تازہ تر ین

عمران خان کا فیصلہ دلیرانہ کہ جان بھی چلی جائے کرپٹ افراد کو نہیں چھوڑوں گا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں نے وزیراعظم عمران خان کا خطاب سنا ہے اور اس میں ریکارڈنگ کی کوئی خرابی بھی تھی۔ کوئی ٹیکنیکل خرابی تھی یا کسی نے شرارت کی کہ وزیراعظم کی تقریر کا یہ حشر کیا جائے دو تین دفعہاس میں رکاوٹ بھی تھی ایک مرتبہ تو سکرین پر تصویر ہی ختم ہو گئی بہرحال اس بارے میں معلوم ہوا ہے اس کی انکوائری کا آرڈر کر دیا گیا ہے دیکھیں کیا نکلتا ہے کہ غیر ذمہ داری دکھائی گئی یا فنی خرابی ہے۔ جو کچھ انہوں نے کیا ان کا بہت سخت لہجہ تھا اور انہوں نے کہا چاہے کچھ بھی ہو جائے چاہے مجھے کتنی ہی تکلیف اٹھانی پڑے میں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے میں کبھی اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اس سے لگتا ہے کہ پچھلے دنوں بعض چیزیں چل رہی تھیں کہ حکومت کوئی سافٹ کارنر رکھ رہی ہے یا کوئی این آر او کی طرف بات جا رہی ہے حالانکہ وزیراعظم عمران خان کہہ بھی رہے ہیں کہ میرا کوئی اس قسم کا پروگرام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کے باوجود یہ جو بجٹ کے بعد نیا دور شروع ہوا ہے اور خاص طور پر نواز شریف صاحب واپس جیل چلے گئے حملہ شہباز شریف کو گرفتار کر لیا گیا اور پھر یہ الطاف حسین کو لندن میں گرفتار کر لیا گیا اور اب اگلی شاہد خاقان عباسی کی افوا پھیلی ہوئی ہے۔ معلوم نہیں کس حد تک صحیح ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ اب ان کی باری ہے کچھ اخبارات میں اس بارے خبریں بھی لگ گئی ہیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاید حکومت کا موقف کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہو گیا ہے۔ جہاں تک تقریر کے دوران جو کچھ ہوا ہے جو بھی حقائق سامنے آئے ہیں ان میں پرویز مشرف کی بات بھی شامل کر لیجئے گا کہ ان کے وکیل کو بولنے نہیں دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ آپ کا حق جو ہے سپریم کورٹ ختم کر چکا ہے اب آپ کو صفائی میں کچھ کہنے کا حق بھی حاصل نہیں ہے کافی تناﺅ بڑھ رہا ہے کچھ چیزوں کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت بھی فیصلہ کر چکی ہے۔ میں کل بھی بات کر رہا ہے کہ اس کا فیصلہ تو 30 تاریخ کو ہو گا لیکن ایک ہی آ گئی ہے کہ 5 ہزار لوگوں نے ایمنسٹی کے لئے درخواست دی ہے اور اسکا مطلب ہے کہ لوگوں کی تعداد کافی ہے اور رقم کتنی ہے اس میں یہ تو 30جون کو پتہ چلے گا۔ محسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے۔ بجٹ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ آنے والے چند روز کچھ اور بڑی چیزیں کلیئر ہو کر سامنے آ جائیں گی اور خاص طور پر 30 جون سے پہلے ہی بہت کچھ ہونے والا ہے اور 30 کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی ہونے والی ہیں جو لوگ تعاون نہیں کریں گے اور جن کے اعداد و شمار حکومت کے پاس موجود ہیں عمران خان صاحب کے دعوے کے مطابق تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اگر میں اپوزیشن کی بڑی عزت کرتا ہوں اپوزیشن جمہوریت کے لئے بڑی ضروری چیز ہے جب تک اپوزیشن مضبوط نہ ہو تو حکومت کبھی صحیح راستے پر نہیں چل سکتی یہ ایک لازمی جزو ہے جمہوریت کا لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ عید کے بعد یہ ہو جائے گا اور وہ ہو جائے گا اور فضل الرحمن نے یہ کہہ دیا آصف زرداری نے 10 کو لوگوں کو اسلام آباد پہنچنے کا پیغام دے دیا۔ مجھے ان ساری باتوں میں جان نظر نہیں آتی اس لئے کہ جو حقیقت ہے یعنی بلاول بھٹو کا یہ اعلان کہ آج یوم احتجاج منایا جائے گا آپ نے دیکھا کہ پورا ملک جو ہے اس میں ہمیں کوئی بڑے پیمانے پر یوم احتجاج کی کوئی جھلک نظر نہیں آئی۔ سندھ اسمبلی میں زرداری کی گرفتاری پر سندھ اسمبلی کے اندر متفقہ قرارداد منظور ہونے بارے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ قراردادوں سے بات بہت آگے نکل گئی ہے جب آپ پکڑ دھکڑ پر آ جائیں تو پھر قراردادیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ الطاف اور زرداری کی گرفتاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ میں سمجھتا ہو ںکہ یہ ساری چیزیں 30 جون تک بہت ساری باتیں کھل کر سامنے آ جائیں گی۔ بلاول بھٹو کی کریڈیبلٹی پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اپوزیشن کا ایک جگہ پر جمع نہ ہونا ہے کیونکہ رمضان کے دوران جتنی بھی باتیں تھیں کہ عید کے بعد بہت بڑے پیمانے پر احتجاجی مہم چل نکلے گی جس میں ساری اپوزیشن پارٹیاں جمع ہو گئی ہیں کوئی ایسی چیز ابھی تک تو نظر نہیں آئی۔ لگتا ہے یہ کوئی بظاہر مستقبل قریب میں کوئی بظاہر نظر بھی نہیں آ رہی۔ کسی وقت سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے تاہم فی الحال اس بات کا بڑا امکان ہر گز دکھائی نہیں دے رہا کہ کسی بڑے پیمانے پر ری ایکشن کا۔ حالانکہ بجٹ میں جو جھٹکے لگتے ہیں عوام کو ظاہر ہے مہنگائی ہوتی ہے ٹیکس نئے آتے ہیں اس کے باوجود اس میں لوگوں کا کوئی فوری ری ایکشن دکھائی نہیں دیتا اس میں گرمی کا موسم بھی ہے۔ یہ کوئی جلسے جلوسوں کا موسم بھی نہیں ہے۔ جہاں تک مریم نواز کے کل کے خطاب کا تعلق ہے باوجود اس کے کہ بہت امید بھی کی جا رہی تھی کوئی آپس میں مذاکرات بھی کئے جا رہے تھے کہ مختلف جماعتوں کے لیکن کسی نہ کسی وجہ سے بات کسی نتیجے پر پہنچ نہیں سکی۔ حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمن ملتان چلے گئے اور جو سب سے زیادہ سرفہرست تھے کہ ان کی وجہ سے بہت سارے مختلف الخیال لوگوں کے درمیان بھی اشتراک عمل کی کوئی شکل پیدا ہو جائے گی وہ بھی نہیں ہو گی اور خود انہوں نے بھی زیادہ دلچسپی نہیں لی شاید وہ مایوس ہو گئے یا کسی نئے لائحہ عمل کے انتظار میں ابھی بھی کوئی منتظر ہیں کہ کوئی نئی شکل سامنے آ جائے کیونکہ اب تک کی تیاری توجو تھی تو رائیگاں گئی ہے۔ بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ الطاف حسین کافی دنوں سے بیمار تھے اور جو لوگ ان کو مختلف تقریبات میں دیکھتے بھی رہتے تھے اور پریس کانفرنسوں میں تو ان کا سہارا دے کر چلانا پڑتا تھا اب ان کی 12 گھنٹے کی پوچھ گچھ کی گئی ہو گی اور لگتا ہے کہ جس طرح کہ ان کو منتقل کرنا پڑا ان کی طبیعت خراب ہوئی ہے۔ میں نے ان کی ایسی پریس کانفرنسیں بھی دیکھی ہے کہ ان کو دو دو لوگوں نے ان کو سہارا دے کر بٹھایا ہے۔ اس سے تو لگتا ہے کہ ان کی طبیعت تو پہلے ہی خراب تھی اب پوچھ گچھ سے مزید خراب ہو گئی ہو گی۔
الطاف حسین کی سوالات کے جواب دینا ہی پڑیں گے، حکومت کی جانب سے بھی کوئی پیغام برطانیہ ضرور جائے گا، پاکستان کی جانب سے اس معاملہ پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی کیونکہ ملک کے خلاف تقاریر کی گئی تھی۔ مشرف کیس میں سپریم کورٹ اور حکومتی حلقوں نے سختی سے کام لینے کا فیصلہ کر لیا ہے، حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے کہ مشرف عدالت میں پیش ہوں تاہم دوسری طرف سے کہا جا رہا ہے کہ مشرف کی طبیعت ناساز ہے میرے خیال میں پرویز مشرف واپس نہیں آئیں گے اور ان کی غیر موجودگی میں ہی کیس چلایا جائے گا۔ ملزم کی عدم موجودگی میں کیسز چلنے کی مثالیں موجود ہیں سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔ مشرف نے شاید واپس نہ آنے کا فیصلہ کر لیا ہے وہ وہیں رہ کر علاج کرائیں گے اور کیس کا جو بھی نتیجہ سامنے آئے اسے بھگتیں گے۔ کسان اتحاد کے اشتہار دیکھ کر تو لگتا ہے کہ انہوں نے بجٹ کو سراہا ہے اور اس سے مطمئن ہیں ابھی دوسرے فریق محمد انور کا موقف سامنے نہیں آیا۔ بجٹ کا عوام پر بوجھ تو پڑے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لئے اسے 8 ماہ مزید چاہئیں۔ ایمنسٹی سکیم میں اگر واقعی 5 ہزار لوگوں نے اپلائی کیا ہے تو اس سے بھی بڑا فرق پڑے گا۔ سابق ادوار میں حکومتیں سیاسی بھرتیاں کرتی رہی ہیں اس لئے ان کے وفادار سرکاری ملازم موجود ہیں۔ وزیراعظم کی تقریر کے دوران جو مسئلہ سامنے آیا وہ کسی کی شرارت بھی ہو سکتی ہے تاہم عموماً تکنیکی خرابی بھی ہو جاتی ہے اور میرے خیال میں ایسا ہی ہوا ہے۔ واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے حقیقت سامنے آ جائے گی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved