تازہ تر ین

نیا بلدیاتی نظام ، انقلاب کی بنیاد ؟

اکمل شاہد ……..بحث ونظر
حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے پنجاب میں نیا انقلابی بلدیاتی نظام متعارف کرانے کا اعلان کردیا ہے جس کے نتیجے میں پرانے نظام کی بساط لپیٹ دی گئی ہے اور اب نئے انتخابات تک بلدیاتی اداروں کی لگامیں افسر شاہی کو تھما دی گئی ہیں ۔ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ عمران خان بلدیاتی اداروں کے ذریعے ہی ترقیاتی کام کروانا چاہتے ہیں اس لیے وہ اس نظام کو بہتر کرکے آگے بڑھنا چاہتے ہیں جو کہ اچھی بات ہے اس لیے ہم بھی ان کے اس فیصلے پر آمین کہہ رہے ہیں ۔نئے بلدیاتی ایکٹ کے تحت میئر اور تحصیل ناظم کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹ سے ہوگا ،اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی میونسپل ولیج کونسلوں کے ذریعے عوام کو یہ موقع فراہم کرے گی کہ وہ اپنے زیادہ تر مسائل اپنی مدد آپ کے تحت حل کرلیں جب کہ اجتماعی تعمیر و ترقی کے لئے ماضی میں اراکین پارلیمنٹ کو پیش کیا جانے والا پیسہ بلدیاتی اداروں کو دیا جائے گا ۔
فی الحال ہم نئے نظام کی خامیوں خوبیوں کا فیصلہ آنے والے وقت پر چھوڑتے ہیں اور اس بات کو بھی نظر انداز کرنا ہی مناسب ہوگا کہ نئے بلدیاتی ایکٹ کی مخالفت میں لنگوٹ کس کر سیاسی اکھاڑے میں اترنے والوں کی آئندہ حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے۔جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے قبل از وقت بلدیاتی ادارے تحلیل کرنے اور بلدیاتی ایکٹ 2019 ءکے خلاف درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے لارجر بنچ تشکیل دینے کی سفارش کر دی ہے۔ اس وقت سب سے اہم معاملہ مادر وطن کی جغرافیائی سرحدوں اور معاشی حد بندیوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا اور منزل کی جانب بڑھتے رہنا ہے ۔اس پر کوئی دو رائے نہیںکہ پاکستان کا وجود ظاہر اور پوشیدہ ہر طرح کے دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے ۔بھارت نے اپنے ریاستی اداروں کے ذریعے بلاواسطہ اور افغانستان وایران کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر دہشت گردی کی خوفناک جنگ ہم پر مسلط کی جس کے خلاف ہماری بہادر قوم، مسلح افواج ،نیم عسکری فورسز اور پولیس کے افسروں اور جوانوں نے ستر ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے واضح کردیا کہ دنیا کی کوئی طاقت امن کے ساتھ جینے کا حق ہم سے چھین نہیں سکتی ۔لہذا اس محاذ پر ہماری فتح یقینی ہے۔ البتہ دیمک زدہ معیشت کو دوبارہ پاو¿ں پر کھڑا کرنا یقینا کسی امتحان سے کم نہیں ،بدعنوانی کا قلع قمع کئے بغیر ایک ایسے ملک کو ریاست مدینہ بنانا ممکن نہیں جس پر تیس ہزار ارب روپے بیرونی قرض کا بوجھ ہو ،ہمیں بحیثیت اپنے سمیت قوم سب کے کڑے احتساب کی غیر مشروط حمایت کرنا ہوگی ۔
یہ طے ہے کہ بگاڑ ایک دن میں نہیں آیا ،آوے کا آوا بگڑنے میں جتنا وقت لگا اس سے کہیں زیادہ وقت اسے سدھارنے میں لگ سکتا ہے اور جب تک اس کی ابتدا گراس روٹ لیول سے نہیں ہو گی تب تک ہم امن ،ترقی اور خوش حالی کا صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں ،آئین میں حکومت کی تعریف واضح ہے یعنی جو اتھارٹی ٹیکس نافذ کرسکتی ہے وہ حکومت کہلائے گی ،گویا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ مقامی حکومت یعنی بلدیاتی ادارے بھی آئینی جواز رکھتے ہیں ،یہ الگ بات ہے کہ اس حق کی ہمیشہ خلاف ورزی ہوئی اور عوام کو مقامی سطح پر اپنے فیصلے کرنے سے روکا گیا ۔ اعلیٰ افسرشاہی ہو یا مقامی افسر شاہی اس کی افادیت اور عملی کردار سے انکار ممکن نہیں ،کاروبار مملکت ہمیشہ ریاسی مشینری ہی چلاتی ہے ،جمہوری یا غیر جمہوری جس حکومت نے بھی سول سرونٹس آف پاکستان یا ڈسڑکٹ مینجمنٹ گروپ کو سائیڈ لائن کیا اس کے نتیجے میں ابتری آئی۔ سیدھی سی بات ہے جس کا کام اسی کو ساجھے ‘موجودہ حالات میں بلدیاتی اداروں کو ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے چلانے کا فیصلہ اگر ایک عبوری قدم ہے اور انتخابات کے نتیجے میں ایسی مقامی حکومتیں قائم ہو جائیں گی جن کے پاس وسائل اور اختیارات دونوں ہوں گے اور لوگوں کو یہ احساس ہوگا کہ وہ بھی اقتدار میں شریک ہیں تاہم اس درمیانی عرصے میں حکومت کے لئے لازم ہے کہ وہ ایڈمنسٹریٹر ز کو ایسی پالیسی گائیڈ لائن ضرور دے جس کی روشنی میں بلدیاتی اداروں کے سرکاری سربراہوں کا رویہ لوگوں کے ساتھ دوستانہ رہے ۔
ملک کے معاشی حالات ساز گار نہیں ،بندہ مزدور کے اوقات بھی تلخ ہیں ،یقین ہے کہ مشکل کے بعد آسانی بھی آئے گی ،وزیر اعظم عمران خان کی تڑپ بھی واضح ہے کہ وہ غریبوں کا معیار زندگی بلند کرنا چاہتے ہیں ان کی کوشش ہے کہ ہر خاندان کو چھت میسر آئے کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے لوگوں کو پینے کا صاف پانی ملے اور انصاف سب کے لئے برابر ہو ،اس سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ ہی دراصل معاشی عدم مساوات ہے جسے دور کرنے کے لئے نئے بلدیاتی نظام جیسا انقلابی قدم اٹھانا ضروری تھا ،نیا پاکستان ٹیڑھی بنیادوںپر تو اوپر نہیں اٹھ سکتا ،بنیادیں درست کرنے میں ہم سب کو اپنا کردا رادا کرنا چاہیے،اس کے لیے سرکاری ڈھانچے کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور ان اداروں میں بیٹھے افسران کو بھی تاکہ وہ خود کو مخدوم سمجھنے کے بجائے خود کو عوام کا خادم سمجھیںضلعی لیول پر سینکڑوں محکمے کام کررہے ہیں مگر ان کی کارکردگی صفر ہے پھر ایسے اداروں کا کیا فائدہ؟ ،ایڈمنسٹریٹر ز سے ہماری گزارش ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں کا انتظام سنبھال کر نہ صرف کارکردگی کی روشن مثالیں قائم کرکے جائیں بلکہ اس دوران عام آدمی کی عزت نفس کا بھی خیال رکھیں تاکہ لوگ انہیں ہمیشہ اچھے لفظوں میں یاد رکھیں ۔آخر میں حافظ منور ضیاءقادری جویکم رمضان المبارک کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ان کے لیے ڈھیروں دعائیں اللہ تعالیٰ مرحوم کی آخرت کی منزلیں آسان فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فر مائے،اور اسی رمضان کے صدقے سب دوستوں کی مشکلات میں بھی خدا آسانیاں فرمائے (آمین یا رب العالمین)
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved