تازہ تر ین

سیاسی و اخلاقی اقدار

مرزا روحیل بیگ ….مکتوب جرمن
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی جرمنی کی سب سے پرانی جماعت سمجھی جاتی ہے، جس کا قیام 1863ءمیں عمل میں آیا تھا۔ اس حوالے سے یہ وہ قدیم ترین جرمن سیاسی جماعت بھی ہے جو آج بھی جرمن پارلیمان میں نمائندگی کی حامل ہے۔ آندریا ناہلس اپریل 2018 ءمیں ایس پی ڈی کی سربراہ بنی تھیں وہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ بننے والی جرمنی کی پہلی خاتون سیاستدان تھیں۔ ایس پی ڈی چانسلر انجیلا میرکل کی قیادت میں موجودہ وسیع تر مخلوط حکومت میں شامل چھوٹی جماعت ہے۔ ناہلس کے پاس سیاسی طور پر تین عہدے تھے، ایس پی ڈی کی سربراہ، اس پارٹی کے پارلیمانی حزب کی قائد بھی اور وفاقی جرمن پارلیمان کے بنڈس ٹاگ کہلانے والے ایوان زیریں کی رکن بھی۔ آندریا ناہلس حالیہ یورپی پارلیمانی انتخابات میں اپنی پارٹی کی خراب کارکردگی اور عوامی تائید و حمایت کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئی ہیں۔ انہوں نے جرمن پارلیمان میں اپنی رکنیت سے استعفے کا اعلان کیا۔ ان انتخابات میں ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کی تائید میں واضح اضافہ ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اسلام اور مہاجرین کی مخالفت کرنے والی انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی یا اے ایف ڈی کی حمایت میں بھی اضافہ ہوا تھا۔ آندریا ناہلس نے کہا کہ وہ پارٹی قیادت، ایس پی ڈی کے پارلیمانی دھڑے کی سربراہی اور پارلیمان میں اپنی رکنیت سبھی ذمہ داریوں سے مستعفی ہو رہی ہیں۔ ناہلس نے اپنے مستعفی ہونے کا اعلان پارٹی کی اندرونی صفوں سے خود پر کی جانے والی تنقید کے بعد کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اپنی جماعت کے اراکین کو یہ موقع دینا چاہتی ہیں کہ وہ ایک منظم طریقہ کار کے تحت اپنے لئے نئے سربراہ کا انتخاب کر سکیں۔جرمنی میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ سیاستدان خراب کارکردگی یا الزامات کی زد میں آنے کے بعد اخلاقی طور پر خود ہی مستعفی ہو گئے اور دوبارہ کبھی میدان سیاست میں نظر نہیں آئے۔ یہ وہ اخلاقی اقدار ہیں جن پر جرمن عوام اور سیاستدان دہائیوں سے عمل پیرا ہیں، جس کی وجہ سے جرمن قوم کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ اور مہذب ترین ممالک میں ہوتا ہے۔
مغرب میں ایک اچھی چیز جو میں نے دیکھی کہ کسی الیکشن میں کوئی سیاسی پارٹی ہار جائے یا اس کی کارکردگی خراب رہی ہو تو اس کا سربراہ از خود پارٹی قیادت سے استعفیٰ دے دیتا ہے اور اپنی پارٹی کی خراب کارکردگی اپنے سر لے لیتا ہے۔ اپنے ہاں ایسا دستور بالکل نہیں، لوگ اپنی اپنی پارٹی کے مناصب یا عہدوں کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں۔ وہ اپنی پارٹی کی قیادت سے دستبردار ہو کر تازہ دم نئے فرد کو اپنی جگہ بٹھانے کو تیار نہیں ہوتے اور اگر بادل نخواستہ تیار ہو بھی جائیں تو اپنی جگہ جس کسی کو بھی اپنا جانشین بنائیں گے وہ ان کے اپنے خاندان سے ہو گا۔ آج کی سیاست میں اخلاقی قدروں اور اصولوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایماندار شخص کی دستار اچھلتی ہے، سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر کو سب سے بڑا سیاستدان سمجھا جاتا ہے۔ جب اہم عہدوں پر فائز عہدیداران، وزرا یا عوامی نمائندے اخلاقی اقدار کا مظاہرہ نہیں کریں گے، اپنے غلط اقدامات اور فیصلوں کا دفاع کرنے کے لیئے طرح طرح کی تاویلیں گھڑی جائیں گی۔ ناقص کارکردگی کے باوجود لوگ اپنے عہدوں پر براجمان رہیں گے۔ اہم عہدوں پر فائز شخصیات عزیزو اقارب کو نوازنے کے لیئے نہ صرف اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کریں گے بلکہ ڈھٹائی سے ایسے اقدامات کا دفاع بھی کیا جائے گا تو ایک ترقی یافتہ اور مہذب قوم کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔ جوں جوں حکمرانوں کے پاس زیادہ اختیارات آتے جاتے ہیں وہ اپنے شہریوں کے بارے میں فکر کرنا کم کر دیتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ اپنے مفادات کے لیئے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب تک حکمران، عوامی نمائندے اور معاشرے کا ہر فرد خود احتسابی اور اخلاقی اقدار کو نہیں اپنائے گا معاشرے میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ خود احتسابی کی بدولت انسان اپنے اندر منفی و مثبت رجحانات کا تعین پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اور یہ صلاحیت انسان کو اپنا اخلاق و کردار سنوارنے کے قابل بناتی ہے۔ دنیا میں وہی اقوام اور افراد ترقی کی منازل طے کرتے ہیں جو اخلاقی اقدار کو اپنا شیوہ بناتے ہیں۔ امور مملکت میں شفافیت، میرٹ کی پابندی اور سیاستدانوں کے اخلاقی کردار اور سیاسی وژن کو جمہوریت کی اساسی ضرورتوں میں شامل کیا جاتا ہے اور جدید جمہوری حکومتوں کے رہنے یا نہ رہنے کا بنیادی معیار ان کی بے داغ شخصیت، جواب دہی سے سرشار شفاف کارکردگی اور کرپشن فری انتظامی ڈھانچے کی قابل رشک دیانتدارانہ ورکنگ ریلیشن شپ ہوتی ہے۔ چنانچہ یہی وہ باریک فرق ہے جو ترقی یافتہ ملکوں کو ترقی پزید ممالک کے مضمحل، سیاسی و اخلاقی طور پر کمزور انتظامی سسٹم سے الگ کرتا ہے۔
(کالم نگارجرمنی میں مقیم ،بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved