تازہ تر ین

مریم نواز کی واپسی

کامران گورائیہ
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی سیاست کے میدان میں واپسی ہوچکی ہے جسے حکمران جماعت کی تنقید اور مسلم لیگ ن کے اتحادیوں سمیت دیگر تمام اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماﺅں کے حوصلہ افزا اور خیر مقدمی بیانات نے بے حد تانباک اور باوقار بنا دیا۔ یوں تو مریم نواز نے غیر رسمی انداز سے پہلے بھی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے ، اپنے والد اور مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں نواز شریف کے ہمراہ ملک بھر میں منعقد کیے جانے والے جلسے جلوسوں سے خطاب کیا اور اپنے جوش خطابت سے بڑے بڑے عوامی اجتماعات اور ہجوم کا لہو گرمائے رکھا، اپنے والد کے بیانیہ کوعوام کا پسندیدہ نعرہ بنوانے میں حسب توفیق حصہ بھی ڈالا۔ میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد ان کی خالی نشست پر ضمنی الیکشن میں اپنی علیل والدہ بیگم کلثوم نواز مرحومہ کو جتوانے کے لیے بھرپور عوامی رابطہ مہم چلائی اورایک مضبوط ترین امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد کو شکست سے دوچار کیا۔ جولائی 2018ء کے انتخابات میں وہ والد کے ہمراہ جیل میں تھیں لیکن میا ں نواز شریف اور مریم نواز کا ووٹ کو عزت دو کا نعرہ عوام کے دلوں میں گھر کر چکا تھا اسی لیے مسلم لیگ ن نے بے شمار مشکلات اور لاتعداد رکاوٹوں کے باوجود ثابت کر دیا کہ آج بھی اس جماعت کی جڑیں عوام میں بہت مضبوط ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نواز شریف اور عوام کے ساتھ کو40 سال کا طویل عرصہ بیت گیا ۔ان 40 سالوں میں جہاں عوام اور مسلم لیگ ن نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں وہاں آمریت اور محلاتی سازشوں کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ یوں تو مریم نواز کو میدان سیاست ورثہ میں ملا لیکن چند سال پہلے تک کسی کو بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ آنے والے دنوں میں نواز شریف کی جانشین ہی نہیں کہلائیں گی بلکہ عوام اور بالخصوص ملک کے نوجوان نسل کی مقبول ترین لیڈر بھی بن کر ابھریں گی۔ مریم نواز کو ن لیگ کا نائب صدر بنا دیا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے بلاول بھٹو کے افطار ڈنر میں شرکت کی، پارلیمنٹ میں جا کر اپنی پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس میں شرکت کرنا ایسی علامات ہیں جنہیں ان کی سیاسی انٹری قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن غیر اعلانیہ طور پر وہ پہلے ہی سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں اس لیے ان کا رات گئے اپنے والد کو جیل تک چھوڑنے جانا، سیاسی میٹنگز میں شرکت کرنا ان کی سیاست میں واپسی قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ وہ چھوڑے ہوئے سیاسی میدان میں واپس آئی ہیں جسے ان کی پہلی انٹری نہیں کہا جاسکتا۔ دوسری تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ شہباز شریف کی مفاہمتی پالیسی کی سیاست والا بیانیہ پٹ کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے وہ خود بھی اب زیر عتا ب آ چکے ہیں۔
مریم نواز کی واپسی پر آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی، میر حاصل خان بزنجوسمیت بہت سے سینئر سیاسی رہنماﺅں نے دلچسپ اور انتہائی زیادہ اہمیت کے حامل خیر مقدمی بیانات دیئے وہاں پر حکومتی حلقوں میں پائی جانے والی تشویش اور ہلچل نے اس حقیقت کو مزید تقویت دے دی کہ مریم نواز ان کے لیے آنے والے دنوں میں ایک بڑی سیاسی حریف بن کر ابھریں گی جس کی وجہ سے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ اسی لیے وزیراعظم عمران خان نے بلاول بھٹو زرداری کے افطار ڈنر میں مریم نواز، مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر سینئر سیاسی رہنماﺅں کے سر جوڑ کر بیٹھ جانے کو شیطانوں کی افطاری قرار دے دیا۔ حکومتی حلقوں میں بوکھلاہٹ کا عالم یہ رہاہے کہ وزیراعظم سے لے کر وزیراعلی پنجاب کے ترجمان تک کوئی ایک بھی حکومتی رکن ایسا نہیں تھا جس نے اس افطار ڈنر کے بہانے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماﺅں کے ایک ساتھ مل بیٹھنے کو کرپشن اور بدعنوانی کا نام نہیں دیا۔ بہرکیف جس رات کو میاں نواز شریف اپنی6 ہفتے کی طبی ضمانت کی مدت پوری ہونے کے بعد پھولوں کے ہار پہنے اور کارکنوں کے نعروں کی گونج میں جیل واپس پہنچے تو پاکستان مسلم لیگ ن میں بہت سی حیران کن تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ ایک بڑی سیاسی قوت کے قائد کا رات گئے خود کو جیل انتظامیہ کے سپرد کرنے کے لیے پہنچنا جہاں سیاسی حلقوں میں حیرت کا باعث بنا وہاں عوام کی بڑی تعداد میں موجودگی نے بھی اقتدار کے ایوانوں اور ملک کی فیصلہ ساز قوتوں کو دو ٹوک پیغام دے دیا کہ مریم نواز میاں نوازشریف کی جانشین ہیں۔ ریلی میں شہباز شریف کا بیانیہ کہیں نظر نہیں آیا بلکہ شہباز شریف نے اپنے بیانیہ کے برعکس اپنے قائد میاں نواز شریف کے بیانیہ کو تقویت دینے کے لیے کوئی کوشش پیچھے نہیں چھوڑی جس کا ثبوت یہ بھی تھا کہ نواز شریف کی گاڑی کو ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز ڈرائیو کر رہے تھے۔ بعدازاں یہ بھی دیکھا گیا کہ بلاول بھٹو کے افطار ڈنر پر جانے کے لیے جس گاڑی میں مریم نواز سوار تھیں حمزہ شہبازشریف ہی اسے ڈرائیو کر رہے تھے۔ اس طرح فی الوقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ جیل واپس جاتے ہوئے میاں نواز شریف نے اپنے مزاحمتی بیانیے کا جھنڈا پھر سے بلند کر دیا اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی سیاسی جماعت اور بیانیہ کی واحد جانشین مریم نواز کو بھی متحرک کر دیا۔
ہمیشہ ہی سے یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاست کو ایک کل وقتی پیشہ اور فل ٹائم جاب بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے مرحومہ بیگم کلثوم نواز اور مریم نواز طویل عرصہ تک سیاست سے دور رہیں اور انہیں گھریلو خواتین ہی قرار دیا گیا لیکن وقت اور نظریہ ضرورت پہلے مرحومہ کلثوم نواز کو اور بعد میں مریم نواز کو بھی سیاست میں لے آیا۔ مرحومہ بیگم کلثوم نواز بھی عام دنوں میں سیاست سے قطع تعلق ہو کر گھریلو انجام دینے تک محدود رہیں مگر جوں ہی با ﺅ جی (نواز شریف )پر کوئی مشکل گھڑی آئی تو وہ سیاست میں متحرک ہو جایا کرتی تھیں۔ ابتدا میں یہی انداز مریم نواز نے بھی اپنارکھا تھا میاں نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ملنے والی 6 ہفتوں کی ضمانت تک وہ خاموش رہیں۔ یوں تو خاموشی کا یہ عمل بیگم کلثوم نواز کے انتقال کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا مگر وہ سوشل میڈیا پر سرگرم نظر آئیں نا ہی انہوں نے کسی قسم کے سیاسی بیانیہ کو زبان زد عام کرنے کی کوشش کی۔ میاں نوازشریف کی 6 ہفتوں کی ضمانت منسوخ ہونے پر جیل واپسی کے فورا بعد انہوں نے اپنے والد اور پارٹی قائد کی خواہشات کو پیش نظررکھتے ہوئے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ ایک بار پھر زندہ کر دیا ورنہ لگتا تھا کہ جیسے ن لیگ کی پوری قیادت صبر شکر کر کے سونے چلے گئی ہے لیکن جیل سے واپسی کے بعد سے لیکر حالیہ دنوں تک مریم نواز پوری طرح سے سیاسی سرگرمیوں کا از سر نو آغاز کر چکی ہیں جسے ان کی سیاسی واپسی بھی کہا جاسکتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مریم نواز اپنے والد میاں نوازشریف کی خواہشات اور تواقعات کو پورا کر دکھانے کے لیے آنے والے دنوں میں مزید متحرک نظر آئیں گی۔ کچھ عرصہ تک میاں نوازشریف اور مریم نواز کی خاموشی سے یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ شہباز کا مصالحانہ بیانیہ کام دکھا گیا ہے اور نوازشریف کو ملنے والی تاریخ ساز طبی ضمانت ڈیل کا نتیجہ ہے مگر نواز شریف کی جیل واپسی نے اس تاثر کو زائل کر دیا، اب دیکھا یہ جا رہا ہے کہ شہبازشریف پر نت نئے مقدمات بنائے جا رہے ہیں ایسے میں مصالحت پسندانہ بیانیہ کیسے چل سکتا ہے۔ جاتی امرا سے کوٹ لکھپت جیل تک ن لیگ کی ریلی میں پائے جانے والے نظم و ضبط کا ٹرائل بھی تھا۔ انتخابات کے بعد سے ن لیگ کی تنظیموں پر جو سکوت اور خاموشی طاری تھی نوازشریف کی جیل واپسی اس کا امتحان تھا۔ اراکین اسمبلی اور پارٹی تنظیموں نے متحد ہو کر اس ریلی کو کامیاب بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ شو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے 10 اپریل 1986 جیسا تھا اور نہ ہی عمران خان کے اکتوبر 2011 میں مینا ر پاکستان جیسا مگر اس حقیقت کو جھٹلانا بھی خود کو احمقوں کی جنت میں لے جانے کے مترادف ہوگا کہ مڈل کلاس کی نمائندہ جماعت ن لیگ کے حوالے سے یہ انتہائی متاثر کن شو تھا۔ مستقبل کی اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست میں دو بڑے نام ہی اگلے کئی سالوں تک نمایاں رہیں گے جن میں پہلے بلاول بھٹو ہیں اور دوسری مریم نواز ہیں۔ یہ درست ہے کہ مریم نواز خاتون ہیں اور ایک مشرقی بیٹی ہونے کے سبب وہ اپنے والد کی ہر درجہ وفادار بھی ہیں کہ اگر ان کے والد پر کوئی آنچ آ جائے تو وہ سایہ بن کر آگے کھڑی ہو جاتی ہیں مگر اس انداز سیاست کو ہمیشہ چلانا ممکن نہیں۔ مریم نواز کو اپنا سیاسی مستقبل مکمل سیاست دان بن کر تابناک بنانا ہوگا۔ سیاست میں مریم نواز کا مستقبل اسی صورت میں تابناک ثابت ہوگا جب وہ مستقل مزاجی کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیں گی جیسا کہ انہوں نے اب حکومت مخالف تحریک نکالنے کا عزم ظاہر کر کے کیا ہے اس کے علاوہ ان کا پارٹی کے مشاورتی اجلاس سمیت سوشل میڈیا پر متحرک ہونا بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مریم نواز کی سیاست میں واپسی ہو چکی ہے سیاسی میدان میں ان کا مستقبل کس قدر تابناک ہوگا اس کا انحصار خود ان پر ہے۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved