تازہ تر ین

عالمی مالےاتی ادارے اور پاکستان

نیاز حسین لکھویرا….نقطہ نظر
اس موضوع پر ےہ اےک طائرانہ نگاہ ہے اور صرف اےک کالم مےں تفصےل سے بات کا جائزہ لےنا کافی مشکل کام ہے۔ کہانی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب مغرمی رسوم و رواج اور عادات و اطوار کی حامل پاکستانی بےوروکرےسی نے اس وقت کے وزےراعظم لےاقت علی خان(شہےد) کو روس کی دعوت ٹھکرا کر امرےکہ جانے کا مشورہ دےا ۔ وہ امرےکہ چلے بھی گئے ۔ ےہ اےک واضح پےغام تھا کہ پاکستان روس کے مقابلے مےں امرےکہ کو ترجےح دےتا ہے ۔ اس کا تمام تر فائدہ بھارت نے اٹھاےا اور اس نے آئندہ سالوں مےں بھارت کو اقتصادی اور فوجی اعتبار سے مضبوط کرنے کے لئے جی بھر کے روس کو استعمال کےا اور امرےکہ نے ہمارے ساتھ کےا کےا؟ ےہ اےک علےحدہ باب ہے۔
اب دوسرے باب کی طرف آتے ہےں جب امرےکہ کے دباﺅ پر عالمی بنک کے توسط سے پاکستان اور بھارت کے درمےان سندھ طاس معاہدے پر 1960مےں دستخط ہوئے۔ اس معاہدے مےں عالمی بنک ضامن تھا۔ مسعود کھدر پوش رپورٹ کے مطابق گورنر ہاﺅس لاہور مےں ہونے والے اےک اجلاس مےں پاکستان کے آبی ماہرےن نے اےوب خان کو مشورہ دےا کہ وہ اس معاہدے کو مسترد کر دےں۔ جس پر اےوب خان غصے مےں آ گئے اور انہوں نے کہا کہ مےں آپ لوگوں کی ڈکٹےشن قبول نہےں کروں گا۔ آج بھارت اس معاہدے کے پاکستان دشمن مسودے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف آبی جارحےت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ بھارت اس وقت امرےکہ کی گود مےں بےٹھا ہے۔ امرےکہ بھارتی جارحےت پر خاموش ہے اور ہم عالمی عدالت انصاف مےں کمزور وکٹ پر کھےل رہے ہےں اور میرے خیال میں ےہ سب کچھ سندھ طاس معاہدے کے ساتھ سابق پاکستانی کمشنر جماعت علی شاہ کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے ہے۔ ان گذارشات کا مقصد صرف ےہ ہے کہ ہم قےام پاکستان سے ہی امرےکہ کے بالواسطہ ےا بلاواسطہ اقتصادی دباﺅ مےں ہےں بلکہ ےوں کہنا چاہئے کہ اقتصادی شکنجے کا شکار ہو چکے ہےں۔ آئی اےم اےف بھی اےسا ہی مالےاتی ادارہ ہے جو امرےکہ اور چند دوسرے ملکوں پر مشتمل اےسا مالےاتی کنسورشےم ہے جو غرےب اور ترقی پذےر ملکوں کی معےشت کو سنبھالا دےنے کے لئے ان کی مدد کرتا ہے لےکن درحقےقت وہ آکٹوپس کی طرح امداد دےنے والے ملکوں کے اقتصادی نظام پر اپنے پنجے اس طرح گاڑ دےتا ہے کہ ٹےکس کے پورے نظام پر قابو پا لےتا ہے اور اپنی پسند کی ٹےکسےشن کو مسلط کر دےتا ہے جس سے مہنگائی کی شرح مےں ناقابل بےان اضافہ ہو جاتا ہے اور ملکوں کی خود مختاری اور سلامتی مجروح ہوتی ہے۔ پاکستان نے آئی اےم اےف سے قرض لےنے کےلئے جو حالےہ معاہدہ کےا ہے اس حوالے سے پاکستان مسلم لےگ (ن) اور پاکستان پےپلز پارٹی مطالبہ کر رہی ہےں کہ حالےہ معاہدے کی تفصےلات سے عوام اور پارلےمنٹ کو آگاہ کےا جائے۔ ےہ مطالبہ اس اعتبار سے بے بنےاد اور فردعی ہے کہ مذکورہ بالا دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے عہد اقتدار مےں آئی اےم اےف سے جس بڑے پےمانے پر قرض لےے اس حوالے سے ان کی تفصےلات کبھی بھی عوام اور پارلےمنٹ کے سامنے نہےں لائی گئےں۔
پاکستان اور آئی اےم اےف کی تارےخ بہت پرانی ہے۔ پاکستان نے1958ءمےں پہلی مرتبہ آئی اےم اےف سے قرض لےا۔ اس وقت ڈالر تےن روپے کے برابر تھا جو 1965ءکی جنگ کے بعد سات روپے کا ہو گےا۔ بھٹو دور مےں آئی اےم اےف پر زےادہ انحصار نہ کےا گےا لےکن ضےا الحق کے دور مےں دو ارب ڈالر کا قرض لےا گےا جو ادا بھی کر دےا گےا۔ اس کی بنےادی وجہ افغان جنگ تھی جس کے سبب پاکستان مےں ڈالر کی رےل پےل تھی۔ آئی اےم اےف اور پاکستان مےں محبت کا دور پاکستان مےں جمہوری دور سے شروع ہوا۔ محترمہ بے نظےر بھٹو کے دور مےں ڈالر 18روپے کا تھا۔ محترمہ کے دور مےں قرض لےنے کے دو پروگرام شروع ہوئے مگر قرض واپس نہ کےا گےا۔ بعدازاں نواز شرےف کا دور حکومت آےا۔ انہوں نے بھی اےک ارب ڈالر کا قرض لےا۔ نواز شرےف اور بے نظےر بھٹو کے دو عہد حکومت آئے اور اس دوران آئی اےم اےف ، عالمی بنک اور اےشےائی بنک سے1999ءتک 39ارب ڈالر قرض لے گئے۔ مشرف کے عہد مےں مارشل لا کی وجہ سے پاکستان پر اقتصادی پابندےاں لگےں مگر 9/11کے سانحہ کے بعد حالات مشرف کے حق مےں ہو گئے۔ مشرف نے ادائےگےاں کےں اور قرضوں کا حجم34ارب ڈالر رہ گےا۔ 1999ءمےں ڈالر 52روپے کا تھا۔ نو سالوں مےں ڈالر 52اور 62روپے کے درمےان ہی رہا۔ بے نظےر بھٹو کی شہادت کے بعد جب اےک نےا جمہوری دور شروع ہوا اور مارچ 2008کے بعد پےپلز پارٹی نے 5سالوں مےں25ارب ڈالر کا قرض لےا اور قرضوں کا مجموعی حجم34ارب ڈالر سے59 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ 2013مےں نواز لےگ کے” سنہری دور“ مےں بےرونی قرضہ93ارب ڈالر تک پہنچ گےا۔ ن لےگ نے مجموعی طور پر 5سالوں کے دوران 34ارب ڈالر کا مقروض کےا اور اس قرض کے لئے پاکستان کے رےڈےو سٹےشن، ٹی وی سٹےشن، اہم عمارتےں ائےر پورٹس اور موٹروےز تک کو گروی رکھا گےا۔ ےہ اےک اےسا بہےمانہ جرم ہے جس پر پاکستان اور عوام ان رہنماﺅں کو کبھی معاف نہےں کرےں گے۔ حےرت کی بات ہے کہ پاکستان کا مقامی قرضہ بےرونی قرضوں سے زےادہ ہے۔ مشرف دور سے پہلے تک ےہ قرض 3ہزار ارب روپے تھا۔ پےپلز پارٹی نے اپنے دور مےں6ہزار ارب روپے کے قرضے لےے جبکہ ن لےگ نے9ہزار ارب روپے کے قرض لےے۔ مختصر ےوں کہ مشرف کے دور مےں ہر پاکستانی 40ہزار کا مقروض تھا، پےپلز پارٹی کے دور مےں 80ہزار روپے کا اور ن لےگ کے دور مےں ڈےڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔
اب آپ خود سوچئے کی آئی اےم اےف کا سود ادا کرنے کے لئے ہمارے پاس رقم نہےں ہے۔ آصف علی زرداری اور نواز شرےف اےک ڈوبتے ہوئے جہاز کو عمران خان کے حوالے کر گئے ہےں۔ کپتان سوراخوں کو بند کر رہا ہے تاکہ جہاز کو بچاےا جا سکے۔ دونوں جماعتوں میں کرپشن کے بے تاج بادشاہ موجود تھے اور وہ خود کو معصوم ثابت کرنے کے لئے ہر غےر اخلاقی اور غےر قانونی حد تک جا سکتے ہےں۔ اپنے ہی بنائے ہوئے چئےرمےن نےب پر لگائے گئے الزام ان کے چہروں کو بے نقاب کر رہے ہےں۔ ےہ بے شرمی اور ڈھٹائی پن کی انتہا ہے کہ وہ لوگ بھی شور مچا رہے ہےں جن کے اپنے اثاثے اےک سےنما گھر سے اربوں کی شوگر ملز اور اےک لوہے کی بھٹی سے اربوں کی سٹےل ملز تک جا پہنچے ہےں۔
(کالم نگارثقافتی اورسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved