تازہ تر ین

قانون سازی ، ارکان پارلیمنٹ سنجیدگی دکھائیں

وزیر احمد جوگیزئی….احترام جمہوریت
قومی اسمبلی میں فاٹا کے الحاق سے متعلق ترمیم کرنے پر تمام ممبران گرامی مبارک باد کے مستحق ہیں اور ان کی لیڈرشپ کو سلام ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ ایک ہوجاتے ہیں کاش یہ کہ ماحول ہر روز ایساہی رہے اور معاملات اسی طرح خوش اسلوبی سے چلتے رہیں ۔لیکن عام روٹین میں تو گالم گلوچ بد زبانی اور بدتمیزی والا ماحول ہی اسمبلی کا روٹین ہو تا ہے ۔اجلاس شروع بھی گالم گلوچ پر ہوتا ہے اور ختم بھی اسی پر ہوجاتا ہے کاش ہمارے قانون دان سنجیدگی کے ساتھ اسمبلی کی کا روائی کو چلا سکیں۔سپیکر صاحب اور وزیر قانون صا حب کو ہر بل کی منظوری سے پہلے اس پر مفصل بحث کروانی چاہیے یہ بحث ہی قانون سازی کی پہلی کڑی بنتی ہے ۔چاہیے کہ کوئی آئینی ترمیم ہو یا کوئی بھی قانون اس پر تفصیلی بحث نا گزیر ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہماری پارلیمان پر بھی کچھ اثر امریکی نظام پا رلیمان کا پڑا ہے ہمارے ہاں بھی امریکہ کی طرح ہر قانون کو کمیٹی کے سپرد کرنے کا رواج پڑ گیا ہے چاہے ضرورت ہو یا نہ ہو ہر مجوزہ قانون کو کمیٹیوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے جس کے باعث قانون سازی کا عمل بلا وجہ تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے ۔
جب تک کسی بھی قانون پر عوامی رائے نہ لی جائے اور کمیٹی کے چند ارکان کی بجائے پارلیمنٹ کے تمام ارکان قانون کو صحیح طور سمجھتے نہ ہوں تب تک کسی معاملے پر درست انداز میں قا نون سازی نہیں کی جا سکتی۔قانون تو بن جاتا ہے لیکن اس قانون کی افادیت وہ نہیں رہتی جو کہ ہونی چاہیے جس مقصد کے لیے قا نون سازی کی جا رہی ہوتی ہے وہ مقصد پورا نہیں ہو تا ۔موثر قانون اس وقت ہی بن سکتا ہے جب اسے ایک باقاعدہ مشاورتی نظام کے ذریعے بنایا جائے اور پھر اس کا نفاذ کیا جائے ۔جو بھی صورت ہو قانون سازی اداروں کا فرض ہے اور یہ فریضہ ان ہی اداروں نے انجام دینا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اہم ترین فریضہ کو شغل نہ سمجھا جائے اور پوری سنجیدگی کے ساتھ اس پر کام کیا جائے تاکہ اس ملک کے عوام کی حالت زار میں بہتری آسکے ۔
18ویں ترمیم کے معاملے پر بھی کچھ اسی طرح کا معاملہ دیکھنے میں آیا جب رضا ربانی صاحب کی قیاد ت میں انتہائی خفیہ طریقے سے اس معا ملے کو آگے بڑھایا گیا اور پھر آئین میں یہ ترمیم کر تو دی گئی لیکن اس اثرات کیا ہوں گے اس پر تفصیلی غور نہیں کیا گیا اور اب اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ اب جو اعتراضات اس ترمیم کے حوالے سے سامنے آرہے ہیں ان کو حل کرنے کوئی طریقہ ہی سمجھ میں نہیں آرہا ،اعتراضات یہ کیے جا رہے ہیں کہ وفاق کا زیادہ پیسہ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے اور وفاق کے پاس اپنی ضروریات کے لیے بھی پیسے کی کمی ہو گئی ہے ۔اس ترمیم کو منظور کرتے وقت اس کے فائدے یا نقصانا ت پر اتنی تفصیلی بحث نہیں کی گئی جتنی کی جانی چاہیے تھی نتیجہ یہ کہ اثرات صرف وقت کے ساتھ ساتھ ہی سامنے آسکے اور اب ریاست مشکلات کا شکار ہے ۔میں یہ نہیں کہتا کہ 18ویں ترمیم درست ہے یا غلط ہے اگر اس پر عوامی رائے لی جاتی اور مشاورتی عمل کو وسیع تر بنایا جاتا تو اس میں بہت بہتری آسکتی تھی اور حقیقت میں عوامی مفادات کا تحفظ کیا جا سکتا تھا ۔ہماری قومی اسمبلی اور اس کے ارکین کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ جب چاہے تو سنجیدہ ہو جاتے ہیں اور لیکن پھر غیر سنجیدہ رویہ اختیار کر لیا جا تا ہے۔
قوم کو اپنے نمائندوں سے بڑی توقعات ہیں پا کستان آج جن مسائل میں گھر اہو ا ہے جن میں سر فہرست بیرونی مسائل ،معیشت اور دہشت گردی ہیں ان سے نمٹنے کے لیے سارا کام کرنا ہو گا اگر یہ ہی کام آپ اینکر پرسنز کے حوالے کر دیں تو اس پھر نظام حکومت تباہی کی طرف ہی جائے گا اور اس نظام کا نہ کوئی سر ہو گا اور نہ کوئی پیر ۔حکومتی معاملات سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ذریعے ہی چلائے جائیں تو ان میں بہتری ہوگی اگر پاکستان کی تجارت معیشت سمیت دیگر اہم معاملات پارلیمنٹ کی اجتماعی رائے سے ہی حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو ہی پا کستان کے عوام کو ریلیف ملنے کی امید ہو گی ۔اوراگر پارلیمنٹ کو نظر انداز کر کے غیر منتخب لوگوں کے ذریعے ہی معاملات کو چلانا ہے تو اس کے نتائج بھی ایسے ہی نکلیں گے جیسا کہ آجکل ہمیں ملک میں چلنے والے معاشی معاملات سے لگایا جا سکتا ہے ۔اس کے ساتھ معیشت کی بہتری کے لیے کاروباری سوداگروں یعنی کے بزنس مینوں کو مکمل طور پر تحفظ نہ دیا جائے تو معیشت کی بہتری کی کوئی امید پیدا ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی ۔اگرکاروباری حضرات کو اعتماد حاصل نہ ہو تو معیشت صحیح ڈگر پر نہیں چلا یا جا سکتا اگر حکومت ہر بزنس مین کو چور چور کہے گی اور چور اور ڈاکو کا بیانیہ ہر خاص اور عام کی زبان پر چل رہا ہو گا تو آپ کے ملک کے کاروباری طبقے کو کبھی بھی اعتماد حاصل نہیں ہو گا اور نہ مجھے کاروباری طبقے کا اعتماد مستقبل قریب میں بحال ہو تے ہوئے نظر آرہا ہے ۔اسی طرح پا کستان کا زراعت کا شعبہ ہے پا کستان ایک زرعی ملک ہو تے ہوئے زرعی شعبے کی پیدا وار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کر سکا ہمارے پاس ایسے ادارے موجود نہیں ہیں جو بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے ہوں جو ہمارے ملک کی زراعت میں بہتری لاسکیں ۔ہم نے نہ ہی اپنے چاول کو بہتر بنایا ہے اور نہ ہی کپاس کو اور نہ ہی اپنے آبپاشی کے نظام کو کاغذوں میں اس نظام کی بہتری کے لیے بھی اربوں روپے لگائے گئے ہیں لیکن زمین پر اس کا کوئی نشان نہیں ملتا ۔ایسے حالات میں ملکی معاملات میں مستقبل قریب میں بہتری کا کوئی امکان موجود نہیں ہے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved