تازہ تر ین

امریکہ کو ایران پر حملہ مہنگا پڑسکتا ہے

وزیر احمد جوگیزئی….احترام جمہوریت
دنیا میں اس وقت ٹیکنالوجی کی حکمرانی ہے اور جہاں پر ٹیکنا لوجی ہوتی ہے وہاں پر دولت کی بھرمار ہوتی ہے اور صرف آجکل ہی نہیں بلکہ تاریخ میں شروع ہی سے فاتح ہمیشہ ہی اچھے اسلحہ اور اچھی اقتصادیات کی بنا پر ہی تیار ہوا کرتے تھے فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ اس وقت گھوڑے، نیزے اور تلواروں سے کام لیا جاتا تھا پھر بات گن پاور پر گئی اور اب بات نیوکلیئر بم تک جا پہنچی ہے اور اس سے بھی آگے جاتی جارہی ہے جو ماڈل سوشل سائنس دانوں نے جمہوریت کے حوالے سے پیش کیا تھا کہ جمہویت اور جمہوری نظام لے آیا جائے تو کسی بھی ملک میں خوشحالی آجاتی ہے ۔خوشحالی صرف جمہوریت کے ہونے سے ہی نہیں آیا کرتی بلکہ اس کے لیے آپ کو ایک ٹرینڈ ،ہنر مند ،آسودہ اور سنجیدہ افرادی قوت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف جمہوریت کے بل بوتے پر کوئی بھی ملک ترقی کرتا نہیں نظر نہیں آرہا ۔آج جس گھمنڈ ،غرور اور ہٹ دھرمی سے امریکہ دنیا کو مغلوب کرنے پر لگا ہوا ہے اس کی بنیادی وجہ ان کی اعلیٰ ٹیکنالوجی ،اقتصادیات ،کامرس اور انڈسٹری ہے یہ ہی ان کے سب سے مہلک اور خطرناک اوزار ہیں جن کی بنیاد پر امریکہ نے باقی کی دنیا پر غلبہ پا لیا ہے ۔
جس طریقے سے امریکہ نے افغانستان کے تورہ بورہ پر بمباری کی یا جس بے ہنگم طریقے سے ایک پروگریسو ترقی پسند ،سوشلسٹ مزاج کے عرب حکمران صدام حسین کو جس بے دردی سے اور بے رحمی سے ما را گیااور کس طرح ایک جھوٹ کے بل بوتے پر کہ عراق کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں پورے عراق کو جہنم میں تبدیل کر دیا گیا ۔حالانکہ عراق سے توکیمیائی ہتھیار وں کاایک دانہ بھی نہیں نکلا ۔کچھ نکلا ہو نہ ہو عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ۔کچھ اسی طریقے کے ساتھ لیبیا پر جہاں پر ایک سوشلسٹ عرب حکومت تھی ان کو بھی بھکاری بنا دیا گیا ،شام کی لیڈرشپ کو سلام ہے کہ انھوں نے ان کا مقابلہ کرکے کسی حد تک اپنے آپ کو بچا لیا ہے اور امید ہے کہ وہ اپنی روش پر چل پڑے گا لیکن آجکل ایران کے حالات بھی اسی سمت میں جاتے نظر آرہے ہیں ،میں سمجھتا ہوں کہ ایران پر حملہ کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے اگر طاغوتی قوتوں نے ایران پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو یہ کوشش انھیں بہت ہی مہنگی پڑے گی ۔ایران ایک ملک نہیں ہے بلکہ ایک سوچ کا نام ہے جوکہ دنیا کے کونے کونے میں پھیلی ہوئی ہے اس لیے امریکہ کو ایران میں وارد ہونے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ وہ ایران پر دست درازی نہ کرے بلکہ ایران کو دوستی کا پیغام دے اور امن و امان اور بات چیت کے ذریعے معاملات کو بہتر کرنے کی کو شش کی جائے ۔
امریکہ کو یہ بات سوچناہو گی کہ آج سے پہلے اس نے عرب ملکوں میں جتنی جنگیں شروع کی ہیں ان کا نتیجہ کیا نکلا ہے اور دنیا کو ان جنگوں کی صورت میں تباہی کے سوا کیا ملا ہے اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ فہم و فراست اور عقل سے کام لیا جائے اس حوالے سے امریکہ کے یورپی اتحادیوں کو بھی اہم کردار ادا کرنا ہو گا ۔کوشش تو یہ ہونی چاہیے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جائے ۔امریکہ اگر سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاملات کو بیٹھ کر حل کرواتا ہے تو اس کے اس اقدام سے نہ صرف دنیا میں اس کی قوت میں اضافہ ہو گا بلکہ اس کے انسان دوست ہونے کا امیج بھی ابھرے گا ۔مسلم دنیا کے اند ر بھی اس طرح کے قدم کی بھرپور پذیرائی کی جائے گی ۔امریکہ کو مسلم دنیا کے اندر بھی ایک لیڈرشپ رول مل جائے گا اور جو عزت ملے گی میں سمجھتا ہوں کہ اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہو گا ۔
ویسے تو ہم سب جانتے ہی ہیں کہ امریکہ کے ہاتھ دنیا کے خون اور خاص طور پر مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ۔لیکن اگر ان خون آلود ہاتھوں سے اگر یہ مثبت کام ہوجا ئے تو نہ صرف پوری مسلم دنیا امریکہ کی مشکور ہو گی بلکہ پوری دنیا میں امریکہ کو وہ احترام اور عزت ملے گی جو آج تک کسی کو نہیں ملی ۔ہم مانتے ہیں کہ جنگ شروع کرنے اور جنگ جیتنے کے لیے تمام ،ہتھیار ،وسائل اور ٹیکنالوجی موجود ہے امریکہ نہ صرف جنگ شروع کر سکتا ہے بلکہ جنگ جیتنے کی بھی پوری صلاحیت رکھتا ہے لیکن پھر اس کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اتنی قوت اور وسائل رکھنے کے باوجود امریکہ افغانستان اور عراق میں کتنے سالوں تک پھنسا رہا اور اپنا جانی اور مالی نقصان بھی کرواتا رہا، ان جنگوں میں کتنے امریکی فوجی مارے گئے اور امریکہ کو کتنے کھرب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ۔جنگیں شروع تو کیں جا سکتیں ہیں ان کو ختم کرنا اتنا آسان کام نہیں ہوتا ۔اگر امریکہ اتنا بڑا ملک ہونے کے باوجود بے پناہ وسائل رکھنے کے باوجود جنگیں اس لیے شروع کرے تاکہ ان کی فوجی صنعت چلتی رہے تو میں سمجھتا ہوں کہ بڑے پن کی نشانی نہیں ہے کیا امریکہ تاریخ میں اپنے آپ کو ایسی قوم کے طور پر لکھوانا چاہتا ہے جس نے صرف اپنی صنعتوں کو چلانے کے لیے دنیا میں خون کی ہو لی کھیلی ؟اگر امریکہ کو اپنی قوم کی محنت اور قدرت کی مہربانی سے دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی اور فوجی قوت بننے کا اعزاز حاصل ہو ا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے وسائل اور اپنی قوت اور ٹیکنالوجی سے انسانیت کی ہر ممکن خدمت کرنے کی کو شش کرے ،بیماریوں کے خلاف جنگ کرے اور انسانی تباہی کی بجائے انسانی ترقی کا باعث ہو ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved