تازہ تر ین

لاکھوں رےٹائرڈ ملازمےن کے مسائل

محمد حسین ملک ….رائے عامہ
حکومتےں آتی ہےں چلی جاتی ہےں ۔ جب سے پاکستان معرض وجود مےں آےا بہت سی سےاسی پارٹےاں بھی آئےں ۔کچھ موجود ہےں ۔کچھ کا صرف نام موجود ہے ۔ حد تو ےہ ہے کہ جماعت اسلامی جےسی قدےم جماعت بھی موجود ہے کہ جو ہندوستان مےں جب بنائی گئی تو اُن کے بنانے والوں نے ےہ منشور دےا کہ ےہ وہ واحد جماعت ہوگی جو دنےا قائم رہنے تک اپنے منشور کوہی چلائے گی ےعنی کرم کرے گی ۔ فلاح انسانی اس کا منشور ہوگا ۔ کالج ،سکول، ہسپتال ، سڑکےں تک عوام کے لیے بنائے گی۔ (صرف اپنی پارٹی کے لیے نہےں ) آج بھی ےہ سب کچھ اس کے منشور مےں ہے۔جماعت پاکستانی جماعت ہی نہےں اب تو بھارت مےں بھی موجود ہے بنگلہ دےش مےں بھی ہے اور ماشاللہ دنےا بھر مےں بھی اس کے دفاتر بھی موجود ہےں ۔ اسلامک سنٹر اور مساجد بھی ہےں اور کام بھی جاری ہے ۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اب سےاست مےں بھی ہر جگہ ان کا عمل دخل موجود ہے۔ کاش آج کے حالات مےںےہ پاکستان پر ہی اپنی توجہ دےں تو انہےں شاےد عوام بے حد پذےر ائی بھی دےں کےونکہ پےپلز پارٹی کے مسٹر ٹین پرسنٹ (پھر مسٹر ہنڈرڈ (100)پرسنٹ ) جناب آصف علی زرداری ۔لاہور کا سوہنا وزےر اعلیٰ اور وزےر اعظم جناب مےاں نواز شرےف ۔ اپنی اپنی کار کردگی بھی دکھا چکے ۔اربوں ڈالر اور کھربوں روپے حاصل کر کے جواب دےنے سے معذور ہےں بلکہ کو ئی پوچھے تو ناراض ہو جاتے ہےں ۔ مےاں دے نعرے وجن گے والے اب کہےں دکھائی نہےں دےتے ۔روٹی کپڑا ،مکان پےپلز پارٹی دے گی (خدانخواستہ اللہ تعالیٰ کی ذات نہےںدے گی ) کا نعرہ لگانے والے اس مرتبہ تو اےسا منہ چھپا کر گئے ہےں کہ صوبہ پنجاب کی تو کسی بھی گلی مےں نہ تو ان کا دفتر ہے نہ ہی کبھی کوئی”جےالا“دےکھا گےاہے ۔ صرف لاہور مےں ملک حفےظ الرحمان ےا ”چن“بٹا چن اور پھر ”چن“ےا گھرُ کی خاندان دکھائی دےتا ہے تو انتہائی شرمندہ شرمندہ دکھائی دےتا ہے۔ ےعنی ا ن کو عوام سے شرم تو آتی ہے لےکن اس کا اظہار نہےں کر پاتے ۔
کراچی مےں اےم کےو اےم نے انہےں اتنے شاندار گرم چنے کھلائے ہےں کہ شاےد جنرل ضےا ءالحق نے جےل کے ناشتے مےں بھی اےسے ”چنے“کھانے کو نہےں دیئے ہوں گے ۔ خدا کی قدرت دےکھےں کہ پورا ملک لوٹ کر بھی ان کے بلاول بھائی خود لےڈر بھی کہلوانے کی کوشش کرتے ہےں حالانکہ ہمارے منور انجم بھائی کاسمو کلب لاہور مےں ہمےں ےہ بتاتے نہےں تھکتے کہ سےاسےات پر انہےں اس قدر عبور حاصل ہے کہ ان کے نانا نے اپنی وزارت عظمیٰ کے زمانے مےں جن جن وزراءکی ٹانگےں تڑوادی تھےں اور اےک وزےر کو تو اسلام آباد سرکاری کوٹھی مےں کتے کے ڈبے مےں بھی بند کر دےا تھا ان سے بھی زےادہ کام کرنے کا جذبہ ان مےں موجود ہے اور اللہ کے فضل وکرم سے ےہ روٹی ، کپڑا ، مکان کا نعرہ تو ہر گز نہےں لگاتے لےکن چاہتے ہےں کہ انہےں کہےں لندن ےا دبئی جا کر ہی شادی نہ کرنا پڑے کےونکہ پارٹی کا اختتام ان کی شادی کی تقرےب پر ہی ہوگا جو ظاہر ہے کہ کسی غرےب غربا کی جھونپڑی مےں تو نہےں ہو سکتا ۔(وےسے جب ےہ پارٹی 30نومبر 1967)کو کاغذوں پر تےا ر کی گئی تھی تو غرےبوں کے لئے ان کا منشور بنا تھا اور خواب ےہ دکھاےا گےا تھا کہ پاکستان کے غرےبوں کو جو کہ عالمی سطح پر غرےبی کی سطح سے اس وقت بھی نےچے رہ رہے تھے اور آج بھی رہ رہے ہےں اُونچا اُٹھا ےا جائے گا ) حالات نے بتا ےا کہ غرےب آج بھی ان کے بنائے گئے منشور کے انتظار مےں اس سطح سے بھی کئی گنا نےچے کی سطح پر ہےں اور آنے والے کل مےں بھی وہ کسی کا اب انتظار نہےں کر سکتے ۔
عمران خان اب جہاں بھی ہےں جس حالت مےں بھی ہےں ۔وہ کم ازکم از خود حکومت چھوڑنے سے پہلے بلکہ اس بجٹ کے آنے سے پہلے جہاں ملک کے تمام غرےبوں کے لئے ملک بھر مےں دس سال کے لئے امپورٹ پر سو فےصد پابندی لگائےںگے بلکہ اب ملک کے اند ر ڈالر ارسال کرنے والوں کو ہر اےک ڈالر پر کم ازکم دوفےصد زےادہ ادا کرےں گے۔ غرےبوں کے لئے ہی نہےں تمام پاکستانےوں کے لئے راشن کی دکانےں قائم کرےںگے جہاں 25فےصد راشن سستا دےا جائے گا ۔ رےٹائرڈ لوگوں کے لئے موجودہ سرکاری ملازمےن کی تنخواہوں مےں اضافہ سے دو گنا زےادہ دےںگے کےونکہ رےٹائر ڈ ملازمےن کو نہ تو ٹرانسپورٹ ملتی ہے نہ ہی مکان کی سہولت اور نہ ہی ملازموں کی وہ سہولت جو حاضر سروس لوگوں کے پاس ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کی بد دعا ﺅں مےں کچھ کمی ہو جائے ورنہ ہر لمحہ ےہ بد دعا ئےں عمران خان کا پےچھا کرےں گی اور اس مےں ہنسی اُن سےاسی شعبدہ بازوں کو آئے گی جنہوں نے ےہ ملک اس خوبی کے ساتھ لوٹا اور اسے وےران کر دےا کہ لوگوں کو آج تک اس کی خبر بھی نہ ہونے دی۔
کراچی کو بھائی الطاف پورے کروفر سے لوٹ کر لے گئے ۔ بھتہ کا اےک نےا محکمہ بھی بنا گئے ۔پاکستان پیپلز پارٹی اور پھر مسلم لےگ مےاں نواز شرےف اور آصف زرداری کی صور ت مےں قےامت برپا کر گئی لےکن لوگ تھے کہ 1989مےں بھی مےاں نواز شرےف کے ساتھ جلوس مےں نکلتے تھے تو کراچی جےسے شہر مےں اُن کا جلوس کراچی ائےرپورٹ سے مزار ِ قائدکراچی تک درجنوں گھنٹوں مےں پہنچ پاتا تھا ۔ حالانکہ ےہ فاصلہ تو محض اےک گھنٹے کا ہی تھا ۔ کہےں اےسا نہ ہو کہ عمران خان رےٹائرڈ لوگوں کی بد دعا کے بعد اگلے بجٹ ےعنی موجود بجٹ سے پہلے ہی وزارت عظمیٰ کا قلمدان چھوڑ دےں ؟
اگر کبھی مئی مےں ہی ےہ واقعہ رونما ہو جائے تو کم ازکم جماعت اسلامی کے امےر محترم سراج الحق قوم کے سامنے خود اپنی جماعت کو پےش کرےں تاکہ پاکستانی عوام ان پر آخری اُمےد خےال کر کے اعتماد کر سکےں جہاں تک وزارتِ خزانہ کا تعلق ہے انہوں نے پے اےنڈپنشن کمےشن (PAY AND PENSION)کے نام پر اےک رےٹائر ڈ بےوروکرےٹ کو اس کا چیئر مےن مقرر کر رکھا ہے جو اعزازی نہےں بلکہ گاڑی ۔ عملہ سمےت حکومت کو ہر ماہ اس پر لاکھوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہےں۔ اس کی کارگردگی کےا ہے؟ کےا اُس کو ےہ علم نہےں ہے کہ پنشن وصول کرنے والوں کی پنشن ڈالر رےٹ کم ہوجانے سے اب آدھی رہ گئی ہے ۔ کےا وہ رےٹائر ڈ سرکاری ملازمےن کے لئے وہاں ”رولا“بھی نہےں ڈال سکتا ۔ سےکرےٹری خزانہ کس قسم کے بےوروکرےٹ ہےں ۔ کےااُنہےں ےہ تک بھی معلوم نہےں کہ اب تو ڈالر کی گرتی ہوئی قےمت کی وجہ سے آخری آرام گاہ ےعنی دو گز زمےن کا خرچہ بھی بڑ ھ چکا ہے ! پنشن والوں کی پنشن آدھی کر کے ان ظالموں کو کےا ملے گا ؟
(کالم نگار سابق ڈائریکٹرجنرل پبلک ریلیشنز پنجاب ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved