تازہ تر ین

سب غدار؟

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
پچھلے مہینے 30مئی کو ایک خبر میڈیا کی زینت بنی کہ تین فوجی افسروں کا کورٹ مارشل کیا گیا‘ جاسوسی کے مرتکب بریگیڈئیر کو سزائے موت‘ جنرل کو 14سال قید اور حساس ادارے کے ڈاکٹر کو بھی سزائے موت‘ ۔بریگیڈئر راجہ رضوان‘ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال اور ڈاکٹر وسیم اکرم پر جاسوسی کا الزام تھا کہ یہ غیرملکی ایجنسیوں کو خفیہ معلومات پہنچا کر ملک و قوم سے غداری کر رہے تھے ان تینوں کیخلاف پاک آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کیا گیا۔ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے سزاﺅں کی توثیق کی‘ تاریخ پاکستان میں یہ روش خوش آئند ہے۔
پاکستان میں غداری کے القاب دینے اور پھر انہیں سر پر بٹھانے کی تاریخ قیام پاکستان سے بھی کہیں زیادہ پرانی ہے اور یہ ٹھپے لگانے کا سفر قیام پاکستان سے پہلے سے لیکر آج تک بڑے شوق اور جوش و خروش سے جاری و ساری ہے۔ پاکستان بننے سے قبل جعفر علی خان المعروف میر جعفر نے ملک و قوم سے غداری کی‘ یہ شخص نواب سراج الدولہ کی فوج میں سپہ سالار لیکن ایک بدفطرت آدمی تھا اس نے خود نواب بننے کیلئے سراج الدولہ سے غداری کی اور انگریزوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا۔ اسی طرح میرصادق جو ٹیپو سلطان کے والد حیدر علی کا معتمد خاص تھا بعدازاں یہ ٹیپو سلطان کے دربار میں وزیر کے عہدے پر فائز ہوا اور پھر ٹیپو کے ساتھ غداری کی اور سر نگاپٹم کے محاصرے کے دوران انگریزوں کا ساتھ دیا۔ نتیجتاً سلطان ٹیپو شہید اور انگریزوں کی فتح ہوئی۔ پھر ہوا یوں کہ 1947ءمیں پاکستان بن گیا ہم نے سب کچھ بھلا دیا اور میر جعفر کے پڑپوتے اسکندر مرزا کو اسی نوزائیدہ پاکستان کی وزارت دفاع کا سیکرٹری اور پھر 1954ءمیں مشرقی پاکستان کا گورنر بنا دیا‘ ہم نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسکندر مرزا کو وزیر داخلہ اور قبائلی علاقوں کے معاملات سونپنے کے بعد پاکستان کا گورنر جنرل اور آخرکار 1956ءمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پہلا صدر منتخب کر لیا جس نے ملک میں پہلا مارشل لاءبھی نافذ کیا۔ اسکندر مرزا کیونکہ اپنے پردادا کی طرح سازشی‘ افسر شاہی کی پروردہ شخصیت تھا اسی لئے اس نے ملک کو جمہوریت سے آمریت کی طرف دھکیلنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ 1958ءمیں فیلڈ مارشل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو برطرف کرکے لندن روانہ کر دیا جب لندن میں اس کا انتقال ہوا تو اس وقت کے صدر پاکستان یحییٰ خان نے اس کی میت پاکستان لانے اور یہاں دفنانے سے انکار کر دیا‘ چنانچہ پاکستان کے اس ’غدار‘ کو ایران کے بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے تہران میں دفنانے کی اجازت دی!!
ذرا غور کریں تو سابق مشرقی پاکستان کے حسین شہید سہروردی جو پاکستان کے پانچویں وزیراعظم بھی تھے‘ بنگالی سیاستدان مولانا بھاشانی اور بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان بھی ’غدار‘ تھے ان پر بھی غداری کا مقدمہ چلایا گیا‘ اور پھر سزائے موت بھی سنائی گئی لیکن بعدازاں ذوالفقار علی بھٹو نے برسراقتدار آکر یہ سزا منسوخ کر دی لیکن پہلے غدار قرار دئیے گئے اسی شخص کے بنگلہ دیش کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کیلئے آنے پر مغربی پاکستان میں اسے 21توپوں کی سلامی بھی دی گئی!! حقیقت میں قیام پاکستان سے چار سال بعد ہی ”غداروں“ کے ٹیگ بٹنا شروع ہو گئے تھے‘ سب سے پہلے ”راولپنڈی سازش کیس“ تھا جو ملک کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش کرنے والے شرکاءپر غداری کا الزام لگا۔
پاکستان میں’غداروں‘ کو معاف کر دینے کی روایت بھی ہے یعنی جس قدر سرعت اور چابک دستی سے کسی پر سازش و غداری کا الزام لگایا جاتا ہے اتنی ہی تیزی سے ان ’غداروں‘ کے تمام گناہ معاف بھی کر دئیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مہاتما گاندھی کے پاﺅں دھونے والے سابق صوبہ سرحد کے سرخ پوش سرحدی گاندھی غفار خان جس نے کبھی پاکستان کو تسلیم نہ کیا تھا آج اس کی اولاد پاکستان کی قومی‘ صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ میں بھی موجود ہے۔ پاکستان کے نئے ’غداروں‘ میں جاوید ہاشمی بھی شامل ہیں جن کیخلاف ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے 2003ءمیں غداری کا مقدمہ قائم کیا ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک حاضر سروس فوجی افسر کا وہ خط میڈیا کو کیوں دکھایا جس میں مذکورہ افسر نے جنرل مشرف کی پالیسیوں سے اختلاف کیا تھا ۔جاوید ہاشمی کو اس ’سازش و غداری‘ کی 23سال قید سنائی گئی لیکن تین سال اور چند ماہ بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ پھر جنرل پرویز مشرف پر بھی آئین معطل کرنے پر ”غداری“ کا مقدمہ بنایا گیا۔ 2014ءسے یہ مقدمہ قائم ہے لیکن خصوصی عدالت تاحال اسے پایہ تکمیل نہیں پہنچا سکی ۔ تازہ” غداروں“ میں فیض احمد فیض کی بیٹی منیزہ ہاشمی‘ سابق صدر آصف علی زرداری‘ سابق سفیر حسین حقانی‘ سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن‘ مرحومہ عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ‘ ایم کیو ایم کے درجنوں رہنما اور کئی ایک معروف صحافی بھی گاہے بگاہے’ غداری‘ کے زمرے میں آتے رہتے ہیں لیکن ان پر کبھی ہاتھ اگر ڈالا بھی گیا ہے تو جلد یا بدیر انہیں معاف بھی کر دیا گیا۔ عبدالصمد خان اچکزئی‘ پیر آف مانکی شریف‘ سندھ کے جی ایم سید‘ میاں افتخار الدین‘ مظہر علی خان اور شیخ ایاز جیسے لوگ بھی مختلف ادوار میں غداری کا سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے ہیں لیکن انہیں بھی کبھی غداری کی مجوزہ سزا نہیں دی گئی۔ ایوب خان دور میں ایک ایسی مثال ہے جب بلوچ رہنما نوروز خان اس کے بھائیوں اور بیٹوں کو غداری کے جرم میں پھانسی دی گئی جبکہ عطا اللہ خان مینگل‘ ان کے چھوٹے بھائی نور الدین مینگل‘ غوث بخش بزنجو‘ خیر بخش مری‘ دودا خان زرکزئی اور بلوچ شاعر گل خان نصیر کو بھی غدار قرار دیا گیا لیکن سزا نہیں دی گئی ۔اسی طرح نواب اکبر بگٹی کو بھی غداری کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی جو بعدازاں معاف کر دی گئی‘ صرف جی ایم سید تھے جنہیں مختلف اوقات میں 28سال تک وقفے وقفے سے جیل میں رکھا گیا اور نظربندی کے دوران ہی ان کا انتقال ہوا۔
ضیاءآمریت میں سابق گورنر و وزیراعلیٰ پنجاب غلام مصطفی کھر اور سابق وزیراعلیٰ سندھ جام صادق بھی ”را“ کے ایجنٹ قرار دیے گئے پھر انہی ’غداروں‘ کو اعلیٰ ترین حکومتی عہدوں پر بھی بٹھایا گیا۔ ’غداروں‘ کی اس لسٹ میں ممتاز بھٹو‘ عبدالحفیظ پیرزادہ‘ میر مرتضیٰ بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو بھی آتی ہیں جنہیں سکیورٹی رسک کا ’خطاب‘ بھی دیا گیا لیکن بعد میں محترمہ وزیراعظم کے عہدہ جلیلہ پر بھی فائز رہیں اور قوم کی محبوب سیاسی رہنما بھی! نظریہ ضرورت کے تحت پاکستان میں’غداری‘ کے سرٹیفیکیٹ اور ”جھومر“ اپنے ہی لوگوں کے ماتھے پر لگتے رہتے ہیں اور پھر انہیں معاف بھی کر دیا جاتا ہے۔قیام پاکستان سے پہلے اور فوری بعد شروع ہونے والا ’غداری‘ کا یہ سلسلہ تاحال رکا نہیں ہے بلکہ سابق وزیراعظم نوازشریف اس تازہ لسٹ میں اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔
آزادی کے بعد پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت‘ صدارتی نظام‘ بنیادی جمہوریت‘ مارشل لاءآیا پھر ملک ٹوٹ گیا‘ پارلیمانی نظام بحال ہوا‘ پھر طویل مارشل لاءچنانچہ پاکستان کی تاریخ منفرد‘ متضاد اور انوکھے تجربات سے اٹی پڑی ہے لیکن حیرت ہے کہ ملک توڑنے والوںکو سزا تو کیا ان کا ٹرائل تک نہیں ہوا!! راولپنڈی سازش کیس کے بعد کوئی لیاقت علی خان اور کوئی اکبر خان کو غدار کہتا رہا‘ مولوی تمیز الدین جمہوری روایات کے امین تھے لیکن حکومت وقت کیلئے’ غدار ‘تھے حتیٰ کہ محترمہ فاطمہ جناح کو بھی ہندوﺅں کی ایجنٹ اور’ غدار‘ کہا گیا ۔آدھا ملک گنوا دیا گیا لیکن ذمہ داروں کو سزا نہیں ملی۔ ہمارا ایک اور ’اچھوتا اعزاز‘ بھی ہے کہ ہم نے پاکستان کیلئے ایٹمی پروگرام شروع کرنے والے وزیراعظم کو پھانسی دی‘ اسے پایہ تکمیل پہنچانے والے سائنس دان اور فادر آف پاکستان نیوکلیئر بم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو غداری کے الزام میں پانچ سال گھر میں نظربند رکھا اور ایٹمی دھماکے کرنے والے وزیراعظم کو جلاوطنی اور جیل کی سزائیں دیں!! لمحہ فکریہ ہے کہ کیا یہ سب’ ’غدار“ تھے یا ہیں، اگر نہیں تو کیا بحیثیت مجموعی ملک کے اثرانداز ہونے والے سبھی اداروں کو ملکی استحکام کیلئے اس ضمن میں کوثی مثبت قانون سازی کرنے یا لائحہ عمل بنانے کی ضرورت نہیں؟
( کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved