تازہ تر ین

شہباز کرے پرواز

کامران گورائیہ

برطانیہ میں علاج و معالجہ کے بعد شہباز شریف کی وطن واپسی نے ان حکومتی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے جو شور مچا رہے تھے کہ وہ ملک سے فرار ہو چکے ہیں اور وطن واپس نہیں آئیں گے لیکن شہباز شریف نا صرف وطن واپس آئی بلکہ ان کا یہ بیان تمام سیاسی رفقا ءاور پارٹی کارکنان کے لئے امید افزاءثابت ہوا جس میں انہوں نے کہا میں پاکستان میں پیدا ہوا ہوں میرا جینا مرنا اسی دھرتی سے جڑا ہے۔
یہ تاثر عام تھا کہ شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے منظورِ نظر ہیں، ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوسکتی۔ وزارت عظمیٰ کی خاطر بڑے بھائی کی پیٹھ میں بھی چھرا گھونپ سکتے ہیں، وقت آنے پر اگر مسلم لیگ (ن) کو ٹیک اوور کرنا پڑا تو بغیر کسی تاخیر کے کر گزریں گے، عمومی تاثر تھا کہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کمزور اعصاب کے مالک ہیں، کسی بھی آزمائش کا خندہ پیشانی سے مقابلہ نہیں کرسکتے، اس لئے آزمائشی حالات سے بچنے کے لئے اداروں سے بنا کر رکھتے ہیں۔ مگر گزشتہ چند ماہ کے دوران یہ سب تھیوریاں یکسر غلط ثابت ہوئی ہیں۔ منظورِ نظر افراد 129دن عقوبت خانے میں نہیں گزارتے، اگر بھائی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہی مقصد ہوتا تو شاید نیب کے عقوبت خانے میں 2ماہ سے زائد وقت نہ گزارتے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ شہباز شریف نے جس ثابت قدمی اور حوصلے سے سیاسی قید کاٹی ہے، ملکی تاریخ میں اس کی نظیر کم ملتی ہے۔ بہت سے بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کی متفقہ رائے تھی کہ شہباز شریف بہت اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں مگر انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ شہباز شریف انتقامی کارروائیوں کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کرسکتے ہیں۔ گزشتہ چار ماہ کے دوران شہباز شریف کا ایک مختلف چہرہ سامنے آیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ گزشتہ چار ماہ نے شہبا ز شریف کو ایڈمنسٹریٹر سے ایک لیڈر بنایا ہے۔ شہباز شریف ا ن چار ماہ کے دوران کشید ہوکر نکلے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کو ترجیحی بنیادوں پر جن مسائل کو حل کرنا ہے ان میں ملک کی معاشی ابتری ، مہنگائی پر کنٹرول، ڈالر، بجلی اور گیس کی اونچی اڑان کو قابو میں رکھنا شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سعودی عرب، ترکی ، ملائیشیا، قطر اور چین کے دورے بھی کیے جو زیادہ کامیاب نہیں قرار دیئے جا سکتے۔ آئی ایم ایف سے عمران خان کے مذاکرات کامیاب تو ہو چکے ہیں مگر اس کے لیے انہیں عوام پر کھربوں روپے مالیت کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ اپنی سیاسی جماعت کی ساکھ کو بھی بچانہ عمران خان کے لیے درد سر بن چکا ہے۔ عمران خان دو ٹوک فیصلے کرنے کے قائل رہے ہیں مگر انہیں اپنی اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ اس سلسلہ میں بلوچستان سے اختر مینگل گروپ ، سندھ سے ایم کیو ایم اور فنگشنل لیگ جبکہ پنجاب سے ق لیگ کو بھی مطمئن رکھنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت پر عمران خان کی گرفت دن بدن کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے اسی وجہ سے وہ قبل از وقت انتخابات کے خواہشمند بھی ہیں۔ عمران خان کا خیال ہے کہ پچھلے 6 ماہ کے دوران ان کی حکومت نے عوام کی امنگوں کے مطابق احتساب کے عمل کو آگے بڑھا کر پہلے سے زیادہ مقبولیت حاصل کر لی ہے مگر حقائق یہ ہیں کہ عمران خان کی حکومت اگر کسی وجہ سے ختم ہو جاتی ہے تو پھر تحریک انصاف کی حیثیت ق لیگ جیسی ہو جائے گی جو پرویز مشرف کے اقتدار کا خاتمہ ہوتے ہی بے وقعت اور غیر مقبول ہوگئی تھی۔ اس حقیقت کا ادراک تمام سنجیدہ سیاسی حلقوں کو بھی ہے۔ اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اب ملک کی 2 بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی عمران خان کو سلیکٹڈوزیراعظم قرار دے چکی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف بھی دور اندیشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کر رہے جس سے حکومت کو کمزور کرنے کی کوششیں قرار دیا جاسکتا ہو۔ میاں شہباز شریف نے حکومت کی مخالفت میں کسی تحریک کا اعلان کیا نہ ہی ایسی کسی پیشکش کی حوصلہ افزائی کی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے اپنی جماعت کے سینئر سیاسی رہنماو¿ں کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ مکمل طور پر غیر جانبدار رہیں گے حکومت پر تنقید کی جائے گی مگر حکومت گرانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ انداز لگانا مشکل نہیں کہ مسلم لیگ ن پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے۔ ن لیگ کا مستقبل عوام کی خوشحالی سے وابستہ ہے۔ مسلم لیگ ن کے سابقہ دور حکومت میں ملکی معیشت بہترین ڈگر پر چل نکلی تھی جسے غیر مستحکم کرنے کے لیے پہلے میاں نواز شریف کو نا اہل کروایا گیا بعد ازاں انہیں پارٹی صدارت کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا تھا مگر میاں نواز شریف نے اپنی نا اہلی اور پارٹی صدارت کے عہدہ سے فراغت کے بعد بھی حوصلہ مندی کا ثبوت دیا وہ خندہ پیشانی سے عدالتی فیصلوں کو قبول کرتے ہوئے جیل میں قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی قربانی ملک کے شاندار مستقبل کے لیے رائیگاں نہیں جائے گی۔ بہت جلد حالات قابو میں آ جائیں گے اور مستقبل قریب میں ہی وہ پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر پہلے سے بھی کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچیں گے۔ مسلم لیگ ن کے تمام سینئر رہنماءیہ بات زور دے کر کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف وزیراعظم ہاو¿س میں رہنے سے کہیں زیادہ جیل میں خطرناک ثابت ہوں گے۔ میاں شہباز شریف اپنی پارٹی قائد کا صدق دل سے احترام کرتے ہیں اوران کے فیصلوں پر عمل کرتے ہیں۔ میاں شہباز شریف کی پرواز کہاں تک ہوگی اس کا فیصلہ اگلے ما ہ رواں میں ہوتا نظر آ رہا ہے۔
ماضی قریب میں مسلم لیگ (ن) کے صدر کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ شہباز شریف کی نیب کے دونوں کیسز میں ضمانت میڈیکل گراﺅنڈ کے بجائے میرٹ پر ہوئی ہے۔ کسی بھی سیاست دان کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ٹارگٹڈ مقدمات میں بھی ضمانت کیس کے میرٹ پر بحث کرکے مل جائے اور اسے میڈیکل گراﺅنڈ کا سہارا نہ لینا پڑے۔ کیونکہ جو مقدمات سیاسی طور پر نشانہ بنانے کے لئے بنائے جاتے ہیں، اس میں حکومت وقت انصاف کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔ خود ہی مدعی ہوتی ہے اور خود ہی پراسیکیوشن کرتی ہے اور خود ہی ثبوت فراہم کررہی ہوتی ہے۔ ایسے میں بہت مشکل ہوتا ہے کہ کیس کے میرٹ پر بحث کرکے ضمانت حاصل کی جائے۔ شہباز شریف کی میڈیکل گراﺅنڈ کے بغیر ضمانت نے ناقدین کے منہ بھی بند کردئیے ہیں۔ آج وہ بھی پراسرار خاموشی کے ساتھ منہ میں انگلیاں دبائے بیٹھے ہیں، جو دعویٰ کیا کرتے تھے کہ آج تک کسی سیاستدان کی میڈیکل گراﺅنڈ کے علاوہ ضمانت ہی نہیں ہوئی۔ شیخ رشید سمیت ایسے سیاستدان، نامناسب زبان استعمال کرنا جن کا شیوہ بن چکا ہے، انہیں اب اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے الفاظ واپس لینے چاہئیں۔ مضبوط سیاسی اقدار تقاضا کرتی ہیں کہ شہباز شریف جیسے محنتی اور دیانتدار سیاستدانو ں کی داد رسی کرکے ان کا حوصلہ بڑھانا چاہئے۔ وگرنہ وہ وقت دور نہیں جب اس ملک میں کوئی بھی کام نہیں کرے گا۔ ویسے تو اب وہ وقت آہی چکا ہے کہ پاکستان کے زرخیز دماغ یہ سمجھ چکے ہیں کہ ”اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا“۔ شہباز شریف کے ساتھ ہونے والے سلوک کو دیکھ کر سرکاری افسران نے بالکل کام چھوڑ دیا ہے کیونکہ جنہوں نے پنجاب کے معمار کو نہیں بخشا، ان کے سامنے ایک گریڈ 22کے کمزور سرکاری افسر کی کیا وقعت ہے۔ یہاں ایک معاملے کی وضاحت ضروری ہے کہ نوازشریف کی ضمانت کا معاملہ بالکل مختلف ہے، انہیں سزا ہوچکی ہے اور نیب کے سزایافتہ افرا د کی ضمانت کے لئے سپریم کورٹ اپنے ایک حالیہ فیصلے میں اصول طے کرچکی ہے۔جبکہ اب میاں شہباز شریف کا کردار وفاقی بجٹ کے بعد پارلیمنٹ میں کس نوعیت کا ہو گا آنے والے دنوں میں قوم کو سب کچھ دیکھنے کو ملے گا۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved