تازہ تر ین

حلقہ ارباب ذوق ،کارل مارکس اور علامہ اقبال

میم سین بٹ….ہائیڈپارک
حلقہ ارباب ذوق اور انجمن ترقی پسند مصنفین دونوں قدیمی ادبی تنظیمیں ہیںتاہم ان کے نظریات آغاز میں خاصے مختلف بلکہ متضاد تھے حلقہ ارباب ذوق والے ادب برائے ادب کے قائل تھے جبکہ انجمن ترقی پسند مصنفین والے زیادہ تر دانشور ادب برائے زندگی اورتخلیقات کے نام پر سیاسی نعرے بازی کے بھی قائل تھے وہ ہر چیزکوانقلاب اورترقی پسندی کی عینک سے دیکھنے کی کوشش کرتے تھے جس کی وجہ سے خالص ادب تخلیق کرنے والے سرکاری تعلیمی اداروں سے منسلک پروفیسرز سمیت بیشتردانشورحلقہ ارباب ذوق تک محدود رہتے تھے البتہ کچھ آزاد منش دانشور دونوں تنظیموں کے اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے،حلقہ ارباب ذوق بائیں بازو والوں کے باعث ہی پہلی بار تقسیم ہوا تھا اوردائیں بازو والوں نے اپنا الگ دھڑا تشکیل دیدیا تھا،کمیونسٹ پارٹی پرپابندی اوربعدازاںسوویت یونین ٹوٹنے کے بعد پاکستان میں ترقی پسندوں نے بھی سیاسی نعرے بازی کم کردی تھی اورحلقہ ارباب ذوق والوں نے بھی سیاست اورانقلاب کا نام لینا شروع کردیا تھا رواں ہفتے حلقے کے سیکرٹری عامر فراز نے جب کارل مارکس کے حوالے سے اجلاس رکھنے کی اطلاع دی توہمیں زیادہ حیرت نہ ہوئی البتہ کارل مارکس کے نام سے ہمیں کامریڈ شفیق احمد شفیق مرحوم یاد آگئے جوسرخ سویرے کا انتظار کرتے ہوئے ابن آدم کو غلامی سے چھڑانے اورظلم و جبرکو دنیا سے مٹانے کا خواب لئے چند ماہ قبل دنیا سے رخصت ہوگئے تھے پاکستان میں سرخ انقلاب کے بجائے سونامی آگیا تھا، کامریڈ شفیق احمد شفیق کی ایک انقلابی نظم کا آخری شعر ہے ۔۔۔
سرخ پرچم کی ضرورت کل بھی تھی
سرخ پرچم کی ضرورت آج بھی ہے
پاک ٹی ہاﺅس کی گیلری میںقاضی جاویدکی زیر صدارت حلقہ ارباب ذوق کی خصوصی نشست کے دوران رضا نعیم نے محرک بحث کے طور پرضرب کلیم کی نظم کے ذریعے اپنے مضمون کا آغازکیا تووہکارل مارکس کے ساتھ ساتھ بار بارعلامہ اقبال کا بھی حوالہ دیتے رہے اور ان کے اشعار پڑھتے رہے مشینوں کی حکومت والے شعر پررشید مصباح نے اعتراض کرتے ہوئے اسے مغالطہ قراردیدیا انہیں غالباََ کارل مارکس پررضا نعیم کے مضمون میں علامہ اقبال کی شاعری کا حوالہ دینا پسند نہیں آیا تھا ،کامریڈ بشیرشاد نے بھی اطلاع دی کہ کارل مارکس مذہب کے خلاف تھا جبکہ علامہ اقبال اسلام کی نشاة ثانیہ چاہتے تھے انہوں نے بھی مشینوں کو انسانوں کی دوست قراردیاہمیں بھی خلاف معمول کہنا پڑا کہ مشینیں انسانوں کی دشمن ہی ثابت ہوئی ہیں پہلے جہاں پانچ سومزدورکام کرتے تھے مشینوں کے آنے سے وہاں مزدوروں کی تعدادبہت کم ہوگئی تھی، پروفیسرڈاکٹر رفیق خان نے نعرہ مستانہ بلندکیا ۔۔۔
جس کھیت سے دہقاں کومیسرنہ ہوروزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
علامہ اقبال بھی ذاتی ملکیت کے قائل نہیں تھے وہ زمانہ طالب علمی میں سیالکوٹ سے لاہورآئے تھے اور اپنی وفات تک چار عشروں سے زائد عرصہ شہربے مثال میں مقیم رہے آخری تین چار برسوں کے علاوہ باقی سارا عرصہ وہ کرایہ کی رہائش گاہوں میں قیام پذیررہے بلکہ میو روڈ (اب علامہ اقبال روڈ) والی کوٹھی (جاوید منزل) بھی ان کی اہلیہ نے گھریلو اخراجات سے رقم بچا کراورزیور بیچ کر بنوائی تھی وہ ”جاوید منزل“ کی تعمیر مکمل ہونے پر اس میں منتقل ہونے کے چند روزبعدطویل علالت کے باعث انتقال کرگئی تھیں اوروفات سے پہلے کوٹھی کی ملکیت اپنے صاحبزادے جاوید اقبال کے نام منتقل کرگئی تھیں علامہ اقبال سرکاری کاغذات میں اپنے بیٹے کے کرایہ دارکی حیثیت سے ”جاوید منزل “ میں مقیم رہے تھے علامہ اقبال نے کارل مارکس بارے نظم میںکہا تھا ۔۔۔
وہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیب
نیست پیغمبرولیکن دربغل داردکتاب
حلقے میں انقلابی مشاعرہ بھی برپا ہوا جس کے دوران عاطف جاوید عاطف، سہیل ممتاز، واصف اختر، شاہد حمید، زاہد نبی ،قاضی ظفر اقبال ،سعادت سعیداورشفیق احمد خان نے کارل مارکس کے حوالے سے انقلابی نظمیں سنائیں، شفیق احمد خان نے دلچسپ بات بتائی کہ کارل مارکس کو متحدہ ہندوستان کے بارے میں کوئی خاص علم نہ تھا انہوں نے متحدہ ہندوستان بارے اخبارات میں چھپنے والے کارل مارکس کے مضامین ”ہندوستان کا تاریخی خاکہ “ کے عنوان سے کتابی صورت میں پڑھے تھے
جوسطحی قسم کے تھے ،شاہداشرف نے انکشاف کیاکہ علامہ اقبال مارکسزم میں دلچسپی رکھتے تھے ان کی شاعری اور فلسفے میں انہی نظریات کی عکاسی ملتی ہے علامہ اقبال نے سید سجاد ظہیر سے ترقی پسند تحریک کا لٹریچر بھی طلب کیا تھا جسے وہ انہیں نہ پہنچا سکے تھے۔
قاضی جاوید نے بھی صدارتی کلمات میں کہاکہ سوویت یونین ٹوٹنے سے مارکسزم ختم نہیں ہوا یہ آئیڈیالوجی ہے اس میں ذہنوں کو مسخرکرنے کی جو قوت ہے وہ ابھی تک برقرار ہے کارل مارکس کے نظریات پر جاگیردارانہ معاشرے والے ممالک میں انقلاب آیا ،علامہ اقبال کا حوالہ دیئے بغیر بھی رضا نعیم کارل مارکس پر بات کرسکتے تھے !“ہمارے خیال میں کارل مارکس پر مضمون میں علامہ اقبال کا حوالہ دینا رضا نعیم کا حق تھا بلکہ ان کے مضمون کا عنوان ہی ”کارل مارکس اورعلامہ اقبال “ ہونا چاہیے تھا،ترقی پسنددانشوروں کو توخوش ہونا چاہیے تھا کہ علامہ اقبال جیسا بڑا فلسفی شاعر بھی مارکسی نظریات میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن مذہب سے ٹکرانے کے باعث ہی خطے میں ان کا مارکسی نظریہ ناکام ہوگیا تھا۔
شوکت چوہدری نے کارل مارکس کا حوالہ دیتے ہوئے درست کہاکہ سرمایہ داری جب بحران کا شکارہوتی ہے تو معاشرے میں جنگ وجدل کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں اور اس وقت دنیا بھرکے یہی حالات دکھائی دیتے ہیں، ڈاکٹر سعادت سعید نے گویا رضا نعیم اور ہماری ہماری تائیدکی کہ علامہ اقبال نے بھی سرمایہ داری اورجاگیرداری نظام کیخلاف شاعری کی ،کارل مارکس سے پہلے بھی لوگوں نے انسان دوستی اورمساوات کی بات کی تھی تاہم جب تک دنیا میں استحصال جاری رہے گا کارل مارکس کی اہمیت برقرار رہے گی۔۔۔
قائم ابھی تلک ہے محلات کا نظام
فرصت ابھی پائی نہیں ذات پات سے
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved