تازہ تر ین

علما ءنے مہنگے ریسٹورنٹس کو زحمت قرار دیدیا ، اکرم چودھر ی کا پرائس کنٹرول اتھارٹی بنانے کا مطالبہ ، ماضی میں ریسٹورنٹس ناقص کھانا کھلاتے رہے ، چیکنگ کا سلسلہ بھی بند کر دیا گیا ، تحفظ حقوق صارفین تنظیمیں

لاہور(رپورٹنگ ٹیم)صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک میں قیمتوں کو چیک کرنے کا نظام موجود نہ ہونے کی وجہ سے تمام بڑے ریسٹورنٹس اور ان کے مالکان اپنی مرضی اور من چاہی قیمتیں ناصرف وصول کر رہے ہیں بلکہ ٹیکس کی مد میں کاٹی جانے والی رقم بھی ریونیو اتھارٹی تک نہیں پہنچ پا رہی ہے۔اسی طرح ماضی قریب میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جب پوش علاقوں میں بڑے بڑے ناموں والے مہنگے ریستورانوں پر چھاپے مارے گئے تو اسی فیصد ریستوران ناقص صفائی یا باسی اشیاءصارفین کو کھلانے میں ملوث پائے گئے لیکن یہ چیکنگ کا سلسلہ بھی اچانک ہی بند کردیا گیا جو تاحال دوبارہ شروع نہیں کیا جاسکا۔یہ ریسٹورنٹ روزہ داروں کیلئے زحمت بن رہے ہیں: علامہ راغب نعیم ، رمضان میں نیچے والے کا بوجھ ہلکا کرو: مذہبی سکالر ، منافع کی حد سے تجاوز کرنا اللہ کے قوانین سے انحراف: مفتی شاہد عبیدصوبائی دارلحکومت کے پوش علاقوں میں روزہ داروں کو سحر و افطار کے نام پر لوٹنے والے مہنگے ہوٹلز کے حوالے سے جامعہ نعیمیہ کے مہتمم علامہ راغب حسین نعیمی نے کہا کہ رمضان المبارک برکت اور رحمت کا مہینہ ہے جس کے متعلق آقائے دوجہاں حضرت محمد کا فرمان ہے کہ اس ماہ میں اپنے سے نیچے والے کا بوجھ ہلکا کرو۔چونکہ اس مہینے میں لوگ زیادہ اشیائ ضروریہ خریدتے ہیں اس لیے دوکاندار کا بھی زیادہ مال بکتا ہے اس لیے وہ کم نفع پر بھی زیادہ مال بیچ کر اپنامطلوبہ منافع کما سکتے ہیں۔یہ ہمارے معاشرے کا چلن ہے جس کا یہ ریسٹورنٹس بھی شکار ہیںاسی لئے برکتوں والے مہینے میں روزہ داروں کے لیے بجائے سہولت کے زحمت کا سبب بن رہے ہیں۔جامعہ اشرفیہ کے مفتی شاہد عبید کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ بری صورتحال نہیں ہوسکتی ہے کہ آپ روزہ داروں کو سہولت فراہم کرنے کی بجائے مصیبت کا موجب بن رہے ہیں۔اللہ کے نبی نے ہمارے لیے تجارتی اصول وضع کردئیے ہیں جس میں منافع کی حد بھی مقرر ہے اور اگر کوئی اس حد سے متجاوز کرتا ہے وہ دراصل اللہ کے قوانین سے متصادم ہونے کی کوشش کرہا ہے۔مہنگےریسٹورنٹس پر سحر و افطار کے بارے میںسابق مشیر وزیراعلیٰ پنجاب اکرم چوہدری کا کہنا تھا کہ میں نے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ قیمتوں کو مستقل طور پر درست رکھنے کے لیے ایک پرائس کنٹرول اتھارٹی بنائیں جس کا سربراہ محکمہ خوراک،فوڈ اتھارٹی اورپرائس کنٹرول کرنے والے افراد کو ہیڈ کرے تبھی یہ ممکن ہے ورنہ عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ہم اگر کسی ریڑھی بان کا پانچ ہزار روپے چلان کردیں تو وہ ایک ہفتے تک یہ رقم دوبارہ نہیں کماسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس حوالے سے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم من الحیث القوم بدعنوان ہوچکے ہیں جس کی مثال شوگر ملز مافیا ہے جو اڑتالیس روپے فی کلو پڑنے والی چینی مارکیٹ میں ستر روپے میں فروخت کررہے ہیں اور سکی وجہ یہ ہے کہ عمضان میں جان بوجھ کر جعلی بحران پیدا کیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ بڑے بڑے تجارتی اداروں کے مالکان کے ساتھ بیٹھ کر قیمتوں کا تعین کرتے ہیں اور انکے سامنے بھگی بلی بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر)عثمان انور نے خبریں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں کے حوالے سے کاروائی پرائس کنٹرول کمیٹی کا کام ہے جبکہ فوڈ اتھارٹی کا کام ہوٹلز پر فروخت ہونے والی اشیائ کی کوالٹی کو چیک کرنا ہے جس کے لیے ہم وقتاً فوقتاً کاروائی کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خبریں یا چینل فائیو ایسے ریسٹورنٹس کی نشاندہی کرتے ہیں تو فوری طور پر قوانین و ضوابط کے تحت کاروائی کی جائے گی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved