تازہ تر ین

کم عمری کی شادی پر پابندی کا بِل

محمدانور قریشی….بحث ونظر
گزشتہ دنوں حکومت کا 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کا مجوزہ بل ایوان میں پیش کرنے سے متعلق امور پر کئی انتہائی ذمہ داران شخصیات و جید علمائے کرام کا موقف اور ان کی آراءنظروں سے گزریں۔ مقصد کوئی بحث و مباحثہ یامناظرہ و مباہلہ کرنا ہر گز نہیں۔ محض اُن جواب طلب امور سے متعلق آگاہی حاصل کرنا اور چند گزارشات عرض کرنا مقصود ہے۔
روزنامہ خبریں مورخہ 3 مئی ممتاز عالم دین وفاق المدارس جنوبی پنجاب کے ناظم شیخ الحدیث مولانا زبیر احمد صدیقی (ناظم جامعہ فاروقیہ شجاع آباد) نے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ ”18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی کا بل غیر اسلامی غیر آئینی ہے ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ یہ قانون مغرب کو راضی کرنے اور بے راہ روی بڑھانے کا عمل ہے۔ قرآن و سنت دین اسلام کے مطابق شادی کا عمل لڑکا یا لڑکی کی بلوغت سے منسلک ہے عمر سے نہیں“
اس بیان کے فوراً بعد اسلامی نظریاتی کونسل (جس کے چیئرمین سمیت اراکین کی بڑی تعداد مولانا صدیقی صاحب کی ہم مسلک و ہم مشرب ہے) کا وضاحتی بیان روزنامہ خبریں 4 مئی میں شائع ہوا کہ ”کم سنی کی شادی مسائل کا باعث۔ حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہئے اسلامی نظریاتی کونسل نے واضح کیا ہے کہ کم سنی کی شادی متعدد مفاسد و مسائل کا باعث بنتی ہے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جانی چاہئے حکومت کم سنی کی شادی کی حوصلہ شکنی کے لئے علمائے کرام کے ذریعے آگاہی اور شعور بیدار کرنے کی مہم شروع کرے۔“
روزنامہ خبریں 5 مئی مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب اور وفاق المدارس کے قائدین کا ایک اخباری بیان سامنے آیا کہ ”شریعت سے متصادم قانون سازی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کم عمری کی شادی کے نام پر بَلوغت کے بعد شادی پر پابندی عائد کرنا فطرت کے خلاف ہے۔“
پاکستان میں خواتین کے ساتھ جو امتیازی و ناروا شرمناک سلوک روا رکھا جا رہا ہے صاحبان علم و دانش و عوام و خواص سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ گناہ بھائی کرے کفارہ بہن ادا کرے۔ قتل کوئی اور کرے ہرجانہ کے طور پر صدقہ عورت کا دیا جائے ۔ ماتھے پہ سہرا تو 80 سالہ باپ سجائے خوشیوں کا کفارہ 10 سالہ بچی ادا کرے۔ غیرت کے نام پر خواتین کا قتل عام ، وٹہ سٹہ کے معاملات، آئے روز لڑائی جھگڑے ،دنگا فساد قتل و غارت گری کی زد میں ہمیشہ یہی عورت آتی ہے۔ ان تمام سماجی معاشرتی برائیوں کے خلاف جہاد کرنا حکومت کا ہی نہیں ہمارا بھی فرض ہے۔ خواتین کی فلاح و بہبود سے متعلق حکومتی اقدامات کی ہمیں بھی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔
خواتین کی فلاح و بہبود صحت و تندرستی سے متعلق ایک اہم مسئلہ کم عمری کی شادی بھی ہے۔ 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی کا مجوزہ بل حکومت ایوان میں پیش کرنا چاہتی ہے تو کچھ عناصر اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
محترم و مکرم بصد ادب و احترام دست بستہ گزارش یہ ہے کہ شادی کیلئے یہ چار چیزیں (1) بچوں کا سَن بلوغت پر پہنچنا (2) ذہنی طور پر بچوں کا بالغ ہونا (3) بچوں کا شادی کے لئے جسمانی طور پر مکمل ہونا۔ (4) بچوں کا شادی کے لئے معاشی طور پر خود کفیل ہونا، ضروری ہیں۔
اس بل کی مخالفت کرنیوالے محترم حضرات صرف پہلی بات یعنی بچوں کا سن بلوغ پر پہنچنے والی بات پر زور دیتے ہیں جبکہ حالات و واقعات کے تناظر میں باقی تمام باتیں نظر انداز کر رہے ہیں۔ پاکستان میں عموماً اندازاً اوسطاً بچے 12 سے 14 سال کی عمر تک سن بلوغ تک پہنچتے ہیں۔ اب آپ مجھے سمجھایئے کہ
کیا سن بلوغت تک پہنچنے والا 12 سالہ بچہ کیا ذہنی طور پر بھی بالغ ہوا ہے؟ کیا شادی کیلئے وہ جسمانی طور پر مکمل ہوا ہے؟ کیا اس نے 12 سال کی عمر میں دینی و دنیاوی تعلیم مکمل کر لی ہے؟ کیا والدین نے اس کی تربیت کی تکمیل کر لی ہے؟ شادی کے مفہوم سے بھی آشنا ہیں؟ کیا 12 سالہ دولہے میاں معاشی طور پر ایک خاندان کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہےں؟ نئی نسل کو جنم دینے کے لئے کیا 12 سالہ بچہ یا بچی جسمانی طور پر موزوں و صحت مند ہیں؟
یہ کوئی مغرب کا ایجنڈہ نہیں اور نہ ہی لادین عناصر کا پرچار، اللہ تعالیٰ نے سب کو عقل و شعور عطا کیا ہے۔ انڈونیشیا ترکی سمیت کئی اسلامی ممالک میں شادی کے لئے 18 برس کی حد مقرر ہے۔ نہ تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کے ایمان کو کوئی دھچکا لگا ہے۔ آپ میرا اعتبار نہ کیجئے خیبر سے لے کر کراچی تک تمام ہسپتالوں کے زچہ و بچہ ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والی اموات کی شرح کا مطالعہ کیجئے۔ کثیر تعداد ان ماﺅں کی ملے گی جن کی کم سنی میں شادی ہوئی اور وہ جنسی پیچیدگیوں کا شکار ہوئیں۔
خدا کے لئے ذرا بالغ نظری سے سوچیں۔ بے شک دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ دین اسلام کسی مخصوص خطہ کسی مخصوص قوم یا مخصوص مدت کے لئے نہیں بلکہ قیامت تک کے لئے مشرل راہ ہے۔ دینی و دنیاوی مسائل کے پیدا ہونے اور ان کے حل کے لئے قرآن و سنت فقہ اور علمائے کرام کی رہنمائی رہبری بڑی اہم رہی ہے۔ قیامت تک نبوت کا دروازہ بند ہو گیا ہے لیکن اُمت مسلمہ کی رہنمائی کے لئے اجتہاد کا دروازہ تو بند نہیں ہوا۔ زمانہ نبوی میں خواتین مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتی تھیں۔ محض 5 سال بعدحضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواتین کے مسجد میں آنے پر پابندی لگا دی۔
فطرت کا حوالہ دینے والے حضرات فطرت کے اصولوں کو تسلیم بھی کریں۔ وقت سے پہلے کچے آم توڑ کر چٹنی اچار تو بنایا جا سکتا ہے وقت مقررہ سے پہلے سائز حجم پورا کئے بغیر آم حاصل نہیں کئے جا سکتے۔
ہر وہ کام جو انسانیت کی خدمت فلاح و بہبود سے وابستہ ہو اُسے مغرب کا ایجنڈہ یہود و نصاریٰ کی کارستانیاں کہہ کر مسترد کرنا مناسب نہیں۔ دنیا میں 50 سے زائد اسلامی ممالک ہیں کسی جگہ پولیو ویکسین کے خلاف اتنا مزاحمتی رویہ سامنے نہیں آیا جتنا کہ پاکستان میں زورشور سے پراپیگنڈہ برپا کیا گیا۔ اتنے شکوک و شبہات پیدا کر دیئے گئے کہ الامان الحفیظ
چلئے ایک لمحہ کے لئے آپ کی بات تسلیم کر لی جائے۔ ملکی و غیر ملکی پولیو ویکسین ایک طرف رکھ دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی عقل و شعور سے نوازا ہے، نصاریٰ یہود ہنود کی طرح چار ہاتھ پاﺅں بھی عطا کئے ہیں۔ علم کے طالب ہونے کا بھی دعویٰ ہے انسانیت کی خدمت فلاح و بہبود کے لئے آپ کوئی ایسی ”اسلامی پولیو ویکسین“ ایجاد فرما دیجئے جو تمام شکوک و شبہات سے پاک ہو۔ تمام پاکستانیوں کے لئے قابل قبول ہو۔ کوئی ایسی ”کابلی“ یا ”وزیرستانی“ پولیو ویکسین پاکستان میں متعارف کرایئے جو تمام مضر اثرات سے پاک و صاف ہو۔ کوئی ایک کام تو کیجئے۔
قبائلی دور دراز علاقوں میں صورتحال یہ ہے کہ مرد ڈاکٹروں سے خواتین کا علاج نہیں کراتے (ان کی مرضی) جبکہ خواتین کے علاج کے لئے عورتوں کو لیڈی ڈاکٹر بھی نہیں بننے دیتے ،عورت چاہے تڑپ تڑپ کر جان دے دے لیکن ان کی غیرت پر کوئی حرف نہ آنے پائے ، کیا مضحکہ خیزی ہے؟
کئی ایک مسائل محض ضد اور انا کی بنیاد پر ”کھڑے“ کئے گئے ہیں۔ گیارہ ماہ چاند کے اوپر کوئی مسئلہ کھڑا نہیں ہوتا ہے ،محض رمضان کے موقع رویت ہلال کمیٹی کی اہمیت و افادیت کو کم کرنے، مذاق و تمسخر کا نشانہ بنانے، امت مسلمہ میں انتشار و افتراق شکوک و شبہات پیدا کرنے اور اپنی ضد اور انا کی تسکین کی خاطر شرارتاً ”پوپلزئی“ کو قوم کے سامنے کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
عرصہ دراز تک محترم مولانا احتشام الحق و احترام الحق تھانوی صاحبان چیئرمین رہے۔ اب محض دوسرے مسلک سے تعلق کی بناءپر شاید مفتی منیب الرحمن کا وجود مٹھی بھر عناصر کے لئے ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ مولانا حامد سعید کاظمی کی طرح ان کے درپے ہیں۔ محض دوچار سیٹوں کے بل بوتے پر ملک اور اقتدار کی سیاست کرنے والے کمزور حکومتوں کو پریشرائیزڈ کر کے وفاقی و صوبائی مذہبی امور کی وزارتوں سے لے کر تمام کمیٹیوں پر بلا شرکت غیرے چیئرمین شپ حاصل کرنا اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔
(کالم نگار کنوینر تحریک صوبہ ملتان ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved