تازہ تر ین

مودی اور بھارتی مسلمان ؟

آغا امیر حسین….(گردوپیش)

نریندر مودی بی جے پی کے کارکنوں کی کئی سال سے جاری غنڈا گردی اور مخالفین کی مار پیٹ نے خوف کی وہ فضا پیدا کی جو وہ پہلے بنگلہ دیش میںمکتی باہنی کے ذریعے کرچکا تھا جس کے نتیجے میں وہ بھاری اکثریت سے الیکشن جیت گیا ہے۔ اب وہ ہر قسم کے دباﺅ سے آزاد اور بڑے بڑے فیصلے کرنے پر قادر ہے۔ وہ ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 370 کو حذف کرے گا تاکہ کشمیر میں بھارت کے باشندے پراپرٹی خریدیں اورکشمیری اکثریت سے اقلیت میں تبدیل ہو جائیں۔ وہ بھارت میں ہندو توا پر مکمل عمل درآمد کروائے گا۔ مسلمانوں کے لیے بھارت میں جینا مشکل ہو جائے گا۔ بابری مسجد کی طرح دوسری وہ تمام تاریخی عمارتیں جو مسلم تہذیب، ثقافت اور کلچر کی علمبردار ہیں ان کی شکلیں بھی تبدیل کر دی جائےںگی۔ اس الیکشن نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ بھارت میں رہنے والے اَن پڑھ، جاہل اور تعلیم یافتہ پروفیسر، ڈاکٹر، نام نہاد لبرل سوچ رکھنے والے سب کے سب اندر سے ”نریندر مودی“ ہی ہیں۔ یوں تو وہاں کانگریس سے لے کر کمیونسٹ پارٹی تک بے شمار جماعتیں ہیں لیکن پورے ہندوستان میں صرف ” ارون دتی رائے“ ایک ایسی آواز ہے جس نے صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہا ہے۔ بڑے بڑے مشہور و معروف دانشور، صحافی، مصنفین، فلم ایکٹر اور کرکٹر بھی BJP کے خوف سے خاموش ہیں۔ ایک سابق کرکٹر سدھو ایسا تھا جو عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوا جس کی وجہ سے سکھوں کا سب سے بڑا مسئلہ ”کرتار پور“ راہداری طے ہوسکا لیکن اس میں بھی مودی سرکار مسلسل روڑے اٹکا رہی ہے۔ 1920ءسے ہندوستان کی انتہا پسند ہندو تنظیمیں جن سنگھ وغیرہ ہندو توا پر عمل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہی ہیں جنہوں نے ہندو نوجوانوں کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر گھولا ہے، ان نوجوانوں کو باقاعدہ فوجی تربیت دی جاتی رہی ہے اور دی جا رہی ہے۔ مہاتما گاندھی کا قتل بھی اسی تنظیم کے ممبر گارڈ کا کام تھا جس کی وجہ سے دو سال تک بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیموں پر پابندی لگی، BJP ہندو انتہا پسند تمام جماعتوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ مجھے یاد ہے کہ واجپائی جب وزیراعظم تھے ان سے صحافیوں نے پوچھا کہ آپ کا نعرہ تو ہندو توا ہے تو پھر یہ لبرل، سیکولر حکومت آپ کیوں بنا رہے ہیں؟ واجپائی کا جواب تھا کہ مجھے دو تہائی اکثریت مل جائے تو میں ہندو توا نافذ کرکے دکھاﺅں گا۔
جب تقسیم ہند کا آخری مرحلہ تھا تو مہاتما گاندھی نے قائداعظم کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ آپ متحدہ ہندوستان کے وزیراعظم بن جائیں اور تقسیم کی بات نہ کریں تو قائداعظم کا جواب تھا متحدہ ہندوستان میں اکثریت ہندوﺅں کی ہوگی اور پارلیمنٹ اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے اس لیے مجھے جس وقت چاہیں گے وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ بنیادی مطالبہ ہے جس کی نام نہاد سیکولر بھارت کے آئین میں کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی اس مسئلے پر کانگریس نے ہمارے تحفظات پر کوئی یقین دہانی کروانی ضروری سمجھی ہے۔ اس لیے پاکستان کا قیام ضروری ہے، قیام پاکستان کو روکنے کے لیے کانگریس اور دوسری تمام انتہا پسند تنظیموں نے پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف فسادات برپا کئے جس میں لاکھوں افراد مارے گئے بے پناہ مالی نقصان ہوا، لاکھوں افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوئے۔ دنیا کی تاریخ میں 1947ءکا قتل عام ایک شرمناک واقعہ ہے۔ یہ سب کچھ ہندو ذہنیت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔یاد رہے انگریزوں کے دور میں 1925ءکے بعد انتہا پسند ہندو تنظیمیں شُدھی تحریکیں اور گاﺅ ماتا کے نام پر مسلمانوں کے خلاف فسادات کرواتی رہی ہیں۔ دلی جیسے بڑے شہر میں جو بھارت کا دارالخلافہ ہے آئے دن فسادات ہوتے رہتے تھے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا یہ بیج سالہا سال کی کوششوں کے نتیجے میں 70 سال بعد اب بڑھ کر تناور درخت بن چکا ہے۔ یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ ڈھاکہ میں نریندر مودی نے جلسہ عام میں حسینہ واجد کے سامنے کیا بات کی تھی کہ ہم نے بنگلہ دیش بنانے کے لیے اپنا رت (خون) بہایا ہے۔ حیدر آباد دکن اور بھارت کی مسلم ریاستیں، بڑے بڑے مسلمان جاگیردار اور نوابوں کو کس طرح ایک ایک کرکے برباد کیا کہ آج وہ بھارت میں گمنام زندگی گزر رہے ہیں ۔ حالت یہ ہے کہ شاہ رُخ ہو یا سیف علی خان کی بیویاں ہندو دھرم پر قائم ہیں اور وہاں کے میرج ایکٹ کے مطابق ان سے پیدا ہونے والی اولاد ہندو ہوگی۔ پچھلے دنوں خبر آئی کہ مشہور مسلمان ایکٹر یس شبانہ اعظمی نے کہا کہ مجھے بمبئی جیسے شہر میں کرائے کا مکان صرف اس لیے نہیں مل رہا کہ میں مسلمان ہوں۔ یہودی، عیسائی اور ہندو گٹھ جوڑ، آنے والے دنوں میں بہت بڑے فساد کی نشاندہی کر رہا ہے۔ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔الیکشن کے دوران اور الیکشن کے بعد مودی نے برملا کہا تھا کہ میں پاکستان کے اندر گھس کر ماروں گا ،آئے دن لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہوتی رہتی ہے ۔کشمیر میں بھارت کی 7 لاکھ افواج کشمیریوں پر جو ظلم ڈھا رہی ہیں۔ دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے۔ بھارت کے دانشور اب یہ بات کھل کر کہنے لگے ہیں کہ کشمیر ہمارا اور کشمیری پاکستان کے ہیں۔ پاکستان کے اندر تخریبی سرگرمیاں خاص طور پر بلوچستان میں ہندوستان کروا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ مملکت بنائے گا جب سے سی پیک شروع ہوا ہے امریکہ اور بھارت کسی طور بھی اس منصوبے کو کامیاب ہوتا دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ آج بحر عرب میں امریکہ اپنے بحری بیڑے لے آیا ہے۔ جب سے کراچی کے قریب سمندر سے تیل نکلنے کی بات عمران خان نے کی ہے امریکہ اور بھارت اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ چار کمپنیاں اس منصوبے پر کام کر رہی تھیں ایک امریکی، ایک اٹیلین اور دو پاکستانی، عمران خان کو یہ رپورٹیں دی جا رہی تھیں کہ یہاں بڑی تعداد میں تیل نکلنے والا ہے اچانک امریکن کمپنی نے ڈریلنگ کا رخ موڑ دیا اور کہا یہاں تیل اور گیس نہیں ہے اس لیے ہم کھدائی روک رہے ہیں۔ 14 ارب سے زیادہ رقم پاکستان کی اس پروجیکٹ پر صرف ہوچکی ہے اچانک امریکن کمپنی نے رپورٹ کیسے بدلی؟ سُنا ہے اب اس پروجیکٹ کو پاکستان نیوی نے فی الوقت سِیل کر دیا ہے آنے والے وقت میں خطے میں جو کچھ ہونے جا رہا ہے اس کا ایک سبب تیل کی یہ دریافت بھی ہے۔
برصغیر کی تقسیم سے پہلے جن مسلمان تنظیموں اور شخصیات نے کانگریس کا ساتھ دیا تھا اور مسلم لیگ کی شدید مخالفت کی تھی آج اس ساری تباہی اور بربادی کے وہ ذمہ دار ہیں ایک طرف تو دشمن کھلے عام پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے دوسری طرف پاکستان میں سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین ملک کو عدم استحکام کا شکار بنائے ہوئے ہیں ۔اس وقت جبکہ اپنے ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر ایک آواز ہونے کی ضرورت تھی کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ بصورت دیگر بھارت میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اور جو کچھ آئندہ اُن کے ساتھ ہونے جا رہا ہے وہ سامنے ہے، اس موقع پر پاکستان کے جو سیاست دان اور جماعتیں متحد ہو کر حکومت کے خلاف تحریک چلانے جا رہی ہیں اور عید کے بعد کوئی بڑا فیصلہ کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہم ”حکومت گرانا نہیں چاہتے“ چوروں، ڈاکوﺅں، لٹیروں اور سٹے بازوں نے ملک میں معاشی ابتری پھیلائی ہے ڈالر خرید کر روپے کی قیمت میں ریکارڈ کمی کر دی گئی ہے۔ مختلف اشیاءمارکیٹ میں اچانک مہنگی کر دی گئی ہیں گویا تمام مفاد پرست ریاست کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں ان حالات میں ریاست کو بڑا فیصلہ کرنا پڑے گا جس کے بغیر اب کوئی اور چارہ کار نہیں ہے اور نہ ہی وقت بچا ہے۔!
(کالم نگارمعروف دانشور اورصحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved