تازہ تر ین

”اک اور دریا کا سامنا “

انجینئر افتخار چودھری …. باعث افتخار
تھک گیا ہوں،حوصلہ جتنا بھی جوان ہوجسم کی ٹوٹ پھوٹ اسے خمیدہ کر دیتی ہے۔دو ماہ کی چھٹی لی ہے لیکن ڈاکٹر عبداللہ خیار کا کہنا ہے چھٹی کوئی نہیں۔وہ بھی اگلے ہفتے جدہ پہنچ رہے ہیں۔منیر نیازی کو نہیں مجھے بھی” اک اور دریا کا سامنا ہے“۔
چٹکی کاٹ کے دیکھ لیجئے کہ آپ پاکستان کی تاریخ کے ان دنوں میں ہیں جہاںمیرے نزدیک پاکستان کے تین بڑے قومی مجرم جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں جبکہ چوتھے کا بیٹا بھی اپنے تایا ابو کے ساتھ جا ملا ہے۔قارئین میں پی ٹی آئی کے ذمہ دار کی حیثیت سے نہیں ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں یہ سب کچھ نا ممکن تھا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ آئیے کراچی چلتے ہیں یہ نوے کی دہائی ہے یہاں الطاف حسین کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا تھا چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی۔خوف ایسا تھا کہ شہر کی گلیوں کے مکیں چاپ سنتے تھے تو لگ جاتے تھے دیوار کے ساتھ۔ یہ چاپ فوجی بوٹوں کی نہیں تھی۔ بوریاں تیار کی جاتی تھیں ،کتنے ماﺅں کے بچے اس نفرت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ الطاف کی دہشت کے بارے میں بات کریں تو خوف ہراس سراسیمگی کے علاوہ کوئی لفظ ہی نہیں ملتا یہ دہشت نئی صدی میں بھی جاری رہتی ہے ۔ نئی صدی تو آ گئی مگر الطافی دہشت کا اپنا مقام برقرار رہا۔ میں ان دنوں جدہ میں تھا لسانیت پرست سنپولئے اس قدر طاقت ور تھے کہ کوئی ہل نہیں سکتا تھا وہاں کے مشاعروں ادبی تقریبات میں انڈین شاعروں کو ہمارے الطافی بلایا کرتے ۔اللہ بھلا کرے نصیر اللہ بابر کا انہوں نے ریاست کے اندر ایک ریاست کے داعیوں پر ہاتھ ڈالا۔عبداللہ شاہ جو مراد علی شاہ کے والد تھے وہ وزیر اعلی تھے انہیں صحافیوں نے گھیر لیا اور لگے پریشان کرنے۔ یہ” خبریں“ کی طاقت تھی کہ ہم نے اس لسانی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ایک بار ایک شاعر جو انڈین تھا اس نے جرمن ہسپتال کے مشاعرے میں ایک مظلومانہ شعر کراچی کی نذر کیا تو میں واحد شخص تھا جس نے بلند آواز میں کہا کہ یہ شعر کشمیریوں کی نذر کرو ہمارا کراچی پر امن ہے۔مجھے معلوم ہے کہ ان ملک دشمنوں نے میرے لئے کیا کیا کانٹے بوئے ۔ کہتے ہیں میری جدہ سے جبری بے دخلی کے پیچھے بھی یہی لوگ تھے جو مجھ سے اقامے کی کاپی لے کر سعودی مباحث کو دے آئے۔ جنرل مشرف دور میں جو چمچے اور کڑچھے اس ظالم کے حقے کا پانی بھرتے تھے وہ بھی یہی لسانیت پرست ٹولے کے لوگ تھے ۔انہوں نے مجھے بند کرایا میرے اللہ نے مجھے مشرف گراﺅ تحریک میں حصہ لینے کے لئے پاکستان بھیج دیا اس کے مظالم کا بدلہ شارع دستور پر آ کر لیا۔میں معلق شخص تھا۔ نون لیگ کے اور بہت سے ساتھی گرفتار ہوئے جن میں آفتاب مرزا ،نعیم بٹ، امجد خواجہ،شہباز دین بٹ، ڈاکٹر قسیم، عظمت نیازی ،تسنیم صدیقی، ارشد خان ،قاری شکیل اور ان گنت لوگ تھے ۔ میں مزاجاً مسلم لیگ کی نونی سوچ کے مخالف تھا جیسے ہی 12مئی کے خونیں واقعات ہوئے اور ایک مرد جری عمران خان نے اسے للکارا تو میں نے پی ٹی آئی جائن کی۔یہی ایک وجہ تھی کہ میں الطافی سوچ کے خلاف تھا ۔میں سمجھتا تھا کہ اس شخص نے شہر کراچی جو پاکستان کی معاشی ماں تھی اسے برباد کر کے رکھ دیا یہ پاکستان کے کونے کونے سے آئے ہوئے لوگوں کا دبئی تھا۔
بشریٰ زیدی کیس کا بہانہ کر کے اس معاشی حب کو 1985ءمیں نقصان پہنچانے کی کاروائی شروع کر دی گئی 33 سال کے بعد الطاف حسین پر ہاتھ ڈالا گیا۔عمران خان وہ شخص تھا جو سکاٹ لینڈیارڈ کے پاس کیس لے کر گیا چودھری نثار علی خان نے اس کی پیروی کی اور آج یہ خوش خبری سننے میں آئی کے الطاف پکڑا گیا۔حضور دیکھ لیجئے کہ عمران خان نے کیا کیا کر لیا ہے اس ایک سال سے کم عرصے میں۔خان نے جب 2007ءکی کڑکتی دوپہر میں پی ٹی آئی کا جھنڈا تھمایا اور کہا افتخار دیکھ لینا یہ پی ٹی آئی ہے ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے مجھے اس صحافی نے دیکھ کر کہا صحافی سیاسی پرچم نہیں اٹھاتا تو میں نے استاد محترم سے کہا نہیں سر میں صرف صحافی نہیں ہوں میں تبدیلی کا مسافر ہوں قلم بھی ساتھ ہے اور زمین پر لڑنے کا حوصلہ بھی۔ اللہ خوش رکھے انہوں نے تھاپڑا دیا۔
”گو مشرف گو“ کے بعد” گو نواز گو“ بھی کیا اور سپریم کورٹ میں جس دن نواز شریف نا اہل ہوئے آخری نعرہ اور سیاسی جھڑپ میرے ساتھ ہوئی ۔دنیا گواہ ہے قلم ،گلہ اور دیگر جد وجہد جاری رکھی۔ مجھے کہنے دیجئے کہ نواز شریف اور زرداری نے الطاف کو پالا ایک بار یہی پارٹیاں لندن میں اکٹھی ہو کر بائیکاٹ کرتی ہیں کہ ایم کیو ایم کے ساتھ نہیں کھڑی ہوں گی اور اگلے ہی لمحے یہ الطاف حسین کی حمائتی بن جاتی ہیں۔کوئی اگر یہ کہے کہ ایم کیو ایم تو عمران خان کے ساتھ ہے تو اسے بھول ہے ایم کیو ایم کے سانپ کے سارے زہر والے دانت نکالے جا چکے ہیں ۔آج ایم کیو ایم قومی دھارے میں شامل ہے۔
بڑے مگرمچھوں کی گرفتاری پر قوم کو خوش ہونا چاہئے۔ چند لوگ زرداری کی گرفتاری پر احتجاج کر رہے ہیں،مری روڈ پر چند گنے چنے لوگ موجود تھے ٹریفک کچھ دیر کےلئے رک گئی تھی پوچھا کیا ہوا پتہ چلا جیالے ہیں احتجاج کر رہے ہیں۔کس بات کا ان بے نامی اکاﺅنٹس کے پکڑے جانے کا ،فالودے والے کا، ویلڈر کا ،ایان علی کی سمگلنگ کا ،منی لانڈرنگ کا احتجاج ۔کون ہے یہ چند جھلے لوگ جو اپنے تن کے پھٹے کپڑوں کا باعث بننے والے زرداری کےلئے سڑکوں پر ہیں۔ کراچی جو ایک دھاڑتے شخص کی آواز سے سہم جاتا تھا آج رواں دواں ہے کراچی اب آزاد ہے حیدر آباد میں بھی کوئی احتجاج نہیں۔
اس امن اور پیار بھرے ماحول کے پیچھے فوج ہے اور اس فوج نے جہاں فاٹا ،سیاچین ،وزیرستان میں امن کے پھول کھلائے ہیں اس نے کراچی کو بھی امن دیا ہے۔فوج نے صرف ایک کام کیا ہے اس نے ڈبے میں ڈلنے والے ووٹ کی حفاظت کی ہے۔ووٹ تو پہلے بھی نیشنل پارٹیوں کےلئے تھا۔شاید دوسری پارٹیوں کو یہ تکلیف تھی کہ لوگ جو ووٹ ڈال کے گئے اسے اپنے مقصد کے لئے کیوں نہیں تبدیل کر سکے ۔دنیا جانتی ہے کہ 2013ءکے الیکشن میں کیا ہوا، ٹھپے لگائے جاتے تھے اور لوگوں کو کہہ دیا جاتا تھا کہ جائیے شناختی کارڈ گھر پہنچ جائے گا۔
الطاف حسین نے دشمن کی سر زمین پر بیٹھ کر جو کاری ضربیں پاکستان پر لگائیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔دو قومی نظریہ کی مخالفت، بھارت کو در اندازی کی دعوت اور پاکستانی اداروں کے لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنانے والے الطاف حسین کو تھانے میں بند ہونے کے بعد احساس تو ہو گیا ہو گا کہ تخریب بری بلا ہے ۔ علی وزیر،محسن داوڑ اور چند پشتینیﺅں کے لئے یہ سبق ہے کہ دھرتی ماں ہوتی ہے ماں کی مانگ اجاڑنا انتہائی مکروہ عمل ہے۔ لوگ جان لیں کہ پاکستان کے ساتھ کھلواڑ آسان نہیں ہے اگر کل کا الطاف حسین جس کے اشارے سے کراچی سوتا تھا اور جاگتا تھا آج لندن میں بے بسی کی زندگی گزار رہا ہے۔زرداری جس نے اس ملک کے وسائل کو لوٹا ،نواز شریف اور حمزہ جو پاکستان کو کھوکھلا کر گئے۔ یہ سب جیلوں میں ہیں۔عزت اور ذلت کیا ہوتی ہے یہ تو ان لوگوں کوپوچھیں جنہوں نے اس کے پیمانے شرافت کی حد میں طے کر رکھے ہیں۔اللہ پاک پاکستان کے نصیبوں کے بگاڑنے والوں کے ساتھ جو کر رہا ہے اس پر لوگ اس کے شکر گزار ہیں۔
مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب عمران خان ایم کیو ایم کے خلاف کراچی جانے کی کوشش کرتے ان کا ڈرائیور سفیر مجھے گلزار قائد سے لیتا میں قائد کے ساتھ پریس کے لئے گفتگو کے وقت پیچھے کھڑا ہوتا انہیں واپس کر دیا جاتا مجھے پھر عمران خان واپسی پر آئی نائن چھوڑ جاتے۔یہ تھی کوشش جو 2007ءمیں شروع ہوئی اور آج اللہ کے کرم سے 2019ءہے آج قائد کے ساتھ ندیم افضل چن ہے، فردوس عاشق ہیں، افتخار درانی ہیں۔اللہ انہیں خوش رکھے۔
2007ءمیں تھاما پرچم آج بھی تھامے اپنے سینے سے لگائے دن گزار رہا ہوں۔ میں گو مشرف گو کی تحریک کی کامیابی کے بعد سعودی عرب چلا گیا تھا پھر عمران خان احسن رشید سے پوچھ کر گیا تھا انہی کے کہنے پر واپس آیا تھا۔پلاسی کی دوسری لڑائی 2014ءسے آ کر شروع کی اور اس میں بھی فتح پائی۔آج پارٹی کی حکومت ہے تنظیم کے ساتھ اسی طرح جڑا ہوا ہوں۔ایک تھکا دینے والی جد وجہد کے بعد دو ماہ کی چھٹی لے کر جا رہا ہوں ۔پہلی چھٹی عمران خان نیازی سے لی دوسری سیف اللہ خان نیازی سے۔دو ماہ کےلئے سعودی عرب جا رہا ہوں ۔اک اور دریا کا سامنا ہے۔
( تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved