تازہ تر ین

معاشی بحران اورخاموش دعائیں

ثوبیہ خان نیازی….اظہار خیال
دل سے نکلی جو صدا ہے وہ دعا ہے۔ دعا خداسے محبت کا ےقےن ہے، دعا اےمان کی پختگی ہے، دعا خاموش دل کی استدعا ہے، دعا جھکی نگاہ کی التجاءہے۔ باطن کی جنگ ہو ےا ظاہر کے خطرات سے مقابلہ‘ دعا سب سے بڑا ہتھےار ہے۔ اس کے آگے بڑے بڑے نمرودوں کی آگ ٹھنڈی ہوئی ۔ اہل صدق و وفا کے لےے گل و گلزار بن جاتی ہے ،دعاتقدےد جگا دےتی ہے، ہر بگڑی بنا دےتی ہے، اَن ہونی کی ہونی کرنے کی طاقت صرف خدا سے مانگی دعا مےں ہے۔ دعا کرےں کوئی انسان انسان دعا سے محروم نہ ہو۔ ہمارے ہاتھ اٹھےں تو صرف اس خدا کے حضور جو ہمارے دل کی کہی اَن کہی بات کو جانتا ہے جو ہماری الجھنوں کو پہچانتا ہے،جس کے آگے وضاحتےں نہےں کرنا پڑتےں ہماری ہر کےفےت ، جذبے اور احسا س کو اک وہی تو ہے جو جانتا ہے ۔ جو ہماری بدحالےوں اور خوشحالےوں مےںہمارا ہمدرد اور رفےق کار ہے۔ ہمارے عےبوں اور کمزورےوں کو اپنے دامنِ رحمت مےں چھپا لےتا ہے۔ کسی پہ عےاں نہےں ہونے دےتا شرمندگی سے بچاتا ہے مگر تنہائی مےں چھپنے والے ندامت کے آنسوپسند کرتا ہے اور بدلے مےں اپنا قرب عطا کرتا ہے۔ ہم اپنے اپنے رنگ مےں اسے پکارتے ہےں کوئی نماز مےں کوئی دعا مےں ، کوئی مخلوق خدا کی خدمت کر کے ، کوئی ٹوٹے ہوئے دل جوڑ کر ،کوئی اپنے لفظوں سے ظاہر و باطن جگمکا کر اور کوئی متلاشی نگاہ کی بے قرارےاں جا ن کر دردِ لا دوا کی دوا بن کر اسے ےاد کرتا ہے۔ اسے پکارتا ہے۔ دعا کبھی بے ثمر نہےں لوٹتی جب تک جسم مےں جان ہے اسی سے مانگتے رہےں اپنے لےے مانگےں ، مخلوق خدا کےلئے مانگےں اور اس سر زمےن کی سلامتی کے لےے مانگےں جہاں رہنے کے لےے گھر دےا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے مقدس مہےنے مےں وطن عزےز پاکستان کی صورت میں ہمیں ایک پہچان دی تشخص دےا اتنی بڑی کائنات مےں اک علےحدہ زمےن کا ٹکڑا دےا کہ ہم اپنے مذہب کے مطابق اپنی زندگی گزارےں۔ پاکستان ہے تو ہم ہےں ،ہم سب اسے دل و جان سے عزےز سمجھتے ہےں ۔آج مےرا دل مےرے اپنے وطن کے لےے پرےشان ہے۔ رمضان کے پےارے مہےنے مےں مےرے وطن کے پےارے لوگ بنےادی انسانی ضرورےات کے لےے پرےشان ہےں ۔عام آدمی کی زندگی کی مشکلات بڑھتی جارہی ہےں، عام آدمی کی بے بسی اس کے کچن سے ہوتی ہوئی ہر معاملہ زندگی مےں اسے مجبور کرتی ہے اور نتیجتاً وہ اپنی اور اپنے پےاروں کی بہت سے خواہشات کو دل کے وےرانوں مےں کہےں گمنام چھوڑ آتا ہے۔ اندرونی اور بےرونی طاقتےں ہمےں معاشی لحاظ سے کمزور کررہی ہےں اور ہم سےاسی قلابازےوں مےں اےک دوسرے پہ سبقت لےنے پر ڈٹے ہوئے ہےں ۔ اس نازک وقت کا تقاضا ہے کہ ہم تمام تر اختلافات اور ذاتی مفادات سے بالا تر ہوکر اےک پلےٹ فام پہ جمع ہوں اور اس معاشی مسئلہ کا کوئی مستقل حل تلاش کرےں ۔ سےاسی اور مذہبی گروہ بندےوں سے بالا تر ہوکر سوچنے کا وقت ہے ۔ وزےر اعظم کی معان خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کہتی ہےں سابقہ حکومتوں نے معےشت کو لہولہان کردےا ہے۔ ےہ بات اےک حد تک درست مان لےتے ہےں مگر نو مہےنوں مےں آپ کی حکومت نے کیا کیا ہے۔ نواز شرےف ےا آصف زرداری کو اندر ےا باہر کرنا عام بندے کا مسئلہ نہےں، اس کا مسئلہ اس کی بنےادی ضرورےات ہےں۔ ےا تو لوٹا ہوا پےسہ واپس لائےں تو بات ہو، زبانی جمع خرچ پہ حکومتےں نہےں چلتےں۔ وہ باتےں جو الےکشن سے پہلے ہوتی تھےں کرےں گے ، ہوگا، وغےرہ وغےرہ والا فارمولا اب پرانا ہوگےا ہے عام آدمی کے لےے آسانی پےدا ہوگی تو حالات بہتری کی طرف جائےں گے۔ مانا کہ ٹوٹے ، پھوٹے مکان کو درست کرنے مےں دےر لگتی ہے مگر پہلی اےنٹ تو رکھےں کچھ معےشت کا ناک نقشہ نظر آئے ٹوٹے ہوئے حوصلے بلند ہوں ۔ےوٹےلےٹی سٹوروں پہ آدھا رمضان گزرنے سے پہلے ہی اشےائے خور و نوش غائب ہوچکی ہےں ۔ ذخےرہ اندوزی کرنے والوں کی خبر لےں اس کرپٹ مافےا کی جڑےں اکھاڑنا آسان نہےں ۔ ےہ تناور درخت ہر طرف اپنی شاخےں پھےلائے ہوئے ہے۔ آپ کی حکومت کو کمزور کررہے ہےں۔ وزےر اعظم صاحب ےہ کھےل کا مےدان نہےں کہ چند گھنٹوں مےں کھےل ختم‘ اس سرزمےن کا ہر باسی آپ کی ذمہ داری ہے ان کے مسائل حل کرنا آپ کی ذمہ داری ہے ،لوگوں کو ماےوسےوں سے نکالےں۔ ہم خاتونِ اول بشری ٰ عمران خان سے گزارش کرتے ہےں کہ وہ اپنی خاص دعاﺅں سے کوئی نہ کوئی حل نکالےں۔ وہ زےادہ تر خاموش رہتی ہےں ،خاموش دعائےں اور کوششےں۔ خواجہ غلام فرےد ؒکی نسبت سے وہ روحانےت مےں اےک خاص مقام رکھتی ہےں، رات دن وظائف اور نوافل ادا کرتی رہتی ہےں۔ مےرا ےقےن ہے کہ خاموشی اور تنہائی مےں خلوص دل سے مخلوق خد اکے لےے مانگی جانے والی دعائےں کبھی رد نہےں ہوتےں ہےں۔
ہم سب محب وطن اپنے وطن کی سلامتی بقاءاور استحکام کے لےے آپ کے ساتھ ہےں پرےشانِ حال اﷲ کے حضور دعا گو ہےں کہ وہ ہم پہ رحم اور کرم فرمائے اپنی غےبی مدد سے رحمتوں اور برکتوں کے دہانے کھول دے، مشکل وقت مےں اس سر زمےن کے باسےوں کو برادشت اور صبر کی نعمت عطاءفرمائے مےرے پےارے نبی نے اس سر زمےن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماےا تھاکہ مجھے ادھر سے ٹھنڈی ہوائےں آتی ہےں۔ ہمارا ےمان ہے کہ اﷲ اور اﷲ کے رسول کے نام پر قائم ہونیوالی اس سر زمےن پہ اﷲ کی سدا رحمتےں اور برکتےں نازل ہوتی رہےں گی آزمائشیں وقتی ہےں اےک روشن صبح اپنا جلوہ دکھائے گی جس سے ہر خاص و عام کی زندگی جگمگائے گی۔بقول شاعر
خدا کرے مےری ارض پاک پر اُترے
وہ فصلِ گل جےسے اندےشہ¿ زوال نہ ہو
خدا کرے کہ مےرے اک بھی ہم وطن کے لےے
حےات جرم نہ ہو زندگی وَبال نہ ہو
(کالم نگارشاعرہ وادیبہ‘ادبی امورپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved