تازہ تر ین

سیاست نفع بخش ”دھندہ“

عبدالستار چودھری….نقطہ نظر
رمضان المبارک میں بلاول زرداری نے اپوزیشن سیاستدانوں کوافطاری دی۔ یہ افطاری تو ایک بہانہ تھا مگر اس تقریب کا ایجنڈا عمران حکومت کےلئے مشکلات میں اضافہ اور کھوئے ہوئے اقتدار کے حصول کےلئے اپنے بزرگوں کی تجاویز سے استفادہ کرنا تھا۔ مریم نواز بھی شریک تھیں۔ کلمہ طیبہ کے نام سے بنے ملک پاکستان میں ساڑھے چار سو خاندانوں کی اجارہ داریوں اور ان کی اولادوں کے اللے تللے والے ملک کے سیاستدان اقتدار کی کرسی کے حصول کےلئے مختلف کھانوں سے سجی میز کے اردگرد بیٹھے بھوک اور پیاس سے نڈھال عوام کے سودے کررہے تھے اور دوسری طرف بھی کچھ ایسی ہی صورتحال تھی کہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والے پاکستان میں بسنے والوں کے جسم سے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے کی منصوبہ بندیاں کررہے تھے۔
اس ملک کا کمزور طبقہ کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ اسے اس حد تک کمزور کردیا گیا ہے کہ اسے اپنے آپ کو زندہ رکھنے کےلئے صاحب اقتدار کی خوشامد کرنا پڑ رہی ہے اور صاحب اقتدار کمزور طبقوں کی سیاست کے اصل دعویدار بن جاتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں معاشرے کے کمزور محروم طبقات کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے بالادست طبقہ انہیں یہی درس دیتا ہے کہ یہ سب کچھ جو ان کے ساتھ ہورہا ہے اس میں خدا کی مرضی شامل ہے۔ مذہبی رہنما بھی اپنے درس و وعظ میں ان کمزور طبقوں کو یہی پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ خدا تجھ سے ناراض ہے اور تم اس کے لئے توبہ کا راستہ اختیار کرو تاکہ تمہاری حالت زار تبدیل ہوجائے۔ ہم بڑی ہوشیاری سے افراد کے بنائے ہوئے ظالمانہ نظام اور سسٹم کی ناکامی اور اپنی لوٹ مار کو محفوظ کرنے کے لئے ظاہراً ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور بڑے بڑے اجتماع کے سامنے ایکٹنگ کرتے‘ دولت پیٹ پھاڑ کر نکالیں گے‘ قوم کی دولت واپس دے دو ورنہ سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور بے عزت کرکے پیسے واپس لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ یہ ساری ڈرامہ بازیاں ظاہری ہوتی ہیں۔ پس پردہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ حقیقتاً ہمارے یہ بالادست طبقے اہل دانش اور مذہبی رہنما لوگوں کو منظم کرتے ہیں اور بالخصوص اپنے نمائندوں اور تنخواہ دار کارکنوں کو عوامی خدمت اور ٹھیکے دیتے ہیں۔ بھاری رقوم کے فنڈز مختص کرتے ہیں‘ ان کو کہا جاتا ہے کہ اپنے قائد کی صلاحیتوں اور حکومت کے منصوبوں کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کرو‘ اس کام اور خدمت کے لئے رفاہ عامہ کے جتنے منصوبے ہوتے ہیں‘ ان منصوبوں کے فنڈز یا قرض حسنہ کے نام پر گاڑیاں‘ رکشا اور کاروبار یا روزگار سکیم کے تحت جب سب چہیتے کارکنوں کو دیئے جاتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت یہ لوگ سروں پر کفن باندھ کر جلسے‘ جلوس کریں اور نعرہ بازی کریں‘ عام آدمی کے لئے صرف طفل تسلی ہوتی ہے۔
ملک کے وسائل لوٹنے والے چہرے جب تک بے نقاب نہیں ہوں گے یہ میٹھی گولیاں دیتے رہیں گے۔ یہ پیروں‘ فقیروں کے پاس بھی جاتے ہیں‘ یہ حرم شریف اور مسجد نبوی میں بیٹھ کر گڑگڑاتے بھی ہیں‘ اللہ اور اس کے پیارے نبی سے وعدے بھی کرتے ہیں‘ دراصل قوم کے یہی مجرم ہیں اور ان کا مقابلہ کئے بغیر ہماری زندگیوں میں خوشحالی نہیں آسکتی۔ہم کب تک میٹھے وعدوں پر زندہ رہیں گے۔ مدینہ کی ریاست بنانا بھی دلفریب نعرہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ ایسا کرنے کیلئے مدینہ والے کی طرز زندگی اور ان کے خلفائے راشدین کی طرز زندگی کو اپنائیں۔ اس وقت تک تو وزیراعظم کی آواز پر تمام متفقین کو اپنے اثاثے ظاہر کردینے چاہئیں تھے اور آئندہ اپنے آپ کو تبدیل کر دینا چاہیے تھا۔ مریم صفدر اور بلاول زرداری پاکستان پر قبضہ کرنے کی تیاریوں میں اپنی نئی نسل کے حواریوں کو اکٹھے کر رہے ہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو دو دفعہ اقتدار میں آئیں مگر دونوں دفعہ اپنے خاوند کی وجہ سے اقتدار چھوڑنا پڑا۔ بے نظیر طویل جلاوطنی کے بعد اپریل 1986ءکو پاکستان تشریف لائیں اور انتخابات کے ذریعہ 1988ءکو ملک پاکستان میں پہلی بار بے نظیر بھٹو وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے حلف اٹھانے کے بعد ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم زخموں کو بھریں گے، مشکلات پر قابو پائیں گے۔ بھوک کا خاتمہ کیا جائے گا،بے گھروں کو مکان اور بے روزگاروں کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔ ہم ایک طرف دولت کی ریل پیل اور دوسری طرف غربت برداشت نہیں کریں گے۔ ہم قوم کو متحد کرنے اور انصاف و برابری کی بنیاد پر اس میں قومی وقار کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے معاشرے میں امن و آشتی پیدا کریں گے۔ ملک کو اقتصادی اور معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ پھر وزیراعظم صاحبہ کارکنوں کا ایک جہاز بھر کر عمرہ کے لئے گئیں۔وہاں انہوں نے کہا کہ میں نے تہیہ کیا کہ ملک پاکستان میں آئین کے مطابق قرآن و سنت کے مطابق عوام کی خدمت کی جائے۔ ابھی حکومت کو سنبھالے سولہ ماہ ہی گزرے تھے کہ صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بحالی جمہوریت کے بعد پاکستان کے عوام بجا طور پر ایسی توقعات رکھتے تھے کہ ملک میں امن و امان، ہم آہنگی ، انصاف اور مساوات کا خوشحالی کا دور شروع ہوگا لیکن (تقریر تو طویل تھی) سب کچھ اس کے برعکس ہوا۔ سرکاری خزانے کو بے دردی سے لوٹا گیا، مہنگائی، بیروزگاری، قتل، اغوا، ڈکیتی، آتش زنی اور لوٹ مار کی لرزہ خیز وارداتیں روز کا معمول بن گئیں۔ تعلیمی ادارے اسلحہ خانہ بن گئے، بعض وزراءوزیر بن کر خدمت کی بجائے دولت دونوں ہاتھوں سے اکٹھی کرنے لگے۔ سیاسی وفاداریاں کھلی منڈی میں مویشیوں کی طرح بیچی اور خریدی گئیں ۔ سب کچھ دیکھنے اور بار بارمرکوز کرانے کے باوجود تبدیلی نہیں ہوئی۔ جس کے نتیجے میں اور ان کی کابینہ اپنے عہدوں پر برقرار نہیں ہے۔
منیر احمد منیر لکھتے ہیںہر گیم کسی نہ کسی اصول کے تحت کھیلی جاتی ہے لیکن پاکستان میں سیاست کے کھیل میں کسی اصول یا رولز کی پروا نہیں کی جاتی۔ 1989ءمیں بے نظیر کی حکومت گرانے میں نواز شریف اور اس کے ساتھیوں نے جو سیاسی چالیں چلی تھیں اور بے نظیر حکومت ختم کرائی اور 1990ءمیں نواز شریف وزیراعظم بنے۔ پھر ایسی ہی چالوں سے بے نظیر نے 1993ءمیں نوازشریف کو اقتدار سے اتارا اور بے نظیر برسراقتدار آئیں پھر کچھ ہی عرصہ بعد 1997ءکو دوبارہ وزیراعظم بنے اور 12 اکتوبر 1999ءکو جنرل مشرف نے تخت سنبھالا اور نواز شریف کو ملک بدر کیا اور پھر محترمہ بے نظیر شہید ہوتی ہیں۔ آصف علی زرداری اور مشرف گٹھ جوڑ ہوتا ہے، مختلف وزیراعظم آتے اور جاتے ہیں۔2008ءمیں آصف زرداری صدر مملکت بنتے اور اپنی پسند اور پاکستان پیپلزپارٹی کا جھنڈا تھام کر سیاست کرتے اور وزراءاعظم کا انتخاب کرتے ہیں۔نوازشریف کو 2013ءکو تیسری مرتبہ موقع ملتا ہے اور 2018ءکو خائن اور بددیانت ہو کر نااہل ہو جاتے ہیں اور 2019ءکو اقتدار سیاست مدینہ طرز کی حکومت کا نعرہ دیکر حکومت سنبھالتا ہے۔ عوام مزدور پریشان اور مہنگائی اور بیروزگاری کے جال میں پھنس جاتی ہے اور اس کی بیوروکریسی اور وزراءکی ٹیم سب اچھا کا گیت گاتی ہے۔
قارئین کرام! یہ عجیب اتفاق ہے کہ چونکہ مسلمان اسلام کا سپاہی اور نبی آخرالزماں رہبر و رہنما کا نام لیوا اور جان‘ مال و زر قربان کر دیتا ہے‘ جو بھی سیاستدان آتا ہے‘ اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ بے نظیر صاحبہ کی طرح میاں نوازشریف بھی قوم سے وعدے کر کے دل لبھاتے رہے‘ وہ کہا کرتے تھے:”میرے سامنے ایک نصب العین تھا۔ پاکستان کے خوبصورت چہرے سے پسماندگی‘ غربت و افلاس کے داغ مٹا کر اسے خوبصورت اور عظمتوں سے ہمکنار کرنے کا نصب العین۔ ووٹ اور دعائیں دینے والوں کے درد دکھ دور کرنے‘ غربت و افلاس کے مارے ہوئے انسانوں کو ان کے حقوق دلوانے‘ قرض کی لعنت سے چھٹکارا پانے‘ صدیوں سے غلامی کی زندگی گزارنے والے بے زمین ہاریوں کو زمین کا ٹکڑا دینے‘ بیروزگاروں کو روزگار کے مواقع دینے‘ صاف پانی پینے اور صحت کے مراکز قائم کرنے‘ میں نے ان لوگوں سے ووٹ اس لئے نہیں لئے کہ وہ میلے کپڑوں‘ کچے گھروں اور علم سے نابلد رہیں‘ بیمار ہو جائیں تو ہسپتالوں میں دوائیاں نہ ملیں‘ قبضہ گروپ چھایا رہے‘ ایسا نہیں ہو گا۔“ جب اقتدار مل جاتا ہے پھر سب کچھ بدل جاتا ہے۔
قارئین کرام! بہن بھائی (بے نظیر بھٹو شہید اور نوازشریف ایک دوسرے کے بارے میں کیا کہتے تھے‘ قوم ماضی کو کیوں بھلا دیتی ہے)
2002ءمیں ملک واپس آنے سے پہلے میاں محمد نوازشریف نے مسجد نبوی میں نماز عصر کے بعد ایک ملاقات کیلئے آنے والے پاکستانی حاجیوں کے گروہ سے کہا تھا کہ دعا کریں کہ رب تعالیٰ مجھے پاکستانی عوام کی خدمت کرنے کا ایک موقع اور دے دے۔ میں پاکستان کی تقدیر بدل دوں گا۔ بہن نے جنوری‘ فروری 1999ءکو بھائی کے بارے میں کہا۔ (مختلف اخبارات سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے)۔ اب بلاول اور مریم بہن بھائی ہیں ۔
(کالم نگار متعدد کتب کے مصنف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved