تازہ تر ین

بہاولنگر ریلوے اسٹیشن کی بحالی۔ شکریہ شیخ رشید

سلمان احمد چودھری …. اظہار خیال
قیام پاکستان سے قبل جب برصغیر میں برطانوی راج تھا تو انہوں نے پورے ہندوستان کو ریل کے ذریعے ملانے کا فیصلہ کیا تاکہ لوگوں کو سفر کرنے میں آسانی ہواور ہندوستان کے مختلف علاقوں تک رسائی ممکن بنائی جاسکے، ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہر سو میل کے فاصلے پر ریلوے اسٹیشن قائم ہوگا، جہاں ریل گاڑی کا انجن تبدیل کیا جاسکے اور ضرورت کے مطابق فیول بھی ڈالا جاسکے، لہٰذا اس فیصلے کے پیش نظر 1894ءمیں بہاولنگر ریلوے اسٹیشن کی بنیاد رکھی گئی، جس کا اس وقت نام روجھانوالی ریلوے اسٹیشن رکھا گیا۔ اس ریلوے اسٹیشن نے ریاست بہاولپور کی ترقی و خوشحالی میں بھی کلیدی کردار اداکیا۔1901ءمیں نواب آف بہاول خان نے اسکا نام بہاولنگر ریلوے اسٹیشن رکھ دیا، قیام پاکستان سے پہلے بہاولنگر ریلوے اسٹیشن کراچی کو دہلی سے ملاتا رہا، پاکستان بننے کے بعد بھی یہ اسٹیشن خاصا اہم رہا، 1980ءتک یہاں ایک دن میں 16,16ریل گاڑیاں گزرتی رہیں، اس کے بعد جیسے جیسے پاکستان ریلوے کو زوال آتا گیا ویسے ویسے بہاولنگر ریلوے اسٹیشن کی رونق بھی ماند پڑتی گئی اور شہریوں کو 26جولائی 2011ءکو آخری دفعہ ٹرین کی گونج سننے کو ملی۔
شیخ رشید احمد نے ریلوے کی وزارت سنبھالنے کے بعد پاکستان بھر کی بند ٹرینوں کو چلانے کا اعلان کیاتھا، چند روز قبل بہاولنگر سے تعلق رکھنے والے چوہدری بلال احمد نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شیخ رشید احمد سے راولپنڈی میں ملاقات کرکے بہاولنگر ریلوے اسٹیشن کی بحالی کا مقدمہ انکے سامنے رکھا، چوہدری بلال احمد نے بڑی تفصیل کے ساتھ وزیر ریلوے کو بہاولنگر ریلوے اسٹیشن کی تاریخی اہمیت سے آگاہ کیا، انہوں نے بتایا قیام پاکستان سے پہلے بہاولنگر ریلوے اسٹیشن کے ایک جانب سمہ سٹہ اور کراچی تک ریل گاڑی جاتی تھی جبکہ دوسری جانب امروکااور دہلی تک جاملتی تھی۔کراچی اور کوئٹہ کو دہلی سے ملانے کی وجہ سے بہاولنگر ریلوے اسٹیشن کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔ بہاولنگر ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ساتھ منڈی صادق گنج، چشتیاں، حاصل پور، خیرپور ٹامیوالی، بغدادالجدید کے ریلوے اسٹیشن بھی آباد رہے۔ 1928ءمیں بہاولنگر سے فورٹ عباس تک دربارلائن کے نام سے ریلوے لائن بچھائی گئی جس سے ڈونگہ بونگہ، ہارون آباد، فقیروالی، کھچی والا میں بھی ریلوے اسٹیشن تعمیر کئے گئے۔ چوہدری بلال احمد نے مزید بتایا کہ 1935ءسے 1938ءکے دوران بہاولنگر ریلوے اسٹیشن کی جغرافیائی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں ملازمین کیلئے 500کوارٹر، ریلوے ہسپتال، ریلوے پولیس، ریلوے ورکشاپ، ریلوے ڈاک بنگلہ، ریلوے قبرستان اور پاور سب اسٹیشن تعمیر کئے گئے۔ قیام پاکستان کے وقت بہاولنگر ریلوے اسٹیشن ہی مسلمانوں کو پاکستان لانے میں معاون ثابت ہوا، قیام پاکستان کے بعد 80ءکی دہائی تک ریلوے اسٹیشن کی رونق بحال رہی جو بعد میں آہستہ آہستہ کم ہوتے ہوتے ختم ہوگئی، آج بھی ریلوے اسٹیشن اور انفراسٹرکچر موجود ہے اور ریل گاڑی کی انتظار میں ہے ، شیخ صاحب نے نہایت اطمینان سے ساری باتیں سنیں اور کہا ”چوہدری صاحب!آپ کو بہت جلد خوشخبری دینگے“۔
گذشتہ دنوں بہاولنگر سے تعلق رکھنے والے سابقہ ایم پی اے شوکت بسرا نے بھی وزیر ریلوے شیخ رشید سے ملاقات کرکے بہاولنگر ریلوے اسٹیشن کی بحالی کا مطالبہ کیا، ملاقات میں سی ای او پاکستان ریلوے آفتاب اکبر، جی ایم اپ لائن ریلوے نثار میمن بھی موجود تھے۔ شوکت بسرانے بہاولنگر ریلوے اسٹیشن کی بحالی کے بعد علاقے کے لوگوں کو ملنے والے ثمرات پر بھی روشنی ڈالی۔ ملاقات کے بعد شیخ رشید نے سی ای او پاکستان ریلوے کو خصوصی ہدایت کی کہ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ بہاولنگر ، سمہ سٹہ سیکشن پر بھی کام شروع کیا جائے، سی پیک منصوبے کے تحت ساہیوال ، ملتان میں لائن ون کی پٹری کو بہاولنگر ،فورٹ عباس ٹریک کی بحالی کے لئے استعمال کیا جائے۔
شیخ رشید کے اس اعلان کے بعد بہاولنگر کے شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، کیونکہ عرصہ دراز سے شہری ریل گاڑی کی گونج سے محروم رہے ہیں، بہاولنگر جیسے پسماندہ علاقے کو بذریعہ ریل قومی دھارے میں شامل کرنے پر بہت بہت شکریہ شیخ رشید احمد صاحب۔
ریل گاڑی کے چلنے سے لوگوں کو سفری سہولت کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی ملیں گے، معاشی وسائل میں اضافے کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کا احساس محرومی بھی دور ہوگا اور سب سے بڑھ کر شہر بہاولنگر کے ساتھ ساتھ ریلوے اسٹیشن کی رونقیں بھی پھر سے بحال ہو جائیںگی۔
(کالم نگار مختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved