تازہ تر ین

نظریاتی سر حدوں کے محافظ ادارہ پر ہرزہ سرائی کیوں؟

رانا عبدالرب……..اختلاف
ہماری نظریاتی سرحدوں کا محافظ ادارہ ایک طویل عرصہ سے ایسے ننگِ وطن کا ہدف ہے جو ملک دشمن قوتوںکے ہاتھوں کھیل رہے ہیں، جن کے بینک اکاﺅنٹ سرحد پار بیٹھی یہی طاقتیں لبریز کر رہی ہیں۔ وہ نام نہاد دانشور جو اپنی تحریروں اور چینلزپرزبان درازی سے افواج پاکستان کے خلاف بے ہودہ الزامات لگانے سے ایک لمحہ نہیں چوکتے ان ملک دشمن طاقتوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔حال ہی میں ایک دانشورجو ایک متنازعہ ٹی وی چینل کے ساتھ منسلک ہیں نے اپنے ٹوئیٹ میں پاک آرمی کے آفیسران کی تنخواہوں کو ہدف تنقیدبناتے ہوئے بے پر کی اُڑائی ۔
ہماری صفوں میں بدقسمتی سے ایسے دانشور یا سیاست دان موجود ہیںجو اس بحث کوطو ل دینے میںلگے رہتے ہیں کہ پاک آرمی بجٹ کا کثیر حصہ کھا رہی ہے درج بالا بحث پر ان کی بلاجواز تنقید کا جواب دلائل کے ساتھ دینا بطور ایک محب وطن پاکستانی راقم الحروف اپنا حق تصور کرتا ہے۔
پاک آرمی کا سب سے اعلیٰ عہدہ لیفٹیننٹ جنرل کا ہوتا ہے ۔ ایک لیفٹیننٹ جنرل کی تنخواہ دو سے تین لاکھ روپے ہوتی ہے جب ہم پاک آرمی کے اتنے بڑے عہدیدار کا موازنہ کسی بھی دیگرسرکاری محکمہ جات کے سب سے اعلیٰ عہدیدارکی تنخواہ سے کرتے ہیںتو تفاوت کا سارا فرق عیاں ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں ایوانِ بالا سینٹ کا ایک رکن ماہانہ15لاکھ روپے سے زائد وصول کرتا ہے مذکورہ دانشور نے دوسرا اعتراض ڈی ایچ اے پر اٹھایا کہ پاک فوج ہاﺅسنگ سوسائٹی کیوں چلاتی ہے اس بحث کو اس جواب میں سمیٹیں گے کہ ہمسایہ ملک بھارت یا پاکستان کا کوئی ایسا سیکورٹی ادارہ نہیں جو اپنے شہدا کے خاندانوں کی مالی مدد اور معاونت کے لیے منصوبے نہ بناتا ہو۔پاکستان ریلوے ،پی آئی اے،پاکستان اسٹیل جیسے ادارے سالانہ اربوں روپے خسارے کی مد میں وصول کررہے ہیں۔ ڈی ایچ اے ہاﺅسنگ سوسائٹی جیسے منصوبوں سے پاک فوج واحد ادارہ ہے جو170ارب روپے ٹیکس ایمانداری سے ادا کرتا ہے۔ یہی نہیں ان منصوبہ جات سے شہدا کے اہل خانہ کی کفالت اور رہائش کی خاطررقوم کااجرا ہوتا ہے۔ ایک بحث یوں بھی ہمیں سننے کو ملتی ہے کہ 70یا 80فی صد بجٹ پاک فوج پر خرچ ہوتا ہے یہ سرحد پار دشمنوں کی گھڑی گھڑائی اصطلاح ہے ۔پاک فوج جس کا بجٹ ان ملک دشمن عناصر کے حلق کا کانٹا بنا ہوا ہے وہ کل بجٹ کا محض 18فی صد ہے ۔82فی صد بجٹ ہماری جمہوریت اور سیاست کے علاوہ بیوروکریسی کا پیٹ بھر رہا ہے اور دیگر سرکاری محکموں کے اداروں کی کرپشن کی نذر ہورہا ہے۔ اس 18فی صد بجٹ میں سے 8لاکھ فوج کی نقل و حرکت کے لیے گاڑیوں کا فیول ،تنخواہیں، میڈیکل، ادویات، مشینری،یونیفارم،بیرکوں اور کیمپوں کی تعمیرو مرمت، ہوائی ،بحری ،بری ٹریننگ،کمیونیکیشن،فائٹر جیٹ گن شپ ہیلی کاپٹر،بحری آب دوزیں،جہاز،انٹیلی جنس کے لوازمات منسلک ایجنسیز کا خرچ ،بیرون ملک ٹریننگ و دیگر اخراجات شامل ہیں۔
دانشور نے ایک سوال یہ اٹھایا کہ عراق شام اور لیبیا جیسے ممالک اپنی افواج پر کیا خرچ نہیں کرتے تھے؟ کیا وہ اپنے شہدا کو مراعات نہیں دیتے تھے؟ پھر کیا وجہ تھی کہ ان کے ملک تباہ ہوگئے ؟اس کا سادہ سا جواب ہے کہ وہاں ایسے وطن فروشوں کی بہتات تھی جنھوں نے مغربی ممالک سے بھاری رقوم لے کر اپنی افواج کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم چلائی اور آج جب وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوچکے ہیں اس کے باوجود وہ غداران وطن لیبیا،عراق جیسے تباہ حال ممالک کے باشندے ہیں آج وہ ننگ ِ وطن ان مغربی ممالک سے جن کے وہ لے پالک تھے اپنی خدمات کے صلہ میں شہریت کی بھیک مانگ رہے ہیں۔
9/11کے واقعہ کے بعد جب ساری دنیا نام نہاد سپر پاور کی ناکام خواہشات کی زد میں آئی تو سب سے زیادہ نقصان وطن عزیز کو اٹھانا پڑا۔ ہمیں 100ارب ڈالر کا خسارہ ہوا جبکہ 80ہزار جانوں کا ضیاع ہوا جن میں 5 ہزار نظریاتی سرحدوںکے اس محافظ ادارہ کے نوجوانوں کی قربانیاں ہیں۔ بحث یہیںپرختم نہیںہوتی تمام محکمہ جات کے با وجودجب زلزلہ آتاہے تم ہم مدد کےلئے پاک آرمی کوبلاتے ہیں۔سیلاب، طوفان، حادثات، الیکشن، مردم شماری،ریسکیو آپریشن راہ نجات، ردالفساد، ضرب عضب،آپریشن خیبر ون،ٹو،تھری اور فور کہاں کہاںہمارا عسکری ادارہ کھڑا ہوتاہے ۔ اس کے باوجودایک ٹی وی چینل سے 80لاکھ ماہانہ تنخواہ پانے والا فرد ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ادارہ پر ہرزہ سرائی کرے ۔ کیا اسے دھرتی کا بیٹا کہا جا سکتا ہے؟ پاک فوج پر ہرزہ سرائی کرنے میں ایسے نام نہاد دانشور ہی نہیں سیاست دان بھی پیچھے نھیں رہے۔نواز شریف ایک عرصہ تک پاک فوج کے خلاف اپنے ناکام بیانیے کو لے کر دردبدر بھٹکتے رہے اور اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے کے بعد ان کی بیٹی پاکستان کی حسینہ واجد بننے کی کوشش کررہی ہے اور تو اور بلاول زرداری جیسے نووارد سیاست دان علی وزیر ،محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر کا راگ الاپ رہے ہیں ۔
(کالم نگار شاعر،سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved