تازہ تر ین

عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش!

میجر(ر)الطاف احمد ….نقطہ نظر
پاکستان کی 71سالہ سیاسی تاریخ میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی متعدد بار برسراقتدار آئیں لیکن عوامی مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے رہے۔ اس وقت ایسا لگتا تھا کہ شاید پاکستانی قوم اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے وقت بالکل ہی ناسمجھ ہو جاتی ہے اور اسے یہ بھی معلوم نہیں ہو پاتا کہ آیا یہ نمائندہ ہمارا حق نمازئندگی صحیح طریقے سے ادا بھی کر سکے گا یا نہیں ۔ بس ایسے لگتا تھا کہ سمجھ نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور ہمارے سیاستدان بھی جب منتخب ہو جاتے ہیں تو ان میں بھی اتنی سمجھ نہیں ہوتی کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر بات کا سہرا پنے سر سجا لیں چاہے وہ اس کے مستحق ہیں یا نہیں ۔اس بات کا اندازہ مجھے بہت عرصے سے تھا لیکن مجھے حیرت اس وقت ہوئی جب 20مئی 2019ءکو میں نے ایک ٹوئیٹر پیغام پڑاجو کہ مریم نواز کی طرف سے بلاول بھٹوزرداری کی طرف سے دی گی سیاسی افطار پارٹی میں شرکت کے لیے موٹر وے پر لاہور سے اسلام آباد کی طرف سفر کرتے ہوئے لکھا گیا تھا۔ موٹروے کی تصویر کے ساتھ کچھ یوں لکھا تھا©©”یہ خوبصورت تحفہ عوام کو سابقہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے دیا گیا تھا“ پہلے تو میں نے سوچا کہ واقعی بہت خوبصورت تحفہ ہے لیکن پھر میں نے سوچا کہ تحفہ تو وہ ہو تا ہے کہ جو آدمی اپنے ذاتی مال سے دے جبکہ موٹروے تو عوام کے پیسے سے بنی تھی تو یہ کیسا تحفہ ہے ۔ہاں آپ یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ پبلک منی سے کمیشن اور کک بیکس کا پہلا تحفہ تھا۔
مزید ازاں میں جب بھی لاہور سے اسلام آباد سفر کرتا ہوں تو تقریبا 600روپے کے قریب ٹیکس ادا کرتا ہوں اور بڑی گاڑیاں دو ہزار تک ٹول ٹیکس ادا کرتی ہیں جبکہ تحفہ تو فری ہوتا ہے اور اس پر ٹیکس کیسا؟ ۔ سنا ہے کہ صدر ایوب کے دور میں دریا راوی کے پل سے گزرنے والی گاڑیوں پر سیلاب زدگان کے فنڈ کے لیے آٹھ آنے لگایا گیا تھا لیکن یہ نواز شریف کے دور حکومت میں بڑھتا ہوا ہر 30کلو میٹر کے بعد ٹول پلازہ بن گے اور آنے جانے والی گاڑی کو 35روپے سے400 روپے تک ادا کرنا پڑتا ہے جس کی آمدنی اربوں روپے میں ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں ہر گاڑی کے مالک کو جوسالانہ ٹوکن ٹیکس ادا کرتا ہے آخر وہ کس مد میں آتا ہے ۔
یہ سوچنے کی بات ہے بجائے اس کے کہ موٹروے کی تصویر کوٹویٹر پر شئیر کرتے ہوئے کہا جائے کہ یہ میرے والد کی طرف سے خوبصورت تحفہ ہے ۔ آدمی سوچتا ہے کہ یہ بے حسی اور بے شرمی ہے یا عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش۔ ذرا سوچئے۔ بقول شاعر
کھو کے کھایئے رج نہیں ہوندا
ننگا پنڈا کج نہیں ہوندا
حق مار کے مکے جایئے
پینڈا ہوندا حج نہیں ہوندا
میری گزارش ہے کہ عوام اب باشعور ہوں اور عوامی نمائندوں کا انتخاب کرتے وقت انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کریں تاکہ ان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں رہ سکے۔
(کالم نگارمختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved