تازہ تر ین

اردو ادب اور اہل صحافت

میم سین بٹ….ہائیڈپارک
اردو ادب کے فروغ میں رسائل و جرائد بہت اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں تقسیم ہند سے قبل لاہور سے انجمن،مخزن، کہکشاں ،کارواں ،ہزارداستان، خیالستان ،بہارستان، نگارستان ،نیرنگ خیال ، تہذیب نسواں، ادبی دنیا ،شاہکار، یادگار،ہمایوں ،عالمگیر، شیرازہ ، رومان، ادب لطیف اور سویرا جیسے معروف ادبی پرچے شائع ہوتے رہے ،مخزن کے ذریعے علامہ اقبال کی شاعری لوگوں تک پہنچنا شروع ہوئی تھی ان جرائد میں سے صرف ادب لطیف ہی اب زندہ بچا ہے جو ناصر زیدی کی زیرادارت شائع ہوتا ہے ،مخزن کابھی قائد اعظم لائبریری کے تحت دور ثانی شروع ہوا تھا اب کچھ عرصہ سے وہ بھی غالباََنہیں چھپا ،آزادی کے بعد لاہور سے نقوش ، ماہ نو، داستان گو، لیل و نہا ر،جاوید، فنون ،اوراق ،ارژنگ، معاصر،سپوتنک، بیاض ،نوادر، شاداب، ادب دوست،کاغذی پیراہن اور مونتاج وغیرہ بھی جاری ہوئے ان میں سے چند ادبی جرائد اب بھی سہ ماہی، ششماہی یاسالانہ بنیادپر شائع ہوتے ہیں۔
ماضی قریب میں بعض دانشوروں نے پندرہ روزہ ادبی اخبارات بجنگ آمد،اشکال ،ارژنگ،مکمل ،ٹی ہاﺅس ،ادبی ریاست اور ادبی اخبار وغیرہ بھی شروع کئے تھے ان سے قبل عطاءالحق قاسمی ، حسن رضوی ، اجمل نیازی،اختر شمار، اظہر غوری ،نعیم سلہری، عمران نقوی ، ناصر بشیر ،علی اصغر عباس، شہزاد فراموش اورراجہ نیئر وغیرہ مختلف قومی اردو اخبارات کے ادبی ایڈیشن بھی شائع کرتے رہے ہیں تاہم بعدازاں کاغذ مہنگا ہونے پر اخبارات کے صفحات کم ہونے کی وجہ سے ادبی ایڈیشن چھپنا بند ہو گئے تھے ،یوں تو برصغیر پاک و ہند میں اردو صحافت کے بانی ادیب، شاعرلوگ ہی تھے تاہم تقسیم ہند سے قبل اورآزادی کے بعد بھی معروف ادیب و شاعر اخبارات میں ادبی موضوعات پر کالم ومضامین لکھتے رہے ہیں ان میں مولانا چراغ حسن حسرت ، مولانا عبدالمجیدسالک،ابن انشائ،ابراہیم جلیس، مجید لاہوری، شفیع عقیل،حاجی لق لق،وقار انبالوی، یزدانی جالندھری، جمیل الدین عالی، علی سفیان آفاقی، احمد ندیم قاسمی ،عطاءالحق قاسمی ، میرزا ادیب،انتظار حسین،اے حمید ،عبداللہ ملک، منو بھائی، اظہر جاوید ،خالد احمد،اعزاز احمد آذراور افتخار مجاز کے نام اہم ہیں ان سینئرز میں سے اب صرف عطاءالحق قاسمی ہی حیات ہیں اور بدستور سیاسی وادبی موضوعات پر کالم لکھ رہے ہیں ان کے متعدد فکاہیہ کالم تو باقاعدہ ادبی فن پارے ہوتے ہیں مگر ہمارے دوست خواجہ آفتاب حسن فکاہیہ کالم کو اد ب کا حصہ نہیں مانتے جبکہ ہم اسے جلدی میں لکھا جانے والا ادب سمجھتے ہیں۔
پریس کلب لائبریری میں طارق کامران کی زیر صدارت ”ادب کے فروغ میں اہل صحافت کا کردار “ کے موضوع پر حلقہ ادب و صحافت کی ہفتہ وار نشست کے دوران بھی جب کہانی کار خواجہ آفتاب حسن نے ادبی کالم کے حوالے سے اپنا پرانا موقف دہرایا تو ہمیںچراغ حسن حسرت ، ابن انشائ، ابراہیم جلیس،مجید لاہوری، احمد بشیر،حمید اختر،ضیاءالحق قاسمی ،عطاءالحق قاسمی ، دلدارپرویز بھٹی اورڈاکٹر یونس بٹ کے سیکڑوں ادبی کالم یاد آگئے جو کراچی اور لاہور کے مختلف قومی اردواخبارات میں شائع ہوتے رہے تھے اور جنہیں پڑھ کر ہم نے بھی ادبی کالم لکھنا شروع کیا تھا ،خواجہ آفتاب حسن شاید نہیں جانتے کہ پنڈت رتن ناتھ سرشار کا ادبی شاہکار”خوجی “ کتابی صورت میں شائع ہونے سے پہلے لکھنو کے اخبار میں ہی قسط وار شائع ہوتا رہا تھا ہم نے بھی دوعشرے قبل تخلیق کئے جانے والے اپنے کردار ”سرکا پہلوان“ پر طنزیہ و مزاحیہ مضامین کتابی شکل میں چھپوانے سے پہلے اخبار میں ہی چھپوائے تھے ،ادبی رسائل و جرائد تو اب بہت کم تعداد میں شائع ہوتے ہیں اور ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ پڑھے بھی نہیں جاتے جبکہ اخبارات میں چھپنے والے ادبی کالم اور مضامین زیادہ لوگوں تک پہنچتے ہیں۔
سہ ماہی ظرافت،سہ ماہی خیال و فن، ماہنامہ ارژنگ، پندرہ روزہ ٹی ہاﺅس اوربجنگ آمد وغیرہ میں بھی ہماری چند تحریریں شائع ہوئی تھیں جو مخصوص ادبی حلقے تک محدود رہی تھیں جبکہ اخباری کالم ہر طبقے تک پہنچتے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے تو کالم دنیا بھر میں مزید لاتعداد لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں اب بھی بہت سے ادیب ،شاعر اورڈرامہ نگار مختلف اردو اخبارات میں کالم لکھتے ہیں مگر وہ ادبی موضوعات پر کم اورسیاسی و سماجی موضوعات پر زیادہ لکھتے ہیں ان میں محمود شام، مسعود اشعر، مستنصر حسین تارڑ، امجد اسلام امجد،اصغر ندیم سید، سرفراز سید،رضا علی عابدی،اکمل علیمی، ظفر اقبال، ناصر زیدی،سرفراز سید، ازہر منیر، ماجد یزدانی ،خالد ہمایوں ، بیدار سرمدی، اسد مفتی، منظور اعجاز، اخترشمار، خالد مسعودخان، وقار خان، کشور ناہید، بشریٰ رحمان، بشریٰ اعجاز،سلمیٰ اعوان، صغریٰ صدف، سعدیہ قریشی، شاہدہ دلاور شاہ، فرحت عباس شاہ، سعداللہ شاہ، ناصر بشیر ، گل نوخیز اختر،غافرشہزاد،عمران نقوی، سرفراز انوراور طارق کامران وغیرہ کے نام شامل ہیں۔
ادب کے فروغ میں اہل صحافت کا کردار کے موضوع پر حلقہ ادب و صحافت کی نشست سیکرٹری شہزاد فراموش اور ہم نے اس لئے رکھی تھی کہ ان سینئر اخبار نویسوں کو یاد کیا جائے جو ادیب،شاعر اور مترجم بھی تھے اور وہ چکی کی مشقت کے ساتھ ساتھ ادب بھی تخلیق کرتے رہے تھے ان میں مولانا حسرت موہانی ، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خاں،مولانا عبدالمجید سالک، مولانا چراغ حسن حسرت، آغا شورش کاشمیری ، ظہیر کاشمیری،یزدانی جالندھری،فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی ،حمید اختر اورضیا شاہد جیسے ایڈیٹرز بھی شامل ہیں ، حلقے میں سید تاثیر مصطفےٰ، انوار قمر،اظہر غوری، رفیق خان، خواجہ آفتاب، شوکت شریف ،حارث عباسی، ریحان منیرزبیری،عمران شیخ اورقمرالزمان بھٹی نے موضوع پر اظہار خیال کیا ۔
طارق کامران نے آخر میں صدارتی کلمات کے دوران بزرگ اخبار نویسوں کے ادبی کام کا تذکرہ کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ نوجوان صحافیوں کی ادب میں دلچسپی نہیں رہی وہ اپنے سینئرز کی میراث کو جاری نہیں رکھ سکے !ابلاغیات کی تعلیم حاصل کرنے والے صحافی بھی کیا کریںسید تاثیر مصطفےٰ کے بقول انہیںنصاب میں پڑھایا جاتا ہے کہ ادب اورصحافت دوالگ الگ چیزیں ہیںاور ان کی زبان بھی مختلف ہے ،ابھی تو ادب میں دلچسپی رکھنے والے پرانی نسل کے چند صحافی دکھائی دے جاتے ہیں مستقبل میں جب یہ چہرے بھی دنیا میں موجود نہیں رہیں گے تو ادب اورصحافت کا دیرینہ رشتہ مکمل طور پر ٹوٹ جائے گا تب صحافی یاد کیا کریں گے ۔۔۔
صحافت کھا گئی آسماں کیسے کیسے
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved