تازہ تر ین

شعراءکے لہجوں میں تلخی کیوں؟

تحسین بخاری….درد نگر سے
ربنواز مخمور کی چند روز پہلے کال آئی کہ 19ویں محفل مشاعرہ کا انعقاد ہو رہا ہے آپ کا دعوت نامہ نادر مزاری تک بھجوا دیا ہے وہ آپ تک پہنچ جائے گا بس آپ لازمی شرکت کیجیے گا ۔میں نے کہا انشاءاللہ اپنی حاضری کو ضرور یقینی بناﺅں گا اور پھر اگلے ہی روز نادر مزاری کی کال بھی آگئی کہ آپ کا دعوت نامہ میرے پاس پہنچ چکا ہے ظفر چانڈیہ کے ہاتھوں بھجوا رہا ہوں میں نے کہا ٹھیک ہے اور پھر اگلے ہی روز میںاپنی گاڑی پرروانہ ہو گیا۔ میں نے اپنے دیرینہ اور بے تکلف شاعر دوست شاہنواز پرواز سے بھی رابطہ کیا کہ ساتھ چلیں گے مگر اس نے اپنے ایک عزیز کی شادی کا بہانہ بنا کر جانے سے معذرت کر ڈالی ،پرواز بہت ہی پیار اور خوش مزاج دوست ہے یہ مجھے جب بھی ملتا ہے تو میں ان سے ان کی زبانی وہ واقعہ ضرور سنتا ہوں کہ پار جا تے ہوئے کشتی پر کیسے موٹر سائیکل چڑھا رہے تھے اور پھر آپ پر کیا گزری تھی،آپ کی بھی اگر کبھی پرواز سے ملاقات ہو تو یہ کہانی سننے کی فرمائش ضرور کیجیے گا۔ یہ داستان آپ کوکئی دنوں تک خوب ہنساتی رہے گی،خیر شیخ واہن میں میرے باقی تین دوست ظفر چانڈیہ ،اظہر خان اور شیخ اشفاق میرا انتظار کر رہے تھے میں نے ان کو ساتھ لیا اور روانہ ہو گئے ظاہر پیر سے ہوتے ہوئے چاچڑاں شریف سے گزرے تو روڈ کے ایک طرف اکھڑی اس ریلوے لائن کے ٹکڑے نظرآئے جو والی ءریاست بہاول پور نو اب صادق محمد خان نے اپنے مرشد سائیں خواجہ غلام فرید ©©ؒکیلئے خصوصی طور پر بچھوائی تھی اور پھر اس کے بعد اسے اکھاڑ دیا گیا ،ٹھنڈی آہ بھر کر وہاں سے گزرا تو آگے بینظیر شہید پل آ گیا ستم یہ ہے کہ اس پل پر بھی غنڈہ ٹیکس کیلئے ایک ٹول پلازہ قائم کر دیا گیا ہے دربار غلام فرید ؒتک پہنچنے کے لیے آپ کو نہ صرف آتے ہوئے بلکہ جاتے ہوئے بھی ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ مقامی صحافیوں ضیا پہوڑ ،مہر اللہ دتہ اسد ،زبیر احمد اور دیگر دوستوں نے اس ایشو پر بڑی دھاڑ پٹ بھی کی تھی مگر کسی نے اس پر کان نہیں دھرے ،اور پھر وہاں پر بیٹھے بد تمیز قسم کے لڑکوں کا قائدہ قانون بھی نہیں آپ چاہے ٹول پلازہ سے ایک کلو میٹر آگے جا کر واپس آجائیں مگر آپ کو دوبارہ یہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے ،خیر ہم ٹول پلازہ کراس کر کے پل پر پہنچے تو سندھ دریا کے پانی کا بہاﺅ اپنا ہی دلکش منظر پیش کر رہا تھا۔ ڈھلتی شام کا سورج بھی خوب ڈبکیاں لے لے کر پانی میں اچھل کو د کر رہا تھا ہمیں بھی سیلفی بنانے کا شوق ہوا اور رک کر دو چار الٹی سیدھی سیلفیاں بنا کر چل پڑے ۔حضرت خواجہ غلام فرید ؒکی حاضری دیکر بازار سے گزرے توریڑھی پر رکھے لڈو پیڑے نظر آئے شوگر کے باوجود رہا نہ گیا اور لڈو پیڑے خرید کر خوب کھائے ،کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ جس چیز سے روکا جائے انسان اس کی طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے ،شوگر کے مریض کیلئے میٹھا ٹھیک نہیں ہے مگر پھر کبھی کبھی کھانا ہی پڑ جا تا ہے۔ ایک مشاعرے میں عزیز شاہد کو میزبان نے چائے پیش کرتے ہوئے پوچھا کہ( سائیں مٹھا کتنا ہووے ؟تو انھوں نے جواب دیا سائیں مٹھے دی آس تے تاں جیندے ودوں )جی ہاں جناب مٹھا تو پھر مٹھا ہوتا ہے ،تو جناب ٹھیک آٹھ بجے ہم عمر کوٹ جا پہنچے کھانا کھا کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ پیا را دوست شاعر و صحافی اسلم ساغر آ گیا ان کے پر ز ور اسرار پر ہم چائے پینے چلے گئے ،چائے کی آخری چسکی پر پیغام آیا کہ پروگرام شروع ہونے والا ہے جلدی پنڈال میں پہنچیں اور پھر ہم پنڈال میں جا پہنچے ،مشاعرے میں شہنشاہ سرائیکی ادب عزیز شاہد سائیں کو دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ کافی عرصے بعد ان کا درشن ہو امگر آج تو وہ خود بھی درشن کے ہمراہ تھے ،جی ہاںوہ اپنی نئی کتاب ’درشن‘بھی ہمراہ لائے تھے ،عزیز شاہد میٹھے لہجے کا کمال شاعر ہے اور یہ واحد شاعر ہے جس نے کبھی بھی اپنے محبوب سے شکوہ نہیں کیا ،ان کے علاوہ سائیں امان اللہ ارشد ،نادر مزاری ،بلال جوہر ،ریاض عصمت،ریاض بیدار ،ظفر چانڈیہ،اسلم ساغر،اختیار جوہر،ساجد مزاری،زاہد گبول کے علاوہ وسیب کے دیگر نامور شعرا بھی موجود تھے ۔میزبان ربنواز مخمور اور جام عابد حسین عابد نظامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے ،پروگرام کے مہمان خصوصی سائیں خواجہ غلام فرید کوریجہ نے اپنے خطاب میں حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے ورنہ ہم بھر پور تحریک چلائیں گے ،سرائیکی صوبے کے نقشے کے تخلیق کار احسان چنگوانی نے بھی اپنے خطاب میںحکمرانوں کو صوبہ بنانے کے وعدے خوب یاد دلائے ،انقلابی شعرا نے تو ماحول کو ایسا گرمایا کہ تالیاں بجا بجا کر سامعین کے ہاتھ لا ل پڑ گئے۔ ہر شاعر کا اپنی نظم میں ایک ہی مطالبہ تھا اور وہ تھاسرائیکی صوبے کا ۔
ہر شہر اجاڑ تے رکھ چھوڑی برباد نہ ہنڑ بی وستی کر
اساں پہلے ڈکھ دے ماریے ہوں نہ پیدا بی تنگدستی کر
توں حاکم ہیں تیڈا حق بنڑدے بہہ تخت تے جیجھی مستی کر
لگی بھا شالا کنٹینر کوں بکھ مردوں روٹی سستی کر
تیڈا وعدہ ہا تحسین ایہو ڈیساں سوبھ میں اجرک نیلی کوں
ساڈا صوبہ ہنڑ تئیں انج نی تھیا لیسوں بھا ایجھی تبدیلی کوں
اب پتہ نہیں کب بنے گا صوبہ۔ تین بجے پروگرام کا اختتام ہوا تو میں نے میزبا ن سے اجازت لی اور عزیز شاہد سامنے کھڑے تھے میں الوداعی ملاقات کیلئے ان کے پاس چلا گیا۔ جاتے جاتے انھوں نے اپنی کتاب درشن مجھے گفٹ کی جو میرے لیے اعزاز تھا ،میں ان کا شکریہ ادا کر کے گھر روانہ ہو گیا ، صبح چھ بجے گھر پہنچ کرکمرے کی کنڈی لگا کرایسے سو گیا جیسے صوبہ محاذ والے وزارتیں ملنے کے بعد لمبی تان کر سو گئے ،اگلے دن دوستوں کے ساتھ سسی کی ماڑی بھٹہ واہن جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں بھی ایک شاعر رفیق ساحل کوسننے کا موقع ملا،انہوں نے سسی کی شاعری کے علاوہ کچھ انقلابی شاعری بھی سنائی مگر ان کا لہجہ بھی تلخ تھا ،وہ شاعر جو کچھ عرصہ پہلے پیار ومحبت کی بات کرتے تھے اب تلخ باتیں کر رہے ہیں جو کہ حیران کن ہی نہیں پریشان کن بھی ہے ،اس لیے میرا ریاست اور اس کے اداروں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ جو بھی ممکن ہو اس خطے کا صوبہ بنا دیں ورنہ مایوسی یہاں کے لوگوں کو بھی ڈی ٹریک کرسکتی ہے کیونکہ اب یہاں کے نوجوان کہہ رہے ہیں کہ ہم نے پرامن رہ کر چالیس سال سے صوبہ مانگ رہے ہیں ،اب بھی صوبہ نہیں ملتا تو ہمیں کوئی اور راستہ اپنانا پڑے گا پھر ہم ایسے پرامن شاعر بھی کچھ نہیں کرسکیں گے۔
(سیاسی و سماجی ایشوز پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved