تازہ تر ین

” ڈاکٹر عافیہ صدیقی دختر پاکستان“

نگہت لغاری …. ….سچ
قارئین نے شاید میرا انگریزی کا کالم جو عافیہ صدیقی کی زندگی ،اس پر بنے کیس اور اس کیس کے امریکی عدالتی فیصلے پر مبنی تھا”پاکستان آبزرو“ میں پڑھا ہوگا۔ آج اردو میں کالم اس لئے لکھ رہی ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ امریکہ کی متعصبانہ ذہنیت کو جان سکیں۔ میں اُردو میں اپنے کالم لکھنا چاہتی تھی اور اپنی زبان میں لکھنے سے مجھے تسکین بھی زیادہ ملتی ہے اور اب اس لئے میں کافی دیر سے اُردو میں بھی کالم لکھ رہی ہوں۔ دراصل میں نے1998ءسے انگریزی کالم اس لئے لکھنے شروع کئے کہ اس وقت امریکہ بہادر انسانی حقوق کا علم اُٹھائے اسلامی ملکوں میں گھسا ہواتھا ، اس لئے ضروری سمجھا کہ ان کے تمام اعمال بدکی کہانی انہی کی زبان میں لکھی جائے۔ میں نے بڑی محنت اور بے خوفی سے اُن دنوں دھڑا دھڑ انگریزی اخباروں میں کالم لکھے اور ان کے گریبان کھولے تاکہ وہ ان میں جھانک سکیں ۔میں خوفزدہ بھی تھی لیکن چالبازی سے مجھے امریکن ہسٹری پر کچھ کتابیں بھیجی گئیں بہرحال انگریزی زبان میں لکھنا کچھ آسان بھی نہیں ۔میری انگریزی زبان پر تھوڑی سی گرفت میری ڈگریوں کی محتاج نہیں یہ تھوڑی سی گرفت والد صاحب کی وجہ سے ہے جو آئی سی ایس ہونے کی وجہ سے بہت اچھی انگریزی بولتے اور لکھتے تھے۔ یہیں آپ کو تھوڑا سا ہنسنے کا مواد بھی مہیا کردوں۔والد صاحب جب بیمارہوتے تھے تو ڈاکٹر ہمیشہ انہیں گھر پر دیکھنے آتا تھا۔وہ اپنی بیماری کی حالت ایک کاغذ پر انگریزی زبان میں لکھ لیتے تھے جیسے ہی ڈاکٹر آتا وہ ان کے سامنے رکھ دیتے تھے۔ ایک دن ایک نیا نوجوان ڈاکٹر انہیں دیکھنے آیا والد صاحب نے حسب معمول کیفیت کا وہ پرچہ اس کے سامنے رکھ دیا اس نے کافی دیر تک اُسے الٹ پلٹ کردیکھا پھر ہنستے ہوئے کہا سردارصاحب ‘یہ آپ کی انگریزی میری سمجھ سے اُوپر نکل گئی ہے ایسا نہ ہودوا تجویز کرنے میں مجھ سے غلطی ہو جائے آپ کو کچھ ہو جائے اور حکومت میری گردن لمبی کردے۔ والد صاحب بھی بہت ہنسے پھر کہنے لگے اب تو بڑھاپا بہت ہوگیا ہے اور ویسے بھی چل چلاﺅ کا وقت ہے چلے جانے میں کوئی حرج بھی نہیں لیکن اس چھوٹی سی بچی(میں)کی وجہ سے ابھی جینا چاہتا ہوں۔ بہرحال یہ تو تھی ایک گپ شپ۔اس کالم میں عافیہ صدیقی کی سچی اور دکھی کہانی بیان کرنا چاہتی ہوں چند حقائق قارئین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیں گے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کہتی ہیں آج سے 14،15سال پہلے مجھے میرے 3معصوم بچوں سمیت اغوا کیا گیاتھا میں امریکہ کی برنیڈی یونیورسٹی کی ڈاکٹر یٹ یافتہ فل برائیٹ سکالرہوں۔ میرا پی ایچ ڈی کا مقالہ Neurocognitive seienee تھا ۔ مگر خود ساختہ اور جھوٹ پر مبنی حیرت انگیز الزامات لگا کر مجھے امریکہ کی سیکرٹ جیل میں رکھا گیا۔ مجھے جس جسمانی، ذہنی، روحانی اور نفسیاتی اذیتوں سے گزاراگیا شاید بہت کم لوگ اس کا تصور کرسکیں کیونکہ موت کئی بار مجھے چھو کر نکل گئی۔مجھ پر ناقابل یقین الزامات یہ ہیں کہ میں نے4امریکی شہریوں کو رائفل 4ایم سے قتل کیا اور میں امریکہ کی جن اہم ترین عمارتوں کو نشانہ بنانا چاہتی تھی ان میں بروکلے برج،ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ اور مجسمہ آزادی اور بم بنانے کے نسخہ جات وغیرہ۔عدالت کے فیصلے میں یہ حیران کن وضاحت کی گئی کہ ڈاکٹر عافیہ کی سزا اسی لئے بحال رکھی جارہی ہے کیونکہ اس کے دماغ میں امریکہ کیلئے بے حساب نفرت ہے اور وہ کسی بھی وقت اپنے دہشتگردی کے اقدامات سے امریکہ کوبڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتی ہے۔ڈاکٹر عافیہ کی ڈیفنس وکیل لینڈا مورن اور چارلس سویفٹ نے کورٹ روم سے نکلتے ہی کہا عدالت کا یہ فیصلہFear vs Facts پر مبنی ہے ان دونوں نے انتہائی اداس لہجے میں کہا یہ متعصبانہ فیصلہ ہے ہم اس سے کسی صورت اتفاق نہیں کرتے، امریکی جیورسٹ سسٹم پر آج ہمارا اعتماد ٹوٹ گیا ہے لیکن ہم اپیل میں جائیں گے۔ انہوں نے کہا تمام عدالتوں کیلئے یہ حیرت کی بات ہوگی کہ امریکہ نے ایک خاتون کو Would be Terrorist جیسا الزام لگا کر اُسے سالوں سے قید کررکھا ہے، ہم صاف صاف کہہ رہے ہیں کہ ہماری امریکن عدالتوں میں مسلمان ملزموں کو کبھی بھی انصاف نہیں مل سکتا ، کیا یہ ہماری عدالت کا متعصبانہ سلوک نہیں ہے کہ ہماری کلائینٹ ڈاکٹر عافیہ کے کیس کیprocedings کے وقت کسی بھی مسلمان میڈیا، لوگوں کو احاطہ عدالت کے اندر آنے کی اجازت نہیں تھی۔
مجھے خوشی اور سکون ملا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے کیس کا نئی حکومت نے نوٹس لیا ہے ۔ دراصل امریکہ ہمیشہ سے ہمارے لئے ایکExacting Masterکے رول میں رہا ہے اور ہم بعض صریح اور واضح بے انصافیوں پر بھی اسے کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ سچائی کہنے کی جرا¿ت ہمارا مذہبی ورثہ ہے بار بار کلمہ حق کہنے کی تلقین کی گئی ہے۔بہرحال میری آخری سطور ڈاکٹر عافیہ کیلئے ہیں۔ عافیہ تم نے جس حوصلے اور ثابت قدمی سے اپنے مذہب کی مخالف قوتوں کا مقابلہ کیا ہے تم خسارے میں نہیں ہو اس قید تنہائی نے ہماری مذہبی صلاحیتوں اور قوتوں نے تمہیں جس طرح اپنے خدا سے رابطے دئیے ہوں گے وہی تمہاری عمر بھر کی کمائی ہے۔ اذیت اور بے بسی کے لمحوں میں میرے خیال میں تم نے جتنی روحانی منازل طے کرلی ہوں گی وہ آئندہ زندگی میں بھی تمہیں منافع ہی دیں گی۔ باد مخالف ہمیشہ اونچائی کی اُڑان عطا کرتی ہے۔ امریکہ کی Mahatn Federal courtنے تمہاری سزابحال رکھی ہے مگر تمہارا ایمان محکم ہونا چاہئے کہ ہمارے خدانے ایک اپنی سپریم کورٹ بنائی ہوئی ہے جس میں بے انصافی کا کوئی باٹ نہیں ہے، وہ ترازو اتنے توازن میں استوار کھڑا ہے کہ اسے کوئی بڑے سے بڑا طوفان بادوباراں بھی بے توازن نہیں کرسکتا۔اللہ تمہارا نگہبان ہے اور ہوگا۔
(کالم نگارانگریزی اوراردواخبارات میں لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved