تازہ تر ین

پائیدار ترقی اور خوشحالی کا ادھورا خواب

چوہدری ریاض مسعود….نقطہ نظر
اس وقت پاکستان کا تمام نظامِ معیشت ”قرضوں اور ادھار “کے سہارے چل رہاہے، جس سے ملک میں مہنگائی، بیروزگاری، غربت اور دیگر عوامی مسائل میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اور اصلاح احوال کی کوئی بھی صورت سامنے نہیں آرہی ہے، معیشت کی اسی تباہی نے ہمیں عالمی مالیاتی اداروں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کردیاہے۔ حکومت کو اپنی پوری اقتصادی ٹیم کو گھر بھیجنا پڑا جس میں عمران خان کے انتہائی قریبی اور اہم ساتھی اسد عمر بھی شامل تھے۔
سابقہ ٹیم پاکستان کیلئے قرضہ حاصل کرنے کیلئے تقریباً 9ماہ تک سرگرم عمل رہی اور پھر ”چراغوں میں روشنی نہ رہی “ کے مصداق انکی چھٹی ہوگئی، یہ بات زبان زدعام ہے کہ آئی ایم ایف نے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کی جس نئی ٹیم کیساتھ مذاکرات کئے وہ سب انکے پسندیدہ تھے، ایسا محسوس ہورہاتھا کہ ان کے درمیان کرکٹ کا دوستانہ 20اوور کا میچ ہورہاہے جس میں مہمان ٹیم کو ہر صورت میں فتح یاب کرنا ہے ، پھر چشم فلک نے دیکھا کہ آئی ایم ایف کی سٹاف کی سطح کی مذاکراتی ٹیم نے کس قدر شاندار کامیابی حاصل کی ، دوسری طرف حکومتی ٹیم نے 6ارب ڈالر کے معاہدے کو موجودہ حکومت کی کامیاب حکمت عملی قرار ددینے میں زمین و آسمان ایک کردیئے۔
یاد رہے کہ آئی ایم ایف سے یہ معاہدہ ان کے ایگزیکٹوبورڈ کی منظوری کے بعد قابل عمل ہوگا اور پاکستان کو قرضہ کی یہ رقم 39ماہ میں فراہم کی جائیگی ، اس حساب سے اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے حصے میں ماہانہ 15کروڑ38لاکھ 46ہزار 153ڈالر آئیگا یعنی یہ قرضہ لے گا ، دوسری طرف اس وقت بیرون ممالک رہنے والے پاکستانی ہرماہ ایک ارب 83کروڑ 33لاکھ 33ہزار 333ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان ارسال کرتے ہیں ، اسی حساب سے اگر ہم آئی ایم ایف کی طرف سے ملنے والے قرضے کا ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیتے ہیں تو یہ بیرون ممالک رہنے والے پاکستانیوں کی ارسال کردہ رقم کا صرف 12فیصد بنتا ہے ۔
یہ اعدادوشمار اور تقابلی جائزہ دینے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اگر حکومت عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے اوورسیز پاکستانیوں پر اعتماد کرتی ان کے درپیش مسائل کو حل کرتی، انہیں پاکستان میں عزت و احترام کےساتھ مراعات دیکر سرمایہ کاری کرواتی تو ملک کی تقدیر بدل سکتی تھی اور ہمیں بیرونی قرضوں کے مزید حصول کی لعنت سے چھٹکارا مل سکتا تھا، یہ حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف نے ہمیں 6ارب ڈالر کا یہ قرضہ فوری طور پر دینے کی بجائے 39ماہ کی طویل مدت کا پیچیدہ اور پراسرار طریقہ اختیار کیا ہے ، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آئی ایم ایف نے ہمیں ”ٹرک کی بتی“ کے پیچھے لگادیاہے، یہ بات حیران کن مگر افسوسناک ہے کہ حکومتی ترجمان اس قرضے سے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے خوش کن دعوے کررہے ہیں لیکن انکی توجہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ،غربت اور بیروزگاری کی طرف نہیں جاتی۔
وزیراعظم ، وزیراعظم کے مشیر خزانہ اور حکومتی ترجمانوں کے یہ بیانات کہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ اس کا اثر عام اور غریب آدمی پر نہ پڑے، موجودہ حکومت اتنی بھی بھولی نہیں ہے کہ جس کو اس بات کا ادراک نہ ہو کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح3.8فیصد سے بڑھ کر 7فیصد کو پار کرچکی ہے اور ابھی 11جون کو وفاقی بجٹ 2019-20کااعلان ہونا باقی ہے ، سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا ہر بجٹ اپنے ساتھ مہنگائی کا طوفان لیکر آتا ہے جس سے ہمارا ہر شہری متاثر ہوتا چلا آرہاہے ۔
جب تک ہم ملک کو ادھار اور قرضوں کے پیسوں پر چلاتے رہیں گے ہم ترقی کے صرف سہانے خواب ہی دیکھ سکتے ہیں، ابھی گذشتہ دنوں سعودی عرب سے 3سال کیلئے 42ارب روپے کا تیل ماہانہ بنیادوں پر ادھار ملنے پر حکومت خوشی کے شادیانے بجارہی ہے اور متحدہ عرب امارات سے بھی تیل ادھار لینے کی جدوجہد کررہی ہے، اب کون انکو سمجھائے کہ قرضہ ہو یا ادھار اسے ہر صورت میں واپس تو کرنا ہی ہے، موجودہ حکومت کیلئے سب سے آسان کام یہ ہے کہ معیشت کی تباہی کے تمام تر الزامات سابقہ حکومتوں پر لگا دو اور موجودہ حالات سے بری الذمہ ہوجاو¿، اس وقت گردشی قرضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جس کو روکنے کیلئے حکومت کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی ہے ، روزمرہ ضرورت کی اشیاءتیل، گیس، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، ملکی پیداوار کم اور درآمدات بڑھ رہی ہیں، صنعتوں کا پہیہ رک سا گیا ہے لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ، عوام مسلسل حکومتی پالیسیوں کی زد میں آکر پس رہے ہیں انکا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
ابھی پچھلے دنوں ڈالر کی اونچی اڑان نے ہر پاکستانی پر اوسطً تقریباً 15سے 20ہزار روپے کا مزید قرضہ چڑھادیا، اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 9ماہ کے دوران ہرپاکستانی پر قرضہ کی رقم ایک 36ہزار روپے سے بڑھ کر ایک لاکھ 60ہزار روپے سے بھی بڑھ چکی ہے اور ابھی ڈالر کے نیچے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان میں ڈالر اپنی بلند ترین سطح پر ، مہنگائی بلند ترین سطح پر اور بجٹ خسارہ بھی ریکارڈ ترین سطح پر ہے ، اس قدر معاشی بدحالی اور ابتری کے باوجود بھی ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوئے ہیں، یہ بات ذہن نشین رہے کہ بلند بانگ دعوے اور وعدے کرنے سے ہم کبھی بھی اپنے مسائل حل نہیں کرسکتے، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی عادات ، پالیسیاں اور حکمت عملی کو ملک اور قوم کی ترقی و خوشحالی اور قومی مفادات کے مطابق ڈھالیں ،قرضے اور ادھار کی عادت اورذلت کو چھوڑ کر عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھیں۔
ہم سعودی عرب سے 3سال کیلئے تیل ادھار لینے پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے جبکہ ہم چند ماہ پہلے کراچی سے 230کلو میٹر دور گہرے سمندر سے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ملنے کے دعوے کررہے تھے ، حکومت اور اسکے ترجمان قوم کو گیس اور تیل کے بارے میں خود کفیل ہونے کی خوشخبریاں سنا رہے تھے۔
5000میٹر تک کھدائی کرنے کے بعد یہ کہا جارہاتھا کہ بس اب تیل اور گیس کے انمول خزانے چند سو میٹر کی دوری پر ہیں، پھر اچانک چند دن پہلے وزیراعظم کے مشیر برائے پٹرولیم ندیم بابر نے یہ اعلان کرکے کہ 5500میٹر تک کھدائی کرنے کے باوجود بھی گیس اور تیل کے ذخائر نہیں مل سکے پوری قوم کی امیدوں اور توقعات پر پانی پھیر دیا۔
یاد رہے کہ سمندر سے تیل اور گیس کیلئے کی جانیوالی ڈرلنگ کے اس منصوبے پر اس قوم کے 10کرور ڈالر سے زائد کا قیمتی سرمایہ لگ چکا تھا لیکن یہاں سے ایک چھوٹی سے مردہ مچھلی بھی نہیں ملی، یقینا ہمارے یہاں سچائی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ جائیں، اسکا اثر عام آدمی پر نہیں پڑے گا ، تیل ، گیس ، بجلی مہنگی ہوجائے اسکا اثر عام آدمی پر نہیں پڑے گا، قوم حکمرانوں سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آخر ”یہ عام آدمی “ کس جگہ رہتا ہے ؟ ایسے لگ رہاہے کہ اب حکومت اپنے ڈائیلاگ میں ”تبدیلی“ لارہی ہے کیونکہ اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں 47فیصد تک اضافے کا جو اعلان کیا ہے اس کی رو سے اب گیس غریبوں یعنی ”عام آدمی“ کیلئے مہنگی اور امیروں کیلئے سستی ہوگی ، ہمارا ادارہ اوگرا گیس کے نئے ریٹس (سلیبز- Slabs) کے ذریعے ”عام آدمی“ کا کھوج لگانے میں تقریباً کامیاب ہوچکاہے ۔
قارئین کو یہ جان کر یقینا خوشی ہوگی کہ موجودہ حکومت کی نئی مالیاتی اور معاشی ٹیم نے عوام کو سب کچھ سچ سچ بتانے کی پالیسی اپنا کر حقیقی تبدیلی لانے کی طرف قدم بڑھادیا ہے جس کا عملی مظاہرہ آج سے دو ہفتے بعد 11جون 2019کو وفاقی بجٹ میں آپ ملاخطہ کرسکیں گے، فی الحال ایف بی آرکے چیئرمین سید شبرزیدی کے حقیقت پر مبنی اس بیان پر گزارہ کریں کہ ملک میں اس وقت 90فیصد صنعتی صارفین اور پچاس فیصد رجسٹرڈ کمپنیاں سیلز ٹیکس نہیں دے رہیں۔
ہم نے قانون سازی کے ذریعے 3لاکھ سے زائد صنعتی صارفین کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے، دوسری طرف سٹیٹ بنک کے گورنر نے 20مئی کو جس مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا ہے اس کے مطابق شرح سود کو بڑھاکر 12.25فیصد کی ریکارڈ سطح پر لایا جارہاہے جس سے معیشت اور صنعت کے رک کر کر چلنے والے پہیے کے جام ہونے کا امکان ہوسکتا ہے ، سٹیٹ بنک کے شرح سود میں مزید ڈیڑھ فیصد اضافہ کرنے کے اس اعلان پر ایوان صنعت و تجارت لاہور کے سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر نے کہا ہے کہ اس سے ہماری صنعتوں کی بنیادیں ہل جائینگی، صنعتی پیداوار متاثر ہوگی، برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہونگے اور نئی سرمایہ کاری بالکل ٹھپ ہوجائیگی، انہوں نے کہا کہ اس خطے میں شرح سود سب سے زیادہ پاکستان میں ہے جس سے ہماری صنعتی ترقی متاثر ہورہی ہے ، لہٰذا ملک کی صنعتی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے اس شرح سود کو کم کرکے سنگل ڈیجٹ یعنی دس فیصد سے بھی کم کیا جائے۔
یقینا شرح سود میں کمی کا ان کا مطالبہ ملک کے بہترین مفاد میں ہے کیونکہ صنعتکار اور سرمایہ کار بنکوں سے قرضے حاصل کرکے نئی نئی صنعتیں لگاتے ہیں تو پھر حکومت ان کو مناسب مراعات کیوں نہیں دیتی؟ دوسری طرف اس ملک کی قیمتی دولت لوٹنے والے ساٹھ ہزار سے زائد افراد کو حکومت ایمنسٹی سکیم کے تحت بے شمار مراعات دے رہی ہے تاکہ انکا کالا دھن سفید کیا جاسکے لیکن جو لوگ قانونی طریقے سے بنکوں سے قرضے لے کر اس سرزمین پر کارخانے لگانا چاہتے ہیں تجارتی سرگرمیاں کرنا چاہتے ہیں ان کیلئے قرضوں پر شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ کرنا کسی صورت میں جائز اور مناسب نہیں ہے ۔
یاد رہے کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے ہرسال 10ہزار ارب ڈالر کا قیمتی سرمایہ بیرون ملک اڑان بھر جاتا ہے جسے روکنے میں ہر حکومت ناکام رہی ہے ، اس وقت دنیا کے 26ممالک میں ہمارے پاکستانیوں کی غیر قانونی دولت (حقیقت میں یہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت ہے ) موجود ہے جس کو واپس لانے کیلئے 30جون 2019تک یہ ایمنسٹی سکیم دی گئی ہے ، امید ہے کہ حکومت کی طرف سے دی جانیوالی رعائتوں اور سہولتوں کی وجہ سے ”کالا دھن“ بھاری مقدار میں ”سفید دھن “ میں بدل جائیگا جس سے مجموعی طور پر وطن عزیز کی معیشت اور عوام کو فائدہ ملے گا، معیشت کی بحالی اور وطن کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنے سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ”میثاق معیشت “ کریں جس پر پاکستان مسلم لیگ نواز کے میاں شہباز شریف سمیت سب لیڈر تیار ہیں لیکن حکومت اور اسکے بعض وزراءاور ترجمان میثاق معیشت کو ڈیل یا ڈھیل کا ایک طریقہ قرار دے کر مسترد کرکے یقینا سیاسی رسہ کشی اور مخالفت کو مزید ہوا دینا چاہتے ہیں جو ڈگمگاتی اور قرضوں پر مبنی ہماری معیشت کیلئے کسی صورت میں بھی مناسب نہیں۔
حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ قرضوں اور ادھار پر چلنے والی ہماری معیشت کو مضبوط بنانے، غیر ملکی قرضوں سے نجات اور ادھار کی عادت کو ترک کرنے کیلئے اپوزیشن سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کا عملی تعاون حاصل کرے، یہ بات ذہن نشین رہے کہ ہم نے اس قوم کو ہر صورت میں قرضوں سے نجات دلانی ہے تاکہ ہماری آنیوالی نسلوں کا مستقبل محفوظ اور تابناک ہوسکے ، اس مشن کو پورا کرنے کے لئے سب سے زیادہ ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے قوم کو قرضوں سے نجات دلانے کا وعدہ کرکے عوام کے قیمتی ووٹ حاصل کئے تھے۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved