تازہ تر ین

رنگ خوشبو سے جو ٹکرائیں تو منظر مہکے!

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
ہر طرح کا بیج ہر طرح کی زمین میں نہیں بویا جاسکتا۔ ریگستان میں اگنے والے پودے میدانی علاقوں میں آسانی سے نہیں پلتے، اسی طرح پہاڑی علاقوں میں خوبانیوں، آڑوﺅں اور سیبوں سے لدے درخت ہمیں خشک میدانی علاقوں میں کثرت سے کبھی دکھائی نہیں دے سکتے۔تاہم یہ خیال رہے کہ اگر کسی خاص زمین میں کوئی خاص پودا پھل آور ثابت نہ ہو تو اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ وہ زمین زرخیزی کے حوالے سے کم تر ہے۔اگرچہ دنیا بھر میںماہرین زراعت و باغبانی کسی بھی زمین میں کوئی بھی فصل بونے یا پھر پودا لگانے سے پہلے زمین کا ٹیسٹ کرتے ہیں، نتیجہ آنے پرکاشت کا فیصلہ کیا جاتا ہے مگر عجیب بات یہ کہ سائینسی اعتبار سے انتہائی ترقی یافتہ عالمی قوتیں ایک عرصے سے ہمارے پاکستان کی زمین میں، بغیر کسی ٹیسٹ کے ایسے ایسے بیج بونے کی کوشش کر رہی ہیں جن کے پلنے بڑھنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہوتا۔دس بیس تیس سال پیچھے جاکر دیکھیے، ہمارے ہاںلسانی، علاقائی،مسلکی اور سیاسی بنیادوں پرنفرت کے ہر طرح کے بیج بونے کی کوشش کی گئی مگر کسی کو کامیابی نہیں ہوئی۔کبھی شیعہ، سنی ،بریلوی اور دیوبندی مسالک کا فقہی اور علمی اختلاف رائے تو کبھی سندھی ، غیر سندھی، مہاجر اور مقامی کی تفریق، ہمارے بدخواہوں نے رنگوں کو رنگوں سے اور خوشبوﺅں کو خوشبوﺅں سے ٹکرانے کی ہر ممکن کوشش کر لی مگر رتی برابر بھی کامیابی نہ ہوسکی۔چٹکی بھر نمک سےمعمولی سی تلخی ضرور آسکتی ہے ا ٓٹے کی پوری بوری کو کڑوا نہیں کیا جاسکتا۔ بدخواہوں نے ہر محاذ پر ناکام ہونے کے بعد بلوچستان میں بسنے والے پاکستان کے بیٹوں کو احساس دلانے کی کوشش شروع کر دی کہ ان کے ساتھ بڑی نا انصافی ہورہی ہے،ان کے وسائل چھین کر سارے پاکستان کو سیراب کیا جارہا ہے لیکن نفاق کا یہ تیر بھی کارگر ثابت نہیں ہوا کیونکہ ہمارے بلوچ بھائیوں کو بخوبی علم ہے کہ ان کے وسائل ان ہی کے علاقے کی بہتری پر صرف کیے جاتے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ صرف کوئٹہ میں اس وقت 119کے لگ بھگ سرکاری تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں جن میں چار یونیورسٹیاں، ایک میڈیکل کالج، ایک نرسنگ کالج، لڑکے لڑکیوں کے ڈگری کالج، زرعی انسٹی ٹیوٹ اور بہت سے سکول شامل ہیں۔
مقامی بلوچ قبائل میں میرے کئی ذاتی دوست نہایت متحرک بلکہ نہایت مو¿ثر پوزیشن کے حامل ہیں ، ایک دوست میر طارق خان میسوری بگتی بلوچستان کی صوبائی کابینہ میں بھی شامل رہے ہیں جبکہ ایک خاتون رکن کیپٹن (ر) ڈاکٹر رقیہ صادق بین الصوبائی رابطے کی وزیر بھی رہی ہیں، قاری عبدالرحمن نورزئی پاک افغان اور پاک ایران تعلقات کے حوالے سے ایک بہت بڑا نام ہیں، بلکہ قاری عبدالرحمٰن نورزئی تو ان لوگوں میں شامل ہیں جو دنیا بھر میں کہیں بھی ہوں ، پاکستان کے خلاف کوئی بھی بات سننے پر لڑنے مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔اسی طرح سابق ڈپٹی چیرمین سینٹ سید فضل آغا اور معروف آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عطاالرحمٰن بھی دوستوں کی فہرست میں شامل ہیں، مجھے ان کے ساتھ بھی ایک غیر ملکی دورے میں شریک سفر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ میں نے ان سب سے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بہت سے دیگر اصحاب سے گھما پھرا کر بارہا ایک ہی سوال کیا، کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کا استحصال ہورہا ہے اور کیا بلوچستان کے لوگ پاکستان سے علیحدگی چاہتے ہیں؟؟؟ ان تمام دوستوں نے براہ رست یا پھر بالواسطہ ایک سا ہی جواب دیا۔ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناتے اور اپنے مخصوص جغرافیائی حالات کے باعث بلوچستان کی ضروریات اور وہاں کے مسائل دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، ان مسائل کے حل کے لیے وسائل بھی زیادہ درکار ہیں اور کوشش بھی زیادہ۔ یہ کہنا کسی طور بھی قریب از حقیقت نہیں کہ بلوچستان کا ارادی طور پر استحصال کیا جارہا ہے لیکن معاملات میں اصلاح کی بہر حال بہت سی گنجائش موجود ہے تاہم یہ ایک انتہائی بے بنیاد بلکہ لغو خیال ہے کہ بلوچستان کے لوگ پاکستان کا حصہ نہیں رہنا چاہتے۔پاکستان پر بلوچوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا دیگر لوگوں کا حق ہے اور آج تک زمین نے کسی ایسے وجود کو جنم ہی نہیں دیا جو کسی بلوچ سے اس کا حق چھین سکے۔ اگر کوئی بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی خواہش رکھتا ہے تو اس کی یہ خواہش، آرزو اور تمنا تو بن سکتی ہے، حقیقت کا روپ کبھی نہیں دھار سکتی۔ سچائی یہ ہے کہ بلوچستان ہو یا پھر فاٹا پر مشتمل علاقے، غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والے مٹھی بھر لو گ ماضی کی حکومتوں سے سرزد ہونے والی لاشعوری کوتاہیوں اور انجانے میں سرزد ہونے والی غلطیوں کو نہایت منظم پراپیگنڈے کے ذریعے اچھال اچھال کر پیش کر رہے ہیں ۔ تعلیم، روزگار اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے تو ہر طرح کا پراپیگنڈا جلد دم توڑ دے گا۔
حال ہی میں افواج پاکستان نے رضاکارانہ طور پر آئندہ مالی سال میں ملٹری بجٹ میں کمی کی پیشکش کی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے فوج کی اس پیشکش کو ایک بڑی قربانی قرار دیتے ہوئے قوم کو اپنے ٹویٹ میں یقین دلایا ہے کہ اس رضاکارانہ پیشکش کے نتیجے میں بچنے والی رقم کو صرف اور صرف بلوچستان اور قبائلی علاقوں کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔ فوج کی طرف سے کی جانے والی اس پیشکش کے بعد بھارتی میڈیا نے افواج پاکستان کے خلاف ایک نہایت بھونڈی سی تحریک شروع کردی ہے جس کے ذریعے پاکستانیوں کو یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ فوج کو اس کی ضرورت سے کہیں زیادہ حصہ پہلے ہی دیا جارہا ہے لہٰذا مذکورہ کٹوتی کی پیشکش کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوگا۔یہ پراپیگنڈا بھی کیا جارہا ہے کہ مذکورہ کٹوتی رضاکارانہ نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل ایک شرط کا حصہ ہے۔پاکستانی عوام کو اپنی ہی فوج کے خلاف اکسانے والی اس طرح کی پراپیگنڈا تحریکیں نہ تو نئی ہیں نہ ہی انوکھی۔عالمی قوتیں بخوبی آشنا ہیں کہ کسی بھی ملک کی فوج کو پیشہ ورانہ مہارتوں اورمالی وسائل کے ساتھ ساتھ بھرپور عوامی حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ قوتیں اس حقیقت کو بھی جانتی ہیں کہ پاکستانی فوج کو کمزور کیے بغیر خطے میں کوئی بھی بیرونی طاقت اپنی برتری قائم نہیں کرسکتی۔اسی لیے سوشل میڈیا اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی مدد سے لوگوں کو زبردستی احساس دلایا جاتاہے کہ فوج ان کے حقوق کا استحصال کرہی ہے۔یقینا یہ تمام تحریکیں ماضی کی دیگر ’ پاکستان توڑو‘ تحریکوں کی طرح بہت جلد دم توڑ دیں گی۔ تاہم یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ احساس محرومی اور احساس ناانصافی انسانوں کو اندر سے کھوکھلا کردیتا ہے۔معاملہ مسنگ پرسنز کا ہو یا پھر بنیادی انسانی سہولتوں کے فقدان کا،بلوچستان کے جانباز سپوت ہوں یا پھر پشتون علاقوں میں بسنے والے پاکستان کے بہادر بیٹے ،اگر کہیں بھی کسی بھی قسم کا احساس محرومی ہے تو اس احساس کو دور کرنا اور ان محرومیوں کا ازالہ کرنا پورے پاکستان کی ذمے داری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس خیال کو بھی سختی سے رد کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت بلوچوں اور پشتونوں سے پاکستان کو چھین سکتی ہے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved