تازہ تر ین

عام آدمی کا پاکستان

عثمان احمد کسانہ….بولتے الفاظ
موجودہ حکومت کی اب تک کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نئے پاکستان کی ایک تصوراتی تصویر تراشتے تراشتے اصلی اور پرانے پاکستان کے خدوخال بھی شاید بُھلا بیٹھے ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ کوئی اناڑی ہو یا کھلاڑی ہر کوئی الجھن اور بے چینی کا شکار ہے ۔ ایک طرف اپوزیشن صف آراءہورہی ہے تو دوسری طرف حکومت معاشی مشکلات کے بوجھ تلے دبتی جارہی ہے۔ سمندر سے نکلنے والی گیس بھی لیک ہوگئی اور تیل بھی نہ نکلا البتہ اربوں روپے سمندربُرد ہوگئے ۔ وزیراعظم کی ہمت اور مخالفین پر برسنے کی گھن گرج کب تک ساتھ دیتی ہے اس کی تو خبر نہیں لیکن عالی مرتبت کو کون بتائے کہ عام آدمی کی ہمت جواب دے رہی ہے ۔اب تو یہ لگتاہے وزیراعظم عمران خان کو خود بھی پتہ چل گیا ہے کہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر حکومت کے لتے لینے اور ایوانِ اقتدار میں بیٹھ کر عام آدمی کیلئے ڈیلیور کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ مرکز اور صوبوں میں وزراءکی فوج ظفر موج کو کون بتائے جنا ب محض اخباری بیانات اور ٹیلی ویژن کی اسکرین پر موجود رہنے سے غریب کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ ماہِ مقدس رمضان المبارک اپنی رحمتوں اور برکتوں کی صوفشانی بکھیرتا گزرتا جارہا ہے جبکہ پاکستان کے عوام کی پریشانی بڑھتی جارہی ہے ۔ ادھر رمضان بازاروں اور یوٹیلٹی سٹور وںپر دی گئی سبسڈی کے نام پر لوگوں کو ذلیل و خوار کرنے کا جو سلسلہ اس مرتبہ چلاہے شاید پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ موجودہ بے ہنگم اور بے ترتیب رمضان بازاروں کا موازنہ گذشتہ دور کے ائیر کنڈیشنڈ اور حُسن ترتیب سے آراستہ رمضان بازاروں سے کیا جائے ۔میرا سوال تو ان حکومتی کارپردازوں سے ہے جو لیموں اور چینی کے حصول کیلئے لمبی لائنوں میں لگے پسینے میں شرابور ، بدحال روزہ دار سے یہ اُمید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ گھنٹوں انتظار کے بعد ایک پاﺅ لیموں اور ایک کلو چینی لیکر حکومت کی جے جے کرتا رمضان بازار سے نکلے اورخوشی کے شادیانے بجاتا اپنے گھر پہنچے کہ آج اس نے کامیابی حاصل کرلی ، آج اُسے نئے پاکستان سے لیموں اور چینی مل گئی جس سے وہ اور اس کے بچے روزہ افطار کر سکیں گے ۔ یہ ایک دو اشیاءخورونوش کا قصہ نہیںہر طرف ہر شے کا معاملہ ایسا ہی ہے۔ اگر خدانخواستہ کوئی بیمار ہوجائے تو دوا مہنگی اور موت سستی معلوم ہوتی ہے اور پھر طرفہ تماشا یہ کہ اگرکوئی سرکاری ہسپتال پہنچ جائے تو وہاں ہرطرف ہڑتال ہڑتال کے بینرآویزاں کرکے موت کی سود ا گری کی جارہی ہے۔ اگر اوپن مارکیٹ کا رُخ کیا جائے تو وہاں بھی سرمایہ کاروں کے اربوں نہیں تو کروڑوں ڈوب گئے ہیں ۔
ملکی معیشت کا پہیہ کس طرح گُھوم رہا ہے ، ڈالر کی اُڑان کتنی ہے ، قرضوں کا بوجھ کتنا بڑھ رہا ہے ۔،ٹیکس نادہند گان اور کالے دھن کے مداری قومی خزانے کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں ؟ یہ سب سوالات ایک خاص طبقے کے لئے خاص ہیں ۔ عام آدمی کا ان باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی یہ اس کی سمجھ میں آنے والی باتیں ہیں۔میں یہاں واضح کردوں کہ عام آمی سے مراد پاکستان کی آبادی کا 80فیصد حصہ ہے ۔ یہ کروڑوں لوگ صرف اتنا جانتے ہیں کہ انہوں نے دن بھر مزدوری کی ، نوکری کی ، محنت سے اپنا کام مکمل کیا ،شام کو ان کے ہاتھ کیا آیا ؟ان کے پاس نہ تو اتنا وقت ہے اور نہ ہی انرجی کہ وہ رات کو ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ کر ٹاک شو ز میں ہونے والی بے پر کی مباحث سُنیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ ہمارا ملک کتنے مشکل دور سے گزررہا ہے اور اس کے اصل ذمہ دار کون ہےں ۔ موجود یا سابقہ حکمران ۔ عام آدمی صرف یہ جانتا ہے کہ اُس نے گھرکا راشن خریدا اُس پر ٹیکس دیا ۔ صابن کی ایک ٹِکی اور چائے کی ڈبی بھی اسے بغیر ٹیکس اداکئے نہیں ملتی ۔ اپنی موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلوایاتو ٹیکس سمیت قیمت ادا کی۔ اپنے بچوں کیلئے جوتے کپڑے خریدنے گیا تو بھی ٹیکس ادا کیا اور پھر جب وہ اِدھر اُدھر سے سنتا ہے کہ حکومت نے بڑے بڑے ٹیکس چوروں اور بدمعاشوں کیلئے ایمنسٹی اسیکم شروع کی ہے ۔تو یقین کیجئے کہ اس کا دل تو خون کے آنسو روتا ہی ہے اس کا حوصلہ ٹوٹتا ہی ہے ساتھ ہی ساتھ وہ یہ سوچتا ضرور ہے کہ ٹیکس چوری کرکے ، بے ایمانی اور سینہ زوری کے ذریعے جتنا چاہو مال سیاہ جمع کرو ، پھر حکومت ایک اسکیم لائے گئی کہ 100میں سے 4روپے دے دواور باقی 96حلال تو بتائیے کون ہے جو پیچھے رہے گا۔
جہاں تک کپتان کے دعوﺅں اور عملی اقدامات کے تضاد کا تعلق ہے تو میری دانست میں حکومت کا نظام “U Turn”نہیں “Round About”پر چل رہا ہے ۔جس نظام کے وہ ہمیشہ ناقد اور مخالف رہے اب اسی کے دام میں پھنستے بلکہ ایڈجسٹ ہوتے جارہے ہیں۔ جس جس ایشوپر انہوں نے بلندو بانگ دعو ے کئے سب ڈھیر ہوتے جارہے ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ عام آدمی کیلئے جسم و روح کا رشتہ بحال رکھنا محال ہے خدارا کچھ کیجئے اور کچھ نہیں تو ہمیں ہمارا عام آدمی کا پاکستان ہی لوٹا دیجیے ۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved