تازہ تر ین

قومی حکومت؟

کامران گورائیہ
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور اہم رہنماں کو دیا گیا افطار ڈنر حکومت اور اپوزیشن دونوں فریقین ہی کے لئے ہاٹ کیک جیسی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ افطار ڈنر میں اکٹھے ہونے کو موقع غنیمت جاننے والے اور وزیراعظم عمران خان سمیت انکی صفوں اور کابینہ میں شامل تقریباً تمام سیاست دانوں نے اس حد تک نوٹس کیا کہ اس روز سیاست کے ایوانوں اور حلقوں میں صرف اور صرف بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے دیئے گئے افطار ڈنر کا ہی چرچا تھا۔حکومتی اراکین نے افطار ڈنر پر حسب توفیق تبصرے کرتے ہوئے مشترکہ موقف اپنایا اور کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اپنی کرپشن اور بد عنوانیوں کو چھپانے جمع ہوئی ہیں خاص طور پر مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت کی افطار ڈنر میں شرکت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔حکومتی اراکین پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ایک چھت تلے مل بیٹھنے پر نا گواری کا اظہار کر رہے تھے۔کسی نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ادوار حکومت کو بد ترین اور عوام دشمن قراردیا تو کسی نے آواز لگائی کہ ملک وقوم کا پیسہ لوٹنے والے ایک بار پھر مل بیٹھے ہیں اور ان کے ایک ساتھ مل بیٹھنے کا مقصد لوٹی ہوئی رقوم اور غیر قانونی جائیدادوں کو محفوظ بنانا ہے۔وزیراعظم عمران خان سمیت وفاقی کابینہ اور حکومتی صفوں میں شامل کم و بیش سبھی اراکین نے بلاول بھٹو کی جانب سے دیئے گئے افطار ڈنر کو متنازع بنانے کی انتہائی چابکدستی اور دیانتداری سے کوششیں کیں۔بعض عاقبت نا اندیش ایسے بھی تھے جنہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف)کے مولانا فضل الرحمان کے بارے میں یہ تک کہہ ڈالا کہ وہ افطار ڈنر کی تقریب میں روزہ رکھ کر ہی نہیں آئے تھے۔
بہرکیف پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کا سر جوڑ کر بیٹھ جانا حکومت کے لئے ایک بڑے خطری کی گھنٹی ہی نہیں بلکہ ملک کی تازہ ترین صورت حال پر اپوزیشن کی سنجیدگی کا اظہار بھی تھا۔عمران خان حکومت کی غیر تسلی بخش کارکردگی نے عوام میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ ملک کو شدید ترین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے طلوع ہونے والا ہر دن حکومت ملک اور عوام کے لئے نت نئے مسائل کے ساتھ ساتھ منظر عام پر آرہا ہے ۔ عمران خان حکومت کی کزشتہ 9 ماہ کی کارکردگی پر جہاں عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے وہاں سنجیدہ سماجی اور سیاسی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ملک کو درپیش معاشی سیاسی صورت حال کی ابتری دیکھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عمران خان اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر اپنی ان تمام توانائیوں سے محروم ہو چکے ہیں جو ہمیشہ ان کی جدوجہد اور کچھ نہ کچھ نیا کر دکھانے کے لئے ان کی شخصیت کا حصہ ہوا کرتی تھیں ،لیکن انہوں نے خود کو عوام وخواص کی نظر میں نا اہل ثابت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔گزشتہ 9 ماہ کے دوران اس ملک کے عوام نے مہنگائی بے روزگاری بد امنی اور عدم تحفظ جیسی اذیتیں اتنی زیادہ برداشت کی ہیں کہ اب وہ عمران خان کو بطوروزیراعظم مزید مواقع دینے کے لئے شاید آمادہ نظر نہیں آرہے۔حکومت کی ناقص داخلہ و خارجہ پالیسیاں، ڈالر کی اونچی اڑان پر کمزور گرفت، بے روزگاری اور بے لگام مہنگائی نے انتہائی مختصر عرصہ میں عوام کے ہوش اڑا کر رکھ دئے ہیں جس کی مثال ماضی میں بھی نہیں ملتی۔ ادارے دن بدن متنازع ہوتے جا رہے ہیں، بیوروکریسی میں من مانے تقرروتبادلوں سے انتظامی اموربری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ نیب پر جانبداری کے الزامات ہیں اور حکومت پر احتساب کے اس ادارے کی پشت پناہی کرنے اور حزب اختلاف کے رہنماﺅں کےخلاف انتقامی کارروائیاں کرنے کی تہمت لگائی جا چکی ہے۔اس تمام تر صورت حال کو ملک کی تمام چھوٹی بڑی اور علاقائی سیاسی جماعتوں نے بھانپ لیا ہے اسی لئے بلاول بھٹو زرداری کے افطار ڈنر کو اپوزیشن رہنماﺅں کے اکٹھے ہونے اور حکومت کے خلاف تحریک شروع کرنے کی طرف پہلا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
اپوزیشن جاعتوں کے غیر رسمی اجتماع سے آئندہ چند ماہ کے دوران ملک میں قومی حکومت کے اشارے مل رہے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ عمران خان حکومت کو گرانے میں وقت لگے گا لیکن ملک کی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی صورت حال نے فیصلہ ساز قوتوں کو بھی مختلف آپشنز پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔یقینی طور پر فیصلہ ساز قوتیں بھی اپنی ساکھ مزید خراب کرنے سے زیادہ مناسب سمجھیں گی کہ ملک میں قومی حکومت کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسی لئے وہ مائنس عمران خان فارمولا پر عمل کرتے ہوئے ان ہاﺅس تبدیلی کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔قومی حکومت کے قیام کے لئے سیاسی منظر نامہ پر آنے والی ممکنہ تبدیلیوں میں جو تجاویز زیر غور آ سکتی ہیں ان میں نئے انتخابات کی طرف جانے کی بجائے موجودہ وزیراعظم عمران خان کو ان کی کابینہ سمیت رخصت کر دیا جائے۔ملک کے نئے وزیراعظم کی حیثیت سے بلوچستان جیسے پسماندہ اور ہمیشہ سے نظر انداز کئے جانے والے صوبہ سے اختر مینگل جیسے قد آور سیاستدان کو نیا وزیراعظم بنا دیا جائے جسے پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ نن ، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم پاکستان، ق لیگ ، اے این پی، فنگشنل لیگ اور جمعیت علما اسلام(ف) جیسی تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہو۔صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنانے کی راہ ہموار کی جائے ، ق لیگ کو بہاولپور صوبہ بحال کرنے میں اس شرط پر مدد دی جائے کہ وہ مسلم لیگ ن سے اتحاد قائم کر لے گی۔ ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کو صوبہ سندھ کا گورنر بنا دیا جائے جبکہ مرکز ی حکومت میں بھی انہیں نمائندگی دے دی جائے۔ مولانا فضل الرحمان کو فاٹا معاملات میں با اختیار کر دیا جائے اور وفاق کی جانب سے مراعات کا اعلان کر دیا جائے، بلوچستان میں مخلوط حکومت قائم کر دی جائے ،عوامی نیشنل پارٹی کو بھی مرکز اور خیبر پختونخوا میں اہم ذمہ داریاں دے دی جائیں پاکستان پیپلز پارٹی جو سندھ کی حکمران جماعت ہے‘ کو مکمل فری ہینڈ دے دیا جائے جس سے پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کو ریلیف حاصل ہو سکے ۔ اس طرح کی قومی حکومت کو اگلے دو تین سال کے لئے تمام تر اختیارات کے ساتھ کام کرنے دیا جائے تو اس ملک کے بہت سے مسائل حل کرنے کی کوششیں کی جا سکتی ہیں جو یقینی طور پر کامیاب بھی ہو سکتی ہیں لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن،پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام سمیت تمام سیاسی جماعتیں عمران خان حکومت کے خلاف کس قدر بڑے اور متاثر کن پاور شو کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ عددی اکثریت رکھنے والی حکومتی جماعت اپنی ہی ناقص کارکردگی کے بوجھ تلے دب کر خود ہی گر جائے گی اگر تھوڑی بہت کسر باقی رہ گئی تو اسے طاقتور اپوزیشن ایک ہی جھٹکے میں پورا کرڈالے گی۔پیپلز پارٹی کی قیادت ہو یا ن لیگ کے قائدین مولانا فضل الرحمان کی صورت میں ایک سنجیدہ اور تجربہ کار سیاسی سربراہ یہ سب پوری اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ موجودہ حکومت کو نکال باہر کریں لیکن کسی بھی انتہائی اقدام سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کو عہد کرنا ہو گا کہ وہ ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر قومی یک جہتی کے جذبہ سے سرشار ہو کر قومی حکومت کی کامیابی اور ملک کو درپیش مسائل دور کرنے میں اپنا اپنا کردار انتہائی دیانتداری اور ذمہ داری سے ادا کریں گی۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved