تازہ تر ین

شریف خاندان کا سیاسی مستقبل؟

زید حبیب….قلم آزمائی
پاکستان کی سیاسی تاریخ شریف خاندان کے تذکرہ کے بغیر نامکمل تصور کی جاتی ہے۔ یہ خاندان گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان کی سیاست کے کئی نشیب و فراز دیکھ چکا ہے۔ ایک طرف اس نے اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک رسائی حاصل کی تو دوسری طرف قیدوبند اور جلاوطنی کی زندگی بھی گزاری۔ اس خاندان کے اہم ترین فرد میاں نواز شریف نہ صرف تین بار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں بلکہ انہیں تین بار ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس فیملی کے دوسرے اہم فرد میاں شہباز شریف بھی تین بار پنجاب کے وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں ۔ شریف فیملی کے سربراہ میاں محمد شریف کا جنرل ضیاءالحق سے قریبی تعلق رہا ، جنرل ضیاءالحق کے دور حکومت میں ہی میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر خزانہ اور بعدازاں1985ءمیں وزیر اعلیٰ بنے۔ 1990ءکے عام انتخابات کے بعد اسلامی جمہوری اتحاد نے کامیابی حاصل کی تو اتحاد کے سربراہ میاں نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے۔ 90ءکی دہائی کو پاکستانی سیاست کی بدترین دہائی بھی کہا جاتا ہے‘ جب دو سیاسی جماعتوں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے اقتدار کی خاطر ایکدوسرے پر بدترین الزامات لگائے ۔ 1997ءکے انتخابات میں دو تہائی سے زائد اکثریت لیکر میاں نواز شریف ملک کے طاقتور وزیراعظم بن گئے اور اس وقت کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ دوسری بار وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے والے میاں نواز شریف کی حکومت کا محض اڑھائی سال بعد ہی تختہ الٹ دیا جائیگا۔ان انتخابات کے نتیجے میں میاں شہباز شریف پہلی بار پنجاب کے وزیراعلیٰ بھی بن گئے تھے۔
12اکتوبر 1999ءکو جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کر کے انہیں پابند سلاسل کر دیا۔ نواز شریف کو پہلے راولپنڈی پھر ملیر جیل اور اس کے بعد اٹک قلعہ میں قید رکھا گیا۔ دہشت گردی، طیارہ ہائی جیکنگ ، اقدام قتل اور بد عنوانی کے الزامات کے تحت میاں نواز شریف کو عمر قید اور 14سال قید کی سزائیں سنا دی گئیں۔ بعدازاں ایک معاہدہ کے تحت شریف فیملی 10 دسمبر 2000 ءکو جلا وطن ہو کر سعودی عرب چلی گئی۔ شریف فیملی میں سے شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز بطور ”ضمانت“ یہیں مقیم رہے۔ سعودی عرب قیام کے دوران 2004ءمیں میاں محمد شریف کا انتقال ہوا ۔ نواز شریف نے 2008 ءکے عام انتخابات سے پہلے لندن میں بے نظیر بھٹو سے میثاق جمہوریت کیا اور پہلی بار 10 ستمبر 2007 ءکو پاکستان آنے کی کوشش کی لیکن انہیں ایئر پورٹ سے واپس بھجوا دیا گیا۔دوسری بار 25 نومبر 2007 ءکو لاہور کی سر زمین پر اترے تو ان کا شاندار استقبال ہوا تھا۔ 2008ءکے انتخابات میں حصہ لینے کی انہیں اجازت نہ ملی تاہم ان کی جماعت نے وفاق میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی جبکہ پنجاب میں حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہوگئے اور میاں شہباز شریف دوسری بار صوبہ کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ 2013ءکا انتخابی بگل بجا تو میاں نواز شریف بھی عملی سیاست میں دوبارہ اِن ہو گئے اور انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا ، ان انتخابات میں مسلم لیگ(ن) نے وفاق اور پنجاب میں کامیابی حاصل کر لی ۔13 سال 7 ماہ اور 18 دن بعد میاں نواز شریف نے بطور رکن اسمبلی پارلیمنٹ ہاﺅس میں داخلے کے ساتھ تیسری بار وزیر اعظم بن کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔14 ماہ کال کوٹھڑی کی قید،6 سال اور11 ماہ سے زائد کی جلا وطنی اور وطن واپسی پر 5 سال 6 ماہ کی سیاسی جدوجہد کے بعد میاں نواز شریف ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے جبکہ صوبہ پنجاب میں میاں شہباز شریف مسلسل دوسری بار وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہو گئے۔
پاکستان کا طاقتور ترین سمجھا جانیوالا سیاسی خاندان (شریف فیملی ) ان دنوں مصائب کا شکار اور درجنوں کیسوںمیں زیر تفتیش ہے ۔حالیہ مشکلات کا آغاز میاں نواز شریف کے دور حکومت میں اس وقت ہوا جب اپریل 2016ءمیں پانامہ لیکس میں نواز شریف کے بچوں کے نام آئے کہ انہوں نے آف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں ۔ پاناما لیکس پر حزب اختلاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا لیکن انھوں نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ۔تاہم سپریم کورٹ نے اس وقت اس سے معذرت کر لی اور بعد میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تحقیقاتی کمیشن کے ضوابطِ کار کی تشکیل کے لیے بھی طویل نشستیں ہوئیں لیکن کوئی حل نہ نکل سکا۔ ضوابطِ کار کا معاملہ کسی نتیجے پر نہ پہنچنے پر تحریک انصاف سڑکوں پر نکل آئی اور دو نومبر کو اسلام آباد کو بند کرنے کی کال سے پہلے پکڑ دھکڑ اور پرتشدد جھڑپوں کے دوران یکم نومبر کو سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے پر اتفاق کر لیا۔ کیس کا باقاعدہ آغاز ہو ا ، اس کے بعد کیس میں مختلف مراحل آئے اور بالآخر 20اپریل 2017ءکو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں مشترکہ تحقیقات کےلئے جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کر دی۔ اس فیصلے کی روشنی میں ایک جے آئی ٹی تشکیل دی گئی جس نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی۔ 28جولائی 2017ءکو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا۔ عدالت کی جانب سے نواز شریف اور ان کے بچوں کے حوالے سے نیب میں ریفرنس دائر کرانے کے احکامات بھی دیے گئے۔ان احکامات کی روشنی میں احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر)محمد صفدر کیخلاف 14ستمبر 2017کوسماعت کا آغاز کیا اور تقریباً ساڑھے 9 ماہ بعد3جولائی 2018ءکو اس کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔ اس فیصلہ میں میاں نواز شریف کو دس برس ، ان کی بیٹی مریم نواز کو سات برس اور داماد کیپٹن(ر) صفد ر کو ایک برس قید کی سزا سنائی گئی۔ نواز شریف کی جانب سے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی جس کے نتیجہ میں عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو ضمانت پر بری کر دیا۔ ان مقدمات سے بریت کے باوجود نواز شریف کی عدالتی مشکلات ختم نہیں ہو ئیں اور بعدازاں احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انھیں باعزت بری کر دیا۔ میاں نواز شریف ان دنوں بھی پابند سلاسل ہیں ۔ گزشتہ دنوں 6ہفتوں کی طبی ضمانت ختم ہونے کے بعد ایک جلوس کی قیادت میں انہیں دوبارہ کوٹ لکھپت جیل پہنچا دیا گیا۔
نواز شریف کے علاوہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز بھی متعدد کیسوں میں زیر تفتیش ہیں اور اس خاندان کی مشکلات کم ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں ۔ ان حالات میں عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس خاندان کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا؟ 2018ءکے انتخابات میں عمران خان نے تبدیلی کے نعرہ پر کامیابی حاصل کی، اس الیکشن میں مسلم لیگ (ن) مرکز اور پنجاب میں دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ۔ میاں شہباز شریف قومی اسمبلی جبکہ حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا کردار نبھا رہے ہیں۔بعض سیاسی تجزیہ کار یہ پیشگوئی کر رہے ہیں کہ نواز شریف کی سیاست ختم ہو چکی ہے جبکہ شہباز شریف کو بھی عنقریب سیاسی میدان سے آﺅٹ کر دیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے یا نہیں ، کیونکہ اس طرح کی پیشگوئیاں شریف فیملی کی جلا وطنی کے دوران بھی کی جاتی رہی ہیں ۔رہ گئی بات مریم نواز اور حمزہ شہباز کی‘ تو یہ ابھی تک واضح نہیں کہ انہیں بھی کس قدر آزادی کے ساتھ سیاست کرنے کی اجازت دی جائیگی۔ مریم نواز کا سوشل میڈیا اکاﺅنٹ پھر سے ایکٹو ہو چکا ہے، حمزہ شہباز ضمانت پر ہیںلیکن حکومت کیخلاف جارحانہ بیانات دے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شریف فیملی کی اگلی نسل میں سے کون اس کا حقیقی جانشین بنتا ہے اور کیا شریف فیملی مستقبل قریب میں اپنی سیاسی بقاءممکن بنا پائے گی؟ یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کیلئے ہمیں کچھ عرصہ انتظار کرنا پڑے گا۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved