تازہ تر ین

آہ….!رحمت علی رازی

عبدالستاراعوان….احوال عصر
سینئر صحافی‘ کالم نگاراور ہر دلعزیز شخصیت رحمت علی رازی جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب انتقال کر گئے ۔( انا للہ وانا الیہ راجعون)۔رازی صاحب بالکل اچھے بھلے تھے اور فیصل آبادمیں ایک شادی کی تقریب میں جانے سے پہلے اپنے سٹاف سے مل کر گئے اور اسی تقریب سے واپس لاہور آرہے تھے کہ دل کا دورہ پڑنے کے سبب اپنے چاہنے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گئے ۔ ان کا اچانک سانحہ ارتحال ملک بھرکے صحافتی حلقوں پراس قدر گہراصدمہ طاری کر گیا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیاجا سکتا۔
رحمت علی رازی تحقیقی صحافت کی دنیا میں ایک قدآورنام تھا۔ان کی یاد میں کالم لکھنے بیٹھا ہوں توان سے وابستہ یادوں کی ایک کہکشاں سی سامنے آگئی ہے اور آنکھیں پرنم ہو رہی ہیں ۔ ان کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا تھا جو محض اپنی محنت اور ریاضت سے ایک خاص مقام حاصل کرتے ہیں۔ رازی صاحب نے صحافتی سفر کا آغاز 1974ءمیں روزنامہ”وفاق“ سے بطوررپورٹر کیاتھا۔ 1988ءمیں آئی ایس پی آرکی جانب سے ”دفاعی نامہ نگار“ کی تربیت حاصل کی۔ 1989 میں پاک فوج کی تاریخی جنگی مشقوں کے موقع پر فوج کے مختلف یونٹوں کے ساتھ رہے او ربہترین رپورٹنگ پر انہیں اس وقت کے آرمی چیف کی طرف سے ”تعریفی سند“ دی گئی۔ 1994ءمیں روزنامہ نوائے وقت اور بعد میں سینئر سٹاف رپورٹر کی حیثیت سے روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوئے۔بعدازاں ان کی قابلیت کے پیش نظر انہیں جنگ گروپ آف نیوز پیپرز کا ”ایڈیٹر انویسٹی گیشن“ مقرر کیا گیا۔انہوں نے طویل عرصہ تک روزنامہ جنگ میں ہفتہ وار کالم ”درون پردہ“ لکھا۔ وہ روزنامہ خبریں اورایکسپریس میں بھی مستقل کالم لکھتے رہے۔انہوں نے صحافت کی دنیا میں ایک منفرد شناخت قائم کی اورانہیں صحافتی خدمات کی بنا پر بہت سے ایوارڈ ز سے نوازاگیا تھا۔رازی صاحب نے تقریبا ً بارہ سال قبل اپنا ادارہ’ ’ عزم میڈیا گروپ “قائم کیا تھا جس کے تحت روزنامہ طاقت،،ہفت روزہ عزم،ڈیلی بزنس ورلڈ(انگریزی )،منتھلی اکنامک ورلڈ (انگریزی) باقاعدہ شائع ہوتے ہیں۔رازی صاحب کی زندہ دلی اور ورکرز کے حقوق کے خیال کا اس سے بڑا اورکیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس جتنے بھی ورکر زتھے وہ سالہا سال سے انہی کے ساتھ منسلک رہے۔ اپنے لوگوں کو بروقت مزدوری دیتے اور سٹاف کے ساتھ ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش آتے ۔
رازی صاحب سے میری پہلی ملاقات 2009ءمیں اس وقت ہوئی جب میں ایک اخبار میں سب ایڈیٹر تھا۔ایک رات گیارہ بجے جب اخبار کی ڈاک کاپی پریس جا چکی تو میں جیل روڈ پر واقع ان کے آفس کی طرف جانکلا۔ ان دنوں رازی صاحب روزنامہ جنگ میں ہفتہ وار وار طویل ترین کالم”درون پردہ“لکھتے تھے اور میں ان کا مستقل قاری تھا۔ میرا تصور بس یہی تھا کہ وہ ایک سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں لیکن ان کے آفس پہنچ کر مجھ پرکچھ اور ہی بھید کھلا۔استقبالیہ پر موجود نوجوان نے انہیں اطلاع دی تو پانچ سات منٹ انتظار کے بعد مجھے اندر بھیج دیا گیالیکن ان کے کمرے میں جاتے ہی مجھ پر کپکپی سی طاری ہوگئی۔کمرہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا اوربڑی سی میز کے پیچھے براجمان رازی صاحب کے سامنے پانچ چھ ٹیلی فون سیٹ رکھے تھے۔ وہ کبھی ایک فون پر کسی سے بات کرتے تو کبھی دوسرے پر۔ کسی کو فون پر کہہ رہے تھے: ”جی ہاں، ان صاحب کی ٹرانسفر کر دی جائے“ یا ٹھیٹھ پنجابی میں کسی اعلیٰ پولیس افسر کو کہہ رہے تھے:”یار ایہہ حوالدار بے چارے دی ترقی رکی اے۔ ایہدے تے مہربانی کر دیو“۔
میں ان کے کمرے کا منظر ،ملاقاتیوں کا انداز اور ان کی گفتگو سن کر مزید سہم ساگیا کہ میں یوں منہ اٹھائے کس بڑی شخصیت کے پاس آدھمکاہوں،لیکن چند ہی لمحوں بعدمنظراس وقت بدل گیاجب میری توقع کے برعکس انہوں نے نظرا ٹھا کر میری طرف دیکھا اور دبنگ پنجابی لہجے میں گویا ہوئے۔:”اوئے،پتر اے کرسی کھچ کے میرے کول آکے بہہ جا۔ تے دس کیہ گل اے؟ “۔میں لرزتے قدموں سے اٹھا اور ان کے قریب جا بیٹھا اور بہ دقت تمام صرف دو باتیں ہی کرسکا: ”آپ کا کالم ”درونِ پردہ “مستقل پڑھتاہوں اور آپ کو ایک نظر دیکھنے کے لیے حاضرہواہوں“۔بس یہ تھا اس ملاقات کا مختصر احوال۔پانچ سات منٹ کے بعد میں نے اجازت چاہی تو کہنے لگے کہ یہ آپ کا اپنا آفس ہے،چکر لگاتے رہا کرو۔ پھر گاہے بگاہے ان سے فون پر رابطہ کر کے ان کی احوال پرسی کرلیتااور کچھ عرصہ بعد ان سے ملنے ضرور پہنچ جاتا۔بعد میںمَیں نے ان کے ساتھ کام بھی کیا اور مجھے فخر ہے کہ ان کے ساتھ میرابہت ہی اچھا وقت گزرا۔شخصیات کوجانچنے پرکھنے والے احباب اور بالخصوص صحافی برادری بخوبی جانتی ہے کہ رحمت علی رازی صاحب کس” کینڈے “کے آدمی تھے۔جتنا ان کے متعلق میں جانتا ہوں وہ یہ کہ رازی صاحب تعلقات کے معاملے میں بہت حساس واقع ہوئے تھے۔وہ ایک ایسے انسان تھے جو کسی بھی شخص سے دوستی رکھتے یا دشمنی۔ تیسری آپشن یعنی منافقت ان کے پاس نہ تھی۔ منافقت اورمحض رکھ رکھاﺅ کے قطعی طور پرقائل نہیں تھے۔دیہاتی مزاج کے آدمی تھے اور اپنی اس شناخت پربڑا فخربھی کرتے ۔
رازی صاحب پنجاب کی افسر شاہی کے بارے میں بہت ہی باخبر رہتے ، انہیں معلوم تھا کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ بعض مذہبی و مسلکی معاملات میں بھی سخت گیر واقع ہوئے تھے اور بھری مجلس میں اپنے نظریا ت کاپرچار کرتے۔وہ بنیادی طور پر صوفی ازم اور مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ کی فکر سے بہت متاثر تھے۔ وہ اس بات کابھی برملا اظہار کرتے کہ آج کل تو صوفی ازم ، روحانیت اور مزارات کے نام پر صرف اور صرف لوٹ کھسوٹ کا بازارگرم ہے اوراب وہ دور لد چکا جب صوفی برکت علی لدھیانوی مرحوم رحمہ اللہ آف سمندری جیسے درویش اپنے فیض سے لوگوں کو بہرہ مند کیاکرتے تھے۔
رازی صاحب میں اس قدر اخلاقی جرات تھی کہ کسی بھی اصولی موقف پر بھری مجلس میں ڈٹ جاتے ۔جس وقت وزیر اعظم عمران خان نے اخبار نویسوں کو اپنے ہاں مدعو کیاتو ان میں رازی صاحب بھی نمایاں تھے۔ وزیر اعظم کے سامنے جب” کڑک دار “ لہجے میں بات شروع کی تو کسی نے وزیر اعظم کا دل خوش کرنے کی خاطر کہہ دیا کہ رازی صاحب آپ خاموش رہیں اور عمران صاحب کو بولنے دیں۔ اس پررازی صاحب” تپ “گئے اور پنجابی لہجے میں گویا ہوئے:”وزیر اعظم صاحب اَسی صرف تہاڈے ملفوظات سنن نئیں آئے ، کجھ اپنی وی سنانڑ آئے آں“۔ اس پر عمران خان مسکرادیئے اورکہا رازی صاحب میں آپ کو گزشتہ 35برس سے جانتاہوں۔ آپ ضرور بولیں اور کھل کر بات کریں۔
بس انسان اس فانی دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے اور اس کے چاہنے والوں میں اس کے تذکرے اور حسین یادیں ہی باقی رہ جاتی ہیں۔رازی صاحب بظاہر تو اس دنیا سے رخصت ہو کر ہم سے بہت دور جا چکے ہیں لیکن وہ اپنی بے پناہ صحافتی خدمات ، بے داغ کردار اوربے حد خلوص کی بنا پر لوگوںکے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ بلھے شاہ اساںمرنا نا ہیں، گور پیا کوئی ہور۔
(کالم نگارسماجی وادبی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved