تازہ تر ین

”میڈ اِن پاکستان تحریک“

انجینئر افتخار چودھری …. (باعث افتخار)

”خبریں“ کا کمال یہ ہے کہ یہ صرف ایک اخبار نہیں بلکہ تحریک ہے۔پاکستان کے اوپر جب بھی مایوسی کے مہیب سائے چھائے تو جناب ضیا شاہد اور ان کی ٹیم نے نہ صرف اپنے حصے کا کام کیا بلکہ اس سے بڑھ کر میدان میں موجودگی کا احساس بھی دلایا۔ میں اگر نوے کی دہائی میں چلا جاﺅ ںتو مجھے یہ اخبار ” جہاں ظلم وہاں خبریں“ کے نعرے کے ساتھ موجود نظر آتا ہے۔مختلف اداروں میں چھاپے اور ظلم کے خلاف مظلوموں کا ساتھ دیتا یہ اخبار لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔مجھے وہ دن یاد ہے رمضان کے یہی دن تھے جب جناب ضیا شاہد جدہ آئے تو میں نے ایک بڑی تقریب ان کے اعزاز میں رکھی جس میں مرحوم ارشد خان مسلم لیگ، چودھری شہباز حسین پیپلز پارٹی، جہانگیر خالد مغل جماعت اسلامی ،ڈاکٹر غلام اکبر نیازی جیسی معروف شخصیات ان کی پذیرائی کے لئے موجود تھیں۔لوگوں نے فردوس ہوٹل کے ہال کو تالیوں کی گونج سے مزین کر دیا جب انہوں نے کہا کہ جناب وزیر اعظم اگر ہم پیپلز پارٹی کے قبضہ گروپوں کی مذمت کریں گے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ ہم آپ کے مقصود بٹوں کو نظر انداز کر دیں۔یہ تھی خبریں کی جرا¿ ت اور ہمت‘ کمال بہادری تھی کہ جب اخبارات کو اشہارات سے کنٹرول کیا جاتا تھایہ بات کہی گئی۔ اس کے نتیجے میں مرحوم مقصود بٹ نے شہر بھر میں ضیاشاہد کے خلاف بینرز لگوائے۔خبریں نے کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع کیا تو اس وقت بعض غنڈہ عناصر جن کے سر پر حکمرانوں کا ہاتھ تھا انہوں نے اس کچہری پر حملہ کر دیا۔ضیا شاہد نے اپنی کتاب میرے دوست میں اس کا ذکر کیا ہے۔
پچھلے سال خبریں کی سلور جوبلی پر مجھے بھی بلایا گیا۔ جی چاہتا تھا کہ اپنے تجربات کو وہاں سب کو بتاﺅں کہ خبریں کی نمائندگی کرتے ہوئے ہم نے اوورسیز پاکستانیوں کی کس قدر خدمت کی ،یہ وہ مظلوم پسے ہوئے لوگ تھے جنہیں اس اخبار نے سہارا دیا۔اصلی اور سچا سہارا تو میرے رب کا ہے لیکن اسی رب کے بندوں کے کام آنا بھی بڑی خدمت ہے۔یاد آتے ہیں وہ لوگ جو خبریں کی فوٹو کاپیاں لے کر جدہ کے ہوٹلوں میں بیٹھ جاتے تھے ۔مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب جدہ قونصلیٹ پر چھاپہ مارا گیا، ان دنوں کا ذکر کروں تو دل خون کے آنسو روتا ہے جب اسی قونصلیٹ میں بیٹھے لوگ افغانیوں اور برمیوں کو پاسپورٹ بیچا کرتے تھے۔اس پرانے پاکستان کی باتیں یاد کروں اور انہیں لکھوں تو ڈر جاتا ہوں کہ’ کونج کی ہوک‘ میں بدل نہ جاﺅں۔
’میڈ ان پاکستان تحریک ‘بڑی تیزی سے کامیاب ہو رہی ہے۔ اخبار کے صفحات پر جہاں اشتہارات بھی چھاپے جاتے ہیں وہاں سیاسی سماجی قائدین کے پیغامات چھاپ کر خبریں نے اپنا حق ادا کر دیا ہے۔ مجھے دلی خوشی ہے کہ میں اس ٹیم کا حصہ رہا ہوں وہ ٹیم جو خبروں کی جستجو میں بہت دور چلی جاتی تھی۔یہ کوئی آسان بات تھی کہ سچ لکھوں اور کسی کو تو علم ہی نہیں کہ خبریں میں چھپی اس خبر پر جس میں، میں نے عظمت نیازی ،قاری شکیل ،آفتاب مرزا کی گرفتاری پر احتجاج کیا تو مجھے سعودی عرب میں مقیم سفیر پاکستان جو سابق فوجی تھے انہوں نے جدہ قونصلیٹ میں بیٹھے ایک حاضر سروس کے ذریعے جیل میں بند کرا دیا۔
ان باتوں کو چھوڑیں کہیں کلیجہ پھٹ کر باہر نہ آ جائے، لوگوں نے اس جمہوریت کے لئے کیا کیا نہ کیا لیکن ان راستوں کے گمنام سپاہیوں کو کوئی پوچھتا نہیں۔میں آج یہ خبر بریک کر رہا ہوں کہ میاں نواز شریف قاری شکیل کے کان میں خبر دیتے وہ مجھے بتاتے اور میں اپنی فاکس سے خبریں کو خبر بھیجتا اور دستخط قاری شکیل مرحوم کے ہوتے۔یہ آمریت کے خلاف’ خبریں‘ کا حصہ تھا۔اداکار محمد علی کی خبر پر نواز شریف کے دستخط میرے تھے ۔یہ ایک تعزیت نامہ تھا ڈکٹیٹر پریشان تھا کہ نواز شریف کی خبر آتی کہاں سے ہے یہ میری جمہوریت کے لئے جد وجہد تھی۔2002ءکے اوائل کے دن جہاں رات کو کیپٹن صفدر ٹریک سوٹ پہن کر ہمیں سپنزر میں ملتے اور ہم وہ خبریں ،خبریں کو بھیجتے کمال یہ تھا کہ اخبار اس وقت بھی چھاپ دیتا۔
”خبریں“ کا یہ نیا سلسلہ انہی سلسلوں کی کڑی ہے۔ اللہ تعالی وطن عزیز کو معاشی حملے سے بچائے ۔آج وقت بدل گیا ہے کل کے مظلوم آج کے ظالم بن گئے اور جو کچھ نواز دور میں’ خبریں‘ کے ساتھ ہوا اور اس قوم کے ساتھ ہوا اس پر لمبی بحث کرنے کا وقت نہیں۔
پاکستان پر ہر طرف سے حملہ ہو رہا ہے۔نیب کے چیئرمین کے ساتھ جو کھلواڑ ہو رہا ہے اس میں دیکھئے کون لوگ ہیں ۔عمران خان کو نیب کے چیئرمین سے کیا تکلیف ہے مشکل میں تو وہ ہیں جنہوں نے گاجریں ٹوکروں کے حساب سے کھائی تھیں ۔اس قسم کی فیک نیوز کے پیچھے کون ہیں۔کل پارٹی کے ایک انتہائی سینئر شخص نے عزت افزائی کرتے ہوئے کہا افتخار میں کیا خامی ہے لکھتا ہے بولتا ہے ڈٹ جانے والا ہے پارٹی چہرہ ہے، اسے کیوں نہیں معاون خصوصی بنایا جاتا۔اب جب یہ بات سامنے آئی کہ فیک خبر بھی معاون خصوصی کے چینل سے چلی ہے تو بس دل میں آیا یہی کہہ دیتا ہوں ”آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا“۔
یہ ایک اور موضوع ہے لیکن میں نے ضیا شاہد کو اخبارات کے لئے فواد چودھری سے لڑتے دیکھا ہے۔ رات کو الیکٹرانک میڈیا کے رپورٹرز کے اعزاز میں برادر حمید پوٹھی کی کوٹھی میں افطاری میں شہباز جو ایک صحافی ہیں اس نے کیا خوب بات کی کہ سابق وزیر تو اخبارات کے پیچھے لٹھ لیکر پڑے تھے۔ لیکن موجودہ وزیر جو مشیر ہیں انہوں نے کمال کام کیا میں نے وہاںاضافہ کیا حضور یہ سحر ایسے ہی طلوع نہیں ہوئی اس میں ضیا شاہد جیسے لوگوں کا ہاتھ ہے۔میں تو اس سلسلے میں بہت آگے نکل گیا۔اخباری صنعت کا زندہ رہنا نوشتہ دیوار ہے۔ ۵ جی کی بجائے 100 جی کی ٹیکنالوجی آ جائے جو چیز صفحات پر درج ہے اس نے رہنا ہی رہنا ہے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ لوگ فردوس عاشق اعوان سے خوش ہیں ۔
پی ٹی آئی کو اپنے دکھ درد کے دنوں کے ساتھیوں کو یاد رکھنا ہو گا ۔میں خادم علی مانڈلا کی اس بات سے سو فی صد متفق ہوں کہ پرائم منسٹر ہاﺅس میں کچھ لوگ اب بھی موجود ہیں جو گھر کے چراغ ہیں اور اپنا کام ڈالیں گے۔کبھی کبھی تو اتنی بے بسی ہو جاتی ہے کہ جی چاہتا ہے کہ عمران خان رہائی تحریک شروع کروں جو لوگ انہیں سچ نہیں بتاتے۔میرا لیڈر وہ جس کے پاس گھنٹوں بیٹھتا تھا اور وہ گھر بھی چھوڑ کے جاتا تھا، آج کیوں نرغے میں ہے؟غریبوں کو ڈرانے والے یہ لوگ چیخیں نکلوانے والے لوگ اپنا پیٹ کیوں نہیں کاٹتے۔
ضیاشاہد صاحب اس پر بھی جہاد کیجئے لکھئے بولئے کہ ریاست مدینہ میں جب ایک شخص نے خندق کھودتے ہوئے پیٹ کا پتھر نبی کریم کو دکھایا تو انہوں نے اپنے دو پتھر دکھائے۔
جناب چیف صاحب ، میڈ ان پاکستان میں اور بیس کروڑ تو خریدیں گے مگر یہ جو سینکڑوں قائمہ کمیٹیاں اور پارلیمانی سیکرٹری اور پتہ نہیں کیا کیا۔انہیں بھی کہیں اپنی سہولیات ترک کریں ۔تنخواہیں لیں مراعات چھوڑیں۔خدا کی قسم جب علی محمد خان اور شہر یار آفریدی جیسے صالح نوجوان اپنے خطاب میں مولانا طارق جمیل کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں تو دل کرتا ہے کہ اللہ نے آپ کو سب کچھ دے رکھا ہے ،علی محمد خان کے پاس اپنی بی ایم ڈبلیو ہے۔ میری تجویز ہے سب کھاتے پیتے ہیں اپنی گاڑیاں استعمال کریں، سب گاڑیاں واپس کریں، منسٹر ہاﺅسز کے بل خود دیں ،پٹرول خود بھروائیں ،مزہ تو تب ہے۔غریب سے افطاری کے پکوڑے چھڑوانے کی بات کرنے سے پہلے اپنی روسٹڈ ران تو چھوڑو۔
پتہ نہیں انہی کڑوی کسیلی باتوں سے ہم تلقین شاہ کے ہدائت بنے ہوئے ہیں ۔اشفاق احمد جب ریڈیو پروگرام کرتے تھے تو ایک کردار تلقین شاہ کا کرتے تھے ،ان کا ایک ملازم ہدائت ہوتا تھا جسے اس سچ بیانی پر کہا کرتے تھے ہدائے تئیں ترقی نئیںکر نی۔
شاہ جی چلے گئے ہدائت بھی اور ہم بھی نہیں ہوں گے۔اس مہم میں سب کو شامل ہونا ہو گا۔جناب ضیاشاہد سے یہ بھی اپیل ہے کہ ان لوگوں سے بھی مکالمہ کریں جو پرتکلف میز سجائے افطار کی تصویریں اپ لوڈ کرتے ہیں ۔ایسے لوگ معاشرے میں ایک تناﺅ کی کیفیت پیدا کر رہے ہیں۔ایسا تناﺅ جو شدت اختیار کرنے کی شکل میں آیا تو مناسب نتائج نہیں نکلیں گے۔”زندہ باد خبریں“ جاری رکھیں یہ کام، یہ ایک عمل حسنہ ہے ۔رمضان کی ان ساعتوں میں اگر پاکستان کی معاشی سانس چلتی ہے تو یہ پوری قوم پر احسان ہو گا۔یقینا وہ لوگ جو گھروں میں ڈالر رکھے ہوئے اور اس کی مہنگائی میں برابر کے شریک ہیں انہیں تو شرم آنی چاہئے کہ ایک طرف ماں سسک رہی ہے وطن مر رہا ہے اور تم ریال درہم ڈالر رکھ کر موجیں کرنے جا رہے ہو۔
ڈرو اس وقت سے جب بڑے ستونوں میں بند آگ میں جھلسو گے نہیں جلائے جاﺅ گے۔میری اس تحریر کو پڑھ کر اگر کوئی ایک بھی ڈالر بیچے گا تو میں سمجھوں گا کہ ضیا شاہد اور انجینئر افتخار کا کام ہو گیا۔
کچھ لوگ بتا رہے تھے کہ منی چینجر اور چند میڈیا پیجز یہ کام کر رہے ہیںکچھ تو خیال کریں اور خدا را اس تحریک کو کامیاب کریں۔اس عید پر صرف پاکستانی چیزوں کی خریداری کریں۔اور پاکستانی تاجر اور صنعت کار بھی خدا کا خوف کریں یہودی چیزیں سستی کرتے ہیں آپ مہنگی کرتے ہو۔اور آخری عشرہ اپنے بڑے پیٹ کے ساتھ مکہ مدینہ جاﺅ گے۔دیانت دار تاجر انبیاءکا ساتھی ہوتا ہے اور بددیانت جو برف کے باٹ لے کر دھوپ میں بیٹھ جاتا ہے اس کو کیا کہیں
”زندہ باد خبریں“
( تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved