تازہ تر ین

ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں

وزیر احمد جوگیزئی….احترام جمہوریت
اللہ کا پورا نظام عدل پر قائم ہے ہر جزو اس کے تابع ہو کر اپنا اپنا کام کرتا رہتا ہے اور یہ ہی سبق اللہ تعا لیٰ نے انسان کو سکھایا ہے قرآن شریف میں کہیں پر بھی نا انصافی کی بات نہیں ہو ئی ہے جو کچھ بھی ہے وہ عدل پر ہی محیط ہے اب انسانی نظامت میں عدلیہ ،مقننہ ،انتظامیہ اور آج کل کے زمانے میں صحافت جس کو ریاست کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے کسی بھی ریاست کے بنیادی ڈھانچے میں کلیدی اہمیت کی حامل ہیں ۔اگر ہر ادارہ اپنا اپنا کام دلچسپی اور دیانت داری سے کرے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم ایک بالغ نظر اور متحد قوم جو کہ ترقی کی راہ پر گا مزن ہو نہ بن سکیں ۔لیکن بطور قوم ہمارا المیہ کچھ ایسا رہا ہے کہ ہم اپنا اپنا کام چھوڑ کر دوسرے ادارے کے کام میں ہاتھ بٹانا اپنا فریضہ سمجھ بیٹھے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے نہ صرف غلط بلکہ گمراہ کن بھی ہے ۔مثال کے طور پر مقننہ کا اپنا کام ہے اور لیکن جو کام ان کا ہے اس حوالے سے آرڈیننس جاری ہوجاتے ہیں جو کہ ہمیں غلامی کی وارثت سے ملے ہیں ۔ اور ہمارے colonielمائنڈ سیٹ کی نشانی بھی ہے۔ جس کو تبدیل کرنا ابھی تک ہمیں نصیب بھی نہیں ہوا ہے شاید یہ اسی لیے ہمیں سلطان بننے کا زیادہ شوق اور تمنا ہے ۔اسی طریقے سے ہم نے عدلیہ کو کبھی بھی آزاد اور خودمختار ادارہ بننے نہ دیا اور نہ ہی اس ضمن میں اس ادارے کی آبیاری کی گئی ۔
کچھ سال پہلے سیاسی جماعتوں کے ورکرز نے عدلیہ پر حملہ کرکے عدل کی دھجیاں اڑایں ۔لیکن بد قسمتی سے جو عناصر اس وقت عدلیہ سے نہایت ہی بے ہنگم طریقے سے الجھ پڑے تھے لیکن اس دور میں ان عناصر کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکا اور نہ ہی قوم نے عدلیہ کے حق میں آواز اٹھائی جس طریقے سے جنرل پرویز مشرف نے افتخار محمد چوہدری صاحب سے جو سلوک کیا جس کے خلاف وکلا نے اور قوم نے ملک گیر تحریک چلائی اور ایک مہم اور چلائی گئی جس میں پوری قوم اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے شخص نے شمولیت کی ،اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحریک میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے پہلے عدلیہ کو زد و کوب کیا تھا ۔لیکن اس تحریک کے باعث ہی عدلیہ کو ایک نئی زندگی اور ایک نئی شان ملی اور توقع کی جارہی تھی کہ اس سارے معا ملے کے بعد اور عدلیہ کی شان ،خود مختاری اور آزادی کے لیے دی جانے قربانیوں اور اس کے لیے چلائی جانے والی ملک گیر تحریک کے بعد عدلیہ بالکل آزاد اور خود مختار ادارے کے طور پر سامنے آئے گی جو کہ اس ملک میں صحیح معنوں میں آئین اور قانون کی حکمرانی کا بول بالا کرے گی اور تمام دیگر اداروں کو اپنی حدود میں کام کرنے کا پابند بنائے گی اور اس ضمن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جا ئے گی ۔اور کچھ عرصے تک ہمیں یہ محسوس بھی ہوا کہ ہماری عدلیہ اب واقعی آزاد اور خود مختار ہو چکی ہے اورصحیح معنوں میں آزادانہ فیصلے لے رہی ہے لیکن پھر حال ہی میں اعلیٰ عدلیہ سے تعلق رکھنے والے دو ججوں جن میں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کو رٹ کے جسٹس کے کے آغا شامل ہیں ان پر جو الزامات لگائے گئے اور جو ہرزہ سرائی کی گئی اس کے بعدیہ صورتحال تبدیل ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔ان ججز کی کردار کشی کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کا سہارا بھی لیا گیا جو کہ عوام کے سامنے ہے۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ حرکت محض بد نیتی پر مبنی ہے اور صرف اور صرف ایک ادارے کو دانستہ طور پر مفلوج کرنے کے مترادف ہے اگر اس ادارے کو مفلوج کیا گیا تو نقصان پورے معاشرے کا ہو گا اور فائدہ کسی کا بھی نہیں ہے ۔میں ذاتی طور پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور ان کے خاندان کو جانتا ہوں اور میرا ان پر مکمل اعتماد بلکہ اعتقاد ہے یہ امر میری سمجھ سے باہر ہے کہ اس وقت ہی کیوں جسٹس قا ضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس دائر کیے گئے ہیں جب کہ ملک پہلے ہی ہر قسم کے معاشی سیاسی اور اندرونی اور بیرونی مسائل اور خطرات میں گھرا ہوا ہے اس وقت ہی یہ کام کرنا کیوں مقصود ہوا ؟جسٹس فائز عیسیٰ کے والد جناب مرحوم قاضی محمد عیسیٰ اور ان کے خاندان پر اہل بلوچستان بجا طور پر فخر کرتے ہیں ۔بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے بھی قا ضی محمد عیسیٰ نے کلیدی کردار ادا کیا ۔جو اس معزز شخصیت کے خلاف ہرزہ سرائی اور بے بنیاد الزامات کا سلسلہ پریس اور سوشل میڈیا پر جاری ہے اس پر صرف خون کے آنسو بہائے جا سکتے ہیں اور بہانے بھی چاہیے ۔جسٹس فائز عیسیٰ تو ایک نڈر ،قانون کا بول بالا کرنے والا شخص ہے کاش میں دوسرے جج صاحب جن کے خلاف ریفرنس بھیجا گیاان کے بارے میں بھی کچھ جانتا لیکن افسوس سے کہتا ہوں کہ میں ان جج صاحب کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا لیکن مجھے اس بات کا یقین ہے کہ یہ صاحب بھی سچ بولنے کے مجرم ہی ٹھہرے ہوں گے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved