تازہ تر ین

ماحول دوست وزیراعظم

ناصر احمد……..بحث و نظر
اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جنگلی حیات اور پارکس نہ صرف کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں بلکہ اس کی خوبصورتی اور دلکشی کو چار چاند بھی لگا دیتے ہیں لہٰذا ان کے تحفظ کے لئے کام کرنا نہ صرف حکومت بلکہ ہم سب کا فرض ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ دنیا میں جنگلی حیات کم ہوتی جارہی ہیں۔ اگرچہ ان کو بچانے کاکام کرنے والی تنظیمیں بھی سرگرم عمل ہیں پھر بھی یہ عالم ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے دیکھا جائے تو ہمارے ہاں زیادہ تر چرند پرند موسم سرما میں ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کرتے ہیں۔ اللہ کی ہماری دھرتی پہ خاص کرم نوازی ہے کہ یہاں بہت سی اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں جن میں شیر، ہرن، ٹائیگر، باز، ہاتھی وغیرہ نمایاں ہیں۔
دنیا میں خدا نے ہر شے کو ایک خاص مقصد کے لیے تخلیق کیا ہے اور اگر فطرت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہ کائنات ایک تصویر ہے جس میں ہر جگہ اور ہر مناسب مقام پر وہ چیز رکھی گئی ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔ جس طرح ہمارے زندہ رہنے کے لیے آکسیجن ضروری ہے، کھانے پینے کے لئے خوراک ضروری ہے یہ ساری چیزیں فطرت ہمیں مہیا کرتی ہے خدا نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ایک پورا نظام بھی پیدا کیا جس میں اس کی ضروریات بھی شامل ہیں۔ جانور کائنات کے لئے بہت ہی مفید ہیں۔ جانوروں سے ہم دودھ حاصل کرتے ہیں جو کہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور انسانی جسم کے لیے اس کی افادیت سب جانتے ہیں پھر گوشت، انڈے ہیں کیوں کہ جانوروں کی کھالوں سے طرح طرح کا سامان بنتا ہے حتیٰ کہ زہریلے جانوروں کے زہر سے جان بچانے والی دوائیاں بنتی ہیں۔ ہمارے ہاں جنگلی حیات کے حوالے سے کبھی بھی کوئی جامع منصوبہ نہیں بنایا گیا اسی لئے بہت سارے جانور جو ناپید ہو چکے ہیں تا ہم دیر آید درست آید اب وزیر اعلیٰ پنجاب نے جنگلی حیات کے تخفظ کے لیے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ قابل ستائش ہیں اسی طرح پارکس کی بہتری کے حوالے سے بھی پنجاب حکومت نے انقلابی کاموں کی ابتداءہے۔ ہمارے پاس دنیا کی خوبصورت ترین وادیاں اور پہاڑ ہیں لیکن بدقسمتی سے ماضی میں نہ ان کی دیکھ بھال کی طرف توجہ دی گئی نہ ہی لوگوں کی ان تک رسائی آسان بنائی گئی۔
ہمارے ویژنری وزیراعظم نے ہمیشہ قدرتی مناظر اور جنگلی حیات کے تخفظ، درخت لگانے اور پارکس کی دیکھ بھال پر زور دیا اور جس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ پنجاب نے جنگلی حیات کے تخفظ اور پارکس کی بہتری کے لئے آٹھ ماہ کی قلیل مدت میں اعلیٰ کارکردگی، شفافیت اور جدت کاری سے پالیسی اصلاحات کرتے ہوئے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں جس کے تحت سب سے پہلے جنگلی حیات پرجاتیوں کی غیر قانونی خرید فروخت، قبضے اور نیٹنگ کو بھرپور طریقے سے روکا گیا ہے، اس سلسلے میں مجرموں کو کڑی سزائیں دے کر باز، چیتے، لمبے قد والے ہرن اور دیگر جنگلی جانوروں کی حکومت اپنی نگرانی میں دیکھ بھال کر رہی ہے۔
پنجاب میں غیر قانونی شکار کرنے والوں کے خلاف ماضی میں کسی قسم کا ایکشن لینے کی کوئی مثال نہیں ملتی جو کہ نایاب اور جنگلی جانوروں کے تخفظ کے لئے بہت ضروری ہے، اب نہ صرف ایسے غیر قانونی شکار کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوا ہے بلکہ ان سے ساٹھ لاکھ کے معاوضہ جات بھی وصول کئے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پہ بھی بہت سے لوگ یا شکار کرنے والے غیر قانونی طور پر قبضہ کرتے ہوئے مختلف جنگلی جانوروں کی تصاویر اپ لوڈ کرتے تھے جس کی روک تھام کے لئے ڈیجیٹل سیل کی ضرورت تھی لہٰذا ڈیجیٹل سیل کے قیام کے بعد لمحہ بہ لمحہ سوشل میڈیا پہ جنگلی جانوروں کو غیر قانونی طور پر پکڑنے والوں پر نہ صرف نظر رکھی جا رہی ہے بلکہ ان کو پکڑ کے جرمانے بھی کئے جا رہے ہیں۔
جانوروں کے شفاف سیل میکانزم کی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے انفرادی خرید و فروخت کے بجائے شفاف بولیاں لگا کر اضافی جانوروں کی فروحت کی گئی جس سے آمدن میں بہت اضافہ دیکھنے میں نظر آیا ہے۔ نجی جنگلی حیات پارکس، نجی سفاری پارکس اور سرکس کے لئے بھی نئے قوانین وضع کئے گئے ہیں اور علاقائی سطح پر نجی جنگلی حیات فارمز کے لائسنسوں کے اجراءکی سہولت متعارف کروائی گئی ہے جس میں تیتر رکھنے کا لائسنس اور بین صوبہ جاتی درآمد برآمد کے لائسنس کی سہولت موجود ہے۔
اس کے علاوہ جینی پول (Gene Pool) کو مضبوط بناتے ہوئے سور، ہرن، باز، شیر اور ٹائیگرز کو جنگلی حیات پارکس اور چھانگا مانگا جیسی جنگلی پناہ گاہوں میں چھوڑا گیا ہے۔ ہمارا ملک ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں درختوں کی بہت کمی ہو گئی ہے جس کو پورا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے اور جس کے تحت پنجاب کے جنگلی حیات پارکوں اور چڑیا گھروں میں پچیس ہزار درخت یا پودے لگائے جا چکے ہیں اور جی آئی ایس لیب کیپیسٹی بلڈنگ ورکشاپس اور ٹریننگز، کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کی تنصیب اور چڑیا گھروں میں ای۔ ٹکٹنگ کو متعارف کروایا گیا ہے۔ کھیری مرات، پبی اور آرا پریرا دلجبہ میں قومی نیشنل پارکس کے قیام کو عمل میں لایا گیا ہے۔ فطرت سے منسلک دیرپا ماحولیاتی نظام کے دیرپا تخفظ کے لئے پروٹیکشن ایریا ایکٹ کا نفاذ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ کمیونٹی ممبران کی مو¿ثر شمولیت سے جنگلی حیات کے تخفظ کے لئے (کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشن CBO) قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔
یقینا وزیر اعلیٰ پنجاب کے عملی اقدامات سے جنگلی حیات کے تخفظ اور پارکس میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔ شکاری حضرات کو بھی اب چاہئے کہ ممنوعہ شکار نہ کریں اور جنگلی حیات کی نشوونما میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ شاید جنگلی حیات کا تحفظ ہمیں انسانوں کے تحفظ کی ترغیب بھی دے کیوں کہ جانوروں کے ساتھ ظالمانہ سلوک نے ہمارے رویے میں بربریت پیدا کر کے ہمیں انسانی اصولوں سے دور کیا ہے۔
(کالم نگار مختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved