تازہ تر ین

ڈاکٹر انورسجاد بھی رخصت ہوئے

میم سین بٹ….ہائیڈپارک
دنیا میں جو بھی آیا اس نے بالآخر ایک روز واپس بھی جانا ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر انور سجاد بھی طویل علالت کے بعد رخصت ہوگئے ہیںانہوں نے ربع صدی سے لکھنا اور ڈراموں میںکام کرنا ترک کررکھا تھا اب جسمانی طور پر بھی قارئین و ناظرین سے دور ہو گئے ہیں انہیں غالباََ دمہ اورفالج کے عوارض لاحق تھے ان کی وفات سے ادب وثقافت کاایک اہم باب بند ہو گیا ہے۔ وہ لاہوریئے تھے ان کی زندگی کا بیشتر حصہ لاہور شہر میں ہی بسر ہوا تھا کچھ عرصہ بیرون ملک اور مارشل لاءکے دوران جیل میں بھی رہے ان کی زندگی کا آخری دور کراچی میں بسر ہوا لیکن وفات سے پہلے قبرستان میانی صاحب میں ابدی نیند سونے کیلئے اپنی جنم بھومی لاہور لوٹ آئے تھے۔ وہ بنیادی طور پرمعالج تھے اور اندرون شہر چونا منڈی میں اپنے والد ڈاکٹر دلاور شاہ کے کلینک پر برسوں مریضوں کا علاج کرتے رہے ،ان میں اور ڈاکٹر یونس بٹ میں ہمیں کچھ مماثلت دکھائی دیتی تھی دونوں یکساں جثے کے حامل ،کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (اب یونیورسٹی ) کے فارغ التحصیل تھے اور ٹی وی ڈراما نگار کے طور پر مشہور ہوئے ۔
ڈاکٹر انور سجاد کو زمانہ طالب علمی کے دوران ہی ادب اور فنون لطیفہ میں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی انہوں نے لکھنے کا آغاز شاعری سے کیا تھا ان کی پہلی نظم آزادی کے دوبرس بعد چھپی تھی پھر انہوں نے افسانے اور ناول لکھے ان کا پہلا ناولٹ ”رگ سنگ “ 1955ءمیں شائع ہوا تھا ان کے ناول ”جنم روپ “ اور ” خوشیوں کا باغ “ اندرون شہرکے پس منظر میں اور فوجی آمریت کے حوالے سے لکھے گئے تھے ان کی دیگر کتابوں میں چوراہا، استعارے، تلاش وجود،زرد کونپل، صبا اور سمندر، نگار خانہ، رات کے مسافر، رسی کی زنجیر،نیلی نوٹ بک اورپہلی کہانیاںشامل ہیں۔ انہوں نے افسانے اور ناول لکھنے کے علاوہ ڈ راما نگاری بھی کی ،ان کے افسانے اور ناول ہی نہیں ڈرامے بھی علامتی ہوتے تھے ۔ وہ روسی ادب سے متاثر تھے ، تھیٹر اور ٹی وی کےلئے لکھے جانے والے اپنے ڈراموں میں خود بھی اداکاری کرتے رہے ،پی ٹی وی کیلئے ان کا تحریرکردہ ڈراما ”رسی کی زنجیر“ ہمیں آج بھی یاد ہے جس میں انہوں نے خود بھی کردارادا کیا تھا۔ ہمارے چھوٹے پھوپھا خواجہ صدیق ممتاز ڈار بھی اس ڈرامے کے بہت سے کرداروں میں شامل تھے ۔ ڈاکٹر انور سجادافسانہ نگار ،ناول نگار ،ڈراما نگار ،اداکاراور ہدایت کار ہی نہیںمصور اورکتھک رقاص بھی تھے ان کی پہلی شادی خاندان میںہی ہوئی تھی جس سے اولاد پیدا نہ ہوئی انہوں نے دوسری شادی معروف فنکارہ اور تیسری غالباََمشہور رقاصہ سے کی تھی تاہم فیض احمد فیض کی طرح نرینہ اولاد سے محروم ہی رہے البتہ سابق ٹی وی فنکارہ زیب رحمان سے ان کی دوبیٹیاں عائشہ سجاد اورپریا سجاد ہیں۔
حلقہ ارباب ذوق سے ڈاکٹر انور سجاد کا بہت پرانا تعلق تھا انہوں نے حلقے میں سیشن 1955,56ءکے دوران اپنا پہلا افسانہ تنقید کیلئے پیش کیا تھا بعدازاں وہ 1971,72ءکے سیشن میں حلقے کے سیکرٹری بھی رہے بلکہ وہ متحدہ حلقہ ارباب ذوق کے آخری سیکرٹری تھے ان کے دور میں ہی حلقہ پہلی بار دولخت ہوا تھا ان سے پہلے منیر نیازی مسلسل دو برس حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری رہے تھے ۔ ڈاکٹر انور سجاد نے سالانہ انتخابات میں منیر نیازی کے گرائیںسہیل احمد خان کو شکست دی تھی اگلے سالانہ انتخابات میں ڈاکٹر انور سجاد کی جگہ شہزاد احمدشہزاد سیکرٹری اور شاہد محمود ندیم جائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے تھے جن کے چارج سنبھالنے سے پہلے ہی 12 مارچ 1972ءکو انتظار حسین، انجم رومانی ،شہرت بخاری ، منیر نیازی ، انیس ناگی ،احمد مشتاق ،حبیب جالب اوریونس جاوید وغیرہ نے وائی ایم سی اے سے اٹھ کر پاک ٹی ہاﺅس میں حلقہ ارباب ذوق (ادبی ) کے نام سے الگ دھڑا تشکیل دے لیا تھا اوراپنے حریفوں کے دھڑے کو حلقہ ارباب ذوق (سیاسی ) کا نام دیدیا تھا ۔
بھٹو دور میں ڈاکٹر انور سجادثقافتی تنظیم آرٹسٹس ایکویٹی کے سیکرٹری جنرل کے علاوہ آرٹس کونسل کے پہلے چیئرمین بھی رہے ان کی گورننگ کونسل فیروز نظامی، فریدہ خانم، مہاراج کتھک ،معین نجمی، خالد اقبال، بانو قدسیہ ،ایم شریف، کمال احمد رضوی،خالد عباس ڈار ،علی اعجاز اور شاہ عنایت پر مشتمل تھی۔ ڈاکٹر انور سجاد سے پہلے ادارہ الحمراء”پاکستان آرٹس کونسل لاہور “کہلاتا تھا اور اس کا انتظام وفاقی حکومت کے پاس ہوتا تھا جبکہ آرٹس کونسل کا سربراہ سیکرٹری کہلاتا تھابھٹو دور میں آرٹس کونسل کو پنجاب حکومت کے سپرد کیا گیا تھا ۔ ڈاکٹر انور سجاد لاہور آرٹس کونسل کے 8 اگست 1973 ءسے 26اپریل 1975 ءتک چیئرمین رہے تھے پھر الحمراءکی نئی عمارت تعمیر کرانے کے معاملے پر اختلاف کے باعث انہوں نے استعفیٰ دیدیا تھا ۔
ڈاکٹر انور سجاد کی وفات پر اب پہلا تعزیتی ریفرنس بھی الحمراءنے آرٹس کونسل کے ہال 3 میں کروایا جس میں لاہور آرٹس کونسل کے موجودہ چیئرمین اور سابق ٹی وی فنکار توقیر ناصر نے بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹر انور سجاد کے تحریرکردہ متعدد ڈراموں میں کام کیا ،پی ٹی وی پر انور سجاد کے ایک ڈرامے میں ان کا کردار سانپ کا تھا جو مختلف انسانی بہروپ بدلتا ہے ،خالد عباس ڈار نے لڑکپن کے حوالے سے یادیں تازہ کیں جب وہ انور سجاد کے ساتھ بائیسکل پر بیٹھ کرآرٹس کونسل آیا کرتے تھے یہیںجب ٹی وی کی آزمائشی نشریات شروع ہوئیں تو اسلم اظہر کے ساتھ انور سجاد نے بھی ٹی وی کو مقبول بنانے اور ثقافت کو فروغ دینے کیلئے بڑی محنت کی تھی ،خالد عباس ڈار نے ڈاکٹر انور سجاد کے تحریرکردہ بہت سے تھیٹر ڈراموں اور ٹی وی سیریلز میں کام کیا تھا ۔
فیض احمد فیض کی صاحبزادی منزہ ہاشمی نے الحمراءکے اس زمانے کی یادیں تازہ کیں جب ان کے والد آرٹس کونسل کے سربراہ تھے اوروہ لڑکپن کے دوران اسی الحمراءکے لان میں کھیلا کرتی تھیں ڈاکٹر انور سجاد بھی ان دنوں آرٹس کونسل سے منسلک تھے اور لطیفے بہت سنایا کرتے تھے وہ اس زمانے میں ٹی وی پر خالد سعید بٹ اورفاروق ضمیر کے ساتھ مل کر ”کہانی کی تلاش“ کے نام سے لائیو پروگرام بھی کیا کرتے تھے ،ڈاکٹر انور سجاد کی چھوٹی صاحبزادی پریا سجاد نے تعزیتی ریفرنس میں اپنے بابا کو جذباتی انداز میں یاد کیا تاہم انہوں نے یہ کہہ کر حیران کردیا کہ ڈاکٹر انور سجاد انگریزی میں بات نہ کرنے پر ان سے خفا ہوجایا کرتے تھے۔ الحمراءکے ڈائریکٹر ذوالفقار زلفی نے بتایا کہ وہ بھی چونا منڈی میں رہتے تھے اور ڈاکٹر انور سجاد سے علاج کروایا کرتے تھے تاہم وہ انکی ادبی اور ثقافتی حیثیت سے آگاہ نہیں ہوتے تھے ، لاہور آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اطہر علی خان بھی تعزیتی ریفرنس کے دوران سٹیج پر موجود رہے۔ میاں اعجاز الحسن نے ڈاکٹر انور سجاد کی مصوری کے بارے میں تفصیلی اظہار خیال کرنے کے بعد بتایا کہ انہوں نے گنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرنے میں کئی برس لگا دیئے تھے تاہم وہ بہت قابل تھے انہوں نے آرٹسٹس ایکویٹی کے پلیٹ فارم سے فنکار طبقے کیلئے بہت کام کیا !میاں اعجازالحسن خودبھی آرٹسٹس ایکویٹی میں ڈاکٹر انور سجاد کے ساتھ ہوتے تھے ،اصغر ندیم سید کا توڈاکٹر انور سجاد کے ساتھ دن رات کا ساتھ رہا تھا جب وہ کراچی منتقل ہونے لگے تو انہوں نے اصغر ندیم سید کو بتایا کہ میںلاہور چھوڑ رہا ہوں !جس پر انہوں نے پوچھا تھا کہ کیا آپ کے اندر سے لاہور نکل سکتا ہے ؟ جس پر ڈاکٹر انور سجاد نے کہا تھا کہ لاہور میرے اندر سے نہ نکلے لیکن میں تو لاہور سے نکل سکتا ہوں ! اصغر ندیم سید نے بتایا کہ جس روز ڈاکٹر انور سجاد کا انتقال ہوا تو اخبارات کی چھٹی تھی جس پر انہیں افتخار عارف کی نظم یاد آگئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جب میرا انتقال ہوگا تو پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی۔۔۔!
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved