تازہ تر ین

”امی جان“ اور ضیا شاہد کی یادیں

مجیداحمد جائی….اظہار خیال
آپ سب کام کاج چھوڑ کر صرف ماﺅں کے بارے ریسرچ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ماں شہر کی ہو یا دیہات گاﺅںکی اُن کے دل اولاد کے لیے ہمیشہ نیک خواہشات کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آج ہم جس معاشرے میں زندگی بسر کررہے ہیں وہاں اندھی تقلید کی بدولت ”اولڈ ہوم “بن چکے ہیں اور ماں باپ جنہوں نے اپنی جوانی کے قیمتی مہ و سال اپنی اولاد پہ قربان کر دئیے تھے آج بڑھاپے میں ”اولڈہوم “میں داخل زندگی کے آخری ایام بسر کررہے ہیں ۔ دین اسلام ہمیں جو درس دیتا ہے ہم نے بالکل پس پشت ڈال کر دُنیا کی رنگینوں میں کھو سے گئے ہیں اور ماں باپ کی عظمت کو فراموش کر بیٹھے ہیں اسی لیے ہم ترقی کرنے کی بجائے دن بدن زوال کی طرف گامزن ہیں اور دُنیا و آخرت خراب کر رہے ہیں ۔
”امی جان“ کتاب کے بارے کہوں گاکہ اگر آپ کمزور اور حساس دل کے مالک ہیں تو میرا مشورہ ہے اس کتاب کو بالکل بھی نہ پڑھیں کیونکہ یہ کتاب لمحہ بہ لمحہ آزمائش سے گزرتی داستان پیش کرتی ہے ۔حیرت کے جھٹکے لگتے ہیں ،آنکھیں نم ہوتی ہیں ،صبر کی تلقین ہوتی ہے ،دل روتے ہیں ۔صبر کرانے والے کی آنکھیں بھی برستی ہیں ۔یہ کتاب پڑھتے ہوئے کئی بار میرا تکیہ بھی گیلا ہوا ہے ،خود پہ کنٹرول نہیں رہتا ۔اس لیے میں کہتا ہوں یہ کتاب کمزور اور حساس دل والے نہ پڑھیں ۔
امی جان!جی ہاں امی جان۔۔۔۔کتاب کانام ہے جسے ضیاشاہد کے دلیراورمضبوط قلم نے لکھا ہے ۔یہ کتاب گزشتہ دنوں میرے زیر مطالعہ رہی ہے ۔کتاب پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوا جیسے ضیاشاہد میری ”امی جان“کا تذکرہ کر رہے ہیں ۔مائیں تو سب کی ایک جیسی ہوتی ہیں۔محبت کرنے والیں ،جان نچھاور کرنے والیں،اولاد کے درد میں تڑپنے والیں،اولاد کے عیبوں پر پردہ ڈالنے والیں۔ضیا شاہد اور میری امی جان بھی دیہات ،گاﺅں سے ہیں اور اتنی پڑھی لکھی نہیں ۔مدرسے سے دینی کتابیں پڑھی اور اولاد کی تربیت میں سرگرم رہیں ۔
ضیا شاہد کتنے خوش بخت ہیں کہ اُنہوں نے ”امی جان “کے آخری ایام میں نہ صرف خودان کا خیال رکھا بلکہ گھر کے تمام افراد نے پورا پورا خیال رکھا اور چوبیس گھنٹے دو ملازمہ بھی آپ کی خدمت کےلئے ہمہ تن کوشاں رہتی تھیں۔ضیا شاہد کتنے خوش قسمت ہیں کہ امی جان کے آخری ایام میں ان کو خدمت کرنے کا موقع ملا ۔
”امی جان “کا دوسرا ایڈیشن میرے پاس پہنچا ہے پہلا ایڈیشن ایک ماہ میں ہی ختم ہو گیاتھا ،یہ اس کی کامیابی کی عمدہ و اعلیٰ مثال ہے ۔معلوم ہوا آج بھی اچھی کتاب پڑھنے والے موجود ہیں ۔سرورق پر متن کی صورت کچھ یوں لکھا گیا ہے :
گاﺅں کی رہنے والی دینی مدرسہ سے قرآن مجید کی ناظرہ تعلیم کے بعد کچھ نئی کتابیں پڑھنے والی ماں کی کہانی اُس کے بیٹے کی زبانی ۔ایسی باہمت خاتون کی داستان حیات جسے شوہر کی وفات کے بعد تن تنہا اپنے چار بچوں کی پرورش اور اعلی ترین تعلیم کے لیے دُنیا بھر سے جنگ لڑنا پڑی ۔جس کی اولاد دُنیا کی بہترین یونیورسٹیوں تک پہنچی اور خود اُس نے زندگی کے آخری 22برس مدینہ منورہ میں گزارے 15حج اور 150عمرے ادا کیے ایسی کہانی جس میں سے ہر مشرقی ماںکا چہرہ دیکھاجاسکتا ہے ۔
”امی جان “مکمل پڑھنے کے بعد آپ بھی یہی کہیں گے واقعی حقیقت ہی ہے ۔سرورق کے نچلے کونے میں ضیاشاہد کی تصویر ہے جس میں آپ سوچوں کے نگر میں غوطہ زن ہیں ۔کتاب کے ابتدائی تین اوراق رنگین تصویروں سے مزین ہیں جو ماضی کی کہانی یادوں کی صورت سنا رہی ہیں ۔
”امی جان “کا انتساب ”پیاری امی جان کے نام “کے عنوان سے کچھ یوں کیا گیا ہے :”بی بی جی !میں شرمندہ ہوں ۔مجھے لگتا ہے کہ شاید میں آپ کی خواہش مکمل طور پر پوری نہیں کر سکا کہ آپ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو انگریزی تعلیم اور چھوٹے بیٹے کو اعلی دینی تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتی تھیں ۔۔بی بی جی پلیز مجھے معاف کر دیجئے گا ۔“
”امی جان “کے دوسرے ایڈیشن میں اضافہ کچھ یوں کیا گیا ہے اس میں ضیا شاہد کے کالم بعنوان”بھائی جان بقا محمد پر اسکیچ “، ”مزمل بھائی پر کالم “،”امی جان کے چہیتے پوتے عدنان شاہد (مرحوم)پر ایک غیر مطبوعہ مضمون “چھوٹے پوتے امتنان شاہد پر ایک پرانا کام ”مونتو اور مونتو“شامل کیا گیا ہے ۔
میں ضیا شاہد صاحب سے گزارش کروں گا کہ اپنی شریک حیات ،اپنی ڈاکٹر بیٹی نوشین عمران اور داماد پر بھی کالم لکھیں یا ہو سکتا ہے انہوں نے لکھا ہو اور میری نظر سے نہ گزرا ہو ۔”امی جان “ کتاب بعنوان ابتدائی زندگی ،ہجرت 1947ئ،بہاول نگر کے دن ،بچوں کی تعلیم کے لیے ملتان ،اعلی تعلیم کے لیے لاہور ،مدینہ منورہ میں بیس سال ،مزمل مہدی اور جنت البقیع،پاکستان واپسی ،آخری ایام کی یادیں “کے ساتھ سلسلہ بہ سلسلہ امی جان کی داستان ہم تک پہنچی ہے ۔اس کتاب میں ضیا شاہد ”امی جان “کا تذکرہ کرتے ہوئے کمال خوبصورتی سے اپنے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک اپنی کہانی بھی خوب پیرائے ہن میں پیش کی ہے۔امی جان کے ساتھ ساتھ اُن سے جڑے ہر شخص کی داستان اس کتاب میں ملے گی۔
”امی جان “کتاب کے آخری ایام کی یادیں اور مزمل مہدی اور جنت البقیع پڑھتے ہوئے دل کو مٹھی میں ڈبوچے رکھا ۔آنکھوں پہ صبر کے بند باندھے پھر بھی آنسوﺅں کی برسات نہ روک سکا ۔امی جان کتاب کے ضمیہ جات کی صورت چار بہترین تحریریں پڑھنے کو ملیں جن میں مونتو اور مونتو نے ضمیر کو جھنجوڑ کے رکھ دیا ۔ اس مضمون سے اقتباس پڑھیے”کبھی کبھی تو مجھے مونتو پر ترس بھی آتا ہے ۔وہ سکول سے واپس آکر خالی گھر میں کیسے بولایا سا پھرتا ہوگا “۔
”امی جان “کتاب کا اختتامی جملہ پڑھیں ”میں مونتوکو خوشخبری دینا چاہتا ہوں کہ واپسی پر میں اس کے لیے ”واکی ٹاکی “لے کر آﺅں گا ۔کیوں مونتو اب تو خوش ہونا ؟ایک کھلونا اور آگیا۔
”امی جان “کتاب 144صفحات پر معیاری اور اچھی کتاب ہے جس کا اہتمام قلم فاﺅنڈیشن انٹرنیشنل کے روح رواں علامہ عبدالستار عاصم اور محمد فاروق چوہان نے کیا ہے۔ ضیاشاہد کی تمام کتب ہر اچھے بک اسٹال پر دستیاب ہیں پھر بھی آپ کو کتاب ملنے میں دشواری کا سامنا ہے تو ان نمبرز پر رابطہ کریں۔0300.0515101/0300.8422518
(کالم نگارسماجی وادبی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved