تازہ تر ین

پاکستان مخالف پراپیگنڈہ ناکام بنائیں!

اکمل شاہد ……..بحث ونظر
یہ کچھ زیادہ پرانی بات نہیں جب رواں سال فروری میں ہمسایہ ملک بھارت نے روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فضائی حدود میں چوروں کی طرح مداخلت کی، اس کے چند لڑاکا طیارے اندھیرے میں کچھ کلومیٹر اندر آئے اور جوابی کارروائی کے خوف سے پے لوڈ گرا کر بھاگ نکلے ۔مودی سرکار نے جھوٹی سرجیکل اسڑائیک کا ڈھنڈوا پیٹا ،سینکڑوں ہلاکتیں بتا کر ہندو انتہا پسندوں کا لہو گرمایا اور پھر مختصر وقفے کے بعد پاکستان نے للکار کر ایسا سرپرائز دیا کہ بھارت کو منہ چھپانے کی جگہ ملنا مشکل ہوگئی ۔پاکستانی شاہین روز روشن میں بھارتی فضا کا سینہ چیرتے ہوئے لپکے ،اہداف کونشانہ بنایا ،تعاقب کی غلطی کرنے والے دو بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے ،ایک کا ملبہ آزاد جموں وکشمیر کی حدود میں گرا پائلٹ ونگ کمانڈر”ابھی نندن“کی شہریوں کے ہاتھوں خوب تواضع ہوئی‘پاک فوج نے جان بچا کر تحویل میں لیا اور موصوف رسوائی کا طوق پہن کر واہگہ بارڈر کے راستے”جان بچی سو لاکھوں پائے“کا ورد کرتے نکل لئے۔ خیر سگالی کا جواب ایک پاکستانی قیدی کی لاش کی صورت میں ملا ۔ اس طویل تمہید کا مقصد یہ یاد دلانا ہے کہ جس طرح پاک بھارت کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر ہماری نوجوان نسل نے شاندار ہائبرڈ وار لڑی ، بھارتی سائبر فورس سے کوئی جواب نہ بن پڑا ،تھک ہار کر سابق بھارتی وزیرخارجہ ششما سوراج کو میڈیا کے سامنے تسلیم کرنا پڑا کہ بھارتی فضائی حملے میں پاکستان کا کوئی شہری مارا نہیں گیا ۔
شمالی وزیر ستان میں پی ٹی ایم کا رکنوں کو اکسا کر سکیورٹی فورسز پر حملہ کروانے میں ملوث ارکان اسمبلی علی وزیر اور محسن داد کے تانے بانے بھی بھارتی دہشت گرد خفیہ ایجنسی ”را“اور اسی کے شاگرد افغان خفیہ ادارہ”این ڈی ایس“سے ملتے ہیں پاکستان کی سلامتی کے دشمنوں سے فنڈز لے کر ریاست مخالف جذبا ت کو ہوا دینے اور تخریبی سرگرمیوں میںملوث کرداروں کے خلاف نوجوان نسل کو قومی سطح پر مل کر وہی کردار ادا کرنا ہوگاجو بھارت کی مذموم حرکت کے خلاف کیا تھا۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سیاسی اشرافیہ حکومت کی مخالفت میں قومی سلامتی کے تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان شر پسندوں کی حمایت اور وکالت کررہی ہے جن کے خلاف الزمات کے ثبوت موجود ہیں‘ویڈیوز میں وہ پی ٹی ایم کارکنوں کو اشتعال دلاتے دکھائی دے رہے ہیں ۔حکمران جماعت خود کہہ رہی ہے کہ رکن اسمبلی علی وزیر سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد جوابی کارروائی میں اپنے ساتھیوں سمیت موقع پر پکڑا گیا لیکن اپوزیشن حقائق کو جھٹلا کر ریاست کے خلاف اپنی بھڑاس نکالنے کی کوشش میں ان عالمی طاقتوں کوفائدہ پہنچا رہی ہے جس کے عزائم کی راہ میں ہماری سیکورٹی ایجنسیز اور فوج واحد رکاوٹ ہے ۔اس غیر سنجیدہ رویے سے ملک و قوم کا کوئی بھلا نہیں ہونے والا ۔صورتحال کی نزاکت واضح ہے ہمسایہ ممالک میں چین کے سوا کوئی ہمارا دوست نہیں ،خطے میں سری لنکا سے ہمارے اس بنا پر اچھے تعلقات ہیں کہ ماضی قریب میں اس کی اندرونی سلامتی کو یقینی بنانے میں پاکستان نے جرات مندانہ کردار کیا تھا ،بنگلہ دیش شیخ حسینہ واجد کی پاکستان دشمنی میں بھارت کا حمایتی ہے ۔نیپال قدرے غیر جانبدار جبکہ بھوٹان اپنے طاقت ور ہمسایہ بھارت سے بگاڑنا نہیں چاہتا ، افغانستان کی سرزمین کھلم کھلا پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لئے استعمال ہورہی ہے ان حالات میں سب سے زیادہ امیدیں نوجوان نسل سے ہی وابستہ کی جاسکتی ہے ۔مذہبی فرقہ واریت کے زور کے ساتھ ساتھ اب سیاسی فرقہ واریت ایک بڑا خطرہ ہے سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ جنہیں اس ملک نے عزت شہرت اور بے شمار دولت دی‘ ان کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پاکستان کی بنیاد کمزور کر نے کے لیے اورکس کو خوش کرنے کے دیئے جارہے ہیں ۔ملکی سلامتی یقینی بنائے رکھنے کے لئے وطن کے نوجوان کو اس ایک نکتے پر متفق ہوجانا چاہیے کہ پاکستان کی بقاءپر کوئی دو رائے نہیں۔ اس حوالے سے کوئی زہریلا پراپگنڈہ معصوم ذہنوں میں جگہ نہ بنا پائے۔
ہائبرڈ وار کا نظریہ 2018میں اگر چہ ایک روسی جرنیل گراز ایموف نے پیش کیا تھا لیکن حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران اسے عملی جامہ پہنا کر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پوری دنیا کی توجہ پاکستان کی طرف مبذول کرادی،ریٹائرڈ بھارتی جرنیلوں نے اس کی مثال دے کر بھارتی فوج سے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر لڑنا آئی ایس پی آر سے سیکھے ۔ہمارے نوجوان کو یہ خطرہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کو فروغ دینے والا نریندر مودی الیکشن جیت کر ایک بار پھر وزیر اعظم بن چکا ہے ،اب تک قابض بھارتی فوج کے نشانے پر بے گناہ کشمیری تھے لیکن نئی صورت حال میں مودی کے نشانے پر کشمیر ہوگا اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب اور متنازعہ مسئلہ ہونے کے باوجود اس کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے مذموم بھارتی ارادوں کی تکمیل کے لئے پاکستان میں ایسی کارروائیاں خارجہ ازامکان نہیں جس کے نتیجے میں یہاں انتشار کی کیفیت پیدا ہو جائے ، اس پاکستان مخالف ایجنڈے کا دیگر بین الاقوامی طاقتیں بھی مناسب موقع جانتے ہوئے ہوا دینے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسا مواد شیئر اور پوسٹ نہ کیا جائے جو افواہوں پر مبنی ہو یا جس سے پاک فوج کی ساکھ اور نیک نامی پر منفی اثر پڑے ۔آزاد ہوئے سات عشروں سے زائد عرصہ بیت چکا،اب تو یہ بات سمجھ میں آجانی چاہیے کہ ہم سب پاکستانی پہلے اور سندھی سرائیکی بلوچی مہاجر ،پنجابی ،پشتون ،ہزارہ، گللگتی بلتستانی بعد میں ہیں اس سوچ کو عقیدہ بنانے کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف اور صرف نوجوان نسل ہی کر سکتی ہے جس کی انگلیاں ہر وقت سوشل میڈیا کو متحرک رکھتی ہیں ۔
آج کی اس تحریر کے آخر میں عرض کرنا چاہتا ہوں جنوبی پنجاب بالخصوص ریاست بہاولپور کے فنکار، شاعر، ادبیب و صحافیوں جو کہ ملکی سطح پر اپنی پہنچان رکھتے ہیں انہیں جب بیماری یا معاشی مشکلات سامنا ہوتا ہے تو ایسا دیکھنے میں بہت کم آیا ہے کہ ملکی وغیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والی ادبی تنظیموں،یا سوشل ویلفیئر کے نامور اداروںو سینٹرل پنجاب کی حکومتی بیوروکریسی نے ان نامور شخصیات کا دکھ میں ساتھ دیا ہو یا معالی ماونت کی ہو۔ پنجاب کی آخری تحصیل صادق آباد دھرتی کے عظیم سرائیکی شاعر ادیب وصحافی،دانشور، درجنوں کتابوں کے مصنف بشیر احمد دیوانہ صادق آبادی ان دنوں فالج کے عارضہ کی وجہ سے شدید علیل ہیںاور معاشی مشکلات کا شکار ہیں ۔ پنجاب کے حکومتی ایوانوں تک پہنچنے سے قبل یہ آواز کہیں خاموش ہی نا ہوجائے ۔وسیب کے انسان پرور احباب اور علم دوست آگے بڑھیں اور بشیر احمد دیوانہ صادق آبادی کا ساتھ دیں۔
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved