تازہ تر ین

امید کا دامن!

رازش لیاقت پوری وسدیاں جھوکاں
مجھ میں پتا نہیں ایسی کیا سیماب صفتی ہے کہ خود کو کبھی دفتر تک محدود نہیں رکھا ،کل بھی یہی کیفیت تھی آج بھی یہی ہے اور آئندہ بھی یہی رہے گی اس لیے ”رول گابا“بنا رہتا ہوں اور شاید ملکو نے ہم ایسے لوگوں کے لیے ہی کہا ہے کہ” رل تاں گئے آں پر چس بڑی آئی اے“ اور ہم بھی ایسی ہی چس میں رہتے ہیں ۔ ابھی کچھ دن قبل جس دن قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک منظور ہورہی تھی اس دن ہم راجن پور میں تھے ،اس تحریک کی منظوری کے ایک دن قبل ہم اپنے مہربان دوست منظور خان دریشک کے گوپے پرموجود تھے تو یہاں ایک ایم پی اے بھی پہنچ گئے اور ہم نے غنیمت جانی کہ انہیں اپنی تازہ کتاب ”متوازن پاکستان“بھی پیش کی ،اس دوران انہوں نے کہا کہ ہم نے وسیب سے جوجووعدے کیئے تھے وہ ضرور پورے کریں گے مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ راجن پور سے نکلنے والی سوئی گیس راجن پوریوں کو کب دیں گے؟ہم نے اگلے دن سردار نصراللہ دریشک کو تحریک کی کامیابی کی مبارک باد دی تو انہیں اکادمی ادبیات اور لوک ورثہ میں سرائیکی وسیب کے پسماندہ لکھاریوں کو کھپانے کی بھی بات کی ،میری اس تجویز کی قسور خان دریشک نے بھی خوب تائید کی اس سے قبل شاہ نواز مشوری نے بھی انہیں ایسی کئی تجاویز دی ہیںجن پر راجن پوری سردار عمل کررہے ہیں مگر ان جیسے دیگر منتخب حکومتی نمائندوں کی سرکاری افسران کی کارکردگی پر بھی نظر ہونی چاہئے کہ ان کے اپنے شہر میں لیموں دس روپے کا ایک اور پانی کی بوتل ساٹھ روپے کی بک رہی ہے جبکہ پرائس کنڑول مجسٹریٹ کہاں گم ہیں کچھ پتا ہی نہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کے لوگ ہوٹلوں اور دوسری کھانے پینے کی اشیاءکا معیار چیک کرنے کے بجائے ان سے پیسے لیکر انہیں سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہیں ،ہمیں امید تھی یہ ادارہ ناقص گھی سے اشیاءبنا کر دل اور دوسری بیماریوں کو بڑھانے والوں کا قلع قمع کرےگا مگر یہ بھی ریونیو جنریٹ ادارہ بن چکا ہے جبکہ سرکاری ہسپتالوں سمیت کئی اہم جگہوں پر سرکار نظر ہی نہیں آرہی ۔ ایسی ہی کارکردگی مجھے رحیم یارخان میں بھی نظر آئی کہ محکمہ ماحولیات کافی عرصے سے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر لانے کی مہم چلا رہا ہے مگر ضلعی سطح پر موجود اس کے افسران اس مہم کو خود ناکام کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ پہلے بھٹے والوں کو نوٹس دیتے ہیں بعدازاں ان سے مک مکا کرکے انہیں اس نوٹس سے بچنے کے قانونی راستے بھی بتا دیتے ہیں بلکہ خود انہیں عدالت لے جاکر سٹے کے لیے وکیل سے بھی ملوا دیتے ہیں ادھر پیسے کھرے کرلیے ادھر شاباش بھی لے لی کہ ہم کئی نوٹس دے چکے ہیں تو بھئی اب نوٹس نہیں کارکردگی دکھاﺅ،ایسی ہی بات عوامی وزیراعلیٰ عثمان بزدار بھی کہتے رہتے ہیں کہ ہم باتیں نہیں کام زیادہ کریں گے مگر لگتا یہی ہے کہ ضلعی لیول پر بیٹھے افسران ان کا یہ خواب کبھی بھی پورا نہیں ہونے دیں گے کہ جگہ جگہ خاندانی منصوبہ بندی کے دفتر کھلے ہیں مگر آبادی ہے کہ تیزی سے بڑھتی جارہی ہے ۔
اس وقت ضلع لیول پر درجنوں محکمے کام کررہے ہیں مگر صحت اور تعلیم کے علاوہ کسی محکمے کا افسر فیلڈ میں نظر ہی نہیں آتا،لیبر ،انڈسٹری ،سوشل ویلفیئرایسے دوسرے چھوٹے موٹے اداروں کے تمام افسران دفتروں میں بیٹھ کرتنخواہیں کھری کررہے ہیں اگر کوئی کسی فائل کو ہاتھ لگا بھی لے تو اس کی رشوت لیتا ہے اس لیے آجکل یہ محاورہ مشہور ہوچکا ہے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں سرکاری افسران کام نہ کرنے کی تنخواہ جبکہ کام کرنے کی رشوت لیتے ہیں ۔محکمہ انہار کے اہلکاروں کو موگے توڑ کر پیسے لیتے اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں جبکہ زراعت کے اہلکاروں کو پیسٹی سائیڈ کمپنیوں کی دعوتیں اڑاتے بھی ان گنہگار آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ بے بسی کی انتہا دیکھیں کہ ہم ابھی تک سبزیوں کے بیج تیار نہیں کر سکے اور انڈیا سے منگوانے پر مجبور ہیں جبکہ ہم صبح سویرے انڈیا کو گالیاں دیتے بھی نہیں تھکتے اور اپنے اداروں کی کارکردگی چیک کرنا تو ہم گناہ ہی سمجھتے ہیں ،ہم نظام عدل پر تنقید کرتے ہیں کہ کیسوں کو لٹکا کررکھتے ہیں ہم پولیس کو بھی کوستے رہتے ہیں مگر اور بھی کئی ادارے ہیں جنہیں ہم کبھی ڈسکس ہی نہیں کرتے ،ان اداروں میں بیٹھے سرکاری افسران مزے سے اپنی تنخواہیں کھری کررہے ہیں اور ان پر کوئی چیک اینڈ بیلنس ہی نہیں ۔اب رمضان کا مہینہ ہے روزمرہ کی اشیاءکے نرخ آسمانوں کو چھو رہے ہیںمگر پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کہیں نظر ہی نہیں آرہے ،ایک سیب چالیس روپے کا جبکہ ایک چھوٹا پپیتا سو روپے کا بیچا جارہا ہے ،سبزیاں ہیں کہ غریبوں کی پہنچ سے باہر ہیں لیکن ہم کوئی نیا سسٹم بنانے کے بجائی ابھی تک بولی سسٹم پر انحصار کیئے ہوئے ہیں ،ابھی ہوٹلوں کے ریٹس چیک کرنے والا کوئی نہیں جس کی جو مرضی صارفین سے وصول کررہے ہیں ،پٹواری کی جگہ نیا کمپیوٹر سسٹم آگیا مگر تحصیل دار اور اے سی ابھی تک ڈیلے ٹیکٹس استعمال کرکے لوگوں کو خوار کررہے ہیں ۔
لوگوں کو امید تھی کہ نئے پاکستان میں پرانا لوٹنے والا سسٹم نہیں ہوگا مگر سرکاری افسران کا مائنڈ سیٹ ابھی تک پرانا ہے ،عمران خان نے سیٹیزن پورٹل بنایا ہے مگر بیوروکریسی اسے ناکام کرنے پر تلی ہے جو شکایت کنندہ ہو،کسی محکمے کے خلاف شکایت کردے اس کی شکایت کے ازالے کے بجائے اسے خاموش رہنے کا کہا جاتاہے ،سیٹیزن پورٹل پر آنے ولی شکایات پر عمل نہ کرنے والے افسران کے خلاف کچھ کارروائیاں ہوئیں مگر ابھی صورتحال اتنی اچھی نہیں جس کی تعریف کی جائے مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ بدلاﺅ نوٹ کیا جارہا ہے اسے مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔محتسب ،انٹی کرپشن ،صارف عدالتوں،نیب سمیت ان تمام اداروں کو مزید متحرک کرنے کی ضرورت ہے جو عام لوگوں کے لیے امید کی کرن ہیں تاکہ لوگ نئے پاکستان کا لطف اٹھا سکیں ، میں تو یہ کہوں گا کہ اب سرکاری اداروں کو کارکردگی کی بنیاد پر فنڈز دیئے جائیں اور ان اداروں کو بند ہی کردیا جائے جن کی کارکردگی صفر ہے تاکہ تنخواہوں کا بوجھ کم سے کم ہو ۔ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کئی ایسے ادارے شہر کے مرکز میں موجود ہیںجن کا ہونا نہ ہونا برابر ہے اگر ان جگہوں کو کمرشل استعمال میں لایا جائے تو اچھا خاصا ریونیواکٹھا ہوسکتا ہے ۔ایک ایساادارہ بھی میں نے دیکھا ہے جو نیم سرکاری ہے جسے لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کہا جاتا ہے اس ادارے سے منسلک اساتذہ کی تنخواہ سات ہزار سے زائد نہیں مگر انکی کارکردگی کسی چالیس ہزار والے استاد سے زیادہ ہے مگر ان کی ستائش تو کیا وقت پرتنخواہ ہی نہیں ملتی ۔اب بھی ٹھیکیدار یہی سوچ رہے ہیں کہ اب بھی ہم ٹھیکے خریدیں گے ۔یہ تو بات ہوئی سرکاری اداروں کی پھر آپ خود اندازہ کریں پرائیویٹ ادارے کیسے خلق خدا کو خوار کررہے ہوں گے جنہیں چیک کرنے والا بھی کوئی نہیں ،این آر ایس پی کے مظالم کی کہانی پھر سہی ۔ا ٓخر میں ایک سیانے کی بات یاد آگئی ہے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں کئی ذہین لوگ دھکے کھارہے ہیں اور کئی جاہل اہم پوسٹوں پر بیٹھ کرمزے کررہے ہیں یہ سارے نصیب کی بات نہیں بلکہ ہماری قوم کی بدنصیبی ہے کہ یہاں کوئی چیک اینڈ بیلنس ہے ہی نہیںمگر میں نئے اور متوازن پاکستان میں نا امید نہیں ہوں بلکہ پرامید ہوں کہ یہ حکومت کچھ نہ کچھ عام عوام کی بھلائی اور بہتری کے لیے کرے گی۔
(کالم نگار صحافی اور معروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved