تازہ تر ین

ڈاک کی ترسیل کا نظام ، اصلاحات کا متقاضی

فیصل مرزا……..نقطہ نظر
بلاشبہ ڈاک کی ترسیل کا نظا م کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار اداکرتاہے ۔ اگرچہ سوشل میڈیا،ای میل وغیرہ کی ایجاد نے اس شعبے کی خدمات کو بظاہر دھندلادیا ہے لیکن اگر ڈاک کے نظام کو جدید بنیادوں پر استوار کیا جائے تو یہ اب بھی موجودہ دورمیں معاشی ترقی میں اہم کردار اداکرسکتا ہے ۔ خاص طور پر کال سینٹراورون ونڈو جیسے تصورات کو ڈاک نظام میں شامل کردیا جائے تو ڈاکخانہ ،ڈاکخانہ یا پوسٹ آفس نہیں رہے گا، بلکہ ایک جدید ٹیلی سینٹرکی صورت اختیار کر جائے گا۔ جہاں ملک کے کروڑوں بیروزگار، گرایجویٹ نوجوانوں کو اپنی اپنی تعلیمی قابلیت کے مطابق مقامی یا قریب ترین مقام پر باعزت روزگار میسر آسکتا ہے اور عوام الناس کو ڈاک ترسیل کے جدید ترین ڈیجیٹل نظام کی بہترین سہولیات اپنے گھر کی دہلیزپر میسر آسکتی ہیں ۔ میرے خیال میں ڈاک کے نظام کو سیمی گورنمنٹ یا نیم خودمختار سرکاری ادارے میں تبدیل کردیا جائے تو حکومت کو اس پر کوئی اخراجات نہیں کرنے پڑیں گے ،بلکہ یہ ادارہ اپنے ذرائع آمدن خود پیداکرکے حکومت کو زیادہ سے زیادہ ٹیکس دینے والا کماﺅپوت ادارہ بن سکتاہے۔پاکستان پوسٹ کے جملہ ارباب ِ حل وعقداس پہلو پر سنجیدگی اور قومی حب الوطنی کے جذبے سے ہمدردانہ غور کریں تو یہ ادارہ بھی ملکی معیشت وقومی بجٹ میں اسٹاک ایکسچینج کاایک نفع بخش قومی ادارہ میں فوری تبدیل ہوسکتا ہے ۔ !
پاکستان پوسٹ کی کارکردگی اگرچہ بقیہ اداروں سے بہتر ہے تاہم میں ایک واقعہ کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں ، ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان نے ڈگری کورسز کامیابی اور نمایاں نمبروں سے مکمل کرنیوالے طلباءوطالبات میں ڈگریوں کی تقسیم کیلئے دسویں کانووکیشن کے انعقاد کے دعوت نامے ارسال کئے ۔یہ دعوت نامے 18اپریل 2019 کو ارجنٹ میل سروس کے ذریعے ارسال کئے گئے جو کہ پاکستان پوسٹ نے26 اپریل 2019ءکو طلباءوطالبات کوپہنچائے جبکہ کانووکیشن کا انعقاد 25 اپریل کو 11 بجے تھا۔ کانووکیشن ایک ایسی یادگار تقریب ہوتی ہے جس کا طلبا وطالبات برسوں انتظار کرتے ہیں اور اپنی محنت کاثمرایک ڈگری کی شکل میں وصول کرتے ہیں اور اس لمحہ کو ایک تصویر کی شکل میں قید کر کے ایک یادگار کے طور پر ساری زندگی ساتھ رکھتے ہیں۔یہ تو ایک چھوٹی سی مثال ہے ورنہ ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔
پاکستان پوسٹ کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کی فوری میل سروس (یو ایم ایس) وسیع نیٹ ورک تقریبا ً13ہزارپوسٹ آفسز کے ذریعے دستاویزات اور پارسلوں کی منتقلی تیز، قابل اعتماد، موثر اور محفوظ ترسیل رات بھر یا 2 دن میںکی جاتی ہے۔ جبکہ زمینی حقائق وعوامی تجربات کی روسے یہ دعویٰ صرف دعویٰ کی حد تک ہی نظر آتا ہے، حالانکہ 24 گھنٹے یا 2 دن میں یہ سروس دینا پاکستان پوسٹ کے عملہ کیلئے مشکل نہیں لیکن عملہ کے بعض افراد کی روایتی سستی کی وجہ سے اور اعلیٰ انتظامیہ کے احسن طریقہ سے مانیٹرنگ نہ کرنے کے باعث ادارہ کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے اور خراب سروس کی فراہمی کی وجہ سے کسٹمر نجی کورئیر کمپنیوں کے ذریعے اپنی قیمتی دستاویزات وعام ڈاک کی ترسیل کوترجیح دیتے ہیںجویقینا 24 گھنٹے میں ڈاک کی ترسیل کو یقینی بنا رہی ہیں۔ جبکہ پاکستان پوسٹ کے ذریعے دو دن کا وقت بتا کر کم سے کم ایک ہفتہ میں دستاویزات کی ترسیل کی جارہی ہے۔ہماری تو یہ خواہش ہے کہ پاکستان پوسٹ ترقی کرے اور عوام دیگر نجی کمپنیوں کے بجائے پاکستان پوسٹ کو ترجیح دیں لیکن اس کیلئے نظام میں بہتری لانا ہو گی اور ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنانا ہو گی۔
کچھ روز قبل ایک خبر کے ذریعے معلوم ہوا گورنمنٹ نے تمام اداروں کو احکامات جاری کئے ہیں کہ وہ اپنے ادارہ جاتی خطوط اور پارسلوں وغیرہ کی ترسیل پاکستان پوسٹ کے ذریعے عمل میں لائیں ۔گو کہ کچھ سرکاری ادارے پاکستان پوسٹ کے ذریعے خطوط و دستاویزات کی ترسیل کر رہے ہیں ، لیکن وہ خطوط بھی اوپر دی گئی ایک چھوٹی سی مثال کی طرح بروقت نہیں پہنچتے بظاہر تودیئے گئے احکامات ایک خوش آئند اقدام نظرآتے ہیں جس سے ایک سرکاری ادارے یعنی ”پاکستان پوسٹ “کی آمدن میں اضافہ ہو گا۔اب غور طلب بات یہ ہے کہ اس سرکاری حکم کو بجا لاتے ہوئے تمام سرکاری ادارے اپنے خطوط و دستاویزات کی ترسیل پاکستان پوسٹ کے ذریعے عمل میں لاتے ہیں تو اس کے اثرات ان سرکاری اداروں پر کیا مرتب ہوں گے۔
سرکاری اور نیم سرکاری ادارے جو پاکستان پوسٹ کی خدمات اپنے خطوط کی ترسیل کیلئے حاصل کریں گے ، اگر خط وکتابت کا یہ سلسلہ تاخیر کا شکار ہوا تو ان اداروں کی کارکردگی میں واضح فرق پڑے گا۔ اول تو ہمارے تمام سرکاری اداروں کی کارکردگی کچھ پہلے ہی قابل ذکر نہیں ہے ایک اندازے کے مطابق بیشتر سرکاری ادارے خسارے میں جا رہے ہیں اور پبلک سروسز والے اداروں کی کسٹمر کئیر اس حد تک خراب ہے کہ حقیقت میں عوام سرکاری ملازمین کو برا بھلا کہہ دیتے ہیں، سونے پہ سہاگہ کے مصداق جب خطوط کی ترسیل پاکستان پوسٹ کے ذریعہ ہوگی تو لازم سی بات ہے کہ پاکستان پوسٹ کا عملہ اپنی روایتی سستی کا مظاہرہ کرے گا، جس کی وجہ سے تمام اداروں کی کارکردگی متاثر ہو گی ۔ جس پر قابو پانے کیلئے پاکستان پوسٹ کی سروسز و خدمات کو بہتر بنانا ازحد ضروری ہے ۔ اس ضمن میں چند تجاویز جن پر عمل کر کے سروسز کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
٭ بائیو میٹرک حاضری کا نظام بروئے کار لاتے ہوئے عملہ کی بروقت آمد و اخراج کو یقینی بنایا جائے۔
٭ پاکستان پوسٹ کو مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کیا جائے، گو کہ بیشتر پوسٹ آفسز میں کمپیوٹر موجود ہیں اور یو ایم ایس اور ای ایم ایس کے تحت ہونے والی بکنگ کو کمپیوٹر میں درج کیا جاتا ہے، لیکن باقاعدہ طور پر تمام پوسٹ آفسز میں ایک سافٹ وئیر مہیا کیا جائے اور نارمل ڈاک سمیت تمام سروسز میں ہونے والی بکنگ کو بکنگ کے وقت ہی بار کوڈ اسٹکر لگا کر کمپیوٹر میں درج کیا جائے ۔
٭اعلیٰ انتظامیہ باقاعدہ پوسٹ آفس کا دورہ کریں اور مانیٹرکریں تاکہ تیز سروس اور عملہ کی اچھی کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
٭تمام بکنگ کا کیٹٹیگری کے حساب سے ڈیلیوری کے وقت کا اندراج ہو مقررہ وقت پر ڈیلیوری نہ ہونے پر سافٹ ویئرکے ذریعے تمام ٹریکنگ کی تفصیل رپورٹ کی شکل میں اعلیٰ انتظامیہ کے کمپیوٹرپر دیکھی جا سکے ، جس پر وہ ذمہ دار کے خلاف ایکشن لیں ۔ اس طریقہ سے عملہ بھی بروقت ڈیلیوری کو یقینی بنائے گا اور افسران کے نوٹس میں بھی ادارے کی کارکردگی اور کوتاہیوں کی رپورٹ ایک کلِک کے فاصلہ پر ہوں گی۔
٭ پاکستان پوسٹ کو ڈیجیٹل آئی ٹی کے ایک نیم خودمختارسرکاری کوریئرادارے کا درجہ دیا جائے۔جس میں تنخواہوں ومراعات کانظام تمام تر نجی کمپنیوں کی طر ز پر اختیار کیا جائے ۔ادارے میں ڈیٹاانٹری آپریٹرز اور منیجرز لیول کے افراد نوجوان اور ٹیلنٹڈتعلیم یافتہ افراد ہوںجو رضاکارانہ ،حب الوطنی اور خدمت خلق کے جذبے سے دن رات عوام الناس کی خدمت کو اپنی پیشہ ورانہ کامیابی اور حصول رضائے الٰہی کا ذریعہ سمجھتے ہوں۔
دراصل ادارے تباہ تب ہوتے ہیں جب اعلی افسران اپنی ڈیوٹی کوخوب سے خوب تر مانیٹرنگ اورپالیسی سازی کیساتھ ایمانداری سے سرانجام دینے کے بجائے دفاتر میں سارا دن صرف چند کاغذات اورفائلوں پر دستخط کرنے ، دوستوں کو دفاتر میں مدعو کر کے خوش گپیوں اور چائے پینے پلانے میں مشغول رہتے ہیں، بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ تمام اداروں کی انتظامیہ سرکاری نوکریاں صرف اور صرف اعلیٰ مراعات اور عیش آرام سرکاری کھاتوں میں سے مستفید ہونے کیلئے کر رہے ہوتے ہیں۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے ضروری ہے کہ انتظامیہ نجی اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرز پر مانیٹرنگ کے مختلف لیول کویقینی بناتے ہوئے ملازمین سے بھرپور طریقہ سے دفتری اوقات میں کام لیں اور کسٹمر کئیر کے اصولوں پر عمل کریں اور کروائیں تبھی اداروں کی کارکردگی کو مثالی بنایا جا سکتا ہے ۔
(کالم نگارسماجی اورمعاشرتی امورپر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved