تازہ تر ین

نئی معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف پیکیج

ایوب قریشی….(ادھورے خواب)

چند سال پہلے ایک معروف مصنف نے اپنی کتاب ”پولیٹیکل اکانومی آف پاکستان“ میں پاکستان کے معاشی بحران کو ”صلاحیتوں کا بحران“ (Crisis of Competence) قرار دیا۔ بہت سے معیشت دان آج بھی اس رائے کو درست قرار دیتے ہیں۔پاکستانی معیشت کو گزشتہ 8/9 ماہ کے دوران مختلف النوع مدوجزر کا سامنا رہا۔ ڈالر کے مقابلہ میں پاکستانی روپے کی قدر 15فیصد کم ہوئی۔ فارن ایکسچینج ریزروز میں منفی رجحان سامنے آیا۔ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ G.D.P کے 5فیصد سے زیادہ ہوا۔ غیر ملکی قرضوں کو ادا کرنے اور امپورٹ بلز کی ادائیگیوں کیلئے ڈالر کی ڈیمانڈ بہت زیادہ بڑھی۔ ملکی برآمدات اور غیر ملکی ترسیلات زر سے حاصل شدہ فارن ایکسچینج اس ضرورت کو احسن انداز سے پورا کرنے میں قاصر نظر آیا جس کے نتیجے میں تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ڈالر150/- روپے سے زیادہ کا ہوگیا۔ سٹاک مارکیٹ گر کر گزشتہ تین سال کی کم ترین سطح 33000 پوائنٹس پر آگئی۔ بین الاقوامی ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی روپے کی قدر کو جنوبی ایشیاءکی کمزور ترین کرنسی قرار دیا گیا ۔بالآخر پاکستانی حکومت کو ایک خوشخبری تو شاید مل ہی گئی جب گزشتہ 9ماہ سے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات حتمی مراحل سے گزر کر ایک معاہدہ کی شکل میں ڈھل گئے جس کے نتیجے میں پاکستان کو آئی ایم ایف سے تین سال کے دوران تقریباً چھ ارب ڈالر کا قرضہ ملے گا۔ اگرچہ تحریک انصاف حکومت کے اس فیصلہ سے بزنس کلاس، تاجروں اور عوام کے ذہنوں سے بے یقینی کی فضا ختم ہوگئی ہے تاہم اس پیکج پروگرام کے مثبت اور منفی پہلوﺅں پر ایک بحث شروع ہوگئی۔ موجودہ معاہدہ کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔ یہ حتمی منظوری حکومت پاکستان کے بجٹ میں ٹیکس میں اضافہ کے اقدامات، ٹیکس وصولی کے اضافی اہداف، یوٹیلٹی بلز میں سے سبسڈی کو ہٹانا اور F.A.T.F کے حالیہ اجلاس میں حکومت پاکستان کے جمع کرائے جانے والے جواب پر اطمینان شے مشروط ہوگی۔
آئی ایم ایف کے حالیہ پیکج پروگرام کے نتیجے میں حکومتی اداروں کو اپنی گڈگورننس یقینی بنانا ہوگی۔ ادارہ جاتی اصلاحات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو بھی کئی کڑوے گھونٹ پینے ہوں گے۔ تاہم اس معاہدہ کے نتیجے میں حکومت کو معیشت میں ایک عارضی توازن لانے کا موقع مل جائے گا۔توانائی کے گردشی قرضہ میں بڑھتے اضافے کے پیش نظر یہ طے پایا کہ توانائی کی سپلائی چین (Supply Chain) اور اس سے متعلقہ بجلی تقسیم کرنے والے تمام اداروں میں ایک باہمی اشتراک عمل کے ذریعے گردشی قرضہ کو کم ازکم سطح پر رکھا جائے۔ گردشی قرضہ کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں۔ دو اہم ترین وجوہات میں بجلی کے بلوں پر دی جانے والی سبسڈی اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو (Capacity Payment) کی وجہ سے جمع ہونے والے تقریباً 492 ارب ڈالر کے بقایاجات شامل ہیں۔ ان تمام قرضوں کو ختم کرنے کیلئے بجلی، گیس، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اخراجات اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے مزید ملکی و غیرملکی قرضوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کیلئے دو معاشی ممکنات ہیں۔ حکومتی آمدنی میں اضافہ یا حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی۔ حکومتی آمدنی میں اضافہ کیلئے ٹیکس گزاروں کی تعداد کے ساتھ ساتھ ٹیکس وصولی کی شرح کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔ نقصان میں جانے والے سرکاری صنعتی اداروں کی نجکاری کرنا ہوگی۔ شرح سود میں 1.5سے 2فیصد تک اضافہ کیا جائے گا اور جس کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو پالیسی امور میں فیصلہ سازی کی آزادی ہوگی۔ ڈالر کی ویلیو کا تعین حکومتی کنٹرول کے بجائے مارکیٹ فورسز کے ذریعے کرنا بھی اس پروگرام کا حصہ ہے۔ پاکستان کی تقریباً 60 ارب ڈالر کی سالانہ درآمدات کے مقابلہ میں 25 ارب ڈالر کی برآمدات کا فرق بھی ملک کی 300 ارب ڈالر کی معیشت کیلئے ایک خطرناک سگنل ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق اس پروگرام پر عملدرآمد کے نتیجہ میں افراط زر اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ ملک میں غربت کی شرح بڑھ جائے گی۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت اور اس کی نئی معاشی ٹیم اپنے معاشی تجربے اور نئی طرز فکر کے ساتھ ایسے اقدامات تجویز کرے جو ملکی معیشت میں ایک نئی روح پیدا کریں تو معیشت میں گروتھ کے ساتھ ساتھ توازن بھی لا سکیں گے۔ پرائیویٹ سکیٹر کو بھی اعتماد میں لیکر ایسے اقدامات کئے جائیں جو پرائیویٹ سیکٹر کو کاروبار میں ترقی کیلئے وسیع مواقع اور آسانیاں پیدا کرسکیں۔کچھ معاشی پنڈتوں کی رائے میں مقامی پیداواری ذرائع کو بروئے کار لا کر معیشت میں توازن اور گروتھ دونوں مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔ غیر ملکی امداد اور بین الاقوامی قرضے ایک وقتی ریلیف دیتے ہیں۔ یہ وقتی ریلیف بھی ان حاصل شدہ غیر ملکی قرضوں کے درست استعمال،سیاسی قیادت اور بیوروکریسی کے ایک ہی ڈائریکشن پر ہونے سے مشروط ہوتا ہے۔بدقسمتی سے نامعلوم وجوہات کی بناءپر بیوروکریسی کی سابق معاشی ٹیم ایک گومگو کی کیفیت میں نظر آئی۔ ملکی معیشت کو بحران در بحران والی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجہ میں روپے کی قدر گرنے سے ملک کے 106 ارب ڈالر کے قریب بیرونی قرضوں میں 900 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ ان بیرونی قرضوں کے ساتھ اندرونی قرضوں کو بھی شامل کریں تو پاکستان اس قوت ٹوٹل 35095 ارب روپے کا مقروض ہے۔ یہ ملک کی GPD کا 75فیصد بنتا ہے۔ ملکی آئین و قانون کے مطابق اس قرضہ کو GDP کے 60فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
تحریک انصاف کی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والی اس پیکج ڈیل کی درج بالا شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے چند سوالات ذہن میں ضرور آتے ہیں(1) کیا پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والی یہ پیکج ڈیل اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے گی؟ (2) کیا روپے کی قدر میں کمی اور افراط زر کے نتیجہ میں آنے والے دنوں میں ڈالر کی روپے کے مقابلہ میں تبدیلی کی شرح ارتقائی عمل سے گزرے گی یا انقلابی اضافہ سے دوچار ہوگی؟ (3) کیا تحریک انصاف کی حکومت آنے والے دنوں میں بیس لاکھ ٹیکس فائلرز کی تعداد (Tax Base) اور جمع کئے جانے والے ٹیکس کی شرح (Tax to G.D.P Ratio) میں اضافہ کر سکے گی؟ (4) اگر گزرے ہوئے مالی سال میں ٹیکس مطلوبہ اہداف سے 300 ارب روپے کم وصول ہوئے تو کیا اب معاہدہ کے نتیجہ میں مزید 700 ارب روپے کا اضافہ حاصل ہوسکے گا؟ اور (5) تحریک انصاف کی حکومت نے 9ماہ کا عرصہ مذاکرات میں گزارنے کے بعد آئی ایم ایف سے درج بالا شرائط کی بنیاد پر جو پیکیج ڈیل کی ہے کیا یہ وقت اور شرائط درست ہیں؟۔
(کالم نگار سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved