تازہ تر ین

یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے؟

چوہدری ریاض مسعود….نقطہ نظر
پاکستان کی سیاسی تاریخ بیشمار انہونے واقعات ، غیر معمولی اور خلاف توقع حادثات، حیرت انگیز تضادات اور سازشوں سے بھری پڑی ہے ، ہم نے ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کے تصور پاکستان اور حضرت قائد اعظم ؒ کے انمول فرمودات اور مشن کو یکسر فراموش کرکے پاکستان کو پسماندگی اور غربت کے سمندر میں دھکیل دیا ہے، ہمارے آج کے سیاستدانوں نے صرف اقتدار کے حصول کو ہی اپنا مقصد ِحیات اور مشن بنارکھا ہے ، انہیں اپنے سوا سب جمہوریت ، عوام اور وطن دشمن ہی نظر آتے ہیں، انہیں اپنی آنکھ کا شہتیر کبھی نظر نہیں آتا لیکن دوسروں کی آنکھ کا بال بھی صاف صاف نظر آتا ہے ، ابھی چند دن پہلے تک وزیراعظم ، انکے وزراءاور لیڈران اپوزیشن لیڈران کو چور، ڈاکو ، لٹیرے اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازتے تھے ، اسمبلی کے ایوان میں اپوزیشن کے شور و غوغا اور احتجاج کی وجہ سے وزیراعظم خود ایوان میں آنے سے گریزاں تھے اور پھر چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ 13مئی کو 26ویں آئینی ترمیم کیلئے آگ اور پانی (اپوزیشن اور حکومت) اکٹھے ہوگئے اور قبائلی اضلاع کی نشستوں اور انتخابات کے بارے میں ترمیم کو متفقہ طور پر منظور کرکے ”نئی سیاسی تاریخ“ رقم کردی، یاد رہے کہ اس آئینی ترمیم کے حق میں 288اور مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں آیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس موقع پر وزیراعظم خود اجلاس میں موجود تھے اور انکی تقریر کو حزب اقتدار اور حزب اختلاف نے نہایت خاموشی سکون اور دلچسپی کے ساتھ سنا ، آپ یقیناًاسے ہماری سیاسی تاریخ کا انوکھا انمٹ اور ناقابل یقین واقعہ قرار دے سکتے ہیں، اس آئینی ترمیم کے بعد 24جون 2019کو قبائلی اضلاع میں الیکشن کمیشن کی طرف انتخابات کیلئے کئے جانےوالے سارے انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے، یاد رہے کہ ان انتخابات کیلئے امیدواروں کی طرف سے کاغذات نامزدگی داخل کرنے تک کے تمام مراحل طے ہوچکے تھے اور انتخابی مہم تمام قبائلی اضلاع میں پورے زور و شور کیساتھ جاری تھی، حکومت اور اپوزیشن کے ”یک جان دو قالب“ ہونے کی وجہ سے اب یہاں انتخابات 12سے18ماہ کے طویل عرصے کے بعد ہوسکیں گے ، 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اگرچہ قومی اسمبلی میں قبائلی اضلاع کی سیٹیں 6سے بڑھ کر 12اور خیبرپختونخواہ اسمبلی میں 16سے بڑھ کر 24ہو جائینگی لیکن اس ترمیم کی وجہ سے 24جون کو ہونے والے انتخابات کے ملتوی ہونے سے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والی عوام کو کیا پیغام جائیگا؟کیا قومی اسمبلی میں متحارب گروپوں کا اس آئینی ترمیم پر یکجا ہوجانا کسی ڈیل یا ڈھیل کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ؟ کیا الیکشن کمیشن کے قبائلی اضلاع میں انتخابات کے ملتوی ہونے پر تحفظات دور ہوسکیں گے؟کیا قبائلی عوام کو اپنے حق رائے دہی کے استعمال سے 12ماہ یا 18ماہ تک دور رکھنا قومی مفاد اور قومی تقاضوں کے مطابق ہوگا؟
حکومت کا یہ فرض ہے کہ اس اہم مسئلے کے بارے میں عوام کو حقیقی صورتحال سے فوراًآگاہ کرے، یہ بات قابل غور ہے کہ آئینی تقاضوں کے مطابق ابھی 26ویں آئینی ترمیم کو سینٹ میں بھی پیش ہونا ہے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ نے بلوچستان کی قومی اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کی سیٹوں میں اضافے کیلئے باضابطہ درخواست دی ہوئی ہے اسکا اب کیا ہوگا؟ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے کہ آج تک کرپشن ، لوٹ مار، بیروزگاری، غربت ، سمگلنگ ، ناانصافی ، ظلم و زیادتی اور دیگر اہم قومی ،سماجی اور معاشی معاملات پر ہمارے سیاستدانوں نے کبھی متحد ہوکر اسمبلیوں میں آواز نہیں اٹھائی، ہر ایک نے اس پر اپنی الگ الگ بانسری بجائی اور تان اس پر آکر ٹوٹتی ہے کہ میرے سوا سب چور، ڈاکو لٹیرے اور ظالم ہیں، ہمیں 13مئی جیسا اتحاد اور یکجہتی کہیں بھی نظر نہیں آتی، ہمارے اسی طرز سیاست نے پاکستان کو بہت سے معاشی، مالیاتی، معاشرتی، سیاسی، انتظامی اور اخلاقی مسائل کے منجدھار میں الجھا کر رکھا ہواہے اور دور دور تک اصلاح ِ احوال کی کوئی صورت سامنے نہیں آتی۔
ہماری انتظامی کمزوریوں اور ناقص پالیسیوں کا یہ عالم ہے کہ تقریباً 2ماہ پہلے جان بچانے والی ادویات سمیت دیگر ادویات کی قیمتوں میں اچانک کئی گنا اضافہ ہوگیا اور ادویہ سازی کے اداروں نے اس سے اپنی تجوریاں بھرلیں لیکن حکومت نے فوری طور پر کوئی نوٹس نہیں لیا، کئی دن گزرنے کے بعد اچانک وزیراعظم پاکستان نے اس صورتحال کا نوٹس لیا اور ادویات کی قیمتیں کم کرنے کا حکم جاری کیا جس پر بوجوہ عملدرآمد نہ ہوسکا، بلکہ وفاقی وزیر صحت کو اپنی وزارت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔
چند روز پہلے وزیراعظم کے مشیر صحت نے ادویات کی قیمتوں میں کمی کروانے کا اعلان کیا ہے، اللہ کرے انکا یہ دعویٰ اور وعدہ پورا ہوجائے، اسی طرح ملک سے بیروزگاری کو دور کرنے کیلئے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا حکومتی اعلان ابھی تک عملی شکل اختیار نہیں کرسکا۔
ہمارا نوجوان بیروزگاری کے ہاتھوں اس قدر تنگ ہے کہ وہ ہر جائز اور ناجائز طریقے سے بیرون ممالک جانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کو اس قومی اثاثے سے کوئی سروکار نہیں، ایک عالمی سروے کے مطابق پاکستان دنیا کا خوش قسمت ملک ہے کہ جس کی نصف سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ، اگر ہم مناسب منصوبہ بندی کریں تو ان نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کرملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔
اس وقت بلوچستان کے نوجوانوں میں بیروزگاری کے بارے میں بہت سے حساس جذبات پائے جاتے ہیں، اس کے سدباب کیلئے ضروری ہے کہ ”گوادر “میں بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے دروازے فوراً کھولے جائیں کیونکہ بلوچستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق انکا ہے، ہم بلوچستان کے معدنی وسائل سے بھرپور استفادہ کرکے بھی اس صوبے کو ترقی یافتہ بناسکتے ہیں، لیکن ہمیں تو سیاسی لڑائیوں سے فرصت ہی نہیں ہے ، آپ حیران ہونگے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف کی سطح پر حکومت پاکستان کی جو انڈر اسٹینڈنگ ہوئی ہے ، اس سے پاکستان کا ہر شعبہ متاثر ہوگا لیکن حکومت مسلسل یہ دعویٰ کررہی ہے کہ اس سے ہماری معیشت ترقی کریگی اور عام آدمی پر اسکا کوئی بوجھ نہیں پڑیگا، اس وقت ساری قوم اس ”عام آدمی“ کی تلاش میں ہے جس پر آئی ایم ایف کی وجہ سے کوئی بوجھ نہیں پڑیگا۔
پاکستان میں ہرروز ہی کوئی نیا مسئلہ سراٹھاتا ہے یا پھر مسئلہ پیدا کردیا جاتا ہے ، جیسا کہ اب پنجاب میں دو نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ میڈیا پر ہائی ریٹنگ لئے ہوئے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کئی عرصہ پہلے صوبہ پنجاب میں دو نئے صوبوں بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے قیام کیلئے بل جمع کروایا ہوا ہے جس کا حکمران جماعت نے کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے اس معاملے کو نئے سرے سے اٹھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، جسکی وجہ سے اس علاقے کے سیاستدان خم ٹوک کر سامنے آگئے ہیں، بہاولپور والے اپنے صوبے کے قیام کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو کسی صورت میں بھی تیار نہیں ہیں، انہیں تخت ملتان کی غلامی کسی صورت میں بھی قبول نہیں جبکہ دوسرا گروپ تین ڈویژنوں پر مشتمل صرف اور صرف جنوبی پنجاب کا صوبہ چاہتا ہے ۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر اس ملک کی ترقی و خوشحالی اور مضبوطی کیلئے کام کریں، ہمارا دشمن ہماری قوم میں ذہنی انتشار ، منافرت ، علاقائی اور لسانی تعصب پھیلانے میں مصروف عمل ہے اور اس کا خاص نشانہ بلوچستان اور سی پیک سمیت گوادر بھی ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا سب سے آسان راستہ بلوچستان سے ہوکر گزرتا ہے ، اس لئے ہمیں بحیثیت قوم کے متحد ہوکر اپنے ازلی دشمن بھارت اور اس کے حواریوں کی سازشیوں کو ناکام بنانا ہے ۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved