تازہ تر ین

صدرٹرمپ کا دورہ ¿جاپان

عامر بن علی….مکتوب جاپان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ چارروزہ دورہ جاپان کئی اعتبارسے تاریخی اہمیت کا حامل رہا۔یادرہے کہ جاپان میں نئے شہنشاہ کا عہد گشتہ ماہ مئی میں آغاز پذیر ہوا ہے۔بتیس سال تک حکمرانی کرنے کے بعد اکی ہیتونے رضاکارانہ طور پراپنا عہدہ چھوڑدیا ،نئے شہنشاہ ناروہیتوسے ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی بیرونی ملک سے آکر ملنے والے پہلے سربراہ مملکت تھے۔شاہی استقبالیہ تقریب اور عشائیہ غیر معمولی نوعیت کا تھا۔اگرچہ جاپان میں بادشاہ کا عہدہ بھی برطانیہ کی ملکہ کی طرح تکریمی نوعیت کا ہے اورروزمرہ کے حکومتی معاملات میں شہنشاہ کاکوئی عمل دخل نہیںہوتا،مگریہ عہدہ نمائشی ہرگزنہیںہے۔یہاںکوئی بھی شخص بادشاہ سے نظرملا کر بات کرنے کی جسارت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔برطانیہ میں تو پریس ملکہ برطانیہ پرتنقید بھی کرتا رہتا ہے مگریہاںتوتاریخی طور پربادشاہ کو خدا کااوتار اور نائب تصورکیا جاتاتھا۔
صدرڈونلڈ ٹرمپ کے چارروزہ دورے کے دوران بنیادی طورپرتین موضوعات زیادہ زیربحث رہے۔ دفاعی اورتجارتی امورکے علاوہ شمالی کوریا گفتگوکابنیادی نقطہ رہا۔حیرت انگیز طورپرایران بھی دونوںملکوں کے سربراہوں کی ملاقات میںگفتگوکاموضوع بنارہا۔جاپانی وزیراعظم شنزوآبے کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ کاکہناتھاکہ چونکہ ایران اور جاپان کے باہمی تعلقات بہت اچھے ہیں اور اگر جاپان ایران کے ساتھ امن کے لئے بات چیت کرے تو میںبھی بات کرنے کے لئے تیارہوں۔جنگ کے امکانات کے تناظر میںصدرٹرمپ کا کہنا تھاکہ کوئی بھی ہولناک چیزیںنہیں دیکھنا چاہتاہے،خاص طورپر بذات خود میں۔خیر یہ سن کر میرے لئے اپنی ہنسی کوکاقابورکھناکافی مشکل تھا۔قارئین کے لئے یہ خبر دلچسپ ہوگی کہ جاپانی وزیراعظم شائد وہ سربراہ مملکت ہیںجن کے ساتھ ٹرمپ کا سب سے زیادہ رابطہ رہتا ہے۔امریکی صدر اورجاپانی وزیراعظم ا ب تک چالیس مرتبہ ٹیلی فون پریابا لمشافہ ملاقات کرچکے ہیں۔اس حیرت انگیز قربت کاانکشاف وائیٹ ہاﺅس کے ترجمان نے خود ایک سوال کے جواب میں کیا۔
وزیراعظم شنزوآبے کے تقریرنویس پروفیسر توموہیکوکا یہ انکشاف دلچسپ ہے کہ جاپانی وزیراعظم وہ واحد غیرملکی سربراہ ہیںجن سے صدر ٹرمپ گھنٹوںبے تکان گفتگوکرسکتے ہیں۔امریکی صدربغیرکسی تحریری موضوعات کی فہرست کے طویل گپ شپ کرتے ہیں،جس کی جاپان کے لئے بہرحال ایک تزویراتی اہمیت ہے۔دونوںممالک کے سرکاری ترجمانوںکے بیانات اور تاثرات اپنی جگہ مقدم ہیں،مگرریاستوںکے آپس میںتعلقات ویسے قطعاً نہیں ہوتے جیسے افراد کے باہمی تعلقات ہوتے ہیں۔کسی ملک کی دوسرے ملک کے ساتھ دوستی اور دشمنی بے سبب اور مستقل نوعیت کی نہیں ہوتی۔خارجہ تعلقات میں آج کی دنیا جس چیز کو سب سے زیادہ مقدم رکھتی ہے وہ ہر ملک کا اپنا قومی مفاد ہے۔کبھی کوئی دیس اپنا نقصان کرکے کسی دوسرے دیس کافائدہ نہیںکرتاہے۔باہمی مفادات ملکوںکوجوڑنے کا سبب بنتے ہیں۔جہاںتجارتی مفادات کا ٹکراﺅ آجائے ،سب کواپنی اپنی پڑجاتی ہے۔اس کی ایک مثال موجودہ دورہ کے دوران دونوںممالک کا کسی حتمی تجارتی معاہدے پرنہ پہنچنا ہے۔امریکہ چاہتا ہے کہ اس کی زرعی اجناس پرعائد ڈیوٹی کم یا ختم کی جائے جبکہ گاڑیوںپر ڈیوٹی کم کرانے سمیت جاپان کاکہنا ہے کہ صرف زرعی اجناس کی بجائے نوہزاراشیائے تجارت،جوکہ امریکہ اورجاپان کے درمیان باہمی بیوپارکی اشیاءہیں،ان سب پر ایک جامع تجارتی معاہدہ کیاجائے۔چارروزہ دورے کے دوران ایسامعاہدہ طے نہیں پاسکا،اب اگست میں شائد یہ معاہدہ طے پاجائے۔
صدر ٹرمپ کی جاپان میںمصروفیات کافی رنگارنگ قسم کی رہیں۔جاپان کے روایتی کھیل سوموکے چیمپئن شپ فائنل کے فاتح پہلوان کو صدر ٹرمپ کے ہاتھوںسے انعام دلوایاگیا۔اتوار کے دن کشتی کے اکھاڑے کے اردگردامریکی صدر اپنی اہلیہ سمیت براجمان تھے اور جاپانی وزیراعظم بھی اپنی زوجہ محترمہ کے ساتھ ان کے پہلومیں بیٹھے تھے ۔اس سے گزشتہ روز امریکی صدر اور شنزوآبے نے دن کا زیادہ تر حصہ ٹوکیومیں اکٹھے گالف کھیلتے ہوئے گزارا۔مبصرین کے نزدیک اس غیرروایتی ملاقات کا مقصد اگلے ماہ اوساکا میں ہونے والے G20(جی ٹونٹی)اجلاس میں امریکی صدرکی شمولیت کو یقینی بنانابھی تھا۔علاوہ ازیںفرانس میںہونے والے گروپ سیون کے اجلاس میںشرکت پر ٹرمپ کوآمادہ کرنا بھی شامل تھا۔
دفاعی امور ہمیشہ جاپان اور امریکہ تعلقات کا اہم ترین موضوع ہوتا ہے ۔امریکی صدر اور جاپانی وزیراعظم نے بحری اڈے پرفوجیوںسے خطاب کیا اور اس دورے کی مذکورہ جہت کی اہمیت کوبھی نمایاںکیا۔یاد رہے کہ جاپان میںپچاس ہزارامریکی فوجی مستقل طور پر تعینات رہے ہیں۔شمالی کوریا اور جاپان کے تعلقات تقریباًویسے ہیںجیسے ہمارے بھارت کے ساتھ ہیں۔جب سے ٹرمپ صدر بنے ہیںوہ شمالی کوریا کے صدر سے دو مرتبہ مل چکے ہیں۔غالباًاسی تناظر میںوہ اپنی پریس کانفرنس کے دوران یہ دعویٰ کررہے تھے کہ مجھ سے پہلے آئے دن شمالی کوریا نئے میزائل اور نیوکلیئرٹیسٹ کررہاتھامگر میرے آنے کے بعد یہ سلسلہ تھم گیا ہے۔حالانکہ گزشتہ ماہ ہی شمالی کوریا نے نئے میزائل کا تجربہ کیا ہے جوکہ امریکی صدر کے دعوے کی نفی کرتا ہے مگراس موضوع پرپھرکبھی بات کریں گے۔میرے لئے سب سے حیرت انگیز منظروہ تھاجب صدرٹرمپ کا قافلہ ٹوکیوکی سڑکوںسے گزررہاتھااور سکول کے بچے گرم جوشی سے امریکی اور جاپانی پرچم لہراکر اس کااستقبال کررہے تھے،جنگ عظیم دوم کے دوران جتنا جانی اور مالی نقصان امریکہ کے ہاتھوں جاپان نے اٹھایا شائد انسانی تاریخ میں اس کی مثال مشکل سے ہی ملے،مگردورحاضرکے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی مفاد میں یہ فیصلہ کیا گیاکہ اب امریکہ سے دوستی کر لی جائے۔مقامی لوگوں سے ملاقات اور گفتگو کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ دلی طور پر امریکہ کو پسندکرتے ہیں۔کبھی ہیروشیمااورناگاساکی کی بات کریں توعموماًلوگوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ یہ تباہی جنگ کے نتیجے میں آئی تھی ،اس لئے جنگ سے نفرت کرنی چاہیے،امن کے لئے جدوجہدکرنی چاہئیے۔امریکہ نے بلا شبہ زیادتی کی تھی مگرقصورجاپان کا بھی تھا۔محسوس ہوتا ہے جنگ کی یاداشتیںپس پشت ڈال کر امریکہ اورجاپان ایک طویل خوشگوار تجارتی اور سفارتی تعلق چاہتے ہیں۔
(کالم نگار جاپان میں خبریں کے بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved