تازہ تر ین

دورویہ انڈس روڈ کی منظوری اور ہمارے وعدے

سردار اویس خان دریشک اظہار خیال
اپنے بھائی طارق خان دریشک جس نے ابھی ایم پی اے کا حلف بھی نہیں اٹھایا تھا‘ کی وفات ہمارے لیے ایسا صدمہ تھا جسے برداشت کرنا ہمارے لیے مشکل تھا لیکن کہتے ہیں کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہے اور ہم بھی اسی مرہم کے طفیل آگے بڑھ رہے ہیں کہ ہمارے ماما سئیں سردار نصراللہ خان دریشک نے ہمارے مرحوم بھائی اور اپنے وعدوں کو آگے بڑھاتے ہوئے قومی اسمبلی میں جنوبی پنجا ب صوبہ کی قرار داد منظور کروائی ۔اب میری قرار داد جو کہ انڈس روڈ کو ڈبل کرنے کے بارے میں تھی کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے توسط سے اسے نہ صرف منظور کرلیا بلکہ آنے والے بجٹ میں اس کے لیے فنڈز رکھنے کی بھی نوید دے دی ہے ،اس سے نہ صرف ہمارا خاندان مسرت کی کیفیت میں ہے بلکہ ہمیں یقین ہے ہمارے مرحوم بھائی کی بھی روح خوش ہوئی ہوگی کہ جس مشن پر انہیں عمران خان نے لگایا تھا وہ تکمیل کی جانب گامزن ہے ۔ ہمارے گھرانے کی سیاسی جدوجہد کافی عرصے پر محیط ہے مگر ہمیں کامیابی موجودہ الیکشن میں ملی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگوں کی ہمارے ساتھ محبت کا اظہار ہے اور ہم بھی یہ محبت ضرور لوٹائیں گے ۔ہمارا ضلع پنجاب کا آخری ضلع ہے اور دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ یہاں سے سوئی گیس نکل کر لاہور ،قصور اور اسلام آباد تو جارہی ہے مگر ہمارے علاقے میں نہیں ہے اور الٹا الزام بھی ہمارے سیاست دانوں پر لگا دیا جاتا ہے کہ یہ سردار وڈیرے ہی اپنے لوگوں کے دشمن ہیں ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سابقہ اداور میں لوگوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں مقامی سیاست دان بھی اس میں برابر کے شریک ہیں مگر اب نئی نسلیں پڑھ لکھ گئی ہیں اور ان میں جدید سوچ کے نوجوان بھی موجود ہیں اس لیے پالیسی ساز اداروں کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ اب وہ پسماندہ علاقوں کی طرف اپنی پالیسیوں کا رخ موڑچکے اور جہاں ہماری ضرورت پڑے گی، ہماری خدمات حاصل کی جائیں تو ہم چوبیس گھنٹے حاضر ہیں مگر اب جان بوجھ کر اگر کوئی ہمارے علاقوں کو نظرانداز کرےگا تو ہم اپنے عوام کے حقوق کے لیے ضرور بولیں گے اور ویسے بولنا بھی چاہیے کہ اب ووٹر بھی بہت سیانے ہوگئے ہیں جو سیاستدان ان کے حقوق کی بات نہیں کرتا وہ انہیں منہ بھی نہیں لگاتے،اس وقت ہم ٹیل پر موجود ہیں ایک طرف بلوچستان کی ٹیل تو دوسری طرف سندھ کی اسی طرح کے پی کے کی ٹیل بھی ہمارے ساتھ جڑی ہوئی ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ پاکستان کا مرکزی علاقہ ہے یہاں ملکی دارالحکومت بنایا جاتا مگر اب بھی ہم ملکی ترقی اور حب الوطنی کے جذبے کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں اور لوگوں کو بھی یہی درس دیتے ہیں کہ یہاں ترقی ضرور ہوگی تھوڑا انتظار کرلیں ۔ یہاں میں طاہر بشیر چیمہ کو داد دینا چاہوں گا کہ وہ نئے صوبہ کی بات کررہے ہیں اور ممکن بھی یہی ہے اس لیے باقی صاحبان بھی اسی ایک سوچ پر متحد ہوجائیں تو بہت بہتر ہوگا اب تو سڑکیں بھی بن چکی ہیں اورپل بھی۔ ہمارے راجن پور کے دوست بھی چھوٹے موٹے کاموں کے لیے رحیم یار خان جاتے ہیں ٹرین اور جہاز کا سفر بھی یہاں سے کرتے ہیں مستقبل میں کوئی اس سے بڑی ترقی بھی ہوسکتی ہے ،اب تووفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار نے بھی کہہ دیا ہے کہ حالات اور وقت بدل چکا ہے اب بہاولپور صوبہ ممکن نہیں، سو دوست سوچ بڑی رکھیں اور وقت کے دھارے کو پیچھے کی جانب لے جانے کے بجائے آگے کی طرف بڑھنے دیں یہی متوازن پاکستان کا تقاضا بھی ہے اور ضرورت ہے۔
اس وقت اور کوئی ترقی ہونہ ہو وسیب کے لوگ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے صوبے کے لیے کوئی نہ کوئی پیش رفت ضرور ہواور ہم بھی اپنی عوام کے ساتھ ساتھ ہیں ،دیہاتوں میں بھی جائیں تو جٹ پوچھتے ہیں سئیں ساڈا صوبہ کڈاں بنڑدا پے (ہمارا صوبہ کب بن رہا ہے) تو انہیں بھی ہم یہی کہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ جو جو وعدے کیے تھے وہ ضرور پورے کریں گے ۔ اسوقت ڈیرہ غازی خان میں دل کے ہسپتال کی اشد ضرورت تھی، وزیر اعلیٰ نے کمال مہربانی سے اس کی منظوری دے دی ہے ،راجن پور میں سوئی گیس بھی جلد آجائے گی یہاں بھی یونیورسٹی کے کیمپس کے لیے پوری کوششوں میں ہیں ،لائیوسٹاک کے حوالے سے بھی ہمارا علاقہ زرخیز ہے یہاں اس حوالے سے بھی کوئی بڑا کام سامنے لائیں گے ،بےنظیر برج پر بھی کوئی اچھا منصوبہ اپنے لوگوں کو دیں گے ،بنگلہ اچھا کے مقام پر پل تو موجود ہے اپروچ روڈز بھی عوام کے لیے ضرور کھولیں گے تاکہ صوبوں کے درمیان فاصلے کم ہوں ۔
انڈس روڈ جسے لوگ قاتل روڈ بھی کہتے ہیں اسے نہ سرف ڈبل کرواکر دم لیں گے بلکہ یہاں انڈسٹری بھی لائیں گے۔ اگلے دن ایک قوم پرست دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا کہ یہ روڈ کیونکہ پنجاب کی طرف نہیں جاتا اور یہاں پنجابیوں کی زمینیں بھی نہیں ہیں اس وجہ سے یہ نظراندازہوا ہے تو میں نے کہا کہ پنجابی بھائی اتنے بھی برے نہیں ہیں کہیں کمی ہمارے اندر بھی ہے کہ ہم مناسب انداز میں اپروچ ہی نہیں کرتے جس طرح اب جنوبی پنجاب صوبے کے لیے پراپر اپروچ جاری ہے،مناسب اور بہترین ورک سے انڈس روڈ دورویہ منظور ہوچکی ہے اسی طرح ہر اس کام کے لیے نیک نیتی سے کام کریں گے جس جس کا ہم نے وعدہ کیا تھا اور ہمیں امید ہے ہمارا خدا ہمیںاپنے ہر وعدے میں سرخرو کرے گا ۔آخر میں گورنر پنجاب سے بھی توقع ہے کہ وہ ہمارے جنوبی پنجاب میں موجود جامعات کی فنڈنگ سمیت دوسرے مسائل بھی فوری حل کروائیں گے،خاص طور پر خواجہ فرید انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی رحیم یار خان کے معاشی مسائل کو جو ابھی نوزائیدہ ہے جسے تنخواہوں کی ادائیگیوں کا بھی مسئلہ ہے کیونکہ ہماری نوجوان نسل پہلے بھی پسماندگی اور احساس کمتری کا شکار ہے ،نوجوان نسل کو مسائل سے نکالنا نہ صرف ملکی مفاد میں ہے بلکہ اصل میں یہی حب الوطنی ہے اور اس بہترین درس پاکستان کے مرکزی علاقوں سے جابھی رہا ہے اور مزید بھی جائے گا کیونکہ اب نئے پاکستان میں ترقی کا رخ پسماندہ علاقوں کی جانب موڑ دیا گیا ہے ۔
(کالم نگار تحریک انصاف کے ممبرپنجاب اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved