تازہ تر ین

ہیپی فادر ڈے

سجاد جہانیہ…. دیکھی سُنی
ہوش کی آنکھ کھولتے ہی جس ہاتھ کو ہمیشہ سہارا پانے کی آس میں تھاما ہو‘اس کو سہارا دینا روح کے پٹھوں میں تشنج پیدا کردینے والا کام ہے۔ کچھ ہاتھ تو آپ کی زندگی میں آتے ہی اس لئے ہیں کہ جب آپ لڑ کھڑا ئیں اور دنیا کے دھکے آپ کے قدموں کو زمین کی پشت سے اکھاڑ دینے کو ہوں تو وہ ہاتھ بڑھا کر آپ کو تھام لیں۔ صوفی نے تو خیر براہِ راست مالک کو مخاطب کر ڈالا تھا کہ
میں انہا تے تلکن رستہ
کیوں کر ہووے سنبھالا
دھکے دیون والے بَوتے
توں ہتھ پکڑن والا
مگر خالق نے اپنے بہت سے کام اور اختیارات کا قلیل حصہ شاید مخلوق کو بھی سونپ رکھا ہے۔ دیگر بہت سے معاملات کے ساتھ ساتھ یہ ہاتھ دے کر سہارا بننے والا کام اس مٹی و پانی کی دنیا میں رب نے والدین کے ذمہ دیاہے۔ دنیا کے سات ارب لوگوں میں سے چھ ارب ننانوے کروڑ‘ ننانوے لاکھ‘ ننانوے ہزار‘ نو سو اٹھانوے لوگ بھی آپ کو دھکے دینے کے کسب پر اتر آئیں‘تب بھی ماں اور باپ دھکا نہیں دیتے بلکہ بڑھ کر تھام لیا کرتے ہیں۔
یہ سطریں کاغذ کے بدن پر اترتی ہیں تو جون کا ایک سلگتا ہوا دن اپنی ابتدائی دوپہرتمام کرچکا ہے اور میں نے ابھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ فادرز ڈے کے حوالے سے پڑھی ہے تو یہ خیالات یلغار کئے ہوئے ہیں۔ اباجی نے خیر سے عمر عزیز کا چھیاسی واں برس تمام کرلیا ہے اور ان تمام مہربانیوں کے‘شفقتوں کے‘رحمتوں کے اور وارفتگیوں کے مناظر نظروں کے سامنے گھوم رہے ہیں جو اباجی کی طرف سے پچھلے انچاس برس کے دوران سے میرا مقدر ہیں۔ دفتر کے دفتر لکھے جاسکتے ہیں مگر سوچ کا دَرکھلا ہے تو یادوں کی سکرین پر ناسٹلجیا کے تار جھلملا اٹھے ہیں اور جو پہلا منظر ابھرتا ہے‘ اس کے بیک گراو¿نڈ میں سورة رحمن کی آیات گونج رہی ہیں۔ ”رحمان ہی ہے جس نے قرآن سکھایا‘ اسی نے انسان کو پیدا فرمایا اور پھر بیان سکھایا“۔ مجھے میرے ابا جی نے قرآن سکھایا۔ ایک چھوٹا سا بچہ ہے جس نے ابھی سکول جانا بھی شروع نہیں کیا۔ رات کو وہ والد کے ساتھ سویا کرتا ہے۔ یادداشت اس وقت بہت دور تک کام کر رہی ہے‘ مجھے شیشے کی کشتی نما بوتل میں (جس کے دونوں جانب نپل لگتے تھے‘ ایک پینے کے لئے اور دوسرا بوتل میں ہوا کے داخلے کو)ایک بچہ دودھ پیتا نظر آرہا ہے مگر ہوش کی آنکھ کھولنے کے بعد وہ بچہ ماں کے ساتھ سوتا نظر نہیں آتا۔ میں بہت بچپن سے اباجی کے ساتھ سویا کرتا تھا۔ جب ہم سونے کو لیٹ جاتے تو اباجی مجھے سورة رحمن یاد کروایا کرتے۔
اباجی نے مجھے یہ سورة نصف سے ذرا بعد‘ چھیالیسویں آیت سے یاد کروانی شروع کی تھی۔ ”اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا‘ اس کے لئے دو جنتیں ہیں“۔ یہاں سے رب کی رحمتوں کا اور اس کے انعام و اکرام کا تذکرہ شروع ہوتا ہے۔ شاید اس لئے اباجی نے مجھے یہ سورة ”ولمن خا فَ“ سے شروع کروائی کہ رب کی رحمت اور مہربانی اتم ہے اور اس کے غضب پر حاوی۔ بہرحال ایک آدھ آیت جو رات کو مجھے یاد کروا کے سوتے تھے‘ صبح اٹھ کر سنا کرتے۔ رفتہ رفتہ جب یہاں سے آخر تک یاد ہوگئی تو پھر کافی بعد میں انہوں نے مجھے ”الرحمن“ یعنی ابتدا سے یاد کروانی شروع کی۔ پھر ساری یاد ہوگئی تو جب کبھی وہ مجھے سورة رحمن سنانے کی فرمائش کرتے تو میں پوچھتا ”ولمن خافَ سے سناو¿ں یا الرحمن سے؟“۔ یہ زمانہ بہت دور‘ بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ میں بڑا ہوتا گیا‘ چارپائی الگ ہوئی تو سورة رحمن بھی مجھ سے روٹھ گئی۔ اب یہ عالم ہے کہ میں چند آیات زبانی پڑھ کے آگے بھول جاتا ہوں‘ ہاں اگلی آیت کا پہلا لفظ بتادیا جائے تو پھر چار پانچ آیات زبانی پڑھ ڈالتا ہوں اور یوں ”ذوی الجلال وا لاکرام“ تک پہنچ جاتا ہوں مگرروانی سے پوری یاد نہیں۔
لیجئے!اب وہ کرونا کار یاد آگئی جس کی اگلی سیٹ بھی بینچ کی طرح لمبی ہواکرتی تھی۔ تب بھی میں بہت چھوٹا تھا۔ باقی بہن بھائی پچھلی سیٹ پر ہوتے۔میں امی اور اباجی کے درمیان اگلی سیٹ پر ہوتا۔جہانیاں جاتے اور گاڑی جونہی مرکزی سڑک کو چھوڑ کر ہمارے گاو¿ں کو جانے والی کچی سڑک پر مڑتی تو اباجی مجھے گود میں بٹھا لیتے اور کہتے سٹیئرنگ سنبھالو۔ ہر ہفتے جہانیاں جاتے اور ایک مدت تک میں یہ کام کرتا رہا۔ ذرا بڑا ہوگیا تو پھر سائیڈ پر بٹھا کر سٹیئرنگ سنبھالنے کو کہتے۔ پھر جب میرے پیر کلچ، بریک تک پہنچنے لگے تو میرا سٹیئرنگ کنٹرول بہت پختہ ہوچکا تھا‘ مجھے صرف کلچ چھوڑنے کی تھوڑی سی مشق کرنی پڑی۔ اب گاو¿ں کو جانے والی کچی سڑک شروع ہوتے ہی اباجی خود ہٹ جاتے اور ڈرائیونگ میرے حوالے کردیتے۔ ہفتہ وار مگر کئی برسوں پر محیط ان مشقوں سے یہ فائدہ ہوا کہ فقط نو برس کی عمر میں‘ اپنی کالونی کی سڑکوں پر گاڑی بھگائے پھرتا۔ گرمیوں میں اباجی کچہری سے واپس آکر سونے کو لیٹ جاتے تو میں چوری چھپے گاڑی نکال کر کالونی کے ایک دو چکر لگا آتا۔ صرف ایک مرتبہ ریورس کرتے ہوئے میرا پیر بریک کے بجائے ایکسلریٹر پر آگیا تو گھر کی دیوار کو پچھلی بتیاں اوربمپر توڑکر گاڑی روکنا پڑی‘ یہ بھی نو برس کی عمر کا واقعہ ہے۔ آج میں انچاس برس کاہوگیا ہوں تو یہ اللہ کی مہربانی کے بعد اباجی کی استادی کا کمال ہے کہ مجھ سے کبھی گاڑی نہیں لگی۔ ہم تینوں بھائی ڈرائیونگ میں اباجی کے شاگرد ہیں اور بہت چھوٹی عمر میں گاڑی چلانے لگ گئے تھے۔
اِن آنکھوں نے شروع سے ہی اباجی کو ہر دم متحرک اور محنت کا رسیا دیکھا ہے۔ صبح سویرے تڑکے اٹھ جانا۔ نماز کے بعد ایسی بلند آہنگ تلاوت کہ گھر بھر میں کلامِ ربانی کی آیات گونجا کرتیں۔ پھر اخبار اور ناشتہ۔ اس کے بعد ہمیں سکول چھوڑتے ہوئے کچہری جانا‘ وہاں سہہ پہر تک کی مشغولیت۔ شام کو گھر سے ملحق دفتر میں بیٹھ کر رات گئے تک اگلے دن کے مقدمات کی تیاری۔ اباجی سیلف میڈ انسان ہیں۔چونسٹھ برس قبل چک نمبر ایک سو تیرہ دس آر سے تین کپڑوں میں نکل کر کراچی آگئے‘ تب فقط میٹرک ہی کیا تھا۔ ائیرفورس کی کراچی‘ پشاور‘ کوہاٹ اور لاہور نوکری کے دوران پرائیویٹ طور پر گریجوایشن اورقانون کا امتحان پاس کیا۔ پھر گزشتہ صدی کی پچاس کی دہائی کے آخری برس ملتان میں آکر وکالت شروع کردی۔ شروع میں چند برس فوج داری وکالت کی مگر پھر چھوڑ دی کہ اس میں جھوٹ کی آمیزش ہوتی ہے۔ دیوانی کا طویل اور مشکل راستہ چنا مگر اس سے حاصل ہونے والے رزق کو اپنی بساط سے بڑھ کر پاکیزہ رکھا۔
آج اباجی ماشاءاللہ چھیاسی برس کے ہوگئے ہیں۔پچھلے چند برسوں سے ان کے ہاتھ میں چھڑی آگئی ہے۔ ہم تینوں کو ڈرائیونگ سکھانے والے‘ اب گاڑی نہیں چلا سکتے۔ محسن ڈرائیور ان کو لئے پھرتا ہے‘ کبھی محسن چھٹی پر ہو تو ساری عمرخود مختار رہنے والے اباجی میری‘ ریاض کی یا پوتوں کی فراغت کے منتظر رہا کرتے ہیں۔ اوراب تو دو ایک برس سے چھڑی ان کو سہارا دینے کو ناکافی ہوچکی ہے۔ انہوں نے یہاں سے وہاں جانا ہوتو ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے میں کسی کا سہارے والا ہاتھ تھامتے ہیں۔ وہ ہاتھ جو ساری عمر ہمارا بازو تھام کر سہارا دیتا رہا‘ اب اِن ہاتھوں کا متلاشی رہا کرتا ہے۔ وہ انگلیاں جن کو تھام کے ہم نے قدم قدم چلنا سیکھا اب آمادہ بہ لرزش ہیں۔ شروع میں تو خود کو میں آمادہ نہ کرسکا کہ اباجی کو بھی سہارے کی ضرورت ہوسکتی ہے مگر اب دل نے تسلیم کرلیا ہے تو روح کی رگوں میں پچھتاوا سا دوڑتا ہے۔ پھر بھی اللہ رحمان و رحیم کا بڑا کرم ہے کہ اباجی کو صحت کا کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں‘ بس بایاں گھٹنا ہے کہ جو بوجھ سہارنے میں مشکل کا شکار ہوجایاکرتا ہے‘ تاہم پیری بجائے خود اک عارضہ ہے۔
میں یہ کیا باتیں لے بیٹھا ہوں۔ناسٹلجیا نے پتہ نہیں کہاں سے اٹھایا اور کہاں لا پٹخا۔ رحمت کی چھتری سر پر سایہ کرتی ہو تو شکر ادا کرنا چاہئے۔ آج کے دن اللہ کے حضور سجدہ شکر ہم سب بہن بھائیوں پر لازم ہے کہ اباجی کی صورت دعاو¿ں کا‘ شفقتوں کا اور رحمتوں کا منبع ہمارے سرپر موجود رہے۔ چناں چہ ہم سب بارگاہِ عزوجل میں اباجی کی صحت و تن درستی والی لمبی عمر کی درخواست پیش کرتے ہیں اور اباجی کو ہیپی فادرز ڈے وش کرتے ہیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اولاد پر ان کے والد کا سایہ تادیر قائم ودائم رکھے۔ آمین
(کالم نگارسماجی اورمعاشرتی امورپر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved