تازہ تر ین

پاکستان بار کونسل کا مطالبہ درست ، پی ٹی ایم کیخلاف فوراً کاروائی ہونی چاہیے : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان جو کش مکش چل رہی ہے اس ضمن میں ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا دورہ پاکستان بہت اہم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان نے یقینا انہیں اپنے تعاون کا یقین بھا دلایا ہو گا اور یہ بھی کہا ہو گا کہ پاکستان اس معاملے میں ایران کے ساتھ ہے کیونکہ پاکستان کبھی اپنے قریب ترین ہمسائے ایران کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔ یقینا جواد ظریف کی وزیراعظم سے اچھی اور اہم ملاقات ہوئی ہو گی اس کے بعد ایران کو اس بات پر تسلی ہو گئی ہو گی کہ پاکستان کم از کم اس بارے میں ایران کے ساتھ ہے۔ کیونکہ مذاکرات ہی ہر مسئلہ کا حل ہے۔ پاکستان بار کونسل پختون موومنٹ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ دنوں آئی ایس پی آر کے سربراہ جناب آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس کی اس میں انہوں نے کہا کہ بہت ہو چکا اور اب ناقابل برداشت ہو گئی ہیں ان کی حرکتیں لہٰذا ہم اس کا سنجیدگی سے نوٹس لے رہے ہیں لیکن اس کے بعد دیکھنے میں یہ آیا کہ کسی قسم کی کوئی کارروائی ان کے خلاف نہیں ہوئی وہ کارروائی خود فوج نے انی شیٹ نہیں کی یا پھر سول حکومت نے عملدرآمد نہیں کیا جو بھی وجہ ہو یعنی میجر جنرل آصف غفور کی اس پیش بندی کے بعد جب واضح طور پر کہہ دیا کہ مزید ہم برداشت نہیں کریں گے۔ ہم ددور دراز تک کارروائی تو نظر نہیں آئی۔ لہٰذا پاکستان بار کونسل نے بجا طور پر جو ایک ادارہ ہے اور پاکستان میں قانون دانوں کی بہت بڑی تعداد شامل ہے اور اس کا بڑا مقام ہے میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ جو کہا ہے اس کی وجہ یہ ہو گی کہ گزشتہ پریس کانفرنس کے بعد جتنی تیزی کے ساتھ قدم اٹھنا چاہئے تھا اتنا تیزی کے ساتھ اقدام نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے ایک طرف پاک فوج کے سربراہ اور اس کے بعد آئی ایس پی آر کے سربراہ جو ہیں وہ ایک واضح بیان دے رہے ہیں کہ ہم مزید برداشت نہیں کریں گے اور ہم ایکشن لیں گے لیکن ایکشن ہوتا ہوا نظر نہیں آتا کہیں نہ کہیں تو مسئلہ ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں یہ جاننا ضروری تھا کہ کوئی ایک معتبر ادارہ جو ہے وہ اس بات کی طرف توجہ دلائے کہ جناب ایکشن کہاں ہے۔ لوگوں کا بجا طور پر کنسرن ہے کہ حکومت اس سلسلے میں کیا کہتی ہے۔ خبریں آئیں کہ داعش کا ایک باقاعدہ صوبہ بن گیا ہے پاکستانی علاقے میں جو ایران کی سرحد سے منسلک ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ گزشتہ دنوں جو اوپر نیچے واقعات ہوئے پھر داعش کے صوبے کی خبر آنا اور کلیم کرنا کہ داعش ایک صوبہ بن گیا ہے اور پھر میجر جنرل آصف غفور کا اعلان کرنا کہ وہ اس صورتحال کو برداشت نہیں کر سکتے اور پاک فوج نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے بعض دبی دبی سیاسی آوازیں بھی اٹھیں کہ فوج کا کیا کام ہے کہ ایسی سیاسی ایوز پر بات کرے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ فوج کا بالکل کام ہے پاکستان کی سالمیت کے جہاں کہیں کام ہو گا آئی ایس آئی فوج کا ایک شعبہ ہے اس میں یہ چیز موجود ہے کہ پاکستان کے اندر اور پاکستان کے باہر پاکستان کے خلاف جو سازشیں ہو رہی ہیں اس کا نوٹس لینا آئی ایس آئی کا فرض ہے۔ اور آئی ایس آئی فوج کا ایک باقاعدہ شعبہ ہے۔ آئی ایم ایف نے تصدیق کر دی ہے کہ 6 ارب ڈالر جو ہیں وہ فراہم کئے جائیں گے پہلے ہم نے بلا تصدیق کے ان کی ہر بات مان لی تھی، لیکن خیر اب تصدیق ہو گئی ہے لیکن ڈاکٹر اسلم قیس نے کہا کہ ہم 6 ارب ڈالر قرض لیا ہے اور 11 ارب ڈالر کا نقصان ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے جو معاملات طے پائے ہیں۔ اس پر اپوزیشن جو اعتراضات کر رہی ہے زیادہ بہتر ہے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں آئی ایم ایف جو معاہدہ ہے اس پر کھل کر بات ہونی چاہئے۔ نیٹ اور قومی اسمبلی اسی لئے ہیں کہ پاکستان کے منتخب نمائندے جو ان دونوں اداروں میں ہیں وہ اس قسم حساس اور متنازعہ موضوعات پر بحث کریں اور پھر وہ پوری بحث عوام کے سامنے لائی جائے۔ برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے اوپر بڑا دبا? پایا جاتا تھا اور کل بھی یہ خبر چل رہی تھی کہ مستعفی ہو جائیں گی آج انہوں نے پارٹی کے عہدے سے استعفیٰ دےے دیا ہے اور 7 جون کو وہ باقاعدہ عہدے سے استعفیٰ دے دیں گی اس پر گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اس کے لئے تو ہمیں لندن سے کسی نمائندے کو لینا چاہئے کہ کس بنیاد پر دبا? ہے اور یہ کس قسم کا دبا? ہے کن سیاسی طاقتوں کی طرف سے دبا? ہے اور جب انہوں نے اعلان ہی کر دیا ہے تاریخ بھی دے دی، اب تو کھل کر باتت ہونی چاہئے کہ برطانوی وزیراعظم کو کیا مشکلات درپیش ہیں اور ان پر دبا? کسی قسم کا کس طرف سے ڈالا گیا ہے۔ تھریسامے کے جانے کے بعد برطانوی عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ ان کی طرف سے ارکان پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔ لیکن وہاں غیر ذمہ دارانہ گفتگو جو ہے وہ عام طور پر نہیں کر سکتا۔ انہوں نے تھریسامے نے اعلان بھی کر دیا ہے اور تاریخ بھی مقرر کر دی ہے بہر حال یہ بات طے ہے کہ ان کا جانا ٹھہر گیا ہے آج گئی کہ کل گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے دورے کے دوران اہم ملاقاتیں کیں، سندھ میں ایک اور صوبہ بنانے کی بات مدت سے چل رہی ہے۔ ایم کیو ایم کے تمام دھڑے ہمیشہ نئے صوبے کی بات کرتے رہے ہیں۔ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں شہری اور دیہاتی کی تخصیص کی گئی ہے۔ دونوں علاقوں کے ملازمتوں میں بھی کوٹے الگ الگ ہیں۔ شہری علاقوں میں کراچی اور حیدرآباد آتے ہیں جہاں غیر سندھیوں کی اکثریت ہے۔ غیر سندھیوں میں ا±ردو بولنے والے مہاجر، پنجابی، پٹھان اور بلوچ شامل ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ الگ صوبہ بن جائے۔ سندھ میں جب بھی نئے صوبے کی بات ہوتی ہے تو وہ شہری اور دیہاتی علاقوں کے حوالے سے بھی ہوتی ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا معاملہ بھی الگ ہی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ن لیگ نے بہاولپور کو صوبہ بنانے کی بات کی ہے جبکہ اپنے دور میں صرف ایک قرارداد منظور کرانے کے علاوہ کچھ نہ کیا گیا تھا۔ شاہ محمود قریشی جنوبی پنجاب میں ایک صوبے کی بات کرتے ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved