تازہ تر ین

عوام دوست بجٹ؟

رانا زاہد اقبال …. اظہار خیال
تبدیلی کے نام پر ووٹ حاصل کرنیوالی تحریک انصاف کی حکومت نے پورے سال کی مدت کے لئے اپنا پہلا بجٹ پےش کےا۔ مسائل کا شکار عوام نے گزشتہ سال پی ٹی آئی کو اس امےد پر ووٹ دئے تھے کہ ان کے برسر اقتدار آتے ہی چہار جانب سے مصائب مےں گھرے عوام کی قسمت ےکا ےک بدل جائے گی۔ مہنگائی، غربت، بے روزگاری قصہ¿ پارےنہ بن جائے گی اور مصےبت زدہ لوگوں کی تمام مشکلات کافور ہو جائےں گی۔ گزشتہ پانچ بجٹ مسلم لےگ (ن) نے بنائے تھے۔ معاشی نقطہ¿ نظر سے حکومت کے عرصہ¿ اقتدار پر نظر ڈالی جائے تو ےہ تلخ حقےقت سامنے آتی ہے کہ ہر گزرتے برس کے ساتھ ملکی معےشت کی صورتحال بد سے بد تر ہوتی گئی اور زوال پزےری کا ےہ عمل ہنوز جاری ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں مےںمعےشت کی زوال پذےری کے باوجود معاشی پالےسےوں مےں کوئی بنےادی تبدےلی دےکھنے مےں نہےں آئی اور صورتحال ےہ ہوئی کے آخری سال مےں برآمدات اور درآمدات کا فرق 20ارب ڈالر تک پہنچ گےاجبکہ برآمدات مےں اضافہ اور درآمدات مےں کمی معاشی استحکام کی ضمانت ہوتی ہے۔ برآمدات اور درآمدات کے مابےن جتنا فرق کم ہو گا معاشی صورتحال اتنی بہتر ہو گی۔ دوسرے الفاظ مےں تجارتی خسارہ جتنا کم ہو گاملکی معےشت اتنی مضبوط ہو گی۔ ناقص معاشی پالےسےوں کی وجہ سے ملکی برآمدات مسلسل زوال پذےر رہےں اور درآمدات پر خرچ ہونے والے زرِ مبادلہ کا حجم مستقل بڑھتا رہا۔ حد تو ےہ ہے کہ مسلم لےگ (ن) کی حکومت نے اپنے پےش کردہ پچھلے بجٹوں مےں جن اقدامات کا اعلان کےا تھا، ان مےں سے بےشتر بروئے کار نہےں لائے گئے اور معاشی امور کو پرانی اور ناکام پالےسےوں ہی کے مطابق چلاےا جاتا رہا۔ ےہ بات روزِ روشن کی طرح عےاں ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں مےں پاکستان مسلم لےگ (ن) اور اس کے اتحادےوں نے قومی و عوامی مفاد پر اپنے مفاد کو مقدم رکھا۔ ہر طرف لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم کر دےا گےا، حتیٰ کہ آخری سال مےں پاناما اسکےنڈل منظرِ عام پر آ گےا جس کے نتےجے مےں اس وقت کے وزےراعظم مےاں نواز شرےف کو اقتدار سے الگ ہو کر سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کا نتےجہ ےہ ہوا کہ ملک معاشی طور پر کمزور ہوتا چلا گےا۔ صنعت، زراعت اور معےشت کے دےگر شعبوں کے مسائل مےں بے پناہ اضافہ ہوا۔ برآمدات کا حجم سکڑ گےا اور درآمدات بہت بڑھ گئےں، غےر ملکی سرماےہ کاری نہ ہونے کے برابر رہ گئی، زرمبادلہ کے ذخائر مےں نماےاں کمی آئی، قرضوں کا بوجھ تارےخ کی بلند ترےن سطح پر چلا گےا، گرانی اور بےروزگاری نے غرےب کی زندگی مشکل کر دی۔ جب کہ اس عرصہ مےں بےن الاقوامی منڈی مےں تےل کی قےمتےں گزشتہ دس سال کے عرصہ مےں کم ترےن سطح پر رہےں۔ اس صورتحال مےں ہونا تو ےہ چاہئے تھا کہ تےل کی کم قےمت کی وجہ سے درآمدی بل کم ہوتا اور خسارہ گھٹتا لےکن اس کے برعکس برآمدات کے مقابلے مےں درآمدات مےں اضافہ دےکھنے مےں آےا اور خسارہ بھی بڑھا جس کے بےرونی کھاتے، غےر ملکی زرِ مبادلہ اور کرنسی کی شرح تبادلہ پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس عرصہ مےں مسلم لےگ (ن) کی حکومت نے بجلی کی پےداوار تو بڑھائی لےکن ےہ ساری مہنگی بجلی تھی جس سے ملکی برآمدات مےں ٹےکسٹائل کا شعبہ دےگر شعبوں کی طرح شدےد مسائل کا شکار ہوا جن مےں سرِ فہرست بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔ زےادہ پےداواری لاگت کے باعث عالمی منڈی مےں پاکستانی ٹےکسٹائل مصنوعات مہنگی ہونے کے باعث دنےا کے دےگر ممالک کی سستی مصنوعات کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہےں۔ اس کا اےک ےہ بھی نقصان ہوا کہ ملکی سرماےہ کار و بےرونی سرماےہ کار سرماےہ کاری کے لئے دنےا کے دےگر ممالک کی جانب راغب ہوئے۔
پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت آئی تو اندرونی و بےرونی قرضوں کا بڑھتا ہوا حجم اور زرِ مبادلہ کے سکڑتے خائر اس کو ورثے مےں ملے۔ اقساط اور سود کی ادائےگی نے ان کے لئے صورتحال مزےد سنگےن بنا دی۔ اندرونی اور بےرونی قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ معےشت کے لئے زہرِ قاتل کی حےثےت رکھتا ہے۔ ےہ معاشی نمو کی راہ مےں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جس کے نتےجے مےں اقتصادی سرگرمےاں محدود ہو جاتی ہےں اور بے روزگاری اور غربت بڑھتی ہے۔ موجودہ حکومت جب سے برسرِ اقتدار آئی ہے اس کے لئے روز بروز صورتحال مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ وزےرِ اعظم عمران خان تن دہی سے ملک کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے لئے کوشاں ہےں۔ لےکن ماضی کی کوتاہےاں معےشت کے مختلف شعبوں مےں حکومت کی جانب سے بنےادی اصلاحات کرنے کی راہ مےں بھی مزاحم ہےں۔ معےشت کی نمو کم ترےن سطح پر آ گئی ہے۔ پاکستانی روپےہ اپنی قدر کھو چکا ہے جس کی وجہ سے قرض کی صورتحال بد تر ہو گئی ہے۔
حکومت نے رواں سال مالی سال کا 70کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پےش کےا ہے۔ جس مےں زےادہ زور ٹےکس نےٹ بڑھانے پر دےا گےا ہے۔ پاک فوج کی درخواست پر دفاعی بجٹ مےں اضافہ نہےں کےا گےا جو کہ 1150 ارب روپے برقرار ہے۔ وزےراعظم عمران خان ٹےکس نےٹ کو وسےع کرنے اور بڑی مچھلےوں کو ٹےکس کے دائرہ کار مےں لانے کے حوالے سے پر عزم ہےں۔ ماضی کے ادوار کی ناکام معاشی پالےسےوں کی وجہ سے بےرونی سرماےہ کار پاکستان مےں سرماےہ لگانے کےلئے تےار نہےں بلکہ وہ اپنا سرماےہ نکال رہے ہےں۔ بجٹ مےں بےرونی سرماےہ کاروں کو ترغےب دےنے کے لئے مختلف اقدامات کا عندےہ دےا گےا ہے۔ وزےر اعظم نے اپنے قوم سے خطاب مےں اےک بار پھر اس عزم کا اظہار کےا کہ وہ ملک کا لوٹا ہوا پےسہ ہر صورت ملک مےں واپس لے کر آئےں گے۔ مشکل حالات مےں مجموعی طور پر عوام دوست بجٹ ہے۔ وزےر اعظم پاکستان عمران خان اور ان کی ٹےم ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کے لئے جس طرح جد و جہد کر رہی ہے معےشت اور عوام کی حالت مےں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔
(کالم نگارسماجی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved