تازہ تر ین

میں صحافی ہوں!

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
کوئی دوسری زبان تو چھوڑیں مجھے اُردو بھی واجبی سی ہی آتی ہے بلکہ میں اپنی اس قومی زبان کے ہجے بھی درست طریقے سے نہیں کر سکتا اور زیر زبر پیش و شدمد سے بھی مجھے کوئی خاص معانقہ نہیں، میں صحافت کی ابجد اور اصل روح سے بھی واقف نہیں ہوں۔ مجھے علم نہیں کہ پاکستان میں صحافت کے سرخیل کون لوگ تھے اور یہ مولانا ظفر علی خان، چراغ حسن حسرت، شورش کاشمیری اور فیض احمد فیض جیسی نابغہ روزگار شخصیات کا کیا صحافتی کام و مقام تھا۔ مجھے ملک کے نامور افسانہ نگاروں، محققین و مصنفین، مصوروں، ادیبوں، سفر نامہ نگاروں، دانشوروں و شاعروں کے کارہائے نمایاں سے متعلق بھی نہیں پتہ۔ میں نے ہندو پاک کے معروف ترین افسانہ نگاروں سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، کرشن چندر، بلونت سنگھ، غلام عباس، منشی پریم چند، رام لعل، قرا¿ة العین حیدر، خشونت سنگھ کے کسی ایک افسانے یا ناول کو بھی نہیں پڑھا۔ مجھے علم نہیں کہ کرنل محمد خان، بریگیڈیئر صدیق سالک، جوش ملیح آبادی، قدرت اللہ شہاب، سید سبط حسن، اشفاق احمد، نسیم حجازی، چودھری عنایت اللہ، مقبول جہانگیر، شفیق الرحمان اور مسعود کھدر پوش کیا کرتے تھے۔ مجھے پاکستان کی سیاسی تاریخ اور جغرافیہ سے بھی قطعی کوئی رغبت نہیں۔ قائداعظم کی بے وقت موت، لیاقت علی خان کے قتل کے پس پردہ محرکات، پے درپے مارشل لاءآتے رہے، نیم جمہوری سول حکومتوں میں کس کس ادارے کا کیا کیا رول تھا، سول بیورو کریسی، اسٹیبلشمنٹ کا ملکی تاریخ میں کیا کردار رہا اور یہ ادارے کس طرح آپس میں نبرد آزما رہے اور پچھلے کوئی 72 سال میں پاکستان کی عدلیہ کا کیا رول رہا مجھے کچھ بھی تو پتہ نہیں!
ملک کے مشہور عدالتی مقدمات مثلاً مولوی تمیزالدین کیس، ڈوسو کیس، مودودی کیس، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا کیس، ولی خان کیس، نواب محمد احمد خان کا قتل اور بھٹو کیس، نصرت بھٹو کیس، عاصمہ جیلانی کیس، خواجہ طارق رحیم کیس، نوازشریف کیس اور پھر سیف اللہ خان کیس ،یہ سب کیا مقدمے تھے اور کیوں مجھے ان کی کوئی شُد بد نہیں ہے۔ پاکستان کا آئین کب کب بنا ،کس نے تشکیل دیا ،یہ بھی میں نہیں جانتا۔ پاکستان کی معیشت، معاشرت، آبادی کی شرح، جی ڈی پی کی شرح، بنکنگ سسٹم، میں نے یہ کچھ بھی جاننے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ مجھے علم نہیں کہ پاکستان ماضی میں دیگر دُنیا کے ساتھ کون کون سے معاہدے کر چکا ہے جن کی وجہ سے وہ نفع یا نقصان میں جا رہا ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ یہ ”سیٹو“ اور ”سینٹو“ معاہدات کیا ہیں اور پاکستان نے یہ کیوں کر رکھے ہیں اور پچاس کی دہائی میں ان کی کیا ضرورت تھی۔ پاکستان نے اقوام عالم کے ساتھ یہ ڈرگ اینڈ ٹرانسنیشنل، کلائمیٹ چینج یا انوائرئنمنٹ، سول ایوی ایشن، کاﺅنٹر ٹیررازم وغیرہ جیسے معاہدات کیوں کر رکھے ہیں۔ پاکستان کے دوست و دشمن ملک کون کون سے ہیں، پاکستان آرمینیا کو تسلیم کیوں نہیں کرتا اور قیام پاکستان کے بعد کس ملک نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔پاکستان کون کون سے ملک کے ساتھ فری ٹریڈ کے معاہدے رکھتا ہے اور کہاں کہاں پابندیاں ہیں۔ مجھے پاکستان کی تاریخ ، جغرافیہ، تہذیب و تمدن سے بھی کوئی شناسائی نہیں کہ آیا پاکستان کی اپنی کوئی تہذیب ہے بھی یا نہیں!
تاریخ عالم کو تو چھوڑیں مجھے تو برصغیر کی تاریخ کی کوئی معلومات نہیں، مجھے علم نہیں کہ سلاطین دہلی کون تھے، یہ بلبن، التمش، قاسم، غوری، سوری، غزنوی افغان اور مغل کب ہندوستان آئے ، یہ کون تھے ، کب کب ہندوستان پر قابض رہے، برصغیر کے لوگ مسلمان کیوں اور کیسے ہوئے، ہندوستان میں عرب تہذیب کافروغ کب اور کیسے ہوا۔ قومیت اور سامراجیت، گپت بادشاہوں کے عہد، چندر گپت موریا کی سلطنت اور چانکیا برہمن، ہندومت، رزمیہ تاریخ، روایت دیومالا یہ سب کیا تھا۔ تہذیبوں کا امتزاج، گوروﺅں، سنتوں، سادھوﺅں، پیروں اور صوفیوں کا برصغیر کی تاریخ میں کیا کردار رہا، اورنگزیب کی رجعت پسندی اور داراشکوہ کی اعتدال پسندی نے برصغیر میں شریعت و طریقت کی کیا جنگ چھیڑی جو آج تک جاری و ساری ہے۔ میں نہیں جانتا کہ پرتگالی، ولندیزیوں اور انگریزوں نے کس دور میں اور کب کب ہندوستان پر حملے کئے ، اسے لوٹا اور حکمران بھی رہے، بنگال کی لوٹ نے کس طرح برطانیہ میں صنعتی انقلاب پیدا کیا۔ مجھے یہ بھی علم نہیں کہ ہندوستان پر کمپنی کی حکومت اور برٹش رواج میں کیا فرق ہے اور پھر یہ کہ مغل سلطنت کا زوال کیوں اور کیسے ہوا۔ بہادر شاہ ظفر اور اس کے خاندان کے ساتھ انگریزوں نے کیا سلوک کیا، ٹیپو سلطان کی شکست میں کون کون مسلمان شامل تھے اور ہندوستان میں متحارب گروپوں پر انگریزوں نے کیسے فتح حاصل کی۔ میں نے کبھی یہ ماننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ جس ہندوستان سے پاکستان کا جنم ہوا ہے مجھے اس دھرتی کے ہر پہلو پر مکمل دسترس اگر نہیں تو اس کی کم و بیش معلومات تو ضرور ہونی چاہئیں کہ ہندوستان میں جنگیں اور بغاوتیں کیونکر ہوئیں، ہندوستانی ہنر مند کس طرح بے بس رہے، لیکن نہیں میں نے اپنی یہ کم علمی کبھی ختم کرنے کی چاہت کی اور نہ ہی کوشش!
میں پاکستان کا ایک صحافی ہوں لیکن میری جاہلیت کا عالم یہ ہے کہ میں نے اپنے انتہائی قلیل علمی دور میں درسی کتب کے علاوہ زندگی بھر کوئی کتاب نہیں پڑھی، کبھی کوئی انگریزی رسالہ یا اخبار نہیں پڑھا، میں کسی عالمی مشاہیر کو نہیں جانتا اور نہ کسی بین الاقوامی سطح کے ادیب، شاعر، فلاسفر، مصنف یا سائنسدان کے کسی کام اور خدمات سے میں آگاہ ہوں مثال کے طور پر چینوف، دوستوسکی، میکسم گورکی، ولادیمر لینن، کارل مارکس، اینگلز کون تھے اور ان کی فلاسفی نے کس طرح سوشلزم و کمیونزم کی راہیں ہموار کر کے جاری سٹیٹس کو، کو توڑا۔ مجھے مذاہب کی تاریخ اور مذہبی کتابوں سے بھی دلچسپی نہیں، مجھے سائنس کی روز افزوں، بڑھتی ہوئی ترقی کو بھی جاننے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ میں نے کبھی اپنی مذہبی کتاب قرآن مجید کو درست طریقے سے سمجھنے کے لئے پڑھا نہ زبور و انجیل یا عہد نامہ عتیق و جدید کو، میں نے دیگر مذاہب و ملت کی مذہبی کتاب یعنی گیتا، دھماید، کنفیوشس کے اقوال یا گرنتھ صاحب کا بھی کبھی مطالعہ نہیں کیا، مجھے نہیں پتہ کہ والمیکی اور تلسی داس کی رامائن میں کیا فرق ہے اور وید یا اپنشد کیا ہیں، مجھے کبھی ”الف لیلیٰ“ کے مصنف کا نام جاننے کی بھی کوشش نہیں کی کہ اس کا کوئی مصنف ہے بھی یا نہیں کہ یہ دنیا کی اُن معدودے چند کتابوں میں شامل ہے جسے عربوں کی ایک پوری تصنیف نے جنم دیا۔ مجھے علم نہیں کہ کالی داس کے ڈرامے ”شنکتلا“ اور ”میگھ دوت“ ہجر و فراق کی وہ شاعری ہے جس کا ترجمہ دُنیا کی تقریباً ہر ایک زبان میں ہو چکا ہے۔ مجھے کبھی یہ جاننے کی بھی ضرورت نہیں ہوئی کہ رومی، غزالی، محمد ابن زکریا رازی، الفرابی، جابر بن حیان، ابوالحسن امیری، حمید الدین کمرمانی، نجم الدین کبریٰ، ابن عربی، نصیرالدین طوسی، کتب الدین شیرازی، ابن خلدون، بوعلی سینا، جامی اور پھر شاہ ولی اللہ، علامہ اقبال، مرزا غالب، میر تقی میر، رابندرناتھ ٹیگور، خواجہ میردرد کو بھی میں نے کبھی پڑھنے کی کوشش نہیں کی!
مجھے کوئی دلچسپی نہیں کہ یہ شہرہ آفاق ”ہیلمٹ“ اور ”رومیو جولیٹ“ کا مصنف شیکسپئر کون تھا اور ووڈزورتھ، جون کیٹ، جون ملٹن اور ولیم بلیک وغیرہ کون تھے اور ان کی شاعری کے نکتے کیا تھے۔ دانتے، گوئٹے، برگساں، کانٹ، نطشے، میکاولی، روسو، ڈکنز، والٹیر، ٹالسٹائی، فرائیڈ، ہیگل، افلاطون، ارسطو، پروسٹ، ہیوگو، ژونگ، سعدی، رومی، حافظ، نیوٹن ، ڈارون، ایڈیسن، آئن سٹائن اور سٹیفن ہاکنگ وغیرہ سے بھی مجھے شغف نہیں اور نہ ہی مجھے عالمی منظر نامے پرکوئی دسترس یا گرفت ہے کہ میں اس پر کوئی تجزیہ دے سکوں، نہ مجھے 16 ویں، 17 ویں صدی اور 19 ویں صدی کے انقلابات کی کوئی خبر ہے اور یہ کہ یورپ میں 1848ءکا انقلاب کیسے آیا، دونوں عالمی جنگوں کی شروعات کیونکر ہوئی اور کون کون ان میں شامل تھا۔ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے درمیان تصادم کی آٹھ صدیوں کے پس پردہ کیا حقائق تھے، یورپ میں عظیم تبدیلیاں کیونکر ہوئیں، انگلینڈ دنیا کا ساہو کار کیسے بن گیا اور یہ میگنا کارٹا کس’بلا‘ کا نام ہے مجھے کسی قسم کا کوئی جنرل نالج نہیں اور نہ ہی میں اس قسم کی کوئی جستجو کرتا ہوں لیکن اس لاعلمی اور جاہلیت کا نانگا پربت ہونے کے باوجود میں صحافی ہوں اور مُصر ہوں کہ میں یکتا ہوں ،میں لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے میں ماہر ہوں، میں زرد صحافت اورگٹرپریس پریقین رکھتا ہوں میں چند پیسے رشوت کے لے کر کسی کو بھی معروفیت کے شہ نشین تک پہنچا سکتا ہوں تھوری بہت رقم لے کر کسی جعلی وکیل کو بیرسٹر اور ماہر قانون بنا سکتا ہوں، کسی بھی جعلی دو نمبر فراڈیے کے فقط ٹکر چلا کر اسے راتوں رات مشہور کر سکتا ہوں کیونکہ میں پاکستانی صحافی ہوں ،میرے میڈیا ہاﺅس کے مالکان کو بھی شاید میرے جیسا جاہل ہی چاہئے اور میرا معاشرہ بھی مجھے ہی پسند کرتا ہے لہٰذا مجھے یہ اوپر بیان کی گئی بے وقت کی راگنی اور بے فائدہ و بے مایہ فلاسفی کی قطعی ضرورت نہیں ، مجھے یہ سب بکواس لگتی ہے کہ تعمیری صحافت کرو، نادرست صحافت معاشرے کو تباہ کر دیتی ہے، یا صحافت کے تقدس کا خیال رکھو، کیونکہ جاری زمانے کی ضرورت کے حساب سے میں ہی اصل صحافی ہوں!!
( کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved