگرچہ بڑے چیلنجز ہیں اور جس خوبصورت انداز سے ان محاذوں پر ضیاشاہد ڈٹے ہوئے ہیں یہ انہی کا کمال ہے۔ہزارہ کے لوگوں کو تو یہ بھی علم نہیں کہ موجودہ ترمیم نے ان کی جدوجہد پر کاری ضرب لگا دی ہے۔ایک طرف اٹھارویں ترمیم ہے اور دوسری طرف چھبیسویں۔پہلے صوبوں کے پاس جو محدود وسائل تھے وہ اب شمولیت کے بعد سکڑ گئے ہیں فاٹا کے لئے تین فی صد کٹوتی ایک بھیک تو ہو سکتی ہے لیکن یہ مستقل حل نہیں ہے۔
میں ان سطروں میں ایک بار پھر جناب ضیاشاہد کو مبارک باد دے رہا ہوں جن کی دبنگ تحریروں سے ایک ایسی نسل تیار ہورہی ہے جس نے دو قومی نظریہ کے مخالفین کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔اردو کی ترویج و اشاعت کے لئے چیف صاحب آپ کی کوششوں کو سلام۔ ہمیں امید ہے کہ قومی زبان کے فروغ کی جو تحریک آپ نے شروع کر رکھی ہے وہ اپنی منزل ضرور حاصل کرے گی۔
ایک مدت سے تجویز تھی کہ صحافت کے فروغ کے لئے ایسا انسٹیٹیوٹ آف جرنلزم بنائیں جس میں میٹرک کے بعد تین سالہ ڈپلومہ کا اجراءہو اور بعد میں ڈگری۔یہ غریب اور متوسط گھرانوں کے بچوں کےلئے ایک عظیم کام ہو گا۔بعد میں اس طرح کے طلباءکےلئے نوکریوں کا حصول ممکن ہو جائے گا ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کرنا کسی غریب کے بس کی بات نہیں۔
( تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved