تازہ تر ین

تھل کے عوام کو دیوار سے نہ لگائیں!

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
مدت ہوگئی ہے، ایک کے بعد ایک سیاسی جماعت پنجاب کی تقسیم پر سیاست کررہی ہے، جس کو فرصت ملتی ہے یا پھر الیکشن میں اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے ،وہی پنجاب میں بہاولپور صوبہ بحالی اور جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کا راگ شروع کردیتاہے۔ عوام بچاری ایک بارپھر امیدلگاکر بیٹھ جاتی ہے کہ شاید اس بار اس کی قسمت بدلنے والی ہے ، اس کو تخت لاہور سے چھٹکار ملنے والاہے ۔زیادہ پیچھے بھی نہ جائیں تو جنرل پرویز مشرف کے دورسے لیکر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن جتنا عرصہ اقتدار کو انجوائے کرتی رہی ہیں، انہوں نے اس ایشو کو سیاسی قلابازیوں میں زندہ رکھ کر عوام کو اپنے پیچھے لگائے رکھا لیکن اس بات کا خاص خیال رکھاکہ عملی طور پر بہاولپور صوبہ بحالی اور جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کے بارے میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکے۔ لیگی سزا یافتہ لیڈر نوازشریف بہاولپور صوبہ کے حامی تھے اور اس کیلئے پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کیلئے منظور ہونیوالی قرارداد کیساتھ یہ قرارداد پاس بھی کروائی تھی لیکن عملی طورپر اقتدار میں کبھی بہاولپور صوبہ کو بحال کرنے میں سنجیدگی نہیں دکھائی تھی، اقتدار میں نواز لیگی قیادت نے اپنے سارے ایجنڈے پورے کیے لیکن اگر کوئی ایشو انہوں نے حل نہیں کیا تو وہ بہاولپور صوبہ تھا۔ ادھر پیپلزپارٹی جوکہ پنجاب کو تقسیم کرکے سرائیکی صوبہ کے قیام کی حامی تھی، دلچسپ صورتحال یوں تھی کہ اپوزیشن میں کوئی دن ایسا نہیں ہوگا جب پیپلزپارٹی کی طرف سے سرائیکی صوبہ کا نام نہ لیاگیا ہو، حد تو یہ تھی کہ اقتدار کے دنوں میں بھی اس سیاسی واردات مطلب سرائیکی صوبہ کے نعرے کو بلند رکھا لیکن عملی طورپر واردات وہی تھی جوکہ نوازلیگی قیادت اس ایشو پر کررہی تھی مطلب عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے رکھو اور اپنے اقتدار کو انجوائے کرو، پیپلزپارٹی نے اقتدار سے جاتے جاتے سرائیکی ایشو پر ایک اور واردات یہ کی کہ سرائیکی صوبہ کی بجائے جنوبی پنجاب صوبہ کے نام کو قبول کرلیا۔ ادھر آصف علی زرداری نے گیلانی ہاﺅس ملتان میں ایک اور اعلان کیاکہ سرائیکی بنک قائم کیاجائیگا لیکن اس وعدے کو بھی پورا کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت تو اپنی جگہ لیکن ادھر سید یوسف رضاگیلانی اور شاہ محمود قریشی کوبھی سرائیکی صوبہ کی بجائے جنوبی پنجاب صوبہ کا واویلا کرنے کی نامعلوم کال پتہ نہیں کہاں سے موصول ہوئی تھی کہ اس دن کے بعد آج دن تک موصوف سرائیکی صوبہ کی بجائے جنوبی پنجاب صوبہ کے نام سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہیں،وگرنہ یہی تھے جن کو سرائیکی صوبہ کے نام کے علاوہ کوئی نام قابل قبول نہیں تھا۔ اور دلچسپ صورتحال یوں ہے کہ جو ملتانی سرائیکی صوبہ کے علاوہ کوئی نام سننے کو تیار نہیں تھے، انہوںنے بھی جنوبی پنجاب کی گردان شروع کردی ہے۔ مطلب یہ کھیل پراناہے، اس کو اپنے اپنے انداز میں سب نے انجوائے کیاہے، جس جماعت یاپھر لیڈر کو جہاں جہاں یوٹرن لینے کی ضرورت پڑی ہے، اس نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھاہے بلکہ فورا ہی اپنی کہانی گھڑ لی ہے۔
ادھر تحریک انصاف کی لیڈرشپ نے الیکشن سے قبل صوبہ محاذ کیساتھ اتحاد کرکے صوبوں کی سیاست میں چھلانگ لگادی تھی۔ابھی تک ان کی طرف سے بھی وہی سلیبس استعمال کیاجارہاہے جوکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کی طرف سے استعمال کیاجاتارہاہے مطلب اقتدار کی رسی کو اپنی طرف کھنچنے پر توجہ مرکوز رکھو، اس دھندے میں اتنا آگے نہ بڑھو، جہاں صوبوں کے قیام کو عملی شکل دینی پڑے۔ یوں اب تک کہا جاسکتاہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی لیڈرشپ کمال چالاکی کے ساتھ اپنے سیاسی مفادات کو سامنے رکھ کر آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کی لیڈر شپ زبانی کلامی کاروائی پر وقت پاس کررہی ہے۔ جونہی اقتدار کی کرسی ہلنے لگتی ہے، فورا پنجاب کی تقسیم اور صوبوں کے معاملے پر بلند وبانگ دعوے شروع کردیئے جاتے ہیں۔کچھ ایسی ہی صورتھال اب دیکھنے کو ملی ہے جب عوام پٹرولیم منصوعات میں ایک دم اتنے بڑے اضافہ پر مہنگائی کا طوفان آیاہے تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے وہی کھیل کھیلنے کی کوشش کی ہے جوکہ ماضی میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کی قیادت کھیلتی رہی ہے۔ مطلب پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام کیلئے کوئی قرارداد لاکر ملک میں جاری حکومت مخالف مہم کو اور طرف کردیاجائے۔ اس بار قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کا آئینی ترمیمی بل پیش کردیاہے،بل پر غور کیلئے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ بل میں ملتان،بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن پر مشتمل جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔یادرہے کہ اس سے قبل مسلم لیگ نواز اسی طرح کا ملتاجلتا کام کرچکی ہے۔حکومت کو جن عقل مندوں نے اس کاروائی کا مشورہ دیاتھا، اس کے مطابق ہی ہوا ہے کہ عوام میں ایک بار پھر اس بارے میں بحث شروع ہوگئی ہے۔
اب اہم سوال یہاں یہ ابھرتاہے کہ ملتانی سیاستدان پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے ایک نیا کھیل یہ کھیل رہے ہیں کہ ایک طرف بہاولپور کی عوام جوکہ اپنے صوبہ بہاولپور کی بحالی چاہتے ہیں اور پنجاب اسمبلی میں بہاولپور صوبہ بحالی کیلئے ساری جماعتیں بالخصوص پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز متفقہ قرارداد پاس کرچکی ہیں، اس کو جنوبی پنجاب صوبہ میں اقتدار کے زور پر شامل کرنے کی کوشش کررہی ہے، جس کو کسی طورپر جمہوری عمل نہیں کہاجاسکتاہے۔اس بات کو سب جانتے ہیں کہ بہاولپور صوبہ بحالی عوام کا دیرینہ اور متفقہ مطالبہ ہے۔ایک طرف ملتانی بہاولپور کے تین اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یارخان کو جنوبی پنجاب میں شامل کرنے پر بضد ہیں تو دوسری طرف خاموشی کے ساتھ ملتانی سیاستدان تھل کے سات اضلاع خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ ، مظفرگڑھ ،جھنگ اور چینوٹ میں سے مظفرگڑھ اور لیہ کے علاوہ پانچ اضلاع خوشاب ،بھکر، میانوالی، جھنگ اور چینوٹ کو لاہورکی جھولی میں ڈال رہے ہیں۔ ان سیاستدانوں نے ایک اور واردارت پر کام یوں شروع کردیاہے کہ تھل کے ٹوٹے کرنے کی طرف چل پڑے ہیں۔ بل میںسب کچھ واضح ہوگیاہے۔تھل ایک طرف نہیں ہوگا بلکہ تھل ٹوٹے ہوکر اپنے نئے مسائل سے دوچار ہوجائے گا۔ جس کے لوگ پہلے ہی جنگل جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان سیاستدانوں کے اس رویہ کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے پہلے بھی انہوں نے اپنے ضلع ملتان کے مفادات کی خاطراپنے اردگرد کے دیگر اضلاع کو پسماندہ رکھا اور اب بھی اسی ایجنڈے پر قائم ہیں۔
تھل کے سات اضلاع کی نشستیں ملتان اور بہاولپور ڈویژن سے زیادہ ہیں لیکن اس کو کوئی سیاسی حق دینے پر تیار نہیں ہے۔ لاہور سے بھی جو بچتاہے ملتان پر نچھاورکرتاہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جوکہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں بلند وبانگ دعوے کررہی ہے وہ بھی تھل جیسے اہم علاقہ جوکہ سیاسی طورپر بھی ایک مضبوط اکائی ہے اس کو نظرانداز کررہی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ وزیراعظم عمران خان کا میانوالی آبائی علاقہ ہے لیکن راقم الحروف جیسے لوگ اس بات پر یقین کرنے سے یوں کنی کتراتے ہیں کہ موصوف کی طرف سے اپوزیشن سے لیکر حکومت میں آنے کے بعد بھی وہی سلیبس ہے جوکہ تھل کی مخالف جماعتوں کا تھا مطلب اس کو ٹرک کی بتی کے پیچھے رکھو۔دلچسپ صورتحال یوں بھی ہے کہ لیہ میں جشن ہورہاتھاکہ لیہ کو بھکر ، تونسہ شریف اور کوٹ ادوکیساتھ ملاکر ڈویژن بنایا جارہاہے لیکن اب جب لیہ اور بھکر علیحدہ علیحدہ صوبوں میں ہونگے، اگر بن گئے تو کس طرح ایک ڈویژن میں ہوسکتے ہیں مطلب تھل کے عوام کیساتھ جھوٹ بولاجارہاہے،ایک طرف لیہ کی عوام کو دھوکا دیاجارہاہے تو دوسری طرف ملتانی اپنے مفادات کے پیش نظر جھونگے میں تھل کے پانچ اضلاع (خوشاب، میانوالی،بھکر،جھنگ ،چینوٹ)لاہور کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کررہے ہیں۔ مطلب تھل کو لاوارث سمجھ کر اس دھرتی کی عوام سے پوچھے بغیر سودے بازی ہورہی ہے۔ پتہ نہیں بھکر کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ اور ثنااللہ مستی خیل جوکہ ملتان کی خاطر اسمبلی میں بازو چڑھاکر تقریریں کررہے تھے، ان سے بھی ملتان کے شاہ محمود قریشی نے اس فیصلہ کو کرتے ہوئے پوچھا ہے یا پھر ان کو بھی ملتانی چورن دے گئے ہیں۔ جب پنجاب میں سب علاقوں بہاولپور ،ملتان ، ڈیرہ غازی خان کے عوام کی توقعات اور مطالبات کے مطابق فیصلے کیے جارہے ہیں تو پھر تھل کو لاوارثوں کی طرح بیچنے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے۔ ادھر تھل کے نمائندوں کی اسمبلی میں مجرمانہ خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عوام کے مفادات اور علاقہ کا تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ اسوقت جب پنجاب میںتین تین اضلاع پر ڈویژن بنائے گئے ہیں تو پھر تھل کے سات اضلا ع کو ایک ڈویژنل ہیڈکوارٹر کیوں نہیں دیاگیاہے ؟ اس تقسیم میں واضح ہے کہ ملتان اور لاہور اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے تھل جیسے اہم علاقہ پر ڈاکہ مارنے جارہے ہیں، جس کو کسی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیاجائیگا ۔ تھل کے عوام کو بھی اس بات کا حق دیاجائے کہ وہ بھی اپنی قسمت کا فیصلہ کریں۔ ان کو بھی ملتان اور بہاولپور سے بڑی اکائی ہونے کی حیثیت میں ملتان یالاہور کے نیچے دینے سے قبل تھل کی عوام سے رائے لی جائے وگرنہ جمہوری دور میں تھل پر یوں قبضہ کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔
(کالم نگاراسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved