تازہ تر ین

اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے

آغا امیر حسین….(گردوپیش)

سی پیک، گوادر، بلوچستان، جنوبی وزیرستان پر دشمن یلغار کئے ہوئے ہے، پاک فوج پر حملے ہو رہے ہیں۔ دشمن چھپا ہوا نہیں ہے، سامنے سے براہ راست حملہ آور ہے۔ امریکہ، اسرائیل، بھارت اور ان کا نمک خوار بچہ افغانستان مل کر اپنے سہولت کاروں کی مدد سے ملکیسالمیت پر حملے کر رہے ہیں جبکہ ماضی کے دو حکمران خاندان پہلے معیشت کا جنازہ نکال کر اور اب میثاق جمہوریت اور 18ویں آئینی ترمیم کا سہارا لے کر اپنی اپنی ”واری“ کے چھن جانے کے غم میں ملک کی سالمیت کو داﺅ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ ایران اور افغانستان جنہیں اس بات کا فکر کرنا چاہیے کہ ان کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں اور پاکستان بفر اسٹیٹ کا کام کر رہا ہے۔ سی پیک کی تکمیل کا جتنا فائدہ افغانستان کو ہوگا اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ افغانستان کی پاکستان سے دشمنی ہی کے سبب پاکستان دشمن ممالک اس کی مدد کر رہے ہیں اور اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی مہمانداری کے عوض پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا مرکز کسی بھی قیمت پر نہ بنتا۔! اسی سال 27 فروری کو بھارت نے پاکستان کے خلاف پلواما حملے کا بہانہ بنا کر جو کارروائی کی تھی وہ ایک ٹیسٹ تھا کہ دیکھیں پاکستان کی افواج کس حد تک چوکس ہیں لیکن جیسے ہی انہیں اندازہ ہوا کہ براہ راست حملہ مزید نقصان کا باعث بن سکتا ہے تب سے وہ دوبارہ اندرونِ ملک زرخرید غلاموں کی مدد سے ملک میں خانہ جنگی کی فضا پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کوئی صوبائی حکومت اپنی پارٹی کی لیڈر شپ کو منی لانڈرنگ اور دوسرے سنگین جرائم سے بچانے کے لئے لاک ڈاﺅن کرنے کی دھمکی دے اور اپنی پارٹی کے سرکردہ لوگوں کو روپوش ہو جانے کی ہدایت کرے، جب کہ پاکستان کے آئین کے مطابق پارٹی کا کاروبار حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ آئین میں 18 ویں ترمیم کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ قرارداد مقاصد سے انحراف کرکے خود مختار ریاست بن جائیں۔ ہر صوبے میں مرکزی ادارے موجود ہیں۔ گورنر، چیف سیکرٹری اور آئی جی کی تعیناتی مرکز کی ذمہ داری ہے۔ رینجرز یوں تو صوبائی حکومت کی طلبی پر آتی ہے لیکن وہ وفاقی کنٹرول میں (نیم فوجی) تنظیم ہے اور اس کا پہلا کام ریاست کے خلاف اٹھنے والے اقدامات کو روکنا ہے۔ چیف منسٹر کا حلف نامہ ریاست سے وفاداری کا ہے نہ کہ اپنی پارٹی کے قائدین کو سنگین جرائم سے بچانے کا۔ آئین میں واضح طو رپر صوبوں اور مرکز کے اختیارات کا واضح تعین کیا گیا ہے۔ اصولی طور پر چیف منسٹر کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا بصورتِ دیگر آئین حرکت میں آئے گا۔ ہم تو ڈوبے ہیں صنم کے مصداق، زرداری صاحب اپنے ہی صوبے کو انتشار کے حوالے کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ وہ تمام لوگ جو سازش میں شریک ہیں ملک دشمنی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور یہ جرم سنگین جرائم میں شمار ہوتا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ پیپلز پارٹی جو وفاق کی علامت کہلاتی اور سمجھی جاتی تھی چاروں صوبوں کے سینئر اور ذمہ دار اراکین کی موجودگی میں یہ وطن دشمن فیصلہ کیسے کیا؟ کیا یہ تمام قابل عزت لیڈران زرداری صاحب کے غلام ہیں ،کیا زرداری صاحب پر مقدمات غلط اور سیاسی انتقام ہیں؟ کیا اب زرداری صاحب کو ملک کی عدلیہ پر بھی بھروسہ نہیں رہا ہے۔ اب تک تو وہ ہر پیشی پر مسکراتے ہوئے آتے جاتے نظر آتے رہے ہیں، پھر ایسا کیا ہوا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کی حکومت کو اس آئین شکنی پر مجبور کر دیا۔ کہیں یہ بھی تو دانستہ یا نادانستہ اس سازش کا حصہ تو نہیں جو دشمن پاکستان میں تواتر کے ساتھ کرتا چلا آ رہا ہے؟
طویل قانونی لڑائی لڑنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت کے لئے دائر درخواستوں کو خارج کر دیا۔ آخرکار زرداری کو گرفتاری میںلیت و لعل بحث و تمحیث اور قانونی موشگافیوںمیں وقت ضائع کرنے کے بعد گرفتاری دینا پڑی۔ اب رخصتی کا ایک طریقہ تو میاں نواز شریف والا ہوسکتا تھا یعنی کارکنوں کو جمع کرو انہیں پھولوں کی پتیاں پکڑاﺅ اور دھوم دھام سے جیل چھوڑ کر آﺅ اور یہ کہتے ہوئے واپس آ جاﺅ کہ قدم بڑھاﺅ نواز شریف ہم اپنے گھر جا رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی نے ایسا کچھ نہیں کیا، گھر سے نکلے بیٹی آصفہ نے باپ کو سینے سے لگایا اور نزدیک ہو کر کچھ کہا جس پر باپ نے گردن جھکائی اور چپ چاپ نیب کی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بیٹا بلاول کار میں سوار ہونے تک مسلسل ہنستا رہا ایک لمحے کے لئے بھی اس کے چہرہ پر کسی قسم کا حزن و ملال نہیں دیکھا گیا ۔پھر بعد میں اسمبلی میں جو رویہ اختیار کیا گیا وہ بھی احتجاج کرنے سے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرانا مقصود تھا ورنہ صرف دو منٹ کی بات تھی۔ اس کے بعد سپیکر نے انہیں بات کرنے کا بار بار کہا لیکن وہ نہیں مانے اور مجبوراً سپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ یہاں بھی ہم نے دیکھا کہ بلاول زرداری صاحب مسلسل ہنستے رہے۔ پھر پریس کانفرنس میں بھی حکومت پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے اور کارکنوں کو پرامن رہنے اور پارلیمنٹ کو آگے بڑھانے کے علاوہ کوئی ایسی بات انہوں نے کی ہو جس سے یہ ظاہر ہوتا کہ انہیں اپنے والد کی گرفتاری پر سخت تشویش ہے اور وہ اب پورا ملک جام کر دیں گے اور سارے ملک میں کچھ ہو یا نہ ہو وہ سندھ کو تا حکم ثانی بند کرنے کا فرمان جاری کریں گے؟ گزشتہ رات سنٹرل کمیٹی کی میٹنگ میں کئے گئے فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک حد سے آگے جانے کا ارادہ نہیں رکھتے! مختلف شہروں سے ملنے والی اطلاعات بھی یہی بتا رہی ہیں کہ چائے کی پیالی میں طوفان بھی برپا نہ ہوا۔ سندھ کے چند شہروں میں لٹھ بردار دستوں نے زبردستی چند دُکانیں بند کرائیں اور غائب ہوگئے یا ناکارہ ٹائروں کو آگ لگا کر جستہ جستہ، احتجاج رجسٹرڈ کروا کر وہ بھی گھروں کو چلے گئے جبکہ فیصلہ یہ تھا کہ قائدین روپوش ہو جائیں گے اور احتجاج کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ پیپلز پارٹی کو اس حالت تک پہنچانے کی تمام ترذمہ داری کسی اور پر نہیں صرف آصف علی زرداری پر ہے۔میں کہتا ہوں کہ دولت کا انبار، جائیدادیں اور لوٹ مار میں وقت برباد کرنے کے عظیم کارنامے کے علاوہ ان کے ریکارڈ پر کیا ہے۔ کیسی عبرت کی بات ہے کہ لوٹ مار، ہیرا پھیریوں کے نتیجے میں آخر کار پکڑ میں آ ہی گئے۔
ملک کی تباہ حال معاشی صورت حال کا تقاضا ہے کہ ملک لوٹنے والوں سے ریکوری کے لئے روائتی طریقہ استعمال کیا جائے، یعنی سی کلاس میں رکھا جائے، ڈرائنگ روم اور لِتروں سے ایسے ڈکیتوں کی تواضع کی جائے۔ عام شہری کو معمولی چوری چکاری پر جو سزا دی جاتی ہے وہی انہیں دی جائے تو پیسہ واپس مل سکتا ہے۔ تفتیش کے دوران صوفے ،شاندار بیڈ، ٹی وی اور وائی فائی کے علاوہ گھر سے کھانوں وغیرہ کی سہولتیں دے کر یہ سمجھنا کہ وہ لوٹا ہوا پیسہ واپس کر دیں گے، احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات ہے۔ بیرونی ممالک جو یہاں اپنی مرضی کے حکمران رکھواتے چلے آ رہے ہیں پورا زور لگا رہے ہیں۔ آپ کی سرحدیں گرم ہیں۔ امریکہ کے جنگی بیڑے بحیرہ عرب میں پہنچ چکے ہیں۔ افغانستان میں بھارت دہشت گردوں کو منظم کروا کر فوج پر حملہ کروا رہا ہے۔ پاکستان کو قرضوں کی لعنت سے نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ نئے ترقیاتی منصوبے اس وقت تک نہ بنائے جب تک قرض کی پائی پائی نہ اتر جائے۔ اگر ریکوری اور قرضوں کی واپسی کو اولین ترجیح دے کر معاشی ایمرجنسی نافذ کی جائے تو بات بن سکتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب بھٹو صاحب کی پہلی حکومت بنی تو اس میں ہمارے دوست ملک معراج خالد وزیر بلدیات بنے تو میں نے ایک پروگرام بنا کر انہیں دیا ۔پروگرام یہ تھا کہ جہلم سے گوجر خان تک ہزاروں مربع میل علاقہ ٹیلوں اور مٹی کی پہاڑیوں کی شکل میں بے کار پڑا ہے اسے آباد اور زرعی فارموں میں تبدیل کرنے کے لئے ہائی اسکولوں اور کالجوں کے طالب علموں کو اس قومی مشن پر لگایا جائے ان کے اسکول اور کالج موقع پر عارضی طور پر تعمیر کئے جائیں تاکہ ان کی تعلیم بھی متاثر نہ ہو اور وہ قومی منصوبہ کی تکمیل کرکے ملک کی خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالیں پیشہ ور ٹھیکیداروں سے نجات ملے اور ملک خوشحال ہو وغیرہ۔ لیکن ملک معراج خالد صاحب کی کوششوں کے باوجود یہ منصوبہ منصوبہ ہی رہا! ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، بڑے پیمانے پر ساری قوم کو متحد کرکے سرداروں، تمن داروں، نوابوں، جاگیر داروں، وڈیروں، ٹھیکیداروں وغیرہ سے نجات دلا کر معاشرے میں توازن پیدا کریں تاکہ امیر اور غریب کے درمیان حائل خوفناک خلیج دور ہوسکے۔
(کالم نگارمعروف دانشور اورصحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved