تازہ تر ین

کوئی بھی بجٹ خوش کن نہیں ہوتا

وزیر احمد جوگیزئی….احترام جمہوریت
بجٹ پاس کرنا ایک جمہوری حکومت میں اس ملک کی قومی اسمبلی کا پہلا فریضہ ہے ،بلکہ کہنا چاہیے کہ قومی اسمبلی کا اولین فریضہ ہے ۔لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اس معاملے پر اتنا زیادہ دھیان یا توجہ نہیں دی جاتی ،بجٹ کو سمجھنا اس کو لاگو کرنا اور اس کو عوام کو بتانا اور سمجھانا ارکان اسمبلی کے فرائض منصبی کا حصہ ہے ۔اگر ارکان اسمبلی اس فریضہ کو سمجھنے میں ناکام ہوتے ہیں یا پھر درست انداز میں اس فریضہ کو ادا نہیں کر پاتے تو وہ اسمبلی جس کا وہ حصہ ہو تے ہیں اسے کمزور اور لا غر تصور کیا جاتا ہے ۔اور پھر ہوتا یہ ہے کہ سول سروس یا کوئی بھی اور ادارہ پا رلیمنٹ کو حساب دینے کے لیے راضی نہیں ہو تے اور اس عمل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں ۔اور پھر اس ادرے اور اس کے ارکان سے ہر قسم کے جائز اور ناجائز کام بھی لیے جاتے ہیں ۔بجٹ آگیا ہے کوئی بھی بجٹ خوش کن نہیں ہو تا اس لیے نہیں ہوتا کہ اس میں ٹیکسز میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے حکومت کی آمد ن کو بڑھانے کی کو شش کی جاتی ہے جو کہ عوام پر بھاری پڑتی ہے ۔بجٹ بہر حال ایک سالانہ قومی فریضہ ہوتا ہے جو کہ ایک مشکل عمل ہوتا ہے ۔اور ہمارے ہاں اس سال بجٹ کا مرحلہ واقعی بہت مشکل تھا ،موجودہ حکومت نے مشکل کے ساتھ یہ بجٹ ترتیب دیا ہے ۔جو معاشی منیجرز اس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد بجٹ بنانے اور معاشی معا ملات کو دیکھنے پر مامور تھے وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہے اور پھر ایک نئی معاشی ٹیم کو میدان میں اتارا گیا اور وہ ٹیم بھی صرف اور صرف آئی ایم ایف کے فرمودات کی بجا آوری اور حکم کی تعمیل میں لگی ہوئی ہے ۔
ٹیکس دینا ہر شہری کا اولین فریضہ ہے اور یہ ہر شہری پر فرض ہوتا ہے جو کہ اپنی اپنی استطا عت کے مطابق دیا جاتا ہے ۔اور شہریوں کی اس ہی ادائیگی کے باعث نظام ریاست چلایا جاتا ہے ۔اور حکومتیں چلتیں ہیں ،دفاع کےلئے بجٹ بنایا جاتا ہے اور دفاع کے اخراجات بھی ٹیکس آمدن سے ہی نکلتے ہیں ۔اور ہمارے ملک کے حالات میں تو میں سمجھتا ہوں کہ دفاع پر جتنا زیادہ خرچ کیا جائے اتنا ہی کم ہوتا ہے ۔کیونکہ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں پر ہم علاقائی سازشوں اور تناﺅ کا شکار ہیں ۔چاہیے وہ افغانستان کی جانب سے مشکلا ت ہوں یا پھر ہندوستان کی طرف سے مسائل یا پھر ہمارے اپنے ہاتھ کی لگی ہوئی کوئی آگ ہو یہ میں اس لیے کہ رہا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کا مسئلہ ہمارے اپنے ہاتھوں کی لگائی ہوئی ایک آگ ہے اور ہمیں جلد از جلد اس مسئلہ سے نکل جانا چاہیے ورنہ ہمیں افغانستان کے حوالے سے طرح طرح کی آوازیں ہی سنائی دیتی رہیں گی ۔ہم بات بجٹ پر کر رہے تھے اور اس وقت بطور قوم ہماری پوری توجہ بجٹ پر ہی ہونی چاہیے ۔لیکن میں یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں نے بجٹ سے متعلق جو بھی پڑھا ہے مجھے ابھی تک اس بجٹ میں افرادی قوت کی ترقی اور بہتری کے حوالے سے کوئی اقدامات نظر نہیں آئے ۔ایسی کوئی مختص رقم نہیں نظر آئی جو کہ پا کستان کی افرادی قوت کو سنوارنے اور نکھارنے میں استعمال کی جا سکے ۔اس ملک کی بڑھتی ہوئی بے ہنگم آبادی کی تربیت اور انھیں روزگار کمانے کے قابل بنانے کے لیے ایک جامع پروگرام کی ضرورت ہے جو اس بجٹ میں نہیں ہے اور پاکستان کو ایسے ایک پروگرام کی اشد ضرورت ہے ۔میرے خیال میں تو پا کستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کی تربیت کرنا اور پا کستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانا اور اس حوالے سے رقم خرچ کرنا دفاعی بجٹ پر خرچ کی گئی رقم سے زیادہ اہم ہو سکتا ہے ۔بطور قوم ہماری توجہ پاپولیشن پلاننگ اور کنٹرول پر ہونی چاہیے ۔
آج کی دنیا ٹیکنالوجی کی دنیا ہے اور اگر کسی بھی ملک کی آبادی ٹیکنا لوجی کے معا ملات میں تربیت یافتہ نہیں ہے تو تب تک وہ اس ملک کی افرادی قوت اپنے ملک کی ترقی کے لیے کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکتی ۔اگر ہم دنیا میں عزت کے ساتھ جینا چاہتے ہیں اور اپنا مقام دنیا میں ایک باعزت قوم کے رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ہیومن ریسورس کے شعبے پر بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے ،پا کستان کی اس وقت دنیا میں ہیومن ریسورس کے حوالے سے پوزیشن 132ویں ہے ہمارا ہدف جلد از جلد پہلے 100ممالک کی فہرست میں شا مل ہونا چاہیے ۔ورنہ ہم دنیا میں ایک باعزت اور ہنر مند قوم کی حیثیت سے اپنا مقام نہیں بنا پائیں گے ۔رات گئے بالکل ہی ایک نامناسب وقت پروزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کیا ۔میرا تو خیال تھا کہ ریکا رڈنگ دکھائی جارہی ہے لیکن بعد میں اندازہ ہوا کہ یہ تو لائیو تقریر ہو رہی ہے ۔مجھے ابھی تک یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب ابھی تک اتنے غصے میں کیوں ہیں انھوں نے تمام اپوزیشن لیڈر شپ چاہے وہ ن لیگ سے تعلق رکھتی ہو یا پھر پیپلز پارٹی سے اس کو حراست میں رکھا ہوا ہے لیکن اپوزیشن رہنماﺅں کو حراست میں رکھنے سے ان کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی ، ۔ ۔وزیر اعظم صاحب کو اب غصہ تھوک دینا چاہیے غصے سے انسان کی عقل ماری جا تی ہے ۔ اور یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ جن بد ترین حالات کا شکار ہماری معیشت اس وقت ہے وزیر اعظم صاحب اپنی مشکلات میں اضا فہ کیوں کر رہے ہیں ؟مجھے وزیر اعظم صاحب کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے لیکن وزیر اعظم صاحب کو اپنے طرز عمل پر بھی توجہ دینی چاہیے اس حوالے سے وزیر اعظم کے مشیروں اور رفقا ءکار کا بھی اہم کردار ہے حضرت علی ؓجب خلیفہ تھے تو ان سے سوال ہوا کہ حضرت عثمان ؓکا دور آپ کے دور سے زیادہ متحرک اور فعال تھا تو انھوں نے جواب دیا کہ اس لیے کہ حضرت عثمان کا مشیر میں تھا اور میرے مشیر تم ہو ۔کسی بھی حکمران اور حکومت کا دارو مدار اس کے مشیروں پر ہی ہوتا ہے ۔اس لیے حکومت کے مشیر وفادار لوگوں کے گروپ سے زیادہ ماہرین پر مشتمل ٹیم ہونی چاہیے کہ جوکہ معاملات کو احسن انداز میں نمٹا سکیں ۔اگر وزیر اعظم کی کل رات والی تقریر پا رلیمنٹ میں کی جاتی اور بہتر لب و لہجے اور انداز میں کی جاتی توزیادہ موثر ہوتی ۔محسوس ایسا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم صاحب کو قومی اسمبلی میں اپنی نشست سے کوئی مسئلہ موجود ہے ،آخر وہ اسمبلی میں تشریف کیوں نہیں لاتے چاہے اپوزیشن جتنا شور کرے وزیر اعظم کو اسمبلی میں اپنی حاضری پر توجہ دینی چاہیے ۔ اگر وہ اسمبلی کے معا ملات پر توجہ نہیں دیں گے تو اس اسمبلی کی وقعت میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved